Tag: ٹرمپ

  • زاویہ: بارود کے ڈھیر پر سفارت کاری: کیا ٹرمپ، ایران ڈیل پائیدار ہو سکے گی؟

    زاویہ: بارود کے ڈھیر پر سفارت کاری: کیا ٹرمپ، ایران ڈیل پائیدار ہو سکے گی؟

    صحافت کے کلاس روم میں ہمیں سب سے پہلے یہ بنیادی اصول سکھایا جاتا تھا کہ "خبر” کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتی اور بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ شطرنج پر نہ تو دشمنیاں مستقل ہوتی ہیں اور نہ ہی دوستیاں۔

    عالمی سیاست کا کوئی بھی طالب علم جب تاریخ کے صفحات پلٹتا ہے، تو اسے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے عسکری تنازعات اور ہولناک ترین جنگیں بھی بالآخر کسی نہ کسی سفارتی میز پر، چند کاغذات پر دستخطوں کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہیں۔

    لیکن جب بات مشرق وسطی جیسے سلگتے ہوئے آتش فشاں کی ہو، جہاں بارود کی بو اور سیاسی مفادات کے دھارے لمحوں میں رخ بدلتے ہیں، تو وہاں سفارت کاری کا راستہ کسی بارودی سرنگ پر چلنے سے کم نہیں ہوتا۔

    رواں سال فروری 2026 میں جب پاک-امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تزویراتی تناؤ نے ایک ہولناک عسکری تصادم کی شکل اختیار کی، تو ہم جیسے بین الاقوامی تعلقات کے طالب علموں کے لیے یہ کتابی نظریات سے نکل کر ایک زندہ مطالعہ بن چکا تھا۔

    واشنگٹن کا بگل بجاتا ہوا ‘آپریشن ایپک فیوری’، خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑوں کی گرج، اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کے بادل چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ دنیا ایک ایسی وسیع تر علاقائی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔

    عالمی میڈیا پر سرخیاں روزانہ کی بنیاد پر بدلی جا رہی تھیں، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سفارت کاری کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔

    تاہم، فروری کے اس بھیانک عسکری ملبے اور سفارتی تعطل کے بعد، آج جب فریقین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں، تو صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے ذہن کے بند گوشوں میں یہ سوال مسلسل دستک دے رہا ہے ‘کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی ایران کے ساتھ ایک نیا، جامع اور سب سے اہم بات، ‘پائیدار’ جوہری معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟’

    17 جون 2026 کو قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت نے فریقین کو اگست 2026 کے وسط تک کی جو مہلت دی ہے، وہ صحافتی اصطلاح میں ایک ‘ٹکنگ ٹائم بم’ ہے۔ یہ 60 دن محض جنگ بندی کے نہیں ہیں، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کے اس پہاڑ کو پگھلانے کا آخری موقع ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے کھڑا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ سے قطر تک، پس پردہ راستوں کی تبدیلی

    اس سے قبل کہ ہم قطر میں ہونے والی موجودہ پیش رفت کا احاطہ کریں، ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارت کاری کا محور کس طرح تبدیل ہوا ہے۔ ماضی میں سوئٹزرلینڈ نے ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار، روایتی اور خاموش پیغام رساں کا کردار ادا کیا ہے۔

    سوئس چینل کی خصوصیت یہ تھی کہ وہاں ہونے والی گفتگو کا بنیادی مقصد کسی بڑے تزویراتی معاہدے کا حصول نہیں، بلکہ صرف "بحران کا کنٹرول” اور قیدیوں کے تبادلے جیسے محدود انسانی ہمدردی کے امور تھے۔ جنیوا اور زیورخ کے پرسکون ماحول میں ہونے والے مذاکرات نظریاتی حدود کے اندر رہ کر کیے جاتے تھے، جہاں فریقین اپنے بنیادی موقف سے پیچھے ہٹے بغیر صرف محاذ آرائی کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے سے روکتے تھے۔

    لیکن موجودہ قطر مذاکرات کا کینوس ماضی کے سوئس چینل سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ دوحہ اب محض ایک ڈاکیا یا پیغام رساں نہیں رہا، بلکہ وہ عمان اور پاکستان کے ساتھ مل کر ایک متحرک، فعال اور اثر و رسوخ رکھنے والے ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے برعکس، قطر مذاکرات فروری 2026 کے براہ راست عسکری تصادم کے بعد پیدا ہونے والے نئے حقائق کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔

    یہ مذاکرات کسی پرسکون ماحول کی پیداوار نہیں، بلکہ بارود کی تپش اور معاشی ناکہ بندی کے دباؤ کے تحت شروع کیے گئے ہیں۔ یہاں بات صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ دونوں ممالک کے عملی مفادات، تیل کی عالمی سپلائی، اور خطے میں عسکری بقا کے سوالات میز پر رکھے ہوئے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین سوئٹزرلینڈ کے روایتی چینل کے مقابلے میں دوحہ کے اس نئے سفارتی محور کو زیادہ سنجیدہ اور فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔

    پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار

    فروری 2026 کے شدید ترین بحران کے دوران جب مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کا یہ پورا خطہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آنے والا تھا، تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا۔

    ایک نیوکلیئر پاور اور ایران کے برادر پڑوسی ملک ہونے کے ناطے، پاکستان اس تنازع میں خاموش تماشائی بنے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، مشترکہ ثقافتی روابط، اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ معاملات کی وجہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی طویل مدتی جنگ کا براہ راست شکار پاکستان کی اپنی معیشت اور امن و امان کو ہونا تھا۔

    چنانچہ، پاکستان نے انتہائی مہارت کے ساتھ تزویراتی توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک منفرد سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سیکیورٹی روابط کو استعمال کیا اور دوسری طرف تہران کے ساتھ سفارتی چینلز کو متحرک رکھا۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ عسکری طاقت کا استعمال کسی بھی فریق کو مکمل فتح نہیں دلا سکتا، بلکہ یہ پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔

    پاکستان نے قطر کے امیر اور عمان کے سفارتی کارندوں کے ساتھ مل کر ایک مربوط شٹل ڈپلومیسی کا آغاز کیا۔ پاکستانی سفیروں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایسے پیغامات کا تبادلہ کیا جنہوں نے دونوں فریقین کو اپنے سخت عسکری موقف سے پیچھے ہٹنے اور ایک دوسرے کی شرائط کو سنجیدگی سے سننے پر آمادہ کیا۔

    پاکستان اور قطر کی اس مشترکہ سفارتی کامیابی نے ہی 17 جون کے مفاہمتی معاہدے کی راہ ہموار کی، جس نے بارود کے دھوئیں کو عارضی طور پر دبا کر مذاکرات کے روشن امکانات پیدا کیے۔

    ٹرمپ کا ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ اور سازگار عوامل

    ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ کسی روایتی سیاست دان کی نظریاتی خارجہ پالیسی کے بجائے ایک سخت بزنس مین یا کارپوریٹ ڈیلر کی کاروباری حکمت عملی کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔

    بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں انہیں ایک ‘نیو آئسولیشنسٹ’ رہنما کہا جاتا ہے، جو بیرون ملک امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور لاحاصل، طویل جنگوں پر اربوں ڈالر کے امریکی سرمائے کے ضیاع کے شدید مخالف ہیں۔

    ٹرمپ کا فلسفہ سادہ ہے: طاقت کا مظاہرہ صرف اس وقت کرو جب آپ کو سامنے والی پارٹی کو معاشی یا عسکری طور پر مجبور کر کے اپنی شرائط پر سودے بازی کرنی ہو۔

    فروری 2026 میں ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے ذریعے ایران کو اپنی عسکری طاقت کا جوہر دکھانے کے بعد، اب ٹرمپ اپنے اسی روایتی ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ کے تحت میدان میں اتر چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کا یہ دعوی کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کی بدولت ایران امریکہ کی تقریباً تمام سخت شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے، ان کی اسی کاروباری سفارت کاری کا عکاس ہے۔

    ٹرمپ اس مجوزہ جوہری معاہدے کو دنیا کے سامنے ایک ایسی ٹرافی یا ‘صدی کی سب سے بڑی ڈیل’ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، جو ان کے بقول ایران کے جوہری عسکری پروگرام کے سامنے ایک ایسی ‘مضبوط دیوار’ ثابت ہو گی جسے ماضی کی کوئی بھی امریکی انتظامیہ تعمیر کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    واشنگٹن کی تزویراتی ترجیحات کا خاکہ

    داخلی سیاسی برتری: امریکی ووٹرز کے سامنے خود کو ایک کامیاب ‘امن پسند لیکن طاقتور لیڈر’ کے طور پر پیش کرنا۔

    توانائی کی مارکیٹ کا استحکام: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کر کے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا۔

