Tag: مصنوعی ذہانت

  • پوپ کا عالمی رہنماؤں سے مصنوعی ذہانت کے متعلق سخت عالمی قوانین بنانے کا مطالبہ

    پوپ کا عالمی رہنماؤں سے مصنوعی ذہانت کے متعلق سخت عالمی قوانین بنانے کا مطالبہ

    پوپ لیو چہار دہم نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے اور اس کے لیے سخت عالمی قوانین بنائے جائیں۔

    پوپ لیو چہار دہم نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کی ترقی پر مناسب نگرانی نہ کی گئی تو یہ انسانی معاشروں میں غلط معلومات، تنازعات اور مسلسل جنگ جیسے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔

    پیر کے روز دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے روحانی اور انتظامی مرکز اور طاقت کا محور سمجھے جانے والے ویٹی کن سے ’شاندار انسانیت‘ کے عنوان سے جاری دستاویز میں مطالبہ کیا گیا: ‘مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے اور اس کے لیے سخت عالمی قوانین بنائے جائیں۔’

    پوپ لیو چہار دہم کے دستخط سے یہ دستاویز 15 مئی کی علامتی تاریخ کو جاری کی گئی۔ 15 مئی 1891 کو پوپ لیو سیزدہم کے دستخط سے جاری ‘نئے معاملات’ یا Rerum Novarum کے عنوان سے دستاویز میں صنعتی انقلاب کے دوران مزدوروں کے حقوق اور بہتر کام کے حالات کی حمایت کی گئی تھی۔

    بعد ازاں 1963 میں رومن کیتھولک چرچ کے 261 ویں پوپ جان تیئسویں نے ‘عالمی امن’ یا Pacem in Terris کے عنوان سے دستاویز جاری کی، جس میں سرد جنگ کے دور میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور عالمی امن کی اپیل کی گئی تھی۔

    اسی طرح 2015 میں پوپ فرانسس نے ‘تعریف ہو آپ کی’ یا Laudato Si کے عنوان سے دستاویز میں ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی بحران کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

    دنیا بھر میں کیتھولک چرچ کے پوپ گزشتہ 135 برس سے عالمی رہنماؤں کو سماجی انصاف، انسانی حقوق اور عالمی مسائل پر توجہ دینے کی اپیل کرتے آ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف ادوار میں اہم دستاویزات جاری کی جاتی رہی ہیں جنہیں چرچ کی تعلیمات میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اب موجودہ پوپ لیو XIV نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور ممکنہ خطرات پر ایک نئی دستاویز جاری کر دی ہے۔

    ویٹی کن امور کے معروف مبصر جان تھاوس، جنہوں نے تین مختلف پوپ کے ادوار کا مشاہدہ کیا ہے، نے اس حوالے سے کہا کہ ماضی کے پوپ بھی اپنے دور کے اہم سماجی مسائل پر آواز بلند کرتے رہے ہیں اور موجودہ پوپ نے بھی اپنے وقت کے ایک بڑے مسئلے یعنی مصنوعی ذہانت کو موضوع بنایا ہے۔

    ان کے مطابق پوپ لیو کی کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی پر ہونے والی عالمی بحث میں اخلاقی اور انسانی اقدار کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کو فیصلہ سازی اور نظام کے مرکز میں رکھا جائے۔

    برطانوی ماہر تعلیم اور چرچ کی مشیر اینا رولینڈز نے ویٹی کن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک صدی سے پوپ مسلسل یہ پیغام دیتے آئے ہیں کہ دنیا صرف منڈی اور معاشی نظام کے ذریعے محفوظ نہیں بن سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ آج پوپ لیو یہی بات نئے انداز میں دہرا رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ انسانیت کو صرف مصنوعی ذہانت کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

    چرچ میں ایسی دستاویزات کو ’انسائیکلیکل‘ کہا جاتا ہے اور یہ پوپ کی اعلیٰ ترین تعلیمات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے موضوعات کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اکثر کئی برسوں کی تیاری کے بعد شائع ہوتی ہیں اور پوپ کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔

    حالیہ مہینوں میں پوپ لیو نے عالمی سیاسی معاملات پر نسبتاً واضح اور سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایران جنگ پر تنقید کے بعد انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اپنی نئی دستاویز میں پوپ نے خاص طور پر خودکار ہتھیاروں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق بعض جدید ہتھیار ایسے مرحلے پر پہنچ رہے ہیں جہاں انسانی کنٹرول اور نگرانی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

    تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پوپ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایسی اپیلوں کے نتائج ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔ بعض مواقع پر ان کا نمایاں اثر دیکھا گیا جبکہ بعض معاملات میں عملی تبدیلی محدود رہی۔

