صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جس عبوری معاہدے پر مہر لگائی ہے، وہ اب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی بحران کا سبب بن چکا ہے۔ تل ابیب کی حکومت اور میڈیا سرِعام ٹرمپ پر الزامات لگا رہے ہیں کہ انہوں نے انہیں (اسرائیل کو) اپنے سب سے بڑے دشمن کے سامنے اکیلا چھوڑ کر بھاگنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ واشنگٹن کے اندر اسرائیل نواز لابی اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔
لبنان پر حالیہ بمباری اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ایرانی اعلان سے معاملہ مزید بھڑک اٹھا ہے، اور سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ نازک سفارتی معاہدہ دونوں فریقین کے مفادات کے ٹکراؤ میں زندہ رہ پائے گا یا پھر پورے خطے کو ایک نئی اور وسیع جنگ کی طرف دھکیل دے گا۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی دراڑ اب آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا اور سیاست دان ایران کے ساتھ مذاکرات کے باضابطہ معاہدے پر صدر ٹرمپ پر الزام لگا رہے ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ کر کے اسرائیل کو اپنے سب سے بڑے دشمن کے سامنے میدانِ جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا اور بھاگ گیا۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں نے اسے دھوکے بازی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی تمام شرائط منظور کر کے ہمیں رسوا کر کے چلا گیا ہے۔ ایران ان دو مہینوں میں ایٹمی ہتھیار تیار کر کے دھماکے بھی کر سکتا ہے۔
اسرائیلی اخبار ‘اسرائیل ہیوم’ نے ٹرمپ کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘آپ ایک عظیم صدر ہو سکتے تھے لیکن آپ ناکام ہو گئے، آپ نے دہشت گرد حکومت کے سامنے آخری وقت میں ہتھیار ڈال کر ہمیں رسوا کیا ہے۔’ ٹرمپ کی میگا ڈونر مریم ایڈلسن نے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے وقت کی سوئی کو ایک نئی جنگ کی طرف موڑ دیا ہے۔
ٹرمپ اوباما پر الزامات تو لگا رہے ہیں لیکن وہ ان کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھنے کے لائق بھی نہیں رہے ہیں۔ بین گوریون یونیورسٹی کے پروفیسر ہاگائی رام نے لکھا ہے کہ ٹرمپ پہلے اسرائیل کی ‘مقبول شخصیت’ تھے لیکن اب ‘ولن’ بن چکے ہیں۔ اصل میں یہ بھی ایران کا سفارتی جال تھا، جس میں واشنگٹن والے آسانی سے پھنس گئے ہیں۔
امریکیوں کو یکطرفہ جنگوں کا تجربہ ہے لیکن ایرانیوں کو صدیوں سے چلنے والی جنگوں کا تجربہ ہے۔
1948 سے امریکہ نے اسرائیل کی ہر قسم کی مدد کی ہے۔ فلسطینیوں کا قتلِ عام، ان کی اقتصادی ناکہ بندی، بین الاقوامی قوانین کی سرِعام خلاف ورزی، پوری دنیا سے اسرائیل کی خاطر دشمنی مول لینا، غزہ کو مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بنانا اور اس جنگ میں کھربوں ڈالر کے ہتھیار دینے سمیت تمام عرب ممالک کو اسرائیل کا دستِ نگر (تابع) بنا دیا۔
ایران آج بھی اسرائیل کے لیے سب سے بڑا علاقائی دشمن ہے۔ لیکن (اسرائیل) لبنان کے تقریباً پانچویں حصے پر بھی قابض ہے۔ حزب اللہ کی وجہ سے وہ اس کنٹرول کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسرائیل کے چینل 12 نے اس معاہدے کو ایک ‘وقفہ’ قرار دیا ہے۔ 71 فیصد یہودیوں نے کہا ہے کہ ہمیں پہلے ہی ٹرمپ پر اعتماد نہیں تھا اور اب بھی بالکل نہیں ہے۔
اس معاہدے سے اسرائیل کو میدانِ جنگ میں اکیلا کر کے کھڑا کر دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیرِ داخلہ (قومی سلامتی) اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ ہمارے بیٹوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم اکیلے ہی پورے لبنان کو آگ میں جلا کر تباہ و برباد کر دیں گے۔