    عسکری اخراجات میں کمی: مشرق وسطی میں امریکی اثاثوں پر حملوں کا تدارک اور جنگی بجٹ پر دباؤ کا خاتمہ۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا محرک امریکی معیشت اور داخلی سیاست کا استحکام ہے۔ فروری کے تنازع کے بعد سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ امریکی صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا تھا، اور ٹرمپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ واشنگٹن میں اقتدار کا راستہ خام تیل کی قیمتوں اور اقتصادی استحکام سے ہو کر گزرتا ہے۔

    اگر دوحہ مذاکرات کے ذریعے ایران اپنے جوہری پروگرام پر دستبرداری کا عملی مظاہرہ کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے مستقل طور پر کھلا رکھنے کی ضمانت دیتا ہے، تو یہ ٹرمپ کے لیے ایک زبردست سیاسی فتح ہو گی۔ یہ سازگار عوامل اس وقت دونوں ممالک کو ایک عارضی معاہدے کی طرف تیزی سے دھکیل رہے ہیں۔

    تہران کا تزویراتی اضطراب اور اندرونی قیادت کا چیلنج

    تہران کی سیاست کو باہر سے دیکھ کر اکثر ایک یک رنگی نظام کا گمان ہوتا ہے، جہاں سپریم لیڈر کا فیصلہ ہی حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم بین الاقوامی تعلقات کے نظریات، بالخصوص ‘داخلی سیاست کا نظریہ’ کی عینک لگا کر دیکھیں، تو ایرانی اقتدار کی تہوں میں تضادات اور تزویراتی اضطراب کا ایک پورا سمندر موجزن نظر آتا ہے۔

    قطر میں جاری فنی مذاکرات کے پس منظر میں تہران اس وقت اپنی جدید تاریخ کے حساس ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ حال ہی میں نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے منصب سنبھالنے کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ، پاسداران انقلاب، اور سیکیورٹی بیوروکریسی کے اندر ایک شدید نظریاتی اور تزویراتی کھینچ تان شروع ہو چکی ہے۔

    ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان ایک اصلاح پسند سوچ کے حامل رہنما ہیں، جن کا پورا سیاسی ایجنڈا اور بقا ایرانی معیشت کو وینٹی لیٹر سے نکالنے پر منحصر ہے۔ فروری 2026 کے فوجی تصادم اور اس کے نتیجے میں لگنے والی نئی پابندیوں نے ایرانی کرنسی ریال کو تاریخی گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اور ملکی اندرونی سیاست میں عوامی احتجاج کا لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

    صدر پزشکیان اور ان کی سفارتی ٹیم کا موقف واضح ہے: وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جانے اور دوحہ میں لچک دکھانے پر مجبور ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اگست 2026 کے وسط تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو معاشی ناکہ بندی ایران کے اندرونی سماجی ڈھانچے کو مفلوج کر دے گی۔

    لیکن تصویر کا دوسرا رخ، جو اس پورے سفارتی عمل کی راہ میں ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے، وہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کا سخت گیر موقف ہے۔ نئی قیادت کا استدلال یہ ہے کہ بین الاقوامی نظام میں ‘طاقت ہی واحد کرنسی ہے’۔ ان کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر رتی بھر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

    ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس شک کی ایک ٹھوس تاریخی دلیل موجود ہے؛ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے 2018 میں اس وقت کے صدر باراک اوباما کے دستخط شدہ ‘مشترکہ جامع منصوبہ بندی کے عمل’ کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔

    تہران کی نئی قیادت کا یہ سوال انتہائی جاندار ہے کہ اگر ایران اپنے خون پسینے سے تیار کردہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کر دیتا ہے یا ملک سے باہر منتقل کر دیتا ہے، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ٹرمپ دو سال بعد کوئی نیا بہانہ بنا کر دوبارہ پابندیاں عائد نہیں کریں گے؟

    پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کا ماننا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت ہی ایران کا واحد تزویراتی دفاع ہے، اور اسے میز پر کھو دینا عسکری خودکشی کے مترادف ہو گا۔ تہران کی یہ داخلی کشمکش اور نئی قیادت کے تحفظات دوحہ مذاکرات کے مستقبل پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    اسرائیلی فیکٹر، کانگریس کی قانونی گتھیاں اور خلاصہ کلام

