Tag: مصنوعی ذہانت

  • پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار جدید ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا۔

    حکومت نے اس منصوبے کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی، محفوظ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

    جمع کے روز اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید مرکز کے قیام سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، سرکاری اور نجی اداروں کو محفوظ ڈیجیٹل سہولتیں میسر آئیں گی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس جدید مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولتیں دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے انجینئروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں نے انتہائی مختصر مدت میں یہ منصوبہ مکمل کرکے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قومی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی جذبے سے کام جاری رکھا گیا تو پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اہم سرکاری اداروں کو بتدریج اس نئے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سرکاری خدمات مزید تیز، محفوظ اور مؤثر بنائی جا سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی معیشت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی اور پاکستان کو بھی اسی سمت تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

    تقریب میں بتایا گیا کہ اسکائی 47 قراقرم ون ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کلاؤڈ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی ابتدائی استعداد آٹھ اعشاریہ پانچ میگاواٹ ہے، جبکہ کراچی کے پورٹ قاسم میں مزید پانچ میگاواٹ صلاحیت کا ایک اور ڈیٹا سینٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جسے رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    حکام کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھے گی، ملکی اداروں کو بیرون ملک سرورز پر انحصار کم کرنا پڑے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جدید سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ اس سے بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن، صحت، تعلیم، ای کامرس اور سرکاری اداروں کو جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور منصوبے پر کام کرنے والی تمام ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجی، کاروبار اور سرکاری خدمات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس نوعیت کی جدید سہولت کے قیام سے مقامی آئی ٹی صنعت، سافٹ ویئر کمپنیوں، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپ اداروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

    ڈیٹا سینٹر کیا ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت میں اس کا کیا کردار ہے؟

    ڈیٹا سینٹر ایک ایسا جدید اور محفوظ کمپیوٹر مرکز ہوتا ہے جہاں ہزاروں طاقتور سرور، ڈیٹا محفوظ رکھنے والے آلات، نیٹ ورکنگ کا نظام، بجلی کا بیک اپ اور ٹھنڈک فراہم کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹس، موبائل ایپس، بینک، سرکاری ادارے، اسپتال، جامعات اور کاروباری ادارے اپنا ڈیٹا انہی مراکز میں محفوظ رکھتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹر، تیز رفتار پروسیسر اور بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہ تمام سہولتیں ڈیٹا سینٹر فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ اے آئی ماڈل تیار کرتا ہے یا لاکھوں صارفین کو آن لائن خدمات دیتا ہے تو اس کے لیے مسلسل کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جو صرف جدید ڈیٹا سینٹر ہی مہیا کر سکتے ہیں۔

    ڈیٹا سینٹرز کی بدولت چیٹ بوٹس، زبان کا ترجمہ، چہرے کی شناخت، طبی تشخیص، موسم کی پیش گوئی، مالیاتی تجزیے، سمارٹ شہروں کے نظام اور خودکار صنعتی مشینوں جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے۔

    اگر پاکستان میں مزید جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیے جائیں تو مقامی کمپنیوں کو بیرون ملک سرورز پر کم انحصار کرنا پڑے گا، ڈیٹا زیادہ محفوظ رہے گا، آن لائن خدمات کی رفتار بہتر ہوگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی صنعتوں، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح ڈیٹا سینٹر مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • جب مصنوعی ذہانت سوچنے سے نکل کر حقیقی دنیا میں عمل کرنے لگے

    جب مصنوعی ذہانت سوچنے سے نکل کر حقیقی دنیا میں عمل کرنے لگے

    مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سیکھنے، سوچنے اور مسائل حل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل کر لی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی کو حقیقی دنیا میں مؤثر طریقے سے کام کرنا ہے تو اب صرف اس کا ‘دماغ’ کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے ایک مضبوط، محفوظ اور قابلِ اعتماد ‘جسم’ بھی درکار ہوگا۔

    یہ بات جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی ٹی ڈی کے (TDK) کے کارپوریٹ افسر اور کارپوریٹ اسٹریٹیجی ہیڈکوارٹر کے جنرل منیجر تارو ایکوشیما نے رائٹرز نیکسٹ ایشیا فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی اب صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ تیزی سے حقیقی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، جہاں روبوٹس، سمارٹ مشینیں اور خودکار نظام انسانوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے کئی تکنیکی رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہیں۔

    تارو ایکوشیما نے کہا کہ مستقبل میں ایسے روبوٹس کی آمد انتہائی دلچسپ ہوگی جو خود سوچ سکیں، فیصلے کر سکیں اور بغیر انسانی مداخلت کے مختلف کام انجام دیں، لیکن اس سے پہلے توانائی، حفاظت، سینسرز، رابطے اور قابلِ اعتماد پرزوں جیسے کئی بنیادی مسائل حل کرنا ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ڈی کے اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد روبوٹس کی تیاری میں کردار ادا کر سکے تو یہ کمپنی کے لیے باعثِ فخر ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے اعداد و شمار خود اس شعبے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2012 سے 2022 کے دوران اے آئی ماڈلز کی کمپیوٹنگ صلاحیت میں ایک کروڑ گنا اضافہ ہوا، جبکہ اندازہ ہے کہ 2030 تک دنیا بھر میں پیدا ہونے والے ڈیٹا کا حجم 600 زیٹا بائٹس تک پہنچ جائے گا۔ ایک زیٹا بائٹ ایک کھرب گیگا بائٹس کے برابر ہوتا ہے، جو 2020 کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ ہوگا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے مصنوعی ذہانت حقیقی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، ویسے ویسے بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت، سینسرز کی حساسیت، تیز رفتار رابطے، محفوظ نظام اور قابلِ اعتماد ہارڈویئر جیسے معاملات زیادہ اہم بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی ذہین مشینوں کی کامیابی کا انحصار صرف سافٹ ویئر پر نہیں بلکہ مضبوط ہارڈویئر پر بھی ہوگا۔

    تارو ایکوشیما نے کہا کہ اگر کوئی روبوٹ صرف تیس منٹ کام کرنے کے بعد بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو جائے یا اردگرد کے ماحول کو درست طریقے سے نہ سمجھ سکے تو ایسی ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے زیادہ دیر تک چلنے والی بیٹریاں، انتہائی حساس سینسرز اور بہتر معیار کے الیکٹرانک پرزے مستقبل کے روبوٹس کی بنیادی ضرورت ہوں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے فوٹونکس ایک اہم ٹیکنالوجی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں روشنی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کیا جاتا ہے، جس سے توانائی کی کھپت کم ہوتی ہے جبکہ معلومات کی منتقلی کی رفتار اور گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹی ڈی کے اس شعبے میں ایسے آلات تیار کر رہی ہے جو مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی نظام کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی صرف ہارڈویئر تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایسے جدید سینسرز بھی بنا رہی ہے جو مصنوعی ذہانت کو اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیں گے۔ اسی مقصد کے لیے کمپنی نے جولائی 2024 میں ‘ٹی ڈی کے سینس ای آئی’ کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا، جو جدید سینسرز اور سافٹ ویئر کی مدد سے مشینوں کی پیشگی خرابی کا اندازہ لگانے پر کام کر رہا ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی صنعتی اداروں میں استعمال بھی کی جا رہی ہے، جہاں انتہائی حساس سینسرز موٹروں میں معمولی سی غیر معمولی کمپن کو بھی محسوس کر لیتے ہیں اور مشین خراب ہونے سے پہلے ہی خبردار کر دیتے ہیں۔ اسی طرح درجہ حرارت، آواز، دباؤ اور کمپن میں آنے والی تبدیلیوں کا فوری تجزیہ کر کے بروقت کارروائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سمارٹ چشمے بھی مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی تصور کیے جا رہے ہیں۔ ٹی ڈی کے ایسے چشمے تیار کر رہی ہے جنہیں مواصلات، فوری زبانوں کے ترجمے، راستہ دکھانے اور دیگر روزمرہ کاموں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    کمپنی نے سافٹ آئی نامی ادارہ خریدنے کے بعد ایسی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی ہے جو آنکھوں کی حرکت کو سمجھ سکتی ہے اور یہ جان سکتی ہے کہ صارف کس چیز کو دیکھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ساتھ مل کر یہ ٹیکنالوجی بغیر آواز یا ہاتھ کے اشاروں کے مشینوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ کمپنی ایسی ریٹینا پروجیکشن ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے معلومات براہ راست صارف کی آنکھ کے پردے پر دکھائی جا سکیں گی۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام ہلکا، کم بجلی استعمال کرنے والا اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے کے قابل ہوگا۔

    تارو ایکوشیما نے کہا کہ کمپنی کا مقصد صرف مختلف پرزے فروخت کرنا نہیں بلکہ بیٹریوں، سینسرز، الیکٹرانک اجزا اور فوٹونکس کو یکجا کر کے مکمل حل فراہم کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو حقیقی دنیا میں محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

    ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اے آئی سے لیس روبوٹس کا استعمال فیکٹریوں اور گوداموں جیسے محدود ماحول میں زیادہ ہوگا، جہاں ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے گا، اس کے بعد یہ ٹیکنالوجی عام زندگی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوگی۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ مستقبل میں عمومی مصنوعی ذہانت (AGI) روبوٹس کو خودمختار بنا سکتی ہے، لیکن بیٹری کا جلد ختم ہونا، غلط ہدایات سمجھ لینا یا اردگرد کے شور سے متاثر ہو جانا جیسے مسائل ابھی بھی موجود ہیں، جنہیں حل کرنا ناگزیر ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز پر دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کمپیوٹنگ کی زیادہ ضرورت کے باعث بجلی کی کھپت اور کولنگ سسٹمز مستقبل کے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید حرارتی انتظامی نظام اور فوٹونکس جیسی ٹیکنالوجیز توانائی کی بچت کرتے ہوئے اے آئی کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

    رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی کامیابی صرف اس کے ذہین سافٹ ویئر پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ ایسے مضبوط ہارڈویئر پر بھی ہوگی جو حقیقی دنیا میں محفوظ، قابلِ اعتماد اور مسلسل کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اسی وجہ سے ماہرین اب مصنوعی ذہانت کے "دماغ” کے ساتھ اس کے "جسم” کی تعمیر کو بھی مستقبل کی سب سے اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں۔

  • جاپان نے دو ارب ڈالر کی آن لائن دھوکہ دہی روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘پولیس چیف’ متعارف کرا دیا

    جاپان نے دو ارب ڈالر کی آن لائن دھوکہ دہی روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘پولیس چیف’ متعارف کرا دیا

    جاپان میں آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے پولیس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک ورچوئل پولیس چیف متعارف کرا دیا ہے، جس کا نام آئیکو (AIKO)رکھا گیا ہے۔

    حکام کو امید ہے کہ یہ ڈیجیٹل پولیس افسر لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، کو سائبر فراڈ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    آئیکو، جس کے نام میں ‘AI’ اور ‘KO’ کو ملا کر نام بنایا گیا ہے، جبکہ ‘کو’ جاپانی خواتین کے ناموں کے آخر میں عام طور پر استعمال ہونے والا لاحقہ ہے، کو مئی میں اوساکا کی صوبائی پولیس نے متعارف کرایا۔

    رپورٹ کے مطابق جاپان میں گزشتہ سال سوشل میڈیا، جعلی سرمایہ کاری کی اسکیموں اور دیگر آن لائن فراڈ کے ذریعے شہریوں کو دو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا، جو اب تک کی ریکارڈ سطح ہے۔

    اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے اوساکا کی صوبائی پولیس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ "آئیکو” کو عوامی آگاہی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

    آئیکو نے پہلی بار مئی کے آخر میں اوساکا پولیس کے یوٹیوب چینل پر اپنی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں وہ عام شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ دھوکہ باز کس طرح خود کو پولیس افسر، مشہور سرمایہ کار یا رومانوی ساتھی ظاہر کرکے لوگوں سے رقم ہتھیا لیتے ہیں۔

    وہ آسان اور سادہ زبان میں بتاتی ہے کہ ایسے فراڈ کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔

    ایک ویڈیو میں آئیکو واضح طور پر کہتی ہے کہ حقیقی پولیس افسر کبھی بھی آن لائن اپنی شناخت یا گرفتاری کے وارنٹ نہیں دکھاتے۔ اگر کوئی شخص ویڈیو کال یا سوشل میڈیا پر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے رقم یا ذاتی معلومات مانگے تو اس پر ہرگز یقین نہ کریں۔

    یہ ورچوئل کردار جاپان کی کاگاوا یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی مرکز سے وابستہ پروفیسر توشینوری ہیرانو نے تیار کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی اوساکا پولیس کے مشیر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام میں جرائم سے بچاؤ کا شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پولیس کے مطابق ماضی میں فراڈ سے زیادہ تر بزرگ شہری متاثر ہوتے تھے، لیکن اب نوجوان بھی بڑی تعداد میں دھوکہ بازوں کا شکار بن رہے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوساکا میں گزشتہ سال فراڈ کے تقریباً نصف متاثرین کی عمر 65 سال سے کم تھی۔ اسی وجہ سے پولیس نے نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی سرمایہ کاری کی جعلی اسکیمیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

    دھوکہ باز معروف شخصیات کی تصاویر اور ویڈیوز استعمال کرکے لوگوں کو زیادہ منافع کا لالچ دیتے ہیں۔ کئی افراد اپنی جمع پونجی ایسی اسکیموں میں لگا دیتے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب فراڈ تھا۔

    اس کے علاوہ رومانوی تعلقات کے نام پر ہونے والے فراڈ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مجرم پہلے سوشل میڈیا یا پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے دوستی کرتے ہیں، پھر اعتماد حاصل کرنے کے بعد متاثرہ شخص سے مختلف بہانوں سے رقم وصول کر لیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف جرائم پیشہ افراد ہی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی عوام کی حفاظت کے لیے کر سکتے ہیں۔ جاپان کی یہ نئی مہم اسی سوچ کی ایک مثال ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کو عوامی آگاہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں آئیکو کو مزید پلیٹ فارموں پر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آن لائن فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔ حکام کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بروقت اور مؤثر آگاہی فراہم کرکے مالی جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

  • گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    امریکہ کی معروف گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا فیصلہ کمپنی کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ خودکار نظاموں سے مطلوبہ معیار حاصل نہ ہونے اور اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد کمپنی کو سینکڑوں تجربہ کار انجینئر دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑے، جس کے بعد گاڑیوں کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔

    فورڈ کے اعلیٰ حکام کے مطابق کمپنی نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 350 سے زائد سینئر اور تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا۔ کمپنی کے اندر انہیں غیر رسمی طور پر ‘گرے بیئرڈز’ یعنی سفید داڑھی والے ماہرین کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کئی دہائیوں کا عملی تجربہ موجود ہے۔ ان انجینئرز کو دوبارہ اس لیے لایا گیا تاکہ وہ ان خامیوں کی نشاندہی کر سکیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام بروقت پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

    فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے برطانوی نشریاتی ادارے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ کمپنی معیار کی جانچ کے لیے مسلسل خودکار نظاموں پر انحصار بڑھا رہی تھی، لیکن اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق کمپنی نے دوبارہ تکنیکی ماہرین کو شامل کیا جو پیداواری عمل شروع ہونے سے پہلے ہی پرزوں اور ڈیزائن میں موجود ممکنہ خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    کمپنی نے گزشتہ چند برسوں میں فیکٹریوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی معائنہ اور جانچ کے نظام متعارف کرائے تھے تاکہ پیداوار تیز ہو اور معیار بھی بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ پیچیدہ انجینئرنگ مسائل میں مصنوعی ذہانت انسانی تجربے اور فیصلے کا مکمل متبادل ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی ایسے نقائص سامنے آئے جنہیں صرف برسوں کے تجربے کے حامل انجینئر ہی سمجھ سکتے تھے۔

    فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرا دینے اور اس میں ڈیزائن سے متعلق معلومات شامل کرنے سے خود بخود اعلیٰ معیار کی گاڑیاں تیار ہونے لگیں گی۔ لیکن بعد میں احساس ہوا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا انحصار بھی اسی معلومات پر ہوتا ہے جو اسے تربیت کے دوران فراہم کی جاتی ہے۔ اگر تجربہ کار انجینئرز کی مہارت اور برسوں کا عملی علم نظام میں منتقل نہ کیا جائے تو مصنوعی ذہانت بہترین نتائج نہیں دے سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں کمپنی نے اپنے ان انجینئرز کے تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو کئی مختلف ماڈلز اور منصوبوں پر کام کر چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ان کا ادارہ جاتی علم بھی ضائع ہو گیا، جس کے باعث مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے والے نظام کمزور معلومات پر انحصار کرتے رہے اور ڈیزائن کی خامیوں کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہے۔

    کمپنی کے مطابق دوبارہ بھرتی کیے گئے انجینئرز کو صرف معیار بہتر بنانے کی ذمہ داری نہیں دی گئی بلکہ انہیں نوجوان انجینئرز کی تربیت، مصنوعی ذہانت کے لیے بہتر ڈیٹا تیار کرنے اور خودکار نظاموں کو مزید مؤثر بنانے کا کام بھی سونپا گیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ فورڈ نے 40 ماہرین پر مشتمل ایک الگ سافٹ ویئر کوالٹی ایشورنس ٹیم بھی قائم کی ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد نئے خودکار اے آئی ٹیسٹ بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ سافٹ ویئر اور ڈیزائن میں موجود باریک خامیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    ان اقدامات کے بعد کمپنی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ جے ڈی پاور کی 2026 کی ابتدائی معیار کی سالانہ رپورٹ میں فورڈ کو عام صارفین کے لیے گاڑیاں بنانے والے برانڈز میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ یہ گزشتہ 16 برسوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ فورڈ اس درجہ بندی میں سرفہرست آیا ہے۔ اس سروے میں نئی گاڑی خریدنے والے صارفین سے پہلے 90 دن کے دوران پیش آنے والے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فورڈ نے ہر 100 گاڑیوں پر 152 مسائل کا ریکارڈ بنایا، جو دیگر بڑے برانڈز کے مقابلے میں بہتر رہا۔ کمپنی کے مقبول ماڈلز ایف 150، مسٹینگ اور سپر ڈیوٹی مسلسل دوسرے سال بھی اپنے اپنے شعبوں میں بہترین قرار پائے۔

    تاہم کمپنی کے لیے تمام مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ فورڈ اب بھی امریکہ میں سب سے زیادہ گاڑیاں واپس بلانے والی کمپنی ہے۔ صرف 2026 کے دوران کمپنی نے 51 مرتبہ مختلف ماڈلز واپس منگوائے، جن کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مسائل پرانے پیداواری فیصلوں اور سابقہ خودکار نظاموں سے متعلق تھے، نہ کہ حالیہ اصلاحات سے۔

    گزشتہ چند برسوں میں فورڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کی تھی۔ 2020 کے بعد کمپنی تقریباً پانچ ہزار 300 تنخواہ دار ملازمتیں ختم کر چکی ہے، جبکہ امریکی آٹو صنعت میں مجموعی طور پر 20 ہزار سے زیادہ دفتری ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔

    فورڈ کے چیف ایگزیکٹو جم فارلے نے یہ بھی کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں امریکہ میں دفتری ملازمتوں کے تقریباً نصف حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم اب کمپنی کا حالیہ تجربہ اس خیال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے کیونکہ صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فورڈ کا تجربہ ان کمپنیوں کے لیے اہم سبق ہے جو انسانی مہارت کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اے آئی رفتار، تجزیے اور خودکار عمل میں نمایاں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن انسانی تجربہ، عملی مشاہدہ اور پیچیدہ حالات میں فیصلہ سازی اب بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں مکمل طور پر مشینوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ادھر امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ملازمین کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم بنتا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی کارکنوں کو اے آئی کے دور کے مطابق نئی مہارتیں سکھانے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے ایک غیر منافع بخش منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    تاہم فورڈ کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف نئی تربیت ہی کافی نہیں، بلکہ اداروں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کن تجربہ کار ملازمین کی مہارت کسی بھی قیمت پر ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

    فورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بند نہیں کرے گی، بلکہ آئندہ اسے انسانی نگرانی اور تجربے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن بہترین نتائج اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب مشینوں کی رفتار اور انسانوں کے تجربے کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔

  • پوپ کا عالمی رہنماؤں سے مصنوعی ذہانت کے متعلق سخت عالمی قوانین بنانے کا مطالبہ

    پوپ کا عالمی رہنماؤں سے مصنوعی ذہانت کے متعلق سخت عالمی قوانین بنانے کا مطالبہ

    پوپ لیو چہار دہم نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے اور اس کے لیے سخت عالمی قوانین بنائے جائیں۔

    پوپ لیو چہار دہم نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کی ترقی پر مناسب نگرانی نہ کی گئی تو یہ انسانی معاشروں میں غلط معلومات، تنازعات اور مسلسل جنگ جیسے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔

    پیر کے روز دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے روحانی اور انتظامی مرکز اور طاقت کا محور سمجھے جانے والے ویٹی کن سے ’شاندار انسانیت‘ کے عنوان سے جاری دستاویز میں مطالبہ کیا گیا: ‘مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے اور اس کے لیے سخت عالمی قوانین بنائے جائیں۔’

    پوپ لیو چہار دہم کے دستخط سے یہ دستاویز 15 مئی کی علامتی تاریخ کو جاری کی گئی۔ 15 مئی 1891 کو پوپ لیو سیزدہم کے دستخط سے جاری ‘نئے معاملات’ یا Rerum Novarum کے عنوان سے دستاویز میں صنعتی انقلاب کے دوران مزدوروں کے حقوق اور بہتر کام کے حالات کی حمایت کی گئی تھی۔

    بعد ازاں 1963 میں رومن کیتھولک چرچ کے 261 ویں پوپ جان تیئسویں نے ‘عالمی امن’ یا Pacem in Terris کے عنوان سے دستاویز جاری کی، جس میں سرد جنگ کے دور میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور عالمی امن کی اپیل کی گئی تھی۔

    اسی طرح 2015 میں پوپ فرانسس نے ‘تعریف ہو آپ کی’ یا Laudato Si کے عنوان سے دستاویز میں ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی بحران کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

    دنیا بھر میں کیتھولک چرچ کے پوپ گزشتہ 135 برس سے عالمی رہنماؤں کو سماجی انصاف، انسانی حقوق اور عالمی مسائل پر توجہ دینے کی اپیل کرتے آ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف ادوار میں اہم دستاویزات جاری کی جاتی رہی ہیں جنہیں چرچ کی تعلیمات میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اب موجودہ پوپ لیو XIV نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور ممکنہ خطرات پر ایک نئی دستاویز جاری کر دی ہے۔

    ویٹی کن امور کے معروف مبصر جان تھاوس، جنہوں نے تین مختلف پوپ کے ادوار کا مشاہدہ کیا ہے، نے اس حوالے سے کہا کہ ماضی کے پوپ بھی اپنے دور کے اہم سماجی مسائل پر آواز بلند کرتے رہے ہیں اور موجودہ پوپ نے بھی اپنے وقت کے ایک بڑے مسئلے یعنی مصنوعی ذہانت کو موضوع بنایا ہے۔

    ان کے مطابق پوپ لیو کی کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی پر ہونے والی عالمی بحث میں اخلاقی اور انسانی اقدار کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کو فیصلہ سازی اور نظام کے مرکز میں رکھا جائے۔

    برطانوی ماہر تعلیم اور چرچ کی مشیر اینا رولینڈز نے ویٹی کن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک صدی سے پوپ مسلسل یہ پیغام دیتے آئے ہیں کہ دنیا صرف منڈی اور معاشی نظام کے ذریعے محفوظ نہیں بن سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ آج پوپ لیو یہی بات نئے انداز میں دہرا رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ انسانیت کو صرف مصنوعی ذہانت کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

    چرچ میں ایسی دستاویزات کو ’انسائیکلیکل‘ کہا جاتا ہے اور یہ پوپ کی اعلیٰ ترین تعلیمات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے موضوعات کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اکثر کئی برسوں کی تیاری کے بعد شائع ہوتی ہیں اور پوپ کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔

    حالیہ مہینوں میں پوپ لیو نے عالمی سیاسی معاملات پر نسبتاً واضح اور سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایران جنگ پر تنقید کے بعد انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اپنی نئی دستاویز میں پوپ نے خاص طور پر خودکار ہتھیاروں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق بعض جدید ہتھیار ایسے مرحلے پر پہنچ رہے ہیں جہاں انسانی کنٹرول اور نگرانی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

    تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پوپ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایسی اپیلوں کے نتائج ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔ بعض مواقع پر ان کا نمایاں اثر دیکھا گیا جبکہ بعض معاملات میں عملی تبدیلی محدود رہی۔

    مثال کے طور پر 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے بعد جاری ہونے والی “Pacem in Terris” کو بعض مؤرخین امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان مذاکرات کی اخلاقی حمایت قرار دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعد میں ایٹمی تجربات محدود کرنے کا معاہدہ سامنے آیا۔

    دوسری جانب پوپ فرانسس نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی، تاہم وہ اکثر اس بات پر افسوس کرتے رہے کہ حکومتیں مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہیں۔

    جان تھاوس کے مطابق ایسی دستاویزات کے اثرات فوری طور پر سامنے نہیں آتے بلکہ وقت کے ساتھ عوامی مباحث، میڈیا اور سماجی تحریکوں کے ذریعے ان کے خیالات اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت پر جاری کی گئی نئی دستاویز مستقبل کی عالمی بحث میں ایک اہم حوالہ ثابت ہو سکتی ہے۔

    یہ دستاویز اب ویٹی کن کی ویب سائٹ پر مختلف زبانوں میں دستیاب ہے اور اسے مطالعے اور بحث کے لیے کتابچے کی شکل میں بھی تقسیم کیا جائے گا۔

    ویٹی کن کی تقریب میں دنیا کی معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی کرس اولاہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پوپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کمپنیاں شدید تجارتی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، اس لیے بیرونی نگرانی اور واضح اصولوں کی ضرورت ہے۔

    اپنی دستاویز کے اختتام پر پوپ لیو نے مطالبہ کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پر مضبوط بین الاقوامی ضابطے بنائے جائیں اور اس سے متعلق ڈیٹا اور اختیار صرف نجی اداروں کے ہاتھوں میں نہ چھوڑا جائے، تاکہ مستقبل میں ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، نہ کہ انسان اس کے تابع ہو جائے۔

  • مصنوعی ذہانت: تجربہ کار ملازمین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے رجحان میں اضافہ

    مصنوعی ذہانت: تجربہ کار ملازمین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے رجحان میں اضافہ

    مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت نے دنیا بھر میں ملازمتوں کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اس تبدیلی کے نتیجے میں ایک دلچسپ اور اہم رجحان سامنے آیا ہے: بہت سے تجربہ کار اور عمر رسیدہ ملازمین نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بجائے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    امریکی بزنس جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خاص طور پر 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں اس عمر کے افراد کی ملازمت میں شمولیت کی شرح کم ہو کر تقریباً 37.2 فیصد رہ گئی ہے، جو گزشتہ بیس سالوں کی کم ترین سطح ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سب سے اہم مصنوعی ذہانت کا تیزی سے نفاذ، کام کے ماحول میں تبدیلی، اور نئی مہارتیں سیکھنے کا دباؤ شامل ہیں۔

    کئی دہائیوں تک مسلسل اضافے اور پھر 2010 کی دہائی میں تقریباً 40 فیصد کے قریب رہنے کے بعد، اب امریکا میں 55 سال سے زائد عمر کے افراد کا افرادی قوت میں حصہ کم ہو کر 37.2 فیصد رہ گیا ہے، جو بیس سال سے زیادہ عرصے میں سب سے کم سطح ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور ریٹائرمنٹ کے مشیر کہتے ہیں کہ گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹ سے حاصل ہونے والے منافع نے کچھ لوگوں کو مالی طور پر سہارا دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ کمی آئی ہے۔

    تاہم کچھ عمر رسیدہ پیشہ ور افراد کے لیے معاملہ صرف پیسے تک محدود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے آخری سال مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے دوران پیدا ہونے والی ہلچل میں نہیں گزارنا چاہتے، جہاں نئے اوزار، نئی توقعات اور غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

    نئی ٹیکنالوجی کا دباؤ

    رپورٹ میں ایک 68 سالہ ملازم لیوک مشیل کی مثال دی گئی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی میں کئی ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں دیکھی تھیں، جیسے کہ 1980 کی دہائی میں ڈیسک ٹاپ پبلشنگ اور بعد میں انٹرنیٹ کا دور۔ مگر ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کا دور ان کے لیے مختلف اور زیادہ مشکل ثابت ہوا۔

    انہوں نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کے لیے جو وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے، وہ ان کے لیے اب ممکن نہیں رہی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ وہ مزید کچھ سال کام کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

    یہ مثال صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ہزاروں ایسے ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آخری مرحلے میں ایک اور بڑی تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔

    ایک سروے کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں سے تقریباً 25 فیصد نے بتایا کہ وہ کام کے دباؤ اور تھکن کی وجہ سے جلد ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت کے استعمال نے نہ صرف کام کے طریقے بدل دیے ہیں بلکہ ملازمین سے نئی توقعات بھی وابستہ کر دی ہیں۔ اب کئی کمپنیوں میں ملازمین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اے آئی ٹولز کا استعمال کریں، اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں، اور مسلسل نئی مہارتیں سیکھتے رہیں۔

    یہ مسلسل تبدیلی اور سیکھنے کا عمل خاص طور پر عمر رسیدہ ملازمین کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے، جو اپنی زندگی کے اس مرحلے میں نسبتاً استحکام چاہتے ہیں۔

    کام کی نوعیت میں تبدیلی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ملازمت کے اہم پہلو بیک وقت بدل جاتے ہیں، جیسے کہ خودمختاری میں کمی، ساتھیوں کا چھوڑ جانا، یا کمپنی کی پالیسیوں میں تبدیلی، تو لوگ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت ان تمام عوامل کو ایک ساتھ متاثر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف کام کے طریقے بدلتی ہے بلکہ ملازمین کے کردار اور اہمیت کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے کئی افراد خود کو غیر متعلق یا غیر ضروری محسوس کرنے لگتے ہیں۔

    کچھ ملازمین کے لیے مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سیکھنے کا نہیں بلکہ اس کے اخلاقی پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک خاتون ملازم نے اپنی ملازمت اس لیے چھوڑ دی کیونکہ وہ اے آئی کے استعمال سے مطمئن نہیں تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت تخلیقی کام کرنے والے افراد کی محنت کو استعمال کرتی ہے، مگر انہیں اس کا معاوضہ نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ انہیں خدشہ تھا کہ اے آئی انسانوں کی سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

    نوجوان اور بزرگ ملازمین میں فرق

    تحقیقی اداروں کے مطابق نوجوان ملازمین کے مقابلے میں عمر رسیدہ افراد مصنوعی ذہانت کے استعمال میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 30 سے 49 سال کے افراد میں اے آئی کے استعمال کی شرح تقریباً 30 فیصد ہے، جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح اس سے کہیں کم ہے۔

    اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان افراد نئی ٹیکنالوجی کو جلدی اپناتے ہیں، جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ عمل زیادہ مشکل اور وقت طلب ہوتا ہے۔

    مالی استحکام بھی ایک وجہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ افراد کے لیے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ مالی طور پر بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ گھروں کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری نے کئی افراد کو مالی طور پر مستحکم بنایا ہے، جس کی وجہ سے وہ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    لیکن یہ بھی واضح ہے کہ تمام افراد کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا، اور بہت سے لوگ مجبوری میں بھی ملازمت جاری رکھتے ہیں۔

    کمپنیوں کا کردار

    ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کمپنیاں اپنے تجربہ کار ملازمین کو نئی ٹیکنالوجی سکھانے میں خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کر رہیں۔ اگر ادارے بہتر تربیت اور سہولت فراہم کریں تو ممکن ہے کہ زیادہ لوگ ملازمت جاری رکھ سکیں۔

    یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف معیشت بلکہ انسانی رویوں اور فیصلوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ایک طرف نوجوان نسل اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے تیار ہے، تو دوسری طرف بڑی عمر کے افراد اس سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات لیبر مارکیٹ، معیشت، اور اداروں کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ تجربہ کار افراد کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں نئی مواقع پیدا کر رہی ہے، وہیں یہ ایک چیلنج بھی بن چکی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آخری مراحل میں ہیں اور مزید تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔

  • عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، مگر پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک پیچھے – نئی عالمی رپورٹ

    عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، مگر پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک پیچھے – نئی عالمی رپورٹ

    دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم نئی عالمی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل فرق مزید وسیع ہو گیا ہے۔ مائیکروسافٹ اے آئی اکانومی انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران دنیا میں ہر چھ میں سے تقریباً ایک شخص اب جنریٹو اے آئی ٹولز استعمال کر رہا ہے، مگر پاکستان جیسے ممالک اس دوڑ میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔

    مائیکروسافت اے آئی ڈیفیوژن رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوسرے نصف میں عالمی سطح پر اے آئی استعمال کرنے والوں کی شرح پہلے نصف کے 15.1 فیصد سے بڑھ کر 16.3 فیصد ہو گئی، جو کہ صرف چھ ماہ میں 1.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار اس ٹیکنالوجی کے لیے غیر معمولی ہے جو چند سال پہلے ہی عام صارفین تک پہنچی ہے۔

     پاکستان بہت پیچھے

    رپورٹ میں شامل اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اے آئی استعمال کی شرح 2025 کے پہلے حصے میں 9.7 فیصد تھی جو سال کے آخری حصے میں بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی۔ یعنی چھ ماہ میں صرف 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح عالمی اوسط 16.3 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار میں ابھی بہت پیچھے ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں انٹرنیٹ رسائی کی محدودیت، ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی، اور سرکاری سطح پر اے آئی پالیسی کی سست پیش رفت شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی جنوب (گلوبل سائوتھ) میں اے آئی اپنانے کی رفتار عالمی شمال (گلوبل نارتھ) کے مقابلے میں تقریباً آدھی رہی۔ عالمی شمال میں کام کرنے کی عمر کی 24.7 فیصد آبادی اے آئی استعمال کر رہی ہے جبکہ عالمی جنوب میں یہ شرح صرف 14.1 فیصد ہے۔

     دنیا کے تین سرفہرست ممالک

    رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور ناروے اے آئی استعمال میں دنیا کے تین نمایاں ممالک بن کر سامنے آئے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات64 فیصد شرح کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے 2017 میں ہی اے آئی کے لیے قومی حکمت عملی بنا لی تھی اور سرکاری خدمات میں ٹیکنالوجی کو جلد شامل کیا، جس کا فائدہ اب واضح نظر آ رہا ہے۔

    سنگاپور60.9 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ وہاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تعلیم اور حکومتی منصوبہ بندی نے عام شہریوں میں اے آئی کے استعمال کو تیزی سے بڑھایا۔

    ناروے تیسرے نمبر پر رہا جہاں 46.4 فیصد ورکنگ ایج آبادی اے آئی استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں مضبوط ڈیجیٹل نظام اور اعلیٰ تعلیم اس کامیابی کی بڑی وجہ ہیں۔

     امریکہ اور جنوبی کوریا کی دلچسپ کہانی

    رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ امریکہ اے آئی ٹیکنالوجی بنانے میں آگے ہونے کے باوجود استعمال کے لحاظ سے 24ویں نمبر پر ہے، جہاں صرف 28.3 فیصد آبادی اے آئی استعمال کرتی ہے۔

    دوسری جانب جنوبی کوریا نے سب سے زیادہ ترقی دکھائی۔ وہاں اے آئی استعمال 25.9 فیصد سے بڑھ کر 30.7 فیصد ہو گیا اور ملک عالمی درجہ بندی میں سات درجے اوپر آ گیا۔ حکومت کی پالیسیوں، مقامی زبان میں بہتر اے آئی ماڈلز اور تعلیمی اصلاحات کو اس کامیابی کی وجہ قرار دیا گیا۔

      بڑھتا ہوا ڈیجیٹل فرق

    رپورٹ میں موجود چارٹ کے مطابق 2025 میں عالمی شمال اور عالمی جنوب کے درمیان اے آئی استعمال کا فرق 9.8 فیصد سے بڑھ کر 10.6 فیصد ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد بھی چند ممالک تک محدود ہو جائیں گے۔

    رپورٹ کے تجزیے کے مطابق وہ ممالک آگے نکل رہے ہیں جنہوں نے تین شعبوں پر سرمایہ کاری کی: ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اے آئی تعلیم اور مہارتیں اور حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کا استعمال

     پاکستان بھی اے آئی معیشت میں حصہ لینا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں حال ہی میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور مزید کیے جارہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گذشتہ دنوں تمام یونیورسٹیز کو تعلیمی نصاب میں اے آئی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ہیک نے 2026 کے تعلیمی سیشن سے تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے لیے 3 کریڈٹ آور کا مصنوعی ذہانت (AI) کا کورس لازمی قرار دے دیا ہے۔

    اس کورس میں طلبہ کو اے آئی کی بنیادی سمجھ دی جائے گی، جس میں ڈیٹا، الگورتھمز اور عملی استعمالات شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو مستقبل کی ایسی ملازمتوں کے لیے تیار کرنا ہے جہاں مصنوعی ذہانت اہم کردار ادا کرے گی۔ یونیورسٹیوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس کورس کو بنیادی مضمون، اختیاری مضمون یا بین الشعبہ (انٹر ڈسپلنری) کورس کے طور پر شامل کر سکیں۔

    رپورٹ واضح کرتی ہے کہ دنیا تیزی سے اے آئی کے دور میں داخل ہو رہی ہے، مگر تمام ممالک یکساں رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ پاکستان میں اگرچہ استعمال میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن عالمی مقابلے میں یہ رفتار بہت ہی کم ہے۔ آنے والے برسوں میں پالیسی سازی اور سرمایہ کاری ہی طے کرے گی کہ پاکستان ڈیجیٹل تقسیم کا شکار رہتا ہے یا نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے

    والے ممالک میں شامل ہو جاتا ہے۔