اسرائیلی ردِعمل پر امریکہ میں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے سخت ردِعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیروں کے زبانی حملوں پر کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی سمیت اس جنگ میں امریکہ کے اربوں ڈالر کے ہتھیار اور اربوں ڈالر کی مالی امداد امریکی شہریوں کے ٹیکسوں سے کٹوتی کر کے اسرائیل والوں کو دی گئی، پھر بھی وہ ناشکرے ایسے صدر پر الزامات لگا رہے ہیں جو اگر نہ ہوتا تو اسرائیل کا الٰہی جانے کیا حشر ہوتا۔ پوری دنیا میں صدر ٹرمپ اکیلے ہیں جو اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، ورنہ آپ نے تو ہر ملک کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔
بین الاقوامی مبصر گولڈ برگ نے اس صورتحال کو جھگڑا نہیں بلکہ تعلقات میں ‘دراڑ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقائق ناگزیر ہیں۔ اسرائیل اپنے مفادات کے لیے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ لایا اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ٹریپ (جال میں پھنسانا) کر کے استعمال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ خود ڈوب رہا ہے، اس لیے اس نے خود کو محفوظ کرنے کے لیے جو کچھ بھی کیا، وہ وقت اور حالات کے مطابق بہتر ہوا ہے۔
اسرائیل سے یہ معاہدہ ہضم نہیں ہوا۔ ہفتوں سے ہر بین الاقوامی مبصر اور میڈیا کہہ رہا تھا کہ تل ابیب کسی نہ کسی وقت اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرے گا، اور گزشتہ دنوں لبنان پر بمباری کر کے انہوں نے اس کی شروعات کر دی ہے۔ جس پر ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جس پر نیویارک میں اسرائیل کے سابق سفیر اور قونصل جنرل ایلون پنکاس نے کہا ہے کہ اب دونوں فریقین ‘ایک دوسرے کو آئینہ’ دکھا رہے ہیں۔ اس وقت تل ابیب والے کسی ایسے بین الاقوامی امریکی لیڈر کی تلاش میں ہیں جو نیتن یاہو کی خواہشات کو دوبارہ پورا کر سکے۔ نیتن یاہو اب لبنان سے اس طرح باہر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ سے بہتر تو اوباما تھا جس نے خطے کی نئی ابھرتی ہوئی طاقت ایران کے ساتھ بغیر جنگ کے ایٹمی معاہدہ کیا۔ لیکن یہ ایک ‘خراب معاہدہ ہے جو کہ ایک انتہائی خراب جنگ’ تھی۔
اس وقت اسرائیل میں یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ اور یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے ہیں تو پھر نیتن یاہو کی حکومت کو ختم کرنا ہوگا۔ دوسری طرف امریکہ میں واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے کہ یہ جنگ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی اور غلطی تھی۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ اپنے کمزور دشمن کو نہیں روک سکتا بلکہ اس نے دوسروں کو بھی دشمن بنا لیا ہے۔
عرب بادشاہتوں کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ پُرامن مشرقِ وسطیٰ کا تاثر تباہ ہو گیا، معیشت ختم ہو گئی، سمندری راستے بند ہو گئے۔ چین نے اس پوری صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ امریکہ نے اپنے جدید اور خطرناک ہتھیاروں کے ذخائر ختم کر دیے، ایران آج بھی قائم ہے بلکہ مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
پوری دنیا تہران کی محتاج ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ جنگ تو نہیں جیت سکے لیکن ایک مختصر سمندری راستہ بھی نہیں کھلوا سکے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی عالمی سپلائی میں ایک سال کا وقفہ آ گیا ہے، اس لیے آگے چل کر پوری دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہوگا، خاص طور پر افریقی ممالک سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
یہ کوئی امن کا معاہدہ نہیں ہے، ایران کے ساتھ جنگ شروع کر کے ٹرمپ نے پوری دنیا میں اپنی طاقت کی بالادستی قائم رکھنے کی جدوجہد شروع کی تھی، لیکن وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا شروع سے اس جنگ میں مقصد فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کی عرب بادشاہتوں کو جنگ میں الجھانا، مالی نقصان پہنچانا، ان کے اتحاد میں دراڑ ڈالنا اور اپنے اقتدار کے وجود کو برقرار رکھنا تھا۔ جس میں وہ کامیاب رہا۔
جبکہ امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ معاہدہ ٹرمپ کو چند لمحے سانس لینے کی مہلت دیتا ہے۔ مڈ ٹرم (وسطی مدت کے) انتخابات سر پر ہیں۔ ریپبلکن پرائمری الیکشن مسلسل ہار رہے ہیں۔ مبصر ٹکر کارلسن نے کہا ہے کہ ‘یہ امریکہ کے لیے ایک ذلت آمیز شکست’ ہے۔
ایران کے نہ تو میزائل، ڈرون، بحریہ، فضائیہ، زمینی فوج اور نہ ہی اس کے تیل کے ذخائر تباہ ہوئے، اوپر سے 300 ارب ڈالر عرب ممالک سے قرض لے کر ایران کو دیے جائیں گے ورنہ پھر مار کھانی پڑے گی۔
امریکہ نے حزب اللہ اور آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ روم کے ذریعے دنیا میں تیل کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے شام کو آگے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ حزب اللہ کو نہیں سنبھال سکتے تو شام یہ کام آسانی سے کر سکتا ہے۔
عراق اور دیگر ممالک کو شام کے بحیرہ روم کے ذریعے تیل کی سپلائی شروع ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے اور وہ ٹرمپ کے حزب اللہ کو کنٹرول کرنے والے معاملے پر شکوک و شبہات (الجھن) کا شکار ہے کہ اگر اسرائیل کے ساتھ ایسا کوئی دفاعی معاہدہ کیا گیا تو وہ شام کے کرد اور دیگر قبائلیوں کو خرید کر کہیں ان کا تختہ الٹ کر دمشق میں اپنی حکومت قائم نہ کر لے۔ اسی لیے شام نے ایران معاہدے پر بھی محتاط ردِعمل دیا ہے۔
الجزیرہ نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیل نواز لابی غیر معمولی طور پر سرگرم ہو گئی ہے، اور بہت جلد اس معاہدے کو ختم کرا دے گی۔ امریکی مبصر میتھیو ڈس نے لکھا ہے کہ شروع میں واشنگٹن نے بہترین کارکردگی دکھائی، جنگ کے دوسرے ہی دن مذاکرات ہوئے، معاہدہ ہونے والا تھا لیکن یہودی لابی نے ہونے نہیں دیا۔
ریپبلکن پارٹی میں دراڑیں پڑ گئیں۔ نائب صدر نے غصے میں کہا کہ ہم نے اس جنگ کو قریب سے دیکھا ہے، یہ بغیر نفع کی جنگ ہے جس میں صرف ہمارا ہی نقصان ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن میں اسرائیل نواز آوازیں ایران کے ساتھ سفارت کاری کو ناکام بنا سکتی ہیں؟ اس وقت اسرائیل میں حکومت اور اپوزیشن کے رہنما، ہر محکمے کے ماہرین مل کر امریکہ-ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی پالیسی پر غور کر رہے ہیں اور ایسی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں جس سے ‘سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے’۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ معاہدہ نہ تو کوئی مکمل امن ہے اور نہ ہی مکمل ناکامی، یہ ایک عارضی وقفہ ہے جس سے ہر فریق اپنے حساب سے فائدہ تلاش کر رہا ہے۔ ایران کے لیے یہ معاہدہ اپنے اقتدار اور علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا موقع ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کے لیے یہ مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے سانس لینے کی مہلت ہے۔ لیکن اسرائیل اس معاہدے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے واشنگٹن کے اندر سرگرم اسرائیل نواز لابی اور نیتن یاہو حکومت مل کر اسے ناکام بنانے کی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں۔
لبنان پر حالیہ حملہ اور ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کو اپنی طاقت دکھانے اور معاہدے کو اپنی شرائط پر موڑنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسی صورتحال میں امکان یہ ہے کہ یہ نازک معاہدہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، اور خطہ دوبارہ اسی کٹھن تنازعے میں لوٹ سکتا ہے جس سے نکلنے کے لیے اصل میں یہ معاہدہ کیا گیا تھا۔
آخر کار، یہ سوال حل طلب ہی رہ جاتا ہے کہ کیا سفارت کاری عرب خطے میں مستقل استحکام لا سکے گی، یا پھر یہ صرف آنے والے بڑے تنازعے سے پہلے ایک مختصر سا توقف ثابت ہوگا۔