    بین الاقوامی مذاکرات کے اصولوں کا ایک بنیادی قانون ہے کہ "کسی بھی میز پر طے پانے والا معاہدہ اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتا جب تک اس تنازع کے تمام بڑے فریق اس کا حصہ نہ ہوں”۔ دوحہ مذاکرات کا سب سے کمزور، نازک اور خطرناک پہلو یہی ہے کہ مشرق وسطی کی سب سے بڑی عسکری طاقت اور امریکی خارجہ پالیسی کا لاڈلا ‘اسرائیل’ اس پورے سفارتی عمل سے مکمل طور پر باہر ہے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سیکیورٹی وزیر اتمار بن گویر جیسے سخت گیر رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں زلزلہ پیدا کر رکھا ہے۔ بن گویر کا یہ واضح اعلان کہ "ٹرمپ کا معاہدہ اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتا” کوئی معمولی گیدڑ بھپکی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تزویراتی حقیقت کا اعتراف ہے۔

    اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی یا پابندیوں کا خاتمہ، خواہ وہ کتنی ہی سخت شرائط پر کیوں نہ ہو، تہران کو دوبارہ معاشی آکسیجن فراہم کرے گا۔ اس معاشی بحالی کا براہ راست نتیجہ خطے میں حماس، حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں جیسے ایرانی اتحادیوں کی دوبارہ مضبوطی کی صورت میں نکلے گا۔

    اسرائیلی فیکٹر اس لیے خطرناک ہے کیونکہ تل ابیب کے پاس تہران اور واشنگٹن کی اس سفارتی بساط کو الٹنے کی مکمل عسکری صلاحیت موجود ہے۔ اگر قطر میں جاری تکنیکی مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے قریب پہنچتے ہیں اور اسرائیل کو لگتا ہے کہ اس کی سلامتی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، تو وہ تہران کی نیوکلیئر تنصیبات پر یکطرفہ سرجیکل اسٹرائیک کر سکتا ہے، یا لبنان و شام میں ایرانی اہداف پر حملوں میں تیزی لا سکتا ہے۔

    بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں اسے ‘اسپائلر فیکٹر’ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی کوئی بھی عسکری کارروائی ایران کو دوحہ میز سے اٹھنے پر مجبور کر دے گی اور خطہ سیکنڈوں میں دوبارہ فروری 2026 والی خونی دلدل میں جا گرے گا۔

    اس کے علاوہ، منجمد فنڈز اور معاشی ریلیف پر ٹرمپ کی کڑی شرائط نے ایران کے لیے مذاکرات کا نوالہ انتہائی کڑوا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ ایران میں نہ تو کوئی سرمایہ کاری کرے گا اور نہ ہی نقد رقم جاری کی جائے گی۔

    جنوبی کوریا، جاپان اور دیگر عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی فنڈز اگر جاری کیے بھی گئے، تو وہ قطر کے زیر نگرانی ایک ایسے امانتی اکاؤنٹ میں جائیں گے جہاں سے ایران صرف اور صرف خوراک، ادویات اور انسانی ہمدردی کی اشیا خرید سکے گا۔

    تہران کے لیے یہ شرائط اس کی قومی خودداری پر ایک کاری ضرب ہیں، کیونکہ انہیں اپنی تباہ حال معیشت کو بچانے کے لیے فوری نقد رقوم کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف راشن کی صورت میں امداد کی۔

    امریکی کانگریس کی قانونی گتھیاں

    اب ذرا واشنگٹن کے اندرونی آئینی منظر نامے کا جائزہ لیتے ہیں، جو کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی عمر کا تعین کرتا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی صرف وائٹ ہاؤس سے نہیں چلتی، بلکہ امریکی کانگریس اس کا دوسرا اہم ترین ستون ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مائینڈ سیٹ ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ڈیل کرنے کا ہے، لیکن امریکی آئین کے تحت کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک مستقل قانون نہیں بن سکتا جب تک امریکی سینیٹ کی دو تہائی اکثریت اس کی توثیق نہ کر دے۔

    موجودہ امریکی کانگریس کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں اسرائیل نواز لابی کا اثر و رسوخ انتہائی گہرا ہے، اور ریپبلکن و ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے سخت گیر ارکان ایران کو کسی بھی قسم کا معاشی ریلیف دینے کے شدید مخالف ہیں۔

    اگر ٹرمپ قطر ڈیل کو ایک باقاعدہ ‘معاہدہ’ کے طور پر کانگریس سے پاس کرانے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں وہاں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ کانگریس کو نظرانداز کر کے صرف ایک صدارتی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہیں، تو یہ معاہدہ ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہو گا۔ ایران یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ٹرمپ کے بعد آنے والا کوئی بھی نیا امریکی صدر، خواہ وہ 2028 میں ہو یا بعد میں، اس معاہدے کو دوبارہ ایک دستخط سے منسوخ کر سکتا ہے۔

    یہ قانونی