اے آئی کی دنیا: کیا مصنوعی ذہانت انسان کے کام کی جگہ لے رہی ہے؟

اے آئی

ایک وقت تھا جب مشینوں کا کام انسان کی جسمانی محنت کم کرنے تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن مصنوعی ذہانت نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔

اب مشینیں صرف سامان تیار نہیں کر رہیں بلکہ تحریر لکھ رہی ہیں، تصاویر بنا رہی ہیں، آوازیں تخلیق کر رہی ہیں، ویڈیوز تیار کر رہی ہیں، سوالات کے جواب دے رہی ہیں، اعداد و شمار کا تجزیہ کر رہی ہیں اور ایسے کام بھی انجام دے رہی ہیں جنہیں کبھی صرف انسانی ذہانت سے جوڑا جاتا تھا۔

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی صلاحیت نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: اگر مشین انسان کی طرح سوچنے، لکھنے، بولنے اور فیصلوں میں مدد دینے لگے تو مستقبل میں انسان کے لیے کام کیا بچے گا؟

یہ سوال صرف ٹیکنالوجی کی دنیا تک محدود نہیں رہا۔ دفتری ملازمین، صحافیوں، ڈیزائنرز، مترجموں، اکاؤنٹنٹس، کسٹمر سروس نمائندوں، پروگرامرز، مارکیٹنگ ماہرین اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے بھی اے آئی اب روزمرہ کام کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی ادارہ محنت، آئی ایل او، کی 2025 کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر چار میں سے ایک ملازمت کسی نہ کسی حد تک جنریٹو اے آئی کی زد میں آ سکتی ہے۔ تاہم تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ زیادہ تر ملازمتوں کے مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے ان کے کام کی نوعیت تبدیل ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

اے آئی کام کی دنیا کیسے بدل رہی ہے؟

اے آئی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ کون سی ملازمت ختم ہوگی۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کسی ملازمت کے اندر کون سے کام انسان کے بجائے مشین انجام دے سکتی ہے۔

مثلاً ایک صحافی کے لیے معلومات جمع کرنا، ابتدائی مسودہ تیار کرنا، ترجمہ کرنا، دستاویزات سے اعداد و شمار نکالنا یا مختلف رپورٹس کا خلاصہ بنانا ایسے کام ہیں جن میں اے آئی مدد دے سکتی ہے۔ لیکن خبر کے لیے ذرائع سے رابطہ کرنا، موقع پر جا کر حالات دیکھنا، کسی دعوے کی آزادانہ تصدیق کرنا اور عوامی مفاد کے سوالات اٹھانا اب بھی انسانی صحافتی کردار سے جڑے کام ہیں۔

اسی طرح ایک گرافک ڈیزائنر کے لیے ابتدائی خاکہ، مختلف ڈیزائن آپشنز یا تصویر میں تبدیلیاں اے آئی چند لمحوں میں تیار کر سکتی ہے، لیکن برانڈ کی ضرورت سمجھنا، تخلیقی سمت طے کرنا اور حتمی فیصلہ کرنا انسانی کردار کا حصہ رہ سکتا ہے۔

یوں اے آئی کا اثر کئی شعبوں میں پوری ملازمت کو ختم کرنے کے بجائے اس کے اندر موجود مخصوص کاموں کو خودکار بنانے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

کن نوکریوں پر زیادہ اثر پڑ سکتا ہے؟

آئی ایل او کی 2025 کی تحقیق میں دفتری اور انتظامی نوعیت کے کاموں کو جنریٹو اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شمار کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق انتہائی زیادہ نمائش والے درجے میں عالمی روزگار کا تقریباً 3.3 فیصد حصہ آتا ہے، جبکہ خواتین اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں اے آئی سے متاثر ہونے والی ملازمتوں کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے۔

وہ ملازمتیں جن میں زیادہ تر کام ڈیجیٹل معلومات، معمول کے مطابق تحریر، دستاویزات، ڈیٹا پروسیسنگ یا بار بار دہرائے جانے والے دفتری کاموں پر مشتمل ہیں، ان میں اے آئی کے استعمال کے امکانات زیادہ ہیں۔

اسی لیے ڈیٹا انٹری، بنیادی دفتری معاونت، معمول کی کسٹمر سروس، ابتدائی مواد نویسی، بعض ترجمہ جاتی کام، بنیادی مالیاتی تجزیہ اور کچھ انتظامی کام مستقبل میں مزید خودکار ہو سکتے ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان شعبوں سے وابستہ ہر شخص کی ملازمت ختم ہو جائے گی۔ اصل تبدیلی یہ ہو سکتی ہے کہ ایک ملازم وہ کام کرے جو پہلے کئی افراد مل کر کرتے تھے، جبکہ اے آئی معمول کے اور تکراری کام سنبھال لے۔

ملازمتیں ختم ہوں گی یا نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی؟

یہاں تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی 2025 کی فیوچر آف جابز رپورٹ کے مطابق مختلف معاشی اور تکنیکی تبدیلیوں کے نتیجے میں 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہونے اور 9 کروڑ 20 لاکھ موجودہ ملازمتوں کے ختم یا بے دخل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 7 کروڑ 80 لاکھ ملازمتوں کا خالص اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اعداد اے آئی کے اثرات تک محدود نہیں بلکہ متعدد عالمی رجحانات کو شامل کرتے ہیں۔

اسی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت اور معلوماتی ٹیکنالوجی سے متعلق رجحانات نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے ساتھ کچھ موجودہ ملازمتوں کو متاثر بھی کریں گے۔ اے آئی، مشین لرننگ، ڈیٹا اور دیگر ٹیکنالوجی سے متعلق کرداروں میں طلب بڑھنے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔

یعنی آنے والے برسوں میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ کتنی ملازمتیں ختم ہوئیں، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ نئی ملازمتوں کے لیے مطلوبہ مہارتیں پرانی ملازمتوں سے کتنی مختلف ہوں گی۔

ایک ہی دفتر میں انسان اور اے آئی

مستقبل کا دفتر شاید ایسا نہ ہو جہاں ہر میز پر ایک انسان کے بجائے ایک مشین بیٹھی ہو۔ زیادہ ممکنہ منظر یہ ہے کہ ایک انسان کے ساتھ اے آئی کا نظام بھی کام کر رہا ہو۔

ایک ملازم چند گھنٹوں میں مکمل ہونے والا ڈیٹا تجزیہ چند منٹ میں کروا سکتا ہے۔ ایک مارکیٹنگ ماہر مختلف اشتہاری تصورات تیار کروا سکتا ہے۔ ایک پروگرامر کوڈ کا ابتدائی حصہ تیار کروا سکتا ہے۔ ایک طالب علم پیچیدہ موضوع کو آسان زبان میں سمجھ سکتا ہے۔

اس تبدیلی سے ملازم کی رفتار بڑھ سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی ایک نیا سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر ایک کمپنی اے آئی کی مدد سے وہی کام کم افراد سے کر سکتی ہے تو کیا وہ اپنی افرادی قوت کم کرے گی؟

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق 41 فیصد آجروں نے بتایا کہ وہ اے آئی کی جانب سے کاموں کی خودکاری کے نتیجے میں اپنی افرادی قوت کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ 77 فیصد آجر ملازمین کو نئی مہارتیں سکھانے یا موجودہ مہارتوں کو بہتر بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

یہ اعداد بتاتے ہیں کہ اے آئی کے ساتھ ملازمتوں کی دنیا میں تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ کاروباری فیصلوں کی تبدیلی بھی ہے۔

نوجوانوں کے لیے نیا چیلنج

اے آئی کے دور میں ایک اہم سوال ابتدائی سطح کی ملازمتوں کا بھی ہے۔

بہت سے نوجوان اپنے کیریئر کا آغاز ایسے کاموں سے کرتے ہیں جن میں بنیادی تحقیق، ڈیٹا مرتب کرنا، ابتدائی رپورٹ تیار کرنا، کسٹمر سپورٹ، معمول کی دفتری ذمہ داریاں یا ابتدائی سطح کی پروگرامنگ شامل ہوتی ہے۔

اگر ان میں سے کچھ کام اے آئی کم وقت اور کم لاگت میں انجام دے سکے تو کمپنیوں کے لیے ابتدائی سطح کی بھرتیوں کا انداز بدل سکتا ہے۔

آئی ایل او کی 2026 کی تحقیق میں بھی اے آئی کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور کام کی تنظیم میں تبدیلی کو اہم خدشات میں شامل کیا گیا ہے، اگرچہ بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کے شواہد ابھی محدود ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں صرف ڈگری کافی نہ ہو۔ نوجوانوں کو اپنے شعبے کے ساتھ ساتھ اے آئی کے استعمال، ڈیجیٹل ٹولز اور انسانی فیصلہ سازی جیسی مہارتیں بھی سیکھنا پڑیں۔

کیا اے آئی انسان کی جگہ لے سکتی ہے؟

ابھی دستیاب تحقیق اس نتیجے کی حمایت نہیں کرتی کہ اے آئی آنے والے وقت میں انسانوں کو بڑے پیمانے پر کام سے مکمل طور پر باہر کردے گی۔

آئی ایل او کے مطابق تقریباً تمام پیشوں میں ایسے کام موجود ہیں جن کے لیے انسانی کردار برقرار رہتا ہے، جبکہ زیادہ تر پیشوں میں جنریٹو اے آئی کا ممکنہ اثر ملازمت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے تبدیل کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

انسانی فیصلہ سازی، ذمہ داری، سماجی تعلقات، فیلڈ ورک، پیچیدہ مذاکرات، اخلاقی فیصلے اور ایسے کام جن میں حقیقی دنیا کے حالات کو سمجھنا ضروری ہو، اب بھی ایسے شعبے ہیں جہاں صرف اے آئی پر انحصار کافی نہیں۔

اصل مقابلہ انسان بمقابلہ اے آئی نہیں

اے آئی کی بحث کو اگر صرف انسان اور مشین کے درمیان مقابلہ سمجھا جائے تو تصویر کا ایک اہم حصہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔

اصل تبدیلی شاید یہ ہو کہ مستقبل میں مقابلہ اس شخص کے درمیان ہو جو اے آئی استعمال نہیں کرتا اور اس شخص کے درمیان ہو جو اسے اپنے کام کا حصہ بنا چکا ہے۔

ایک ہی شعبے میں کام کرنے والے دو افراد کے پاس ایک جیسی ڈگری اور تجربہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر ایک شخص اے آئی کے ذریعے تحقیق، تجزیہ یا تخلیقی کام کو تیز کر سکتا ہے تو اس کی پیداواری صلاحیت مختلف ہو سکتی ہے۔

اسی لیے اے آئی کے دور میں سوال صرف یہ نہیں کہ ‘اے آئی میری نوکری لے گی؟’ بلکہ یہ بھی ہے کہ ‘میری نوکری میں کون سا کام اے آئی کر سکتی ہے، اور میں کون سا کام پہلے سے بہتر کر سکتا ہوں؟’

مستقبل میں کون سی مہارت کام آئے گی؟

ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے باوجود انسانی مہارتوں کی اہمیت ختم ہونے کے بجائے کئی شعبوں میں اس کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔

تجزیاتی سوچ، تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی قابلیت، رابطے کی مہارت، تعاون، فیصلہ سازی اور ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت مستقبل کے کام میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکتی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم نے بھی تکنیکی مہارتوں کے ساتھ انسانی اور ادراکی مہارتوں کو مستقبل کی اہم صلاحیتوں میں شامل کیا ہے۔

یوں ممکن ہے کہ مستقبل کی ملازمت میں انسان اور مشین ایک دوسرے کے متبادل سے زیادہ ایک دوسرے کے معاون ہوں۔

مصنوعی ذہانت پہلے ہی بہت سے کاموں کی رفتار، طریقہ کار اور لاگت تبدیل کر رہی ہے۔ کچھ ملازمتیں سکڑ سکتی ہیں، کچھ نئی شکل اختیار کر سکتی ہیں اور کچھ بالکل نئے کردار وجود میں آ سکتے ہیں۔

اس لیے اے آئی کی اصل کہانی شاید ‘مشینیں انسان کی جگہ لے رہی ہیں’ سے زیادہ بڑی ہے۔

اسی بارے میں: