زاویہ: مغرب سے بلند ہونے والی ‘صدا’، اے آئی ڈیٹا سینٹر ہمارے پانی اور جنگلات سے زیادہ قیمتی نہیں

ڈیٹا

مصنوعی ذہانت کا ہر جواب ایک ماحولیاتی قیمت کے ساتھ آتا ہے۔ اس کے پسِ پردہ کام کرنے والے ڈیٹا سینٹرز پانی اور توانائی استعمال کرتے ہیں، گرمی اور شور پیدا کرتے ہیں، جبکہ اس سہولت کا بوجھ ماحول اور مقامی آبادیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

مصنوعی ذہانت بظاہر ایسی سہولت محسوس ہوتی ہے جس کا کوئی مادی بوجھ نہیں۔ ہم کوئی سوال پوچھتے ہیں، تصویر بنواتے ہیں یا ویڈیو تیار کرنے کو کہتے ہیں اور جواب اسکرین پر آ جاتا ہے۔ مگر اس سہولت کے پیچھے سرورز، ٹھنڈک کے آلات، بجلی کے سب اسٹیشنوں اور کیبلوں سے بھری عمارتیں موجود ہوتی ہیں۔

ڈیجیٹل کلاؤڈ بھی زمین پر کسی جگہ قائم ہوتا ہے۔ اس کی توسیع کے لیے بجلی، پانی اور زمین درکار ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی ترقی کو حقیقی پیش رفت کہہ سکتے ہیں جو زندگی کی بنیاد بننے والے قدرتی وسائل کو خطرے میں ڈال دے؟

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی 2025 کی رپورٹ ’توانائی اور مصنوعی ذہانت‘ کے مطابق، ڈیٹا سینٹرز نے 2024 میں تقریباً 415 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی استعمال کی، جو دنیا کی مجموعی بجلی کی کھپت کا لگ بھگ ایک اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔

رپورٹ کے مرکزی تخمینے کے مطابق، 2030 تک یہ کھپت تقریباً 945 ٹیراواٹ گھنٹے، یعنی عالمی بجلی کی کھپت کے قریب تین فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یوں صرف چھ برس میں یہ مقدار دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان اعداد میں روایتی کمپیوٹنگ سمیت تمام ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں، تاہم بجلی کی طلب میں اس تیز رفتار اضافے میں مصنوعی ذہانت کا نمایاں کردار ہے۔

عالمی شرحیں، تاہم، مقامی دباؤ کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتیں۔ ایک ہی بجلی کے نظام سے منسلک متعدد بڑے مراکز آس پاس کی آبادیوں پر کہیں زیادہ بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مرکزی تخمینے کے مطابق، خصوصی تیز رفتار سرورز کی بجلی کی طلب، جس میں اضافے کا بڑا سبب مصنوعی ذہانت ہے، سالانہ 30 فیصد بڑھ سکتی ہے۔

انتہائی بڑے اور مؤثر ڈیٹا سینٹرز میں صرف ٹھنڈک کے نظام پر تقریباً سات فیصد بجلی خرچ ہوتی ہے، جبکہ کم مؤثر ادارہ جاتی مراکز میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

پانی کی صورت میں ایک اور قیمت ادا ہوتی ہے، جس کا بڑا حصہ صارف کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی 2024 کی امریکی ڈیٹا سینٹرز کے توانائی کے استعمال سے متعلق رپورٹ کے مطابق، ان مراکز نے 2023 میں براہِ راست 66 ارب لیٹر پانی استعمال کیا، جو تقریباً 17 ارب امریکی گیلن بنتا ہے۔

انہیں بجلی فراہم کرنے والے پیداواری نظام سے مزید تقریباً 800 ارب لیٹر، یعنی 211 ارب گیلن پانی کی بالواسطہ کھپت وابستہ تھی۔ لہٰذا، صرف سرورز کی عمارتوں میں استعمال ہونے والے پانی کو شمار کرنے سے بجلی کی پیداوار کے مرحلے پر ہونے والی کہیں زیادہ کھپت نظرانداز ہو جاتی ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈیٹا سینٹرز نے 2023 میں 176 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی استعمال کی، جو امریکہ کی قومی بجلی کی طلب کا چار اعشاریہ چار فیصد تھی۔ مختلف منظرناموں کے تحت، 2028 تک یہ کھپت 325 سے 580 ٹیراواٹ گھنٹے، یعنی امریکہ کی مجموعی بجلی کی کھپت کے چھ اعشاریہ سات سے 12 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

ان تخمینوں میں غیر یقینی موجود ہے اور یہ لازمی نتائج نہیں ہیں، مگر ان کا حجم بجلی اور پانی کے متعلقہ اداروں کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت واضح کرتا ہے۔

جون 2026 میں اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کی ایک رپورٹ نے اس جائزے کو کاربن کے اخراج سے آگے بڑھایا۔ اس کے مطابق، 2030 میں عالمی ڈیٹا سینٹرز کی متوقع بجلی کی طلب سے وابستہ آبی اثرات 9.3 ٹریلین لیٹر، یعنی 9.3 ہزار ارب لیٹر پانی کے برابر ہو سکتے ہیں۔

یہ مقدار صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک کے 1.3 ارب لوگوں کی بنیادی سالانہ گھریلو آبی ضروریات کے برابر ہے۔ اسی بجلی کی طلب سے وابستہ زمینی اثرات 14,500 مربع کلومیٹر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔ ان اعداد کو صرف مصنوعی ذہانت کے استعمال کردہ پانی یا سرورز کی عمارتوں کے زیرِ قبضہ زمین کا رقبہ سمجھنا درست نہیں۔

درست معلومات اس دلیل کو مضبوط بناتی ہیں۔ مبالغہ اسے کمزور کرتا ہے، جبکہ نامکمل حساب مسئلے کی سنگینی چھپا دیتا ہے۔ ٹھنڈک کے دوران بخارات بن کر ضائع ہونے والا پانی اس پانی سے مختلف ہے جو کسی ذریعے سے حاصل کرکے واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ اس لیے پانی کے حصول اور حقیقی کھپت کو الگ الگ ظاہر کرنا ضروری ہے۔

عالمی مجموعے بھی مقامی اثرات کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اضافی طلب اسی آبی علاقے میں قلت بڑھا رہی ہے، خصوصاً گرم اور خشک موسم میں، جب لوگوں کو پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے؟

زمین پر بڑھتا دباؤ بھی اب واضح ہے۔ اکتوبر 2026 میں فن لینڈ کے حکام نے گوگل کی ذیلی کمپنی کو موہوس اور کایانی میں مجوزہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے ماحول پر نمایاں اثر ڈالنے والے ابتدائی کام روکنے کا حکم دیا، جب تک ماحولیاتی اثرات کے جائزے مکمل نہ ہو جائیں۔

فن لینڈ کے نشریاتی ادارے یلے کے مطابق، گوگل نے موہوس میں تقریباً 330 ہیکٹر اور کایانی میں 200 ہیکٹر سے کچھ کم رقبے پر جنگلات صاف کیے جانے کی تصدیق کی۔ کمپنی نے اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کا وعدہ کیا۔

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ کسی مقام کی قدرتی حالت میں بڑی تبدیلی سے پہلے ماحولیاتی جائزہ کیوں ضروری ہے۔ جنگلات کاربن محفوظ کرتے ہیں، جنگلی حیات کو پناہ دیتے ہیں، پانی کے بہاؤ کو متوازن رکھتے ہیں اور ماحول کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ متبادل درخت لگانے سے ایک قائم شدہ ماحولیاتی نظام فوری طور پر بحال نہیں ہو جاتا۔

اس لیے سرمایہ کاری کی قدر جانچتے وقت ان عوامی وسائل اور قدرتی خدمات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا جنہیں وہ خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

پاکستان کو ابتدا ہی سے اس سبق کو اپنی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا چاہیے۔ مجوزہ ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب، موسمی آبی ضروریات، ٹھنڈک کے طریقوں اور بنیادی ڈھانچے کے اخراجات واضح کیے جائیں۔ مقام کے انتخاب میں مقامی آبی وسائل پر دباؤ، بجلی کے نظام کی گنجائش اور مجموعی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔

منصوبہ ساز ضروری بہتری کے اخراجات برداشت کریں، متاثرہ آبادیوں سے مشاورت کریں اور مقامی لوگوں کے لیے فوائد واضح کریں۔

منظوری کے بعد بھی معلومات کی فراہمی جاری رہنی چاہیے۔ مقامی باشندے وعدہ کیے گئے فوائد کا حقیقی وسائل کی کھپت سے موازنہ کر سکیں۔ آزاد نگرانی سے ذمہ دارانہ کام اور محض تشہیر و پیشکشوں تک محدود ماحولیاتی یقین دہانیوں میں فرق واضح ہو سکتا ہے۔

مؤثر آلات، موزوں ٹھنڈک، جہاں مناسب ہو صاف کیا گیا استعمال شدہ پانی، کم آلودگی والی بجلی اور سادہ کاموں کے لیے چھوٹے ماڈلز دباؤ کم کر سکتے ہیں۔ مگر سستی کمپیوٹنگ استعمال میں اضافہ بھی کر سکتی ہے، جس سے بہتر کارکردگی کے فوائد زیادہ مجموعی کھپت میں جذب ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، رپورٹنگ میں کارکردگی کی بہتری کے ساتھ وسائل کی مجموعی کھپت بھی ظاہر ہونی چاہیے۔

انسانیت صدیوں تک ڈیٹا سینٹرز کے بغیر زندہ رہی، مگر صاف پانی اور صحت مند قدرتی نظام آج بھی اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی انسانی بقا کی لازمی شرط ہیں۔ اس سلسلے میں چین شنگھائی کے ساحل سے دور سمندر کے اندر ایک ڈیٹا سینٹر فعال کر چکا ہے، جو سمندر میں نصب ہوائی ٹربائنوں سے بجلی حاصل کرتا ہے اور سمندری پانی سے ٹھنڈا رکھا جاتا ہے، اس لیے اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے میٹھے پانی کی ضرورت نہیں پڑتی۔

دوسری جانب، ایلون مسک نے خلا میں شمسی توانائی سے چلنے والے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے لیے اسپیس ایکس نے کمپیوٹنگ کرنے والے دس لاکھ تک سیٹلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک تجویز کیا ہے۔ اگرچہ دونوں منصوبوں کے حجم اور عملی پیش رفت میں بڑا فرق ہے، لیکن دونوں ایک ہی فوری ضرورت کی نشان دہی کرتے ہیں: بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل طلب پوری کرتے ہوئے زمین کے پانی، اراضی اور توانائی کے وسائل پر دباؤ کم کرنا۔

مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کا سنجیدہ جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔ اس کی کامیابی کا پیمانہ ایسے فوائد ہونے چاہییں جو قابلِ اعتماد پانی کی فراہمی، صحت مند قدرتی ماحول اور سستی بجلی کی قربانی دیے بغیر حاصل ہوں۔ اسکرین پر نظر آنے والی کوئی کامیابی سرورز کے آس پاس رہنے والوں کی زندگی اور مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کی تلافی نہیں کر سکتی۔

اسی بارے میں: