عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، مگر پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک پیچھے – نئی عالمی رپورٹ

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم نئی عالمی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل فرق مزید وسیع ہو گیا ہے۔ مائیکروسافٹ اے آئی اکانومی انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران دنیا میں ہر چھ میں سے تقریباً ایک شخص اب جنریٹو اے آئی ٹولز استعمال کر رہا ہے، مگر پاکستان جیسے ممالک اس دوڑ میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔

مائیکروسافت اے آئی ڈیفیوژن رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوسرے نصف میں عالمی سطح پر اے آئی استعمال کرنے والوں کی شرح پہلے نصف کے 15.1 فیصد سے بڑھ کر 16.3 فیصد ہو گئی، جو کہ صرف چھ ماہ میں 1.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار اس ٹیکنالوجی کے لیے غیر معمولی ہے جو چند سال پہلے ہی عام صارفین تک پہنچی ہے۔

 پاکستان بہت پیچھے

رپورٹ میں شامل اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اے آئی استعمال کی شرح 2025 کے پہلے حصے میں 9.7 فیصد تھی جو سال کے آخری حصے میں بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی۔ یعنی چھ ماہ میں صرف 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح عالمی اوسط 16.3 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار میں ابھی بہت پیچھے ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں انٹرنیٹ رسائی کی محدودیت، ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی، اور سرکاری سطح پر اے آئی پالیسی کی سست پیش رفت شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی جنوب (گلوبل سائوتھ) میں اے آئی اپنانے کی رفتار عالمی شمال (گلوبل نارتھ) کے مقابلے میں تقریباً آدھی رہی۔ عالمی شمال میں کام کرنے کی عمر کی 24.7 فیصد آبادی اے آئی استعمال کر رہی ہے جبکہ عالمی جنوب میں یہ شرح صرف 14.1 فیصد ہے۔

 دنیا کے تین سرفہرست ممالک

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور ناروے اے آئی استعمال میں دنیا کے تین نمایاں ممالک بن کر سامنے آئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات64 فیصد شرح کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے 2017 میں ہی اے آئی کے لیے قومی حکمت عملی بنا لی تھی اور سرکاری خدمات میں ٹیکنالوجی کو جلد شامل کیا، جس کا فائدہ اب واضح نظر آ رہا ہے۔

سنگاپور60.9 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ وہاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تعلیم اور حکومتی منصوبہ بندی نے عام شہریوں میں اے آئی کے استعمال کو تیزی سے بڑھایا۔

ناروے تیسرے نمبر پر رہا جہاں 46.4 فیصد ورکنگ ایج آبادی اے آئی استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں مضبوط ڈیجیٹل نظام اور اعلیٰ تعلیم اس کامیابی کی بڑی وجہ ہیں۔

 امریکہ اور جنوبی کوریا کی دلچسپ کہانی

رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ امریکہ اے آئی ٹیکنالوجی بنانے میں آگے ہونے کے باوجود استعمال کے لحاظ سے 24ویں نمبر پر ہے، جہاں صرف 28.3 فیصد آبادی اے آئی استعمال کرتی ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا نے سب سے زیادہ ترقی دکھائی۔ وہاں اے آئی استعمال 25.9 فیصد سے بڑھ کر 30.7 فیصد ہو گیا اور ملک عالمی درجہ بندی میں سات درجے اوپر آ گیا۔ حکومت کی پالیسیوں، مقامی زبان میں بہتر اے آئی ماڈلز اور تعلیمی اصلاحات کو اس کامیابی کی وجہ قرار دیا گیا۔

  بڑھتا ہوا ڈیجیٹل فرق

رپورٹ میں موجود چارٹ کے مطابق 2025 میں عالمی شمال اور عالمی جنوب کے درمیان اے آئی استعمال کا فرق 9.8 فیصد سے بڑھ کر 10.6 فیصد ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد بھی چند ممالک تک محدود ہو جائیں گے۔

رپورٹ کے تجزیے کے مطابق وہ ممالک آگے نکل رہے ہیں جنہوں نے تین شعبوں پر سرمایہ کاری کی: ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اے آئی تعلیم اور مہارتیں اور حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کا استعمال

 پاکستان بھی اے آئی معیشت میں حصہ لینا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں حال ہی میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور مزید کیے جارہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گذشتہ دنوں تمام یونیورسٹیز کو تعلیمی نصاب میں اے آئی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ہیک نے 2026 کے تعلیمی سیشن سے تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے لیے 3 کریڈٹ آور کا مصنوعی ذہانت (AI) کا کورس لازمی قرار دے دیا ہے۔

اس کورس میں طلبہ کو اے آئی کی بنیادی سمجھ دی جائے گی، جس میں ڈیٹا، الگورتھمز اور عملی استعمالات شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو مستقبل کی ایسی ملازمتوں کے لیے تیار کرنا ہے جہاں مصنوعی ذہانت اہم کردار ادا کرے گی۔ یونیورسٹیوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس کورس کو بنیادی مضمون، اختیاری مضمون یا بین الشعبہ (انٹر ڈسپلنری) کورس کے طور پر شامل کر سکیں۔

رپورٹ واضح کرتی ہے کہ دنیا تیزی سے اے آئی کے دور میں داخل ہو رہی ہے، مگر تمام ممالک یکساں رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ پاکستان میں اگرچہ استعمال میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن عالمی مقابلے میں یہ رفتار بہت ہی کم ہے۔ آنے والے برسوں میں پالیسی سازی اور سرمایہ کاری ہی طے کرے گی کہ پاکستان ڈیجیٹل تقسیم کا شکار رہتا ہے یا نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے

والے ممالک میں شامل ہو جاتا ہے۔