    مثال کے طور پر 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے بعد جاری ہونے والی “Pacem in Terris” کو بعض مؤرخین امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان مذاکرات کی اخلاقی حمایت قرار دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعد میں ایٹمی تجربات محدود کرنے کا معاہدہ سامنے آیا۔

    دوسری جانب پوپ فرانسس نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی، تاہم وہ اکثر اس بات پر افسوس کرتے رہے کہ حکومتیں مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہیں۔

    جان تھاوس کے مطابق ایسی دستاویزات کے اثرات فوری طور پر سامنے نہیں آتے بلکہ وقت کے ساتھ عوامی مباحث، میڈیا اور سماجی تحریکوں کے ذریعے ان کے خیالات اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت پر جاری کی گئی نئی دستاویز مستقبل کی عالمی بحث میں ایک اہم حوالہ ثابت ہو سکتی ہے۔

    یہ دستاویز اب ویٹی کن کی ویب سائٹ پر مختلف زبانوں میں دستیاب ہے اور اسے مطالعے اور بحث کے لیے کتابچے کی شکل میں بھی تقسیم کیا جائے گا۔

    ویٹی کن کی تقریب میں دنیا کی معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی کرس اولاہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پوپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کمپنیاں شدید تجارتی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، اس لیے بیرونی نگرانی اور واضح اصولوں کی ضرورت ہے۔

    اپنی دستاویز کے اختتام پر پوپ لیو نے مطالبہ کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پر مضبوط بین الاقوامی ضابطے بنائے جائیں اور اس سے متعلق ڈیٹا اور اختیار صرف نجی اداروں کے ہاتھوں میں نہ چھوڑا جائے، تاکہ مستقبل میں ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، نہ کہ انسان اس کے تابع ہو جائے۔

  • مصنوعی ذہانت: تجربہ کار ملازمین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے رجحان میں اضافہ

    مصنوعی ذہانت: تجربہ کار ملازمین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے رجحان میں اضافہ

    مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت نے دنیا بھر میں ملازمتوں کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اس تبدیلی کے نتیجے میں ایک دلچسپ اور اہم رجحان سامنے آیا ہے: بہت سے تجربہ کار اور عمر رسیدہ ملازمین نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بجائے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    امریکی بزنس جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خاص طور پر 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں اس عمر کے افراد کی ملازمت میں شمولیت کی شرح کم ہو کر تقریباً 37.2 فیصد رہ گئی ہے، جو گزشتہ بیس سالوں کی کم ترین سطح ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سب سے اہم مصنوعی ذہانت کا تیزی سے نفاذ، کام کے ماحول میں تبدیلی، اور نئی مہارتیں سیکھنے کا دباؤ شامل ہیں۔

    کئی دہائیوں تک مسلسل اضافے اور پھر 2010 کی دہائی میں تقریباً 40 فیصد کے قریب رہنے کے بعد، اب امریکا میں 55 سال سے زائد عمر کے افراد کا افرادی قوت میں حصہ کم ہو کر 37.2 فیصد رہ گیا ہے، جو بیس سال سے زیادہ عرصے میں سب سے کم سطح ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور ریٹائرمنٹ کے مشیر کہتے ہیں کہ گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹ سے حاصل ہونے والے منافع نے کچھ لوگوں کو مالی طور پر سہارا دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ کمی آئی ہے۔

    تاہم کچھ عمر رسیدہ پیشہ ور افراد کے لیے معاملہ صرف پیسے تک محدود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے آخری سال مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے دوران پیدا ہونے والی ہلچل میں نہیں گزارنا چاہتے، جہاں نئے اوزار، نئی توقعات اور غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

    نئی ٹیکنالوجی کا دباؤ

    رپورٹ میں ایک 68 سالہ ملازم لیوک مشیل کی مثال دی گئی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی میں کئی ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں دیکھی تھیں، جیسے کہ 1980 کی دہائی میں ڈیسک ٹاپ پبلشنگ اور بعد میں انٹرنیٹ کا دور۔ مگر ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کا دور ان کے لیے مختلف اور زیادہ مشکل ثابت ہوا۔

    انہوں نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کے لیے جو وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے، وہ ان کے لیے اب ممکن نہیں رہی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ وہ مزید کچھ سال کام کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

    یہ مثال صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ہزاروں ایسے ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آخری مرحلے میں ایک اور بڑی تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔

    ایک سروے کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں سے تقریباً 25 فیصد نے بتایا کہ وہ کام کے دباؤ اور تھکن کی وجہ سے جلد ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت کے استعمال نے نہ صرف کام کے طریقے بدل دیے ہیں بلکہ ملازمین سے نئی توقعات بھی وابستہ کر دی ہیں۔ اب کئی کمپنیوں میں ملازمین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اے آئی ٹولز کا استعمال کریں، اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں، اور مسلسل نئی مہارتیں سیکھتے رہیں۔

    یہ مسلسل تبدیلی اور سیکھنے کا عمل خاص طور پر عمر رسیدہ ملازمین کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے، جو اپنی زندگی کے اس مرحلے میں نسبتاً استحکام چاہتے ہیں۔

    کام کی نوعیت میں تبدیلی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ملازمت کے اہم پہلو بیک وقت بدل جاتے ہیں، جیسے کہ خودمختاری میں کمی، ساتھیوں کا چھوڑ جانا، یا کمپنی کی پالیسیوں میں تبدیلی، تو لوگ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت ان تمام عوامل کو ایک ساتھ متاثر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف کام کے طریقے بدلتی ہے بلکہ ملازمین کے کردار اور اہمیت کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے کئی افراد خود کو غیر متعلق یا غیر ضروری محسوس کرنے لگتے ہیں۔

    کچھ ملازمین کے لیے مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سیکھنے کا نہیں بلکہ اس کے اخلاقی پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک خاتون ملازم نے اپنی ملازمت اس لیے چھوڑ دی کیونکہ وہ اے آئی کے استعمال سے مطمئن نہیں تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت تخلیقی کام کرنے والے افراد کی محنت کو استعمال کرتی ہے، مگر انہیں اس کا معاوضہ نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ انہیں خدشہ تھا کہ اے آئی انسانوں کی سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

    نوجوان اور بزرگ ملازمین میں فرق

    تحقیقی اداروں کے مطابق نوجوان ملازمین کے مقابلے میں عمر رسیدہ افراد مصنوعی ذہانت کے استعمال میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 30 سے 49 سال کے افراد میں اے آئی کے استعمال کی شرح تقریباً 30 فیصد ہے، جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح اس سے کہیں کم ہے۔

    اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان افراد نئی ٹیکنالوجی کو جلدی اپناتے ہیں، جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ عمل زیادہ مشکل اور وقت طلب ہوتا ہے۔

    مالی استحکام بھی ایک وجہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ افراد کے لیے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ مالی طور پر بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ گھروں کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری نے کئی افراد کو مالی طور پر مستحکم بنایا ہے، جس کی وجہ سے وہ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    لیکن یہ بھی واضح ہے کہ تمام افراد کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا، اور بہت سے لوگ مجبوری میں بھی ملازمت جاری رکھتے ہیں۔

    کمپنیوں کا کردار

    ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کمپنیاں اپنے تجربہ کار ملازمین کو نئی ٹیکنالوجی سکھانے میں خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کر رہیں۔ اگر ادارے بہتر تربیت اور سہولت فراہم کریں تو ممکن ہے کہ زیادہ لوگ ملازمت جاری رکھ سکیں۔

    یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف معیشت بلکہ انسانی رویوں اور فیصلوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ایک طرف نوجوان نسل اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے تیار ہے، تو دوسری طرف بڑی عمر کے افراد اس سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات لیبر مارکیٹ، معیشت، اور اداروں کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ تجربہ کار افراد کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں نئی مواقع پیدا کر رہی ہے، وہیں یہ ایک چیلنج بھی بن چکی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آخری مراحل میں ہیں اور مزید تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔

  • عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، مگر پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک پیچھے – نئی عالمی رپورٹ

    عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، مگر پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک پیچھے – نئی عالمی رپورٹ

    دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم نئی عالمی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل فرق مزید وسیع ہو گیا ہے۔ مائیکروسافٹ اے آئی اکانومی انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران دنیا میں ہر چھ میں سے تقریباً ایک شخص اب جنریٹو اے آئی ٹولز استعمال کر رہا ہے، مگر پاکستان جیسے ممالک اس دوڑ میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔

    مائیکروسافت اے آئی ڈیفیوژن رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوسرے نصف میں عالمی سطح پر اے آئی استعمال کرنے والوں کی شرح پہلے نصف کے 15.1 فیصد سے بڑھ کر 16.3 فیصد ہو گئی، جو کہ صرف چھ ماہ میں 1.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار اس ٹیکنالوجی کے لیے غیر معمولی ہے جو چند سال پہلے ہی عام صارفین تک پہنچی ہے۔

     پاکستان بہت پیچھے

    رپورٹ میں شامل اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اے آئی استعمال کی شرح 2025 کے پہلے حصے میں 9.7 فیصد تھی جو سال کے آخری حصے میں بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی۔ یعنی چھ ماہ میں صرف 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح عالمی اوسط 16.3 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار میں ابھی بہت پیچھے ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں انٹرنیٹ رسائی کی محدودیت، ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی، اور سرکاری سطح پر اے آئی پالیسی کی سست پیش رفت شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی جنوب (گلوبل سائوتھ) میں اے آئی اپنانے کی رفتار عالمی شمال (گلوبل نارتھ) کے مقابلے میں تقریباً آدھی رہی۔ عالمی شمال میں کام کرنے کی عمر کی 24.7 فیصد آبادی اے آئی استعمال کر رہی ہے جبکہ عالمی جنوب میں یہ شرح صرف 14.1 فیصد ہے۔

     دنیا کے تین سرفہرست ممالک

    رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور ناروے اے آئی استعمال میں دنیا کے تین نمایاں ممالک بن کر سامنے آئے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات64 فیصد شرح کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے 2017 میں ہی اے آئی کے لیے قومی حکمت عملی بنا لی تھی اور سرکاری خدمات میں ٹیکنالوجی کو جلد شامل کیا، جس کا فائدہ اب واضح نظر آ رہا ہے۔

    سنگاپور60.9 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ وہاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تعلیم اور حکومتی منصوبہ بندی نے عام شہریوں میں اے آئی کے استعمال کو تیزی سے بڑھایا۔

    ناروے تیسرے نمبر پر رہا جہاں 46.4 فیصد ورکنگ ایج آبادی اے آئی استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں مضبوط ڈیجیٹل نظام اور اعلیٰ تعلیم اس کامیابی کی بڑی وجہ ہیں۔

     امریکہ اور جنوبی کوریا کی دلچسپ کہانی

    رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ امریکہ اے آئی ٹیکنالوجی بنانے میں آگے ہونے کے باوجود استعمال کے لحاظ سے 24ویں نمبر پر ہے، جہاں صرف 28.3 فیصد آبادی اے آئی استعمال کرتی ہے۔

    دوسری جانب جنوبی کوریا نے سب سے زیادہ ترقی دکھائی۔ وہاں اے آئی استعمال 25.9 فیصد سے بڑھ کر 30.7 فیصد ہو گیا اور ملک عالمی درجہ بندی میں سات درجے اوپر آ گیا۔ حکومت کی پالیسیوں، مقامی زبان میں بہتر اے آئی ماڈلز اور تعلیمی اصلاحات کو اس کامیابی کی وجہ قرار دیا گیا۔

      بڑھتا ہوا ڈیجیٹل فرق

    رپورٹ میں موجود چارٹ کے مطابق 2025 میں عالمی شمال اور عالمی جنوب کے درمیان اے آئی استعمال کا فرق 9.8 فیصد سے بڑھ کر 10.6 فیصد ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد بھی چند ممالک تک محدود ہو جائیں گے۔

    رپورٹ کے تجزیے کے مطابق وہ ممالک آگے نکل رہے ہیں جنہوں نے تین شعبوں پر سرمایہ کاری کی: ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اے آئی تعلیم اور مہارتیں اور حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کا استعمال

     پاکستان بھی اے آئی معیشت میں حصہ لینا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں حال ہی میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور مزید کیے جارہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گذشتہ دنوں تمام یونیورسٹیز کو تعلیمی نصاب میں اے آئی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ہیک نے 2026 کے تعلیمی سیشن سے تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے لیے 3 کریڈٹ آور کا مصنوعی ذہانت (AI) کا کورس لازمی قرار دے دیا ہے۔

    اس کورس میں طلبہ کو اے آئی کی بنیادی سمجھ دی جائے گی، جس میں ڈیٹا، الگورتھمز اور عملی استعمالات شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو مستقبل کی ایسی ملازمتوں کے لیے تیار کرنا ہے جہاں مصنوعی ذہانت اہم کردار ادا کرے گی۔ یونیورسٹیوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس کورس کو بنیادی مضمون، اختیاری مضمون یا بین الشعبہ (انٹر ڈسپلنری) کورس کے طور پر شامل کر سکیں۔

    رپورٹ واضح کرتی ہے کہ دنیا تیزی سے اے آئی کے دور میں داخل ہو رہی ہے، مگر تمام ممالک یکساں رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ پاکستان میں اگرچہ استعمال میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن عالمی مقابلے میں یہ رفتار بہت ہی کم ہے۔ آنے والے برسوں میں پالیسی سازی اور سرمایہ کاری ہی طے کرے گی کہ پاکستان ڈیجیٹل تقسیم کا شکار رہتا ہے یا نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے

    والے ممالک میں شامل ہو جاتا ہے۔