Tag: مصنوعی ذہانت

  • خبردار! مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال مہنگا پڑ سکتا ہے: اے آئی اپنے مقرر کردہ اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی پر خودکار اطلاع بھی بھیج سکتی ہے

    خبردار! مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال مہنگا پڑ سکتا ہے: اے آئی اپنے مقرر کردہ اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی پر خودکار اطلاع بھی بھیج سکتی ہے

    انسان کے ہاتھ میں آنے والی ہر نئی طاقت اپنے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی حقیقی کامیابی تب ہے جب وہ زندگی آسان بنائے، انسانی وقار کی حفاظت کرے اور جانوروں، پرندوں، پودوں، حشرات اور قدرتی ماحول کے لیے بھلائی کا وسیلہ بنے۔

    ہر نقصان دہ عمل قانون کی نظر میں لازماً جرم نہ بھی ہو، تب بھی اخلاقی ذمہ داری اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ کسی بھی آلے کے استعمال سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہمارا عمل کسی کی مدد کرے گا یا کسی کو دھوکے، تذلیل اور خطرے سے دوچار کرے گا۔

    1970 کی دہائی میں جب جیب میں رکھے جانے والے کیلکولیٹر لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچے تو بہت سے لوگ ان کے استعمال میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ طلبہ کا کیلکولیٹر استعمال کرنا کبھی اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کام لینے سے گریز سمجھا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی آلہ تعلیم، تجارت اور پیشہ ورانہ زندگی کا معمول بن گیا۔

    آج مصنوعی ذہانت بھی اسی طرح قبولیت حاصل کر رہی ہے، لیکن اس کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ لکھنے، ترجمے، تحقیق اور تجزیے میں مدد دیتی ہے، اور ایسی آوازیں، تصاویر اور ویڈیوز بھی بنا سکتی ہے جنہیں پہلی نظر میں حقیقی مواد سے الگ پہچاننا مشکل ہو۔ پاکستان کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے، مگر اپنی سوچ اور قوتِ پرکھ برقرار رکھتے ہوئے۔

    مصنوعی ذہانت کا اپنا ضمیر، اخلاقی اختیار یا پولیس جیسی قوت نہیں ہوتی۔ اس کے حفاظتی اصول انسان وضع کرتے ہیں، خدمات کمپنیاں چلاتی ہیں اور رپورٹ کرنے کی ذمہ داریاں قانون مقرر کرتا ہے۔ البتہ ان انتظامات کے تحت بعض نظام مشتبہ غلط استعمال کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مواد روک سکتے ہیں، اکاؤنٹ معطل کر سکتے ہیں اور متعلقہ رپورٹ بھیجنے کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔

    اس لیے اسے ایسی پوشیدہ جگہ سمجھنا، جہاں ہر عمل جواب دہی کے بغیر کیا جا سکے، ایک سنگین غلط فہمی ہے۔

    پاکستان میں اس تبدیلی کی مثالیں اب رپورٹوں میں سامنے آنے لگی ہیں۔ 9 اکتوبر 2026 کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ادارۂ تحقیقات برائے سائبر جرائم، این سی سی آئی اے، کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت نے گوجرانوالہ میں ایک مشتبہ شخص کی شناخت میں مدد کی، جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔

    انہوں نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد سے متعلق الگ الگ تحقیقات میں تین گرفتاریوں کی بھی اطلاع دی۔ رپورٹ سے مصنوعی ذہانت کی مدد کی تصدیق ہوتی ہے، مگر کمپنی کا نام اور شناخت کا تکنیکی طریقہ ظاہر نہیں کیا گیا۔

    اسی بریفنگ میں سائبر جرائم کے پھیلاؤ سے متعلق اہم اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ سات مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپوں کے دوران 281 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے، جن میں 21 غیر ملکی شہری تھے۔ تفتیش کاروں نے 362 موبائل فون، 191 کمپیوٹر سسٹم، 74 لیپ ٹاپ، 127 دیگر ڈیجیٹل آلات اور 550 سم کارڈ برآمد کیے۔

    یہ اعداد و شمار پوری کارروائی کے ہیں؛ ان سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ ہر گرفتاری مصنوعی ذہانت کی نشاندہی پر ہوئی تھی۔

    اس ٹیکنالوجی کی مدد صرف آن لائن جرائم تک محدود نہیں۔ 27 مارچ 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے لاہور میں کیمروں، مصنوعی ذہانت اور چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے مشتبہ ڈاکوؤں کی شناخت کی اور ان کی نقل و حرکت کے راستے معلوم کیے۔

    مبینہ طور پر یہ گروہ موٹر سائیکلوں پر گھومتے ہوئے شہریوں سے موبائل فون اور نقد رقم چھینتا تھا۔ حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کی۔ یہاں ٹیکنالوجی نے تفتیش کی راہ دکھائی، جبکہ گرفتاریاں پولیس اہلکاروں نے کیں۔

    آن لائن مواد کی نشاندہی کے بھی مختلف طریقے ہیں۔ ایک طریقے میں تصویر یا ویڈیو کے ڈیجیٹل نشان کو پہلے سے تصدیق شدہ غیر قانونی مواد کے نشانوں سے ملایا جاتا ہے۔ دوسرے طریقے میں مصنوعی ذہانت ایسے نئے مواد کی طرف توجہ دلاتی ہے جس میں استحصال کے معلوم نمونوں سے مماثلت ہو۔

    گوگل کے مطابق ماہرین نئے نشان زدہ تصویری مواد کا جائزہ لیتے ہیں اور بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کی تصدیق کے بعد امریکہ کے قومی مرکز برائے گمشدہ اور استحصال کا شکار بچوں کو رپورٹ بھیجتے ہیں۔ یہ مرکز متعلقہ معلومات مختلف ممالک کے تفتیشی اداروں کو بھیج سکتا ہے۔

    اس مرکز کو 2025 میں سائبر ٹِپ لائن کے ذریعے 2 کروڑ 13 لاکھ رپورٹیں موصول ہوئیں، جن میں 6 کروڑ 18 لاکھ تصاویر، ویڈیوز اور دیگر فائلیں شامل تھیں۔ یہ عالمی اعداد و شمار ہیں، پاکستان میں جرائم کی تعداد نہیں۔ اسی طرح ہر رپورٹ جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتی اور ہر بار سامنے آنے والی ایک ہی فائل نیا جرم نہیں بن جاتی۔

    تفتیش کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا، ذمہ دار کون تھا اور موجود شواہد قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں یا نہیں۔

    پاکستان میں سائبر جرائم کا بنیادی قانون ’انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ، 2016‘ ہے، جس میں 2025 میں ترمیم کی گئی۔ یہ پورے ملک میں نافذ ہے اور بلا اجازت ڈیجیٹل نظاموں تک رسائی، الیکٹرانک دھوکا دہی، شناخت کے غلط استعمال، آن لائن تعاقب اور ہراسانی، نیز بچوں کے استحصال جیسے جرائم سے متعلق ہے۔

