جب مصنوعی ذہانت سوچنے سے نکل کر حقیقی دنیا میں عمل کرنے لگے

مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سیکھنے، سوچنے اور مسائل حل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل کر لی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی کو حقیقی دنیا میں مؤثر طریقے سے کام کرنا ہے تو اب صرف اس کا ‘دماغ’ کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے ایک مضبوط، محفوظ اور قابلِ اعتماد ‘جسم’ بھی درکار ہوگا۔

یہ بات جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی ٹی ڈی کے (TDK) کے کارپوریٹ افسر اور کارپوریٹ اسٹریٹیجی ہیڈکوارٹر کے جنرل منیجر تارو ایکوشیما نے رائٹرز نیکسٹ ایشیا فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی اب صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ تیزی سے حقیقی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، جہاں روبوٹس، سمارٹ مشینیں اور خودکار نظام انسانوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے کئی تکنیکی رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہیں۔

تارو ایکوشیما نے کہا کہ مستقبل میں ایسے روبوٹس کی آمد انتہائی دلچسپ ہوگی جو خود سوچ سکیں، فیصلے کر سکیں اور بغیر انسانی مداخلت کے مختلف کام انجام دیں، لیکن اس سے پہلے توانائی، حفاظت، سینسرز، رابطے اور قابلِ اعتماد پرزوں جیسے کئی بنیادی مسائل حل کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ڈی کے اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد روبوٹس کی تیاری میں کردار ادا کر سکے تو یہ کمپنی کے لیے باعثِ فخر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے اعداد و شمار خود اس شعبے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2012 سے 2022 کے دوران اے آئی ماڈلز کی کمپیوٹنگ صلاحیت میں ایک کروڑ گنا اضافہ ہوا، جبکہ اندازہ ہے کہ 2030 تک دنیا بھر میں پیدا ہونے والے ڈیٹا کا حجم 600 زیٹا بائٹس تک پہنچ جائے گا۔ ایک زیٹا بائٹ ایک کھرب گیگا بائٹس کے برابر ہوتا ہے، جو 2020 کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ ہوگا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے مصنوعی ذہانت حقیقی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، ویسے ویسے بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت، سینسرز کی حساسیت، تیز رفتار رابطے، محفوظ نظام اور قابلِ اعتماد ہارڈویئر جیسے معاملات زیادہ اہم بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی ذہین مشینوں کی کامیابی کا انحصار صرف سافٹ ویئر پر نہیں بلکہ مضبوط ہارڈویئر پر بھی ہوگا۔

تارو ایکوشیما نے کہا کہ اگر کوئی روبوٹ صرف تیس منٹ کام کرنے کے بعد بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو جائے یا اردگرد کے ماحول کو درست طریقے سے نہ سمجھ سکے تو ایسی ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے زیادہ دیر تک چلنے والی بیٹریاں، انتہائی حساس سینسرز اور بہتر معیار کے الیکٹرانک پرزے مستقبل کے روبوٹس کی بنیادی ضرورت ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے فوٹونکس ایک اہم ٹیکنالوجی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں روشنی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کیا جاتا ہے، جس سے توانائی کی کھپت کم ہوتی ہے جبکہ معلومات کی منتقلی کی رفتار اور گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹی ڈی کے اس شعبے میں ایسے آلات تیار کر رہی ہے جو مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی نظام کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی صرف ہارڈویئر تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایسے جدید سینسرز بھی بنا رہی ہے جو مصنوعی ذہانت کو اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیں گے۔ اسی مقصد کے لیے کمپنی نے جولائی 2024 میں ‘ٹی ڈی کے سینس ای آئی’ کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا، جو جدید سینسرز اور سافٹ ویئر کی مدد سے مشینوں کی پیشگی خرابی کا اندازہ لگانے پر کام کر رہا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی صنعتی اداروں میں استعمال بھی کی جا رہی ہے، جہاں انتہائی حساس سینسرز موٹروں میں معمولی سی غیر معمولی کمپن کو بھی محسوس کر لیتے ہیں اور مشین خراب ہونے سے پہلے ہی خبردار کر دیتے ہیں۔ اسی طرح درجہ حرارت، آواز، دباؤ اور کمپن میں آنے والی تبدیلیوں کا فوری تجزیہ کر کے بروقت کارروائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سمارٹ چشمے بھی مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی تصور کیے جا رہے ہیں۔ ٹی ڈی کے ایسے چشمے تیار کر رہی ہے جنہیں مواصلات، فوری زبانوں کے ترجمے، راستہ دکھانے اور دیگر روزمرہ کاموں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

کمپنی نے سافٹ آئی نامی ادارہ خریدنے کے بعد ایسی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی ہے جو آنکھوں کی حرکت کو سمجھ سکتی ہے اور یہ جان سکتی ہے کہ صارف کس چیز کو دیکھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ساتھ مل کر یہ ٹیکنالوجی بغیر آواز یا ہاتھ کے اشاروں کے مشینوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

اس کے علاوہ کمپنی ایسی ریٹینا پروجیکشن ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے معلومات براہ راست صارف کی آنکھ کے پردے پر دکھائی جا سکیں گی۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام ہلکا، کم بجلی استعمال کرنے والا اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے کے قابل ہوگا۔

تارو ایکوشیما نے کہا کہ کمپنی کا مقصد صرف مختلف پرزے فروخت کرنا نہیں بلکہ بیٹریوں، سینسرز، الیکٹرانک اجزا اور فوٹونکس کو یکجا کر کے مکمل حل فراہم کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو حقیقی دنیا میں محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اے آئی سے لیس روبوٹس کا استعمال فیکٹریوں اور گوداموں جیسے محدود ماحول میں زیادہ ہوگا، جہاں ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے گا، اس کے بعد یہ ٹیکنالوجی عام زندگی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ مستقبل میں عمومی مصنوعی ذہانت (AGI) روبوٹس کو خودمختار بنا سکتی ہے، لیکن بیٹری کا جلد ختم ہونا، غلط ہدایات سمجھ لینا یا اردگرد کے شور سے متاثر ہو جانا جیسے مسائل ابھی بھی موجود ہیں، جنہیں حل کرنا ناگزیر ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز پر دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کمپیوٹنگ کی زیادہ ضرورت کے باعث بجلی کی کھپت اور کولنگ سسٹمز مستقبل کے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید حرارتی انتظامی نظام اور فوٹونکس جیسی ٹیکنالوجیز توانائی کی بچت کرتے ہوئے اے آئی کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی کامیابی صرف اس کے ذہین سافٹ ویئر پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ ایسے مضبوط ہارڈویئر پر بھی ہوگی جو حقیقی دنیا میں محفوظ، قابلِ اعتماد اور مسلسل کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اسی وجہ سے ماہرین اب مصنوعی ذہانت کے "دماغ” کے ساتھ اس کے "جسم” کی تعمیر کو بھی مستقبل کی سب سے اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں: