انسان کے ہاتھ میں آنے والی ہر نئی طاقت اپنے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی حقیقی کامیابی تب ہے جب وہ زندگی آسان بنائے، انسانی وقار کی حفاظت کرے اور جانوروں، پرندوں، پودوں، حشرات اور قدرتی ماحول کے لیے بھلائی کا وسیلہ بنے۔
ہر نقصان دہ عمل قانون کی نظر میں لازماً جرم نہ بھی ہو، تب بھی اخلاقی ذمہ داری اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ کسی بھی آلے کے استعمال سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہمارا عمل کسی کی مدد کرے گا یا کسی کو دھوکے، تذلیل اور خطرے سے دوچار کرے گا۔
1970 کی دہائی میں جب جیب میں رکھے جانے والے کیلکولیٹر لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچے تو بہت سے لوگ ان کے استعمال میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ طلبہ کا کیلکولیٹر استعمال کرنا کبھی اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کام لینے سے گریز سمجھا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی آلہ تعلیم، تجارت اور پیشہ ورانہ زندگی کا معمول بن گیا۔
آج مصنوعی ذہانت بھی اسی طرح قبولیت حاصل کر رہی ہے، لیکن اس کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ لکھنے، ترجمے، تحقیق اور تجزیے میں مدد دیتی ہے، اور ایسی آوازیں، تصاویر اور ویڈیوز بھی بنا سکتی ہے جنہیں پہلی نظر میں حقیقی مواد سے الگ پہچاننا مشکل ہو۔ پاکستان کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے، مگر اپنی سوچ اور قوتِ پرکھ برقرار رکھتے ہوئے۔
مصنوعی ذہانت کا اپنا ضمیر، اخلاقی اختیار یا پولیس جیسی قوت نہیں ہوتی۔ اس کے حفاظتی اصول انسان وضع کرتے ہیں، خدمات کمپنیاں چلاتی ہیں اور رپورٹ کرنے کی ذمہ داریاں قانون مقرر کرتا ہے۔ البتہ ان انتظامات کے تحت بعض نظام مشتبہ غلط استعمال کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مواد روک سکتے ہیں، اکاؤنٹ معطل کر سکتے ہیں اور متعلقہ رپورٹ بھیجنے کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔
اس لیے اسے ایسی پوشیدہ جگہ سمجھنا، جہاں ہر عمل جواب دہی کے بغیر کیا جا سکے، ایک سنگین غلط فہمی ہے۔
پاکستان میں اس تبدیلی کی مثالیں اب رپورٹوں میں سامنے آنے لگی ہیں۔ 9 اکتوبر 2026 کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ادارۂ تحقیقات برائے سائبر جرائم، این سی سی آئی اے، کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت نے گوجرانوالہ میں ایک مشتبہ شخص کی شناخت میں مدد کی، جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد سے متعلق الگ الگ تحقیقات میں تین گرفتاریوں کی بھی اطلاع دی۔ رپورٹ سے مصنوعی ذہانت کی مدد کی تصدیق ہوتی ہے، مگر کمپنی کا نام اور شناخت کا تکنیکی طریقہ ظاہر نہیں کیا گیا۔
اسی بریفنگ میں سائبر جرائم کے پھیلاؤ سے متعلق اہم اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ سات مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپوں کے دوران 281 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے، جن میں 21 غیر ملکی شہری تھے۔ تفتیش کاروں نے 362 موبائل فون، 191 کمپیوٹر سسٹم، 74 لیپ ٹاپ، 127 دیگر ڈیجیٹل آلات اور 550 سم کارڈ برآمد کیے۔
یہ اعداد و شمار پوری کارروائی کے ہیں؛ ان سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ ہر گرفتاری مصنوعی ذہانت کی نشاندہی پر ہوئی تھی۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد صرف آن لائن جرائم تک محدود نہیں۔ 27 مارچ 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے لاہور میں کیمروں، مصنوعی ذہانت اور چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے مشتبہ ڈاکوؤں کی شناخت کی اور ان کی نقل و حرکت کے راستے معلوم کیے۔

مبینہ طور پر یہ گروہ موٹر سائیکلوں پر گھومتے ہوئے شہریوں سے موبائل فون اور نقد رقم چھینتا تھا۔ حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کی۔ یہاں ٹیکنالوجی نے تفتیش کی راہ دکھائی، جبکہ گرفتاریاں پولیس اہلکاروں نے کیں۔
آن لائن مواد کی نشاندہی کے بھی مختلف طریقے ہیں۔ ایک طریقے میں تصویر یا ویڈیو کے ڈیجیٹل نشان کو پہلے سے تصدیق شدہ غیر قانونی مواد کے نشانوں سے ملایا جاتا ہے۔ دوسرے طریقے میں مصنوعی ذہانت ایسے نئے مواد کی طرف توجہ دلاتی ہے جس میں استحصال کے معلوم نمونوں سے مماثلت ہو۔
گوگل کے مطابق ماہرین نئے نشان زدہ تصویری مواد کا جائزہ لیتے ہیں اور بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کی تصدیق کے بعد امریکہ کے قومی مرکز برائے گمشدہ اور استحصال کا شکار بچوں کو رپورٹ بھیجتے ہیں۔ یہ مرکز متعلقہ معلومات مختلف ممالک کے تفتیشی اداروں کو بھیج سکتا ہے۔
اس مرکز کو 2025 میں سائبر ٹِپ لائن کے ذریعے 2 کروڑ 13 لاکھ رپورٹیں موصول ہوئیں، جن میں 6 کروڑ 18 لاکھ تصاویر، ویڈیوز اور دیگر فائلیں شامل تھیں۔ یہ عالمی اعداد و شمار ہیں، پاکستان میں جرائم کی تعداد نہیں۔ اسی طرح ہر رپورٹ جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتی اور ہر بار سامنے آنے والی ایک ہی فائل نیا جرم نہیں بن جاتی۔
تفتیش کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا، ذمہ دار کون تھا اور موجود شواہد قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں یا نہیں۔
پاکستان میں سائبر جرائم کا بنیادی قانون ’انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ، 2016‘ ہے، جس میں 2025 میں ترمیم کی گئی۔ یہ پورے ملک میں نافذ ہے اور بلا اجازت ڈیجیٹل نظاموں تک رسائی، الیکٹرانک دھوکا دہی، شناخت کے غلط استعمال، آن لائن تعاقب اور ہراسانی، نیز بچوں کے استحصال جیسے جرائم سے متعلق ہے۔
ترمیم این سی سی آئی اے کے لیے قانونی بندوبست فراہم کرتی ہے اور دفعہ 26 اے بھی شامل کرتی ہے۔ اس کا تعلق ایسی معلومات سے ہے جنہیں کوئی شخص جھوٹا جانتے ہوئے پھیلائے، یا جنہیں جھوٹا سمجھنے کی معقول وجوہ موجود ہوں، اور جو عوام میں خوف، گھبراہٹ، بدامنی یا بے چینی پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہوں۔ ہر واقعاتی غلطی خودبخود اس جرم کے دائرے میں نہیں آتی۔
استعمال کنندگان کے لیے احتیاط کا پہلا اصول یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو جھوٹے شواہد بنانے، دوسروں کی شناخت اختیار کرنے، مالی دھوکا دینے، دھمکانے یا کسی کی نجی جنسی تصاویر بنا کر اسے بدنام کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد بنانے، طلب کرنے یا پھیلانے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔
افسران، اساتذہ، انجینئروں اور دیگر پیشہ ور افراد کو خفیہ معلومات کی حفاظت کرنی چاہیے اور دستاویزات پر دستخط کرنے یا پیغامات آگے بھیجنے سے پہلے تیار کردہ دعووں کی تصدیق کرنی چاہیے۔ الفاظ کی روانی، بیان کی سچائی کی ضمانت نہیں۔
احتیاط کے ساتھ حقیقت پسندی بھی ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت خودبخود فون میں موجود ہر چیز نہیں پڑھتی۔ واٹس ایپ کے مطابق ذاتی پیغامات بھیجنے والے سے وصول کرنے والے تک اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے محفوظ ہوتے ہیں۔ مذکورہ گرفتاری سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی ذہانت کی ہر کمپنی مسلسل نجی گفتگو کی نگرانی کر رہی ہے۔
والدین اور اساتذہ کو بچوں سے ڈیجیٹل ذمہ داریوں کے بارے میں اعتماد اور شفقت کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ اگر کسی کو آن لائن بلیک میلنگ یا استحصال کا سامنا ہو تو این سی سی آئی اے کے سرکاری شکایتی ذرائع سے مدد حاصل کرے اور متعلقہ شواہد محفوظ رکھے۔ کسی مجرم کو بے نقاب کرنے کے لیے نقصان دہ مواد دوبارہ عوام میں پھیلانا متاثرہ شخص کی تکلیف میں اضافہ کر سکتا ہے۔
آئیے، مصنوعی ذہانت کو علم بڑھانے، کام بہتر بنانے اور لوگوں کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ ہمارا ہر قدم دوسروں کی عزت، سلامتی اور حقوق کا لحاظ رکھے۔ پاکستان کو ایسے باخبر شہریوں کی ضرورت ہے جو اس نئی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یاد رکھیں کہ مشین کام کی رفتار بڑھا سکتی ہے، لیکن عمل کی ذمہ داری بالآخر انسان کی اپنی ہوتی ہے۔