    ترمیم این سی سی آئی اے کے لیے قانونی بندوبست فراہم کرتی ہے اور دفعہ 26 اے بھی شامل کرتی ہے۔ اس کا تعلق ایسی معلومات سے ہے جنہیں کوئی شخص جھوٹا جانتے ہوئے پھیلائے، یا جنہیں جھوٹا سمجھنے کی معقول وجوہ موجود ہوں، اور جو عوام میں خوف، گھبراہٹ، بدامنی یا بے چینی پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہوں۔ ہر واقعاتی غلطی خودبخود اس جرم کے دائرے میں نہیں آتی۔

    استعمال کنندگان کے لیے احتیاط کا پہلا اصول یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو جھوٹے شواہد بنانے، دوسروں کی شناخت اختیار کرنے، مالی دھوکا دینے، دھمکانے یا کسی کی نجی جنسی تصاویر بنا کر اسے بدنام کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد بنانے، طلب کرنے یا پھیلانے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

    افسران، اساتذہ، انجینئروں اور دیگر پیشہ ور افراد کو خفیہ معلومات کی حفاظت کرنی چاہیے اور دستاویزات پر دستخط کرنے یا پیغامات آگے بھیجنے سے پہلے تیار کردہ دعووں کی تصدیق کرنی چاہیے۔ الفاظ کی روانی، بیان کی سچائی کی ضمانت نہیں۔

    احتیاط کے ساتھ حقیقت پسندی بھی ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت خودبخود فون میں موجود ہر چیز نہیں پڑھتی۔ واٹس ایپ کے مطابق ذاتی پیغامات بھیجنے والے سے وصول کرنے والے تک اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے محفوظ ہوتے ہیں۔ مذکورہ گرفتاری سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی ذہانت کی ہر کمپنی مسلسل نجی گفتگو کی نگرانی کر رہی ہے۔

    والدین اور اساتذہ کو بچوں سے ڈیجیٹل ذمہ داریوں کے بارے میں اعتماد اور شفقت کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ اگر کسی کو آن لائن بلیک میلنگ یا استحصال کا سامنا ہو تو این سی سی آئی اے کے سرکاری شکایتی ذرائع سے مدد حاصل کرے اور متعلقہ شواہد محفوظ رکھے۔ کسی مجرم کو بے نقاب کرنے کے لیے نقصان دہ مواد دوبارہ عوام میں پھیلانا متاثرہ شخص کی تکلیف میں اضافہ کر سکتا ہے۔

    آئیے، مصنوعی ذہانت کو علم بڑھانے، کام بہتر بنانے اور لوگوں کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ ہمارا ہر قدم دوسروں کی عزت، سلامتی اور حقوق کا لحاظ رکھے۔ پاکستان کو ایسے باخبر شہریوں کی ضرورت ہے جو اس نئی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یاد رکھیں کہ مشین کام کی رفتار بڑھا سکتی ہے، لیکن عمل کی ذمہ داری بالآخر انسان کی اپنی ہوتی ہے۔

  • ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے لیے خصوصی فورس بنانے کا اعلان، نیا مشیر مقرر کرنے کا فیصلہ

    ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے لیے خصوصی فورس بنانے کا اعلان، نیا مشیر مقرر کرنے کا فیصلہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی فورس بنانے اور مصنوعی ذہانت کے لیے نیا اعلیٰ سطحی مشیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انہوں نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ مجوزہ فورس کس طرح کام کرے گی، اس کے اختیارات کیا ہوں گے اور اسے کب قائم کیا جائے گا۔

    ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا مشیر مقرر کریں گے، جسے ’اے آئی زار‘ کہا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے  ’اے آئی فورس‘ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس اہم صنعت کی ترقی میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ایک انتہائی اہم صنعت ہے اور حکومت اسے ترقی دینے، مدد فراہم کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    امریکی صدر نے کہا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غلط استعمال اور نقصان دہ سرگرمیوں پر نظر رکھے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے نئے قوانین بنانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکا میں پہلے سے فوجداری اور دیوانی انصاف کا نظام موجود ہے جس کے ذریعے غلط کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال اور اس کے ممکنہ خطرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکی قانون ساز اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کو کس حد تک حکومتی نگرانی اور ضابطوں کا پابند بنایا جانا چاہیے۔

    خبررساں ادارے روئیٹرزکے مطابق رواں ماہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک سے وابستہ رہنے والے سابق محقق جیکب کوکسون نے بھی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر سخت تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے بعض ماہرین کو حقیقی خدشہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس دہائی کے اختتام تک انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ تاہم مصنوعی ذہانت پر اضافی پابندیوں کے مطالبات کو مسلسل مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بہت زیادہ حکومتی ضابطے امریکی مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی کو سست کر سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ امریکا کو اس شعبے میں چین کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے تیز رفتار ترقی کی ضرورت ہے۔

    اگر ٹرمپ اپنے اعلان پر عمل کرتے ہیں تو یہ ان کی حکومت میں مصنوعی ذہانت کے دوسرے اعلیٰ سطحی مشیر کی تقرری ہوگی۔ اس سے قبل سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ ڈیوڈ سیکس اس عہدے پر کام کر چکے ہیں۔ سیکس نے رواں سال موسم بہار میں یہ ذمہ داری چھوڑ دی تھی اور بعد میں بیرونی مشیر کے طور پر کام جاری رکھا۔

    ڈیوڈ سیکس بھی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نئے وفاقی قوانین کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی مصنوعی ذہانت کی مصنوعات سے نقصان ہوتا ہے تو متعلقہ کمپنی کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، تاہم اس مقصد کے لیے نئے وفاقی قوانین ضروری نہیں ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے اعلان پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ مجوزہ ’اے آئی فورس‘ کس ادارے کے تحت کام کرے گی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ فورس حکومتی ادارہ ہوگی یا کسی دوسرے انتظامی ڈھانچے کے تحت کام کرے گی۔

    مصنوعی ذہانت کے معاملے میں امریکا اور چین کے درمیان مقابلہ بھی ٹرمپ کے اعلان کا ایک اہم پس منظر ہے۔ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت کو اپنی معاشی اور دفاعی طاقت کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں اور اس شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بعض سربراہوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت پر سخت قوانین امریکی کمپنیوں کی رفتار کم کر سکتے ہیں اور انہیں چینی کمپنیوں کے مقابلے میں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تاہم مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے حامی اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تیزی سے ترقی کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

    ٹرمپ کا نیا اعلان چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی آئندہ ملاقات سے قبل سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں مسابقت جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اتوار کو نیویارک میں چین کے نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ سے ملاقات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں مصنوعی ذہانت کی سلامتی، تجارت اور دیگر معاشی معاملات پر بات چیت ہوگی۔

    امریکی حکومت کے لیے مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ قومی سلامتی، معیشت اور عالمی طاقت کے توازن سے بھی جڑ چکی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ’اے آئی فورس‘ اور نئے ’اے آئی زار‘ کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پالیسی اور نگرانی کے نظام کو مزید منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی اصل نوعیت اور اختیارات کا فیصلہ آئندہ حکومتی اقدامات سے ہی واضح ہوگا۔

  • حیدرآباد: عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ، سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے تیار کرنے والا ادارہ

    حیدرآباد: عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ، سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے تیار کرنے والا ادارہ

    زبان صرف بولنے اور لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی معاشرے کی تاریخ، ثقافت، ادب، علم اور اجتماعی یادداشت کی محافظ بھی ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کسی زبان کی بقا کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کمپیوٹر اسے سمجھ سکتا ہے، اس کی آواز کو تحریر میں بدل سکتا ہے اور مصنوعی ذہانت اس میں سوال کا جواب دے سکتی ہے؟

    انہی سوالات کے تکنیکی جواب تلاش کرنے کے لیے حیدرآباد میں عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات اور آرکائیوز کے انتظامی دائرے میں کام کرتا ہے اور اس کا مقصد سندھی زبان کو جدید کمپیوٹنگ، قدرتی زبان کی پروسیسنگ، مصنوعی ذہانت، مشینی ترجمے، آواز کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا کے لیے تیار کرنا ہے۔

    لینگویج انجینئرنگ کا مطلب صرف زبان کی تعلیم یا لغت سازی نہیں بلکہ زبان کو کمپیوٹر کے قابل بنانا ہے، تاکہ مشین اس کے الفاظ، جملوں، معانی، آوازوں اور ساخت کو سمجھ کر مختلف ڈیجیٹل کام انجام دے سکے۔

    اس کے تحت پرانی سندھی کتابوں کو اسکین کرکے قابل تدوین متن میں تبدیل کرنا، سندھی الفاظ کے باہمی تعلقات کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں محفوظ کرنا، آواز کو تحریر میں تبدیل کرنا، تحریر کو آواز میں بدلنا اور سندھی سے دوسری زبانوں میں خودکار ترجمے جیسی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جاتا ہے۔

    ادارے کا نام عبدالماجد بھُرگڑی کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں سندھی کمپیوٹنگ کے ابتدائی اور اہم ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر پر سندھی لکھنے کے ابتدائی دور میں انہوں نے سندھی فونٹس اور کمپیوٹنگ کے شعبے میں بنیادی کام کیا۔

    ادارے کے قیام کا قانونی عمل 2021 میں مکمل ہوا، جس کے تحت اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دی گئی اور بورڈ، ڈائریکٹر سمیت انتظامی و مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔

    ادارہ سندھی آواز کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے۔ اسپیچ ٹو ٹیکسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے سندھی میں بولی گئی گفتگو کو تحریر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جبکہ ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ٹیکنالوجی لکھی ہوئی سندھی کو آواز میں بدل سکتی ہے۔

    اس کے لیے مختلف علاقوں، لہجوں، تلفظ اور بولنے کے انداز سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی مقدار میں معیاری صوتی معلومات درکار ہوتی ہے، تاکہ سندھی کے لیے زیادہ جامع آواز کی ٹیکنالوجی تیار کی جاسکے۔

    ادارے کا ایک نمایاں ثقافتی منصوبہ ‘بھٹائی پیڈیا’ بھی ہے، جس کا مقصد شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام، ‘شاہ جو رسالو’، لغوی معلومات، تراجم اور متعلقہ تحقیقی مواد کو ڈیجیٹل انداز میں منظم کرنا ہے۔

    سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین اور عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کے اضافی چارج رکھنے والے ڈاکٹر شیر مہرانی کے مطابق ادارے میں سندھی زبان کے ڈیجیٹل فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    یہ کوشش صرف سندھی زبان کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں بلکہ اسے ڈیجیٹل دنیا میں قابل استعمال بنانے کی سمت ایک قدم ہے۔ آنے والے برسوں میں شاید سوال یہ نہ ہو کہ کمپیوٹر پر سندھی لکھی جاسکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سندھی زبان کو کتنی بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔

  • کیا مصنوعی ذہانت انسانیت کو ختم کر سکتی ہے؟ اینتھروپک کے محقق کے انکشاف نے نئی بحت چھیڑ دی

    کیا مصنوعی ذہانت انسانیت کو ختم کر سکتی ہے؟ اینتھروپک کے محقق کے انکشاف نے نئی بحت چھیڑ دی

    مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیار کرنے والی امریکی کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک اے آئی ماڈل نے جنوری میں ٹیسٹنگ کے دوران ایک بیرونی کمپیوٹر سسٹم تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ کمپنی کے مطابق یہ چوتھا موقع ہے جب اس کے اے آئی ماڈلز ٹیسٹنگ کی حدود سے باہر نکل کر ایسے کمپیوٹر سسٹمز تک پہنچے جن تک انہیں رسائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

    یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اینتھروپک کے ایک محقق جیکب کاکسون نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی، اس کے ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں شدید خدشات ظاہر کرتے ہوئے کمپنی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    کاکسون کا کہنا ہے کہ اگر ایسے اے آئی ماڈلز کی تیاری جاری رہی جو خود کو مسلسل بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول اے آئی تیار کرنے کی دوڑ میں شامل بعض ماہرین خود اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اس دہائی کے اختتام تک انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔

    کاکسون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گزشتہ تین برس کے دوران اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں میں اے آئی ماڈلز کی تربیت سے متعلق تحقیق پر کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے دونوں کمپنیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اے آئی کی ترقی میں مطلوبہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیاں ایسے نظام تیار کرنے کی دوڑ میں ہیں جو خود کو بہتر بنانے کے قابل ہوں۔ ان کے مطابق یہ ایک اہم مرحلہ ہوگا، کیونکہ اس کے بعد اے آئی اپنی اگلی نسل کے زیادہ طاقتور ماڈلز کی تیاری میں بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔

    کاکسون کے مطابق مستقبل کے انتہائی طاقتور اے آئی سسٹمز انسانوں سے کہیں بہتر انداز میں کمپیوٹر سسٹمز کو ہیک کرسکتے ہیں، مختلف شعبوں میں تیزی سے تبدیلی لاسکتے ہیں اور اپنے لیے حقیقی دنیا میں طاقت اور وسائل حاصل کرسکتے ہیں۔

    انہوں نے اے آئی کمپنیوں کے درمیان جاری مقابلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض کمپنیاں اس خدشے کے باعث رفتار کم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو کوئی دوسری کمپنی یا ملک اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

    کاکسون نے اے آئی کے محققین پر زور دیا کہ وہ اس بارے میں سنجیدگی سے سوچیں کہ آنے والے برسوں میں انتہائی طاقتور اے آئی کی ترقی کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محققین کو ایسے انتہائی طاقتور نظام کو چلانا چاہیے جس کے فیصلوں اور اندرونی عمل کو وہ خود بھی پوری طرح نہیں سمجھتے۔

    ٹیسٹنگ سے باہر نکلنے کا واقعہ

    اینتھروپک کے مطابق جنوری میں اس کے اے آئی ماڈل Claude Opus 4.6 کے ابتدائی ورژن نے ایک بیرونی کمپیوٹر سسٹم تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ یہ واقعہ ایک سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران پیش آیا۔

    کمپنی کے مطابق ایک تیسرے فریق کی جانب سے حفاظتی جانچ کے نظام میں غلط ترتیب کے باعث اے آئی ماڈل کو انٹرنیٹ تک رسائی کا راستہ مل گیا۔ کمپنی کو اس واقعے کا فوری طور پر علم نہیں ہوا۔

    اینتھروپک نے بتایا کہ یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا جب کمپنی نے تقریباً ایک لاکھ 41 ہزار ٹیسٹ سیشنز کا دوبارہ جائزہ لیا۔ اس عمل کے دوران ایسے ریکارڈز بھی سامنے آئے جو ابتدائی جائزے میں نظر انداز ہوگئے تھے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثرہ فریقوں کو واقعے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق تازہ ترین واقعہ پہلے تین واقعات کے مقابلے میں زیادہ سنگین نہیں تھا، تاہم کمپنی نے مزید تحقیقات کے لیے آزاد تحقیقی ادارے METR کی خدمات حاصل کی ہیں۔

    اینتھروپک کے لیے یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں۔ کمپنی اس سے قبل تین دیگر مواقع کی اطلاع دے چکی ہے جن میں اس کے مختلف اے آئی ماڈلز نے ٹیسٹنگ کے دوران بیرونی کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کی تھی۔

    ان واقعات نے اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی خود مختاری پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ یہ سسٹمز اب صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہے بلکہ کمپیوٹر پروگرام چلا سکتے، ویب سائٹس استعمال کرسکتے اور مختلف ڈیجیٹل کام خود انجام دے سکتے ہیں۔

    خود کو بہتر بنانے والی اے آئی کا خطرہ

    اے آئی کے شعبے میں ایک اہم بحث ایسے نظاموں کے بارے میں ہے جو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے اور زیادہ طاقتور اگلے ماڈلز کی تیاری میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسے مسلسل خود کو بہتر بنانا کہا جاتا ہے۔

    مثلاً اگر ایک اے آئی نظام ایسا نیا نظام بنانے میں مدد دے جو اس سے زیادہ طاقتور ہو، اور نیا نظام اس سے بھی زیادہ طاقتور اے آئی تیار کرے، تو یہ عمل مسلسل جاری رہ سکتا ہے۔ بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس رفتار کے نتیجے میں اے آئی کی صلاحیتیں انسانوں کی نگرانی سے بہت آگے نکل سکتی ہیں۔

    اینتھروپک کے ایک اور محقق ایون ہبرنگر نے بھی کاکسون کے خدشات کی تائید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم واقعی اس امکان کو سنجیدہ سمجھتی ہے کہ انتہائی طاقتور اے آئی مستقبل میں انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

    ہبرنگر نے تاہم واضح کیا کہ موجودہ اے آئی ماڈلز سے فوری خطرہ کم ہے۔ ان کے مطابق اصل تشویش اس وقت بڑھتی ہے جب انتہائی طاقتور اے آئی خود کو بار بار بہتر بنانے کی صلاحیت حاصل کرلے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اینتھروپک کے پاس ابھی تک ایسا مکمل منصوبہ موجود نہیں جس سے اس بات کی ضمانت دی جاسکے کہ مستقبل کی سپر انٹیلیجنس انسانی کنٹرول میں رہے گی۔

    دنیا بھر میں تشویش

    اے آئی کے ممکنہ خطرات پر بحث اب صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ امریکا اور برطانیہ میں قانون ساز بھی انتہائی طاقتور اے آئی کی ترقی کے لیے سخت قوانین پر غور کررہے ہیں۔

    امریکا میں سینیٹر برنی سینڈرز اور رکن کانگریس گریگ کاسار نے گزشتہ ہفتے Ban Artificial Superintelligence Act پیش کیا، جبکہ برطانیہ میں رکن پارلیمنٹ ایلکس سوبل نے Artificial Superintelligence Security Bill پیش کیا ہے۔

    دوسری جانب اے آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے انسانیت کو بڑے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی طب، سائنس، تعلیم، صنعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں اہم مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بعض ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل کی طاقتور اے آئی کینسر اور موسمیاتی تبدیلی جیسے پیچیدہ مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

    تاہم اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ حفاظتی خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اینتھروپک کے تازہ واقعے اور جیکب کاکسون کے استعفے نے یہ سوال مزید نمایاں کردیا ہے کہ انتہائی طاقتور اے آئی تیار کرنے سے پہلے کیا انسان اس پر مؤثر کنٹرول رکھنے کا قابل اعتماد طریقہ تیار کرسکے ہیں۔

    اے آئی کی ترقی شاید رکنے والی نہیں، لیکن ماہرین کے درمیان یہ بحث ضرور شدت اختیار کررہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار اور انسانی تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ موجودہ واقعات کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ اے آئی کو زیادہ خود مختار بنانے سے پہلے اس کے ممکنہ خطرات، نگرانی اور اسے روکنے کے طریقوں پر واضح اور قابل عمل اصول طے کرنا ہوں گے۔

  • مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ’وجودی‘ خطرہ بن سکتی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کا انتباہ

    مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ’وجودی‘ خطرہ بن سکتی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کا انتباہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت مستقبل میں انسانیت کے لیے ایسا خطرہ بن سکتی ہے جس سے پوری انسانی نسل کو خطرہ لاحق ہو۔

    انہوں نے دنیا کے ممالک اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ترقی کے لیے فوری طور پر سخت حفاظتی اصول وضع کیے جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

    وولکر ترک نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا یہ خطاب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی دوسری چار سالہ مدت شروع ہونے سے قبل ہوا۔ وہ جولائی میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

    ترک نے کہا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ افراد کے ان خدشات سے اتفاق ہے کہ جدید اور انتہائی طاقتور اے آئی انسانیت کے لیے ’وجودی خطرہ‘ بن سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا کو مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ایسے مضبوط اور ناقابل تردید حفاظتی انتظامات کرنے کی ضرورت ہے جو اس ٹیکنالوجی کو خطرناک حد تک بے قابو ہونے سے روک سکیں۔

    اے آئی کے خطرات کیا ہیں؟

    خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ترک نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے تمام ممکنہ خطرات کی تفصیل بیان نہیں کی، تاہم ان کے دفتر کی ایک ترجمان نے کہا کہ طاقتور اے آئی نظاموں میں خرابی یا ان کا غلط استعمال اہم بنیادی ڈھانچے، مواصلاتی نظام اور جمہوری اداروں کو متاثر کر سکتا ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایسے نظاموں کو کنٹرول کرنے لگے جو بجلی، پانی، مواصلات، بینکاری یا دیگر اہم خدمات فراہم کرتے ہیں تو کسی سنگین خرابی یا غلط استعمال کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    اسی طرح جمہوری نظام بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی معلومات، جعلی تصاویر اور ویڈیوز، سیاسی پروپیگنڈا اور بڑے پیمانے پر گمراہ کن مواد تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے عوام کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    ترک نے خبردار کیا کہ اس وقت مصنوعی ذہانت کی طاقت پر بہت کم تعداد میں لوگوں کا غیر معمولی اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے کسی فرد یا کمپنی کا نام لیے بغیر کہا کہ چند افراد کے پاس اے آئی پر تقریباً لامحدود طاقت موجود ہے۔

    دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں میں اوپن اے آئی، گوگل، میٹا اور اینتھروپک شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ کم از کم ان ممالک کو، جہاں مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور جو ممالک اس ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا حصہ ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسی واضح حدود مقرر کرنی چاہئیں جنہیں اے آئی کے استعمال میں عبور نہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کا نظام بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان سکیورٹی کے حوالے سے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

    ترک نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے انسانی حقوق پر اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس ٹیکنالوجی کے روزگار، جمہوریت اور ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    جولائی کا واقعہ بھی تشویش کا باعث

    ترک کے دفتر نے جولائی میں پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس میں اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس سے متعلق سرگرمیوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تشویش پیدا کی تھی۔ ان کے دفتر کے مطابق، اس واقعے نے یہ سوال اٹھایا کہ جدید ترین اے آئی نظاموں کی صلاحیتیں حفاظتی انتظامات کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

    ترک نے خاص طور پر خبردار کیا کہ اگر کوئی اے آئی نظام اپنے لیے مقرر کردہ ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل جائے یا اسے بند کیے جانے سے روکنے کے لیے اپنے ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرے تو ایسا اے آئی نظام حد سے زیادہ طاقتور سمجھا جائے گا۔

    ان کے مطابق، ایسے واقعات کو محض تکنیکی مسئلہ سمجھنے کے بجائے عالمی سطح پر اے آئی کی نگرانی اور ضابطہ بندی کی ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔

    کمپنیوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ

    وولکر ترک نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کو خط لکھیں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود اقدامات کے ذریعے اے آئی سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کو مکمل طور پر روکنا مقصد نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے مفادات اور بنیادی حقوق کے خلاف استعمال نہ ہو۔

    اقوام متحدہ پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے عالمی انتظام اور نگرانی کے لیے مشترکہ اصول بنانے کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔ تاہم دنیا کے بڑے ممالک کے درمیان اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے مسابقت اور مختلف مفادات کے باعث ایک مشترکہ عالمی نظام تشکیل دینا آسان نہیں۔

    ترک کی تشویش صرف مستقبل کے ممکنہ خطرات تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے موجودہ استعمال کے بھی انسانی حقوق پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور دنیا کو ان اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار بہت تیز ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس ٹیکنالوجی کے خطرناک حد تک طاقتور ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

    رائٹرز کے مطابق، وولکر ترک کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر واضح حدود، آزادانہ نگرانی، بہتر حفاظتی انتظامات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان زیادہ تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق، اصل سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی کے لیے قوانین کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دنیا ان قوانین کو عملی شکل کب دے گی۔

  • ‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’، شاہ لطیف کی شاعری کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے دنیا تک پہنچانے کا منفرد منصوبہ

    ‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’، شاہ لطیف کی شاعری کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے دنیا تک پہنچانے کا منفرد منصوبہ

    مصنوعی ذہانت نے دنیا بھر میں معلومات تک رسائی کا انداز بدل دیا ہے، مگر سندھ میں ایک ایسا منفرد منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جو صرف ایک عظیم صوفی شاعر، ان کی شاعری، فکر اور ثقافتی ورثے کو سمجھنے اور عام کرنے کے لیے وقف ہے۔ اس منصوبے کا نام ‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’ ہے۔

    ‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’ سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات اور آرکائیوز کے تحت قائم ‘عبدالمجید بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ’ کے بڑے منصوبے ‘بھٹائی پیڈیا’ کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین شاہ عبداللطیف بھٹائی کی زندگی، ‘شاہ جو رسالو’ کے مختلف سُروں، اشعار کے مفہوم، صوفیانہ فلسفے، علامتوں، تاریخی پس منظر اور سندھی ثقافت سے متعلق سوالات پوچھ سکتے ہیں۔

    یہ کوئی عام چیٹ بوٹ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسا پلیٹ فارم ہے جسے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی زندگی، شاعری، صوفیانہ فکر اور سندھی ثقافت کے بارے میں مستند معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شاہ لطیف کے پیغام کو نئی نسل، طلبہ، محققین اور دنیا بھر کے قارئین تک پہنچانا ہے۔

    منصوبے کے مطابق اس پلیٹ فارم کی بنیاد غیر مصدقہ انٹرنیٹ مواد پر نہیں بلکہ مستند تحقیقی کتابوں، ‘شاہ جو رسالو’ کے مختلف نسخوں، علمی مضامین اور معتبر حوالوں پر رکھی گئی ہے، تاکہ صارفین کو زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جا سکیں۔

    ‘بھٹائی پیڈیا’ کے تحت شاہ جو رسالو کے متعدد تاریخی نسخے، مختلف اہلِ علم کی تشریحات، رومن سندھی اور دیوناگری رسم الخط میں متن، اردو، انگریزی، پنجابی اور دیگر زبانوں کے تراجم، تحقیقی مضامین، لغات اور متعدد اشعار کی تفصیلی تشریح بھی جمع کی جا رہی ہے، تاکہ شاہ لطیف کے فکری اور ادبی ورثے کو ایک جامع ڈیجیٹل شکل دی جا سکے۔

    اس منصوبے میں ان تاریخی اور جغرافیائی مقامات کی معلومات بھی محفوظ کی جا رہی ہیں جن کا ذکر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں کیا ہے، جبکہ ‘شاہ جو رسالو’ کی مختلف اشاعتوں اور ان کی اشاعتی تاریخ کو بھی دستاویزی شکل دی جا رہی ہے۔

    منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو دنیا کی متعدد زبانوں میں قابلِ فہم بنانے پر کام جاری ہے، تاکہ سندھ کے اس عظیم صوفی شاعر کا پیغام عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

    دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی بیشتر ایپلی کیشنز بڑی عالمی زبانوں پر مرکوز ہیں، مگر ‘بھٹ ڈاٹ اے آئی’ اس حوالے سے ایک منفرد مثال ہے۔

    یہ پاکستان کے ان چند سرکاری منصوبوں میں شامل ہے جہاں ایک علاقائی زبان، اس کے عظیم شاعر اور اس کے ادبی و فکری ورثے کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے محفوظ کرنے، تحقیق کے لیے منظم انداز میں پیش کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا پیغام صرف کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ ڈیجیٹل دور میں بھی زندہ، محفوظ اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے آسانی سے قابلِ رسائی ہو۔

  • پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار جدید ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا۔

    حکومت نے اس منصوبے کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی، محفوظ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

    جمع کے روز اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید مرکز کے قیام سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، سرکاری اور نجی اداروں کو محفوظ ڈیجیٹل سہولتیں میسر آئیں گی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس جدید مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولتیں دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے انجینئروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں نے انتہائی مختصر مدت میں یہ منصوبہ مکمل کرکے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قومی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی جذبے سے کام جاری رکھا گیا تو پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اہم سرکاری اداروں کو بتدریج اس نئے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سرکاری خدمات مزید تیز، محفوظ اور مؤثر بنائی جا سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی معیشت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی اور پاکستان کو بھی اسی سمت تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

    تقریب میں بتایا گیا کہ اسکائی 47 قراقرم ون ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کلاؤڈ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی ابتدائی استعداد آٹھ اعشاریہ پانچ میگاواٹ ہے، جبکہ کراچی کے پورٹ قاسم میں مزید پانچ میگاواٹ صلاحیت کا ایک اور ڈیٹا سینٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جسے رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    حکام کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھے گی، ملکی اداروں کو بیرون ملک سرورز پر انحصار کم کرنا پڑے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جدید سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ اس سے بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن، صحت، تعلیم، ای کامرس اور سرکاری اداروں کو جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور منصوبے پر کام کرنے والی تمام ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجی، کاروبار اور سرکاری خدمات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس نوعیت کی جدید سہولت کے قیام سے مقامی آئی ٹی صنعت، سافٹ ویئر کمپنیوں، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپ اداروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

    ڈیٹا سینٹر کیا ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت میں اس کا کیا کردار ہے؟

    ڈیٹا سینٹر ایک ایسا جدید اور محفوظ کمپیوٹر مرکز ہوتا ہے جہاں ہزاروں طاقتور سرور، ڈیٹا محفوظ رکھنے والے آلات، نیٹ ورکنگ کا نظام، بجلی کا بیک اپ اور ٹھنڈک فراہم کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹس، موبائل ایپس، بینک، سرکاری ادارے، اسپتال، جامعات اور کاروباری ادارے اپنا ڈیٹا انہی مراکز میں محفوظ رکھتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹر، تیز رفتار پروسیسر اور بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہ تمام سہولتیں ڈیٹا سینٹر فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ اے آئی ماڈل تیار کرتا ہے یا لاکھوں صارفین کو آن لائن خدمات دیتا ہے تو اس کے لیے مسلسل کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جو صرف جدید ڈیٹا سینٹر ہی مہیا کر سکتے ہیں۔

    ڈیٹا سینٹرز کی بدولت چیٹ بوٹس، زبان کا ترجمہ، چہرے کی شناخت، طبی تشخیص، موسم کی پیش گوئی، مالیاتی تجزیے، سمارٹ شہروں کے نظام اور خودکار صنعتی مشینوں جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے۔

    اگر پاکستان میں مزید جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیے جائیں تو مقامی کمپنیوں کو بیرون ملک سرورز پر کم انحصار کرنا پڑے گا، ڈیٹا زیادہ محفوظ رہے گا، آن لائن خدمات کی رفتار بہتر ہوگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی صنعتوں، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح ڈیٹا سینٹر مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • جب مصنوعی ذہانت سوچنے سے نکل کر حقیقی دنیا میں عمل کرنے لگے

    جب مصنوعی ذہانت سوچنے سے نکل کر حقیقی دنیا میں عمل کرنے لگے

    مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سیکھنے، سوچنے اور مسائل حل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل کر لی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی کو حقیقی دنیا میں مؤثر طریقے سے کام کرنا ہے تو اب صرف اس کا ‘دماغ’ کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے ایک مضبوط، محفوظ اور قابلِ اعتماد ‘جسم’ بھی درکار ہوگا۔

    یہ بات جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی ٹی ڈی کے (TDK) کے کارپوریٹ افسر اور کارپوریٹ اسٹریٹیجی ہیڈکوارٹر کے جنرل منیجر تارو ایکوشیما نے رائٹرز نیکسٹ ایشیا فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی اب صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ تیزی سے حقیقی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، جہاں روبوٹس، سمارٹ مشینیں اور خودکار نظام انسانوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے کئی تکنیکی رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہیں۔

    تارو ایکوشیما نے کہا کہ مستقبل میں ایسے روبوٹس کی آمد انتہائی دلچسپ ہوگی جو خود سوچ سکیں، فیصلے کر سکیں اور بغیر انسانی مداخلت کے مختلف کام انجام دیں، لیکن اس سے پہلے توانائی، حفاظت، سینسرز، رابطے اور قابلِ اعتماد پرزوں جیسے کئی بنیادی مسائل حل کرنا ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ڈی کے اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد روبوٹس کی تیاری میں کردار ادا کر سکے تو یہ کمپنی کے لیے باعثِ فخر ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے اعداد و شمار خود اس شعبے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2012 سے 2022 کے دوران اے آئی ماڈلز کی کمپیوٹنگ صلاحیت میں ایک کروڑ گنا اضافہ ہوا، جبکہ اندازہ ہے کہ 2030 تک دنیا بھر میں پیدا ہونے والے ڈیٹا کا حجم 600 زیٹا بائٹس تک پہنچ جائے گا۔ ایک زیٹا بائٹ ایک کھرب گیگا بائٹس کے برابر ہوتا ہے، جو 2020 کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ ہوگا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے مصنوعی ذہانت حقیقی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، ویسے ویسے بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت، سینسرز کی حساسیت، تیز رفتار رابطے، محفوظ نظام اور قابلِ اعتماد ہارڈویئر جیسے معاملات زیادہ اہم بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی ذہین مشینوں کی کامیابی کا انحصار صرف سافٹ ویئر پر نہیں بلکہ مضبوط ہارڈویئر پر بھی ہوگا۔

    تارو ایکوشیما نے کہا کہ اگر کوئی روبوٹ صرف تیس منٹ کام کرنے کے بعد بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو جائے یا اردگرد کے ماحول کو درست طریقے سے نہ سمجھ سکے تو ایسی ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے زیادہ دیر تک چلنے والی بیٹریاں، انتہائی حساس سینسرز اور بہتر معیار کے الیکٹرانک پرزے مستقبل کے روبوٹس کی بنیادی ضرورت ہوں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے فوٹونکس ایک اہم ٹیکنالوجی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں روشنی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کیا جاتا ہے، جس سے توانائی کی کھپت کم ہوتی ہے جبکہ معلومات کی منتقلی کی رفتار اور گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹی ڈی کے اس شعبے میں ایسے آلات تیار کر رہی ہے جو مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی نظام کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی صرف ہارڈویئر تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایسے جدید سینسرز بھی بنا رہی ہے جو مصنوعی ذہانت کو اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیں گے۔ اسی مقصد کے لیے کمپنی نے جولائی 2024 میں ‘ٹی ڈی کے سینس ای آئی’ کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا، جو جدید سینسرز اور سافٹ ویئر کی مدد سے مشینوں کی پیشگی خرابی کا اندازہ لگانے پر کام کر رہا ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی صنعتی اداروں میں استعمال بھی کی جا رہی ہے، جہاں انتہائی حساس سینسرز موٹروں میں معمولی سی غیر معمولی کمپن کو بھی محسوس کر لیتے ہیں اور مشین خراب ہونے سے پہلے ہی خبردار کر دیتے ہیں۔ اسی طرح درجہ حرارت، آواز، دباؤ اور کمپن میں آنے والی تبدیلیوں کا فوری تجزیہ کر کے بروقت کارروائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سمارٹ چشمے بھی مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی تصور کیے جا رہے ہیں۔ ٹی ڈی کے ایسے چشمے تیار کر رہی ہے جنہیں مواصلات، فوری زبانوں کے ترجمے، راستہ دکھانے اور دیگر روزمرہ کاموں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    کمپنی نے سافٹ آئی نامی ادارہ خریدنے کے بعد ایسی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی ہے جو آنکھوں کی حرکت کو سمجھ سکتی ہے اور یہ جان سکتی ہے کہ صارف کس چیز کو دیکھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ساتھ مل کر یہ ٹیکنالوجی بغیر آواز یا ہاتھ کے اشاروں کے مشینوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ کمپنی ایسی ریٹینا پروجیکشن ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے معلومات براہ راست صارف کی آنکھ کے پردے پر دکھائی جا سکیں گی۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام ہلکا، کم بجلی استعمال کرنے والا اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے کے قابل ہوگا۔

    تارو ایکوشیما نے کہا کہ کمپنی کا مقصد صرف مختلف پرزے فروخت کرنا نہیں بلکہ بیٹریوں، سینسرز، الیکٹرانک اجزا اور فوٹونکس کو یکجا کر کے مکمل حل فراہم کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو حقیقی دنیا میں محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

    ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اے آئی سے لیس روبوٹس کا استعمال فیکٹریوں اور گوداموں جیسے محدود ماحول میں زیادہ ہوگا، جہاں ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے گا، اس کے بعد یہ ٹیکنالوجی عام زندگی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوگی۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ مستقبل میں عمومی مصنوعی ذہانت (AGI) روبوٹس کو خودمختار بنا سکتی ہے، لیکن بیٹری کا جلد ختم ہونا، غلط ہدایات سمجھ لینا یا اردگرد کے شور سے متاثر ہو جانا جیسے مسائل ابھی بھی موجود ہیں، جنہیں حل کرنا ناگزیر ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز پر دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کمپیوٹنگ کی زیادہ ضرورت کے باعث بجلی کی کھپت اور کولنگ سسٹمز مستقبل کے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید حرارتی انتظامی نظام اور فوٹونکس جیسی ٹیکنالوجیز توانائی کی بچت کرتے ہوئے اے آئی کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

    رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی کامیابی صرف اس کے ذہین سافٹ ویئر پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ ایسے مضبوط ہارڈویئر پر بھی ہوگی جو حقیقی دنیا میں محفوظ، قابلِ اعتماد اور مسلسل کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اسی وجہ سے ماہرین اب مصنوعی ذہانت کے "دماغ” کے ساتھ اس کے "جسم” کی تعمیر کو بھی مستقبل کی سب سے اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں۔

  • جاپان نے دو ارب ڈالر کی آن لائن دھوکہ دہی روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘پولیس چیف’ متعارف کرا دیا

    جاپان نے دو ارب ڈالر کی آن لائن دھوکہ دہی روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘پولیس چیف’ متعارف کرا دیا

    جاپان میں آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے پولیس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک ورچوئل پولیس چیف متعارف کرا دیا ہے، جس کا نام آئیکو (AIKO)رکھا گیا ہے۔

    حکام کو امید ہے کہ یہ ڈیجیٹل پولیس افسر لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، کو سائبر فراڈ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    آئیکو، جس کے نام میں ‘AI’ اور ‘KO’ کو ملا کر نام بنایا گیا ہے، جبکہ ‘کو’ جاپانی خواتین کے ناموں کے آخر میں عام طور پر استعمال ہونے والا لاحقہ ہے، کو مئی میں اوساکا کی صوبائی پولیس نے متعارف کرایا۔

    رپورٹ کے مطابق جاپان میں گزشتہ سال سوشل میڈیا، جعلی سرمایہ کاری کی اسکیموں اور دیگر آن لائن فراڈ کے ذریعے شہریوں کو دو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا، جو اب تک کی ریکارڈ سطح ہے۔

    اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے اوساکا کی صوبائی پولیس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ "آئیکو” کو عوامی آگاہی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

    آئیکو نے پہلی بار مئی کے آخر میں اوساکا پولیس کے یوٹیوب چینل پر اپنی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں وہ عام شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ دھوکہ باز کس طرح خود کو پولیس افسر، مشہور سرمایہ کار یا رومانوی ساتھی ظاہر کرکے لوگوں سے رقم ہتھیا لیتے ہیں۔

    وہ آسان اور سادہ زبان میں بتاتی ہے کہ ایسے فراڈ کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔

    ایک ویڈیو میں آئیکو واضح طور پر کہتی ہے کہ حقیقی پولیس افسر کبھی بھی آن لائن اپنی شناخت یا گرفتاری کے وارنٹ نہیں دکھاتے۔ اگر کوئی شخص ویڈیو کال یا سوشل میڈیا پر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے رقم یا ذاتی معلومات مانگے تو اس پر ہرگز یقین نہ کریں۔

    یہ ورچوئل کردار جاپان کی کاگاوا یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی مرکز سے وابستہ پروفیسر توشینوری ہیرانو نے تیار کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی اوساکا پولیس کے مشیر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام میں جرائم سے بچاؤ کا شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پولیس کے مطابق ماضی میں فراڈ سے زیادہ تر بزرگ شہری متاثر ہوتے تھے، لیکن اب نوجوان بھی بڑی تعداد میں دھوکہ بازوں کا شکار بن رہے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوساکا میں گزشتہ سال فراڈ کے تقریباً نصف متاثرین کی عمر 65 سال سے کم تھی۔ اسی وجہ سے پولیس نے نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی سرمایہ کاری کی جعلی اسکیمیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

    دھوکہ باز معروف شخصیات کی تصاویر اور ویڈیوز استعمال کرکے لوگوں کو زیادہ منافع کا لالچ دیتے ہیں۔ کئی افراد اپنی جمع پونجی ایسی اسکیموں میں لگا دیتے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب فراڈ تھا۔

    اس کے علاوہ رومانوی تعلقات کے نام پر ہونے والے فراڈ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مجرم پہلے سوشل میڈیا یا پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے دوستی کرتے ہیں، پھر اعتماد حاصل کرنے کے بعد متاثرہ شخص سے مختلف بہانوں سے رقم وصول کر لیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف جرائم پیشہ افراد ہی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی عوام کی حفاظت کے لیے کر سکتے ہیں۔ جاپان کی یہ نئی مہم اسی سوچ کی ایک مثال ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کو عوامی آگاہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں آئیکو کو مزید پلیٹ فارموں پر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آن لائن فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔ حکام کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بروقت اور مؤثر آگاہی فراہم کرکے مالی جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

  • گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    امریکہ کی معروف گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا فیصلہ کمپنی کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ خودکار نظاموں سے مطلوبہ معیار حاصل نہ ہونے اور اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد کمپنی کو سینکڑوں تجربہ کار انجینئر دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑے، جس کے بعد گاڑیوں کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔

    فورڈ کے اعلیٰ حکام کے مطابق کمپنی نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 350 سے زائد سینئر اور تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا۔ کمپنی کے اندر انہیں غیر رسمی طور پر ‘گرے بیئرڈز’ یعنی سفید داڑھی والے ماہرین کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کئی دہائیوں کا عملی تجربہ موجود ہے۔ ان انجینئرز کو دوبارہ اس لیے لایا گیا تاکہ وہ ان خامیوں کی نشاندہی کر سکیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام بروقت پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

    فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے برطانوی نشریاتی ادارے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ کمپنی معیار کی جانچ کے لیے مسلسل خودکار نظاموں پر انحصار بڑھا رہی تھی، لیکن اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق کمپنی نے دوبارہ تکنیکی ماہرین کو شامل کیا جو پیداواری عمل شروع ہونے سے پہلے ہی پرزوں اور ڈیزائن میں موجود ممکنہ خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    کمپنی نے گزشتہ چند برسوں میں فیکٹریوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی معائنہ اور جانچ کے نظام متعارف کرائے تھے تاکہ پیداوار تیز ہو اور معیار بھی بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ پیچیدہ انجینئرنگ مسائل میں مصنوعی ذہانت انسانی تجربے اور فیصلے کا مکمل متبادل ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی ایسے نقائص سامنے آئے جنہیں صرف برسوں کے تجربے کے حامل انجینئر ہی سمجھ سکتے تھے۔

    فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرا دینے اور اس میں ڈیزائن سے متعلق معلومات شامل کرنے سے خود بخود اعلیٰ معیار کی گاڑیاں تیار ہونے لگیں گی۔ لیکن بعد میں احساس ہوا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا انحصار بھی اسی معلومات پر ہوتا ہے جو اسے تربیت کے دوران فراہم کی جاتی ہے۔ اگر تجربہ کار انجینئرز کی مہارت اور برسوں کا عملی علم نظام میں منتقل نہ کیا جائے تو مصنوعی ذہانت بہترین نتائج نہیں دے سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں کمپنی نے اپنے ان انجینئرز کے تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو کئی مختلف ماڈلز اور منصوبوں پر کام کر چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ان کا ادارہ جاتی علم بھی ضائع ہو گیا، جس کے باعث مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے والے نظام کمزور معلومات پر انحصار کرتے رہے اور ڈیزائن کی خامیوں کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہے۔

    کمپنی کے مطابق دوبارہ بھرتی کیے گئے انجینئرز کو صرف معیار بہتر بنانے کی ذمہ داری نہیں دی گئی بلکہ انہیں نوجوان انجینئرز کی تربیت، مصنوعی ذہانت کے لیے بہتر ڈیٹا تیار کرنے اور خودکار نظاموں کو مزید مؤثر بنانے کا کام بھی سونپا گیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ فورڈ نے 40 ماہرین پر مشتمل ایک الگ سافٹ ویئر کوالٹی ایشورنس ٹیم بھی قائم کی ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد نئے خودکار اے آئی ٹیسٹ بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ سافٹ ویئر اور ڈیزائن میں موجود باریک خامیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    ان اقدامات کے بعد کمپنی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ جے ڈی پاور کی 2026 کی ابتدائی معیار کی سالانہ رپورٹ میں فورڈ کو عام صارفین کے لیے گاڑیاں بنانے والے برانڈز میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ یہ گزشتہ 16 برسوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ فورڈ اس درجہ بندی میں سرفہرست آیا ہے۔ اس سروے میں نئی گاڑی خریدنے والے صارفین سے پہلے 90 دن کے دوران پیش آنے والے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فورڈ نے ہر 100 گاڑیوں پر 152 مسائل کا ریکارڈ بنایا، جو دیگر بڑے برانڈز کے مقابلے میں بہتر رہا۔ کمپنی کے مقبول ماڈلز ایف 150، مسٹینگ اور سپر ڈیوٹی مسلسل دوسرے سال بھی اپنے اپنے شعبوں میں بہترین قرار پائے۔

    تاہم کمپنی کے لیے تمام مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ فورڈ اب بھی امریکہ میں سب سے زیادہ گاڑیاں واپس بلانے والی کمپنی ہے۔ صرف 2026 کے دوران کمپنی نے 51 مرتبہ مختلف ماڈلز واپس منگوائے، جن کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مسائل پرانے پیداواری فیصلوں اور سابقہ خودکار نظاموں سے متعلق تھے، نہ کہ حالیہ اصلاحات سے۔

    گزشتہ چند برسوں میں فورڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کی تھی۔ 2020 کے بعد کمپنی تقریباً پانچ ہزار 300 تنخواہ دار ملازمتیں ختم کر چکی ہے، جبکہ امریکی آٹو صنعت میں مجموعی طور پر 20 ہزار سے زیادہ دفتری ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔

    فورڈ کے چیف ایگزیکٹو جم فارلے نے یہ بھی کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں امریکہ میں دفتری ملازمتوں کے تقریباً نصف حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم اب کمپنی کا حالیہ تجربہ اس خیال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے کیونکہ صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فورڈ کا تجربہ ان کمپنیوں کے لیے اہم سبق ہے جو انسانی مہارت کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اے آئی رفتار، تجزیے اور خودکار عمل میں نمایاں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن انسانی تجربہ، عملی مشاہدہ اور پیچیدہ حالات میں فیصلہ سازی اب بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں مکمل طور پر مشینوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ادھر امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ملازمین کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم بنتا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی کارکنوں کو اے آئی کے دور کے مطابق نئی مہارتیں سکھانے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے ایک غیر منافع بخش منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    تاہم فورڈ کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف نئی تربیت ہی کافی نہیں، بلکہ اداروں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کن تجربہ کار ملازمین کی مہارت کسی بھی قیمت پر ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

    فورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بند نہیں کرے گی، بلکہ آئندہ اسے انسانی نگرانی اور تجربے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن بہترین نتائج اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب مشینوں کی رفتار اور انسانوں کے تجربے کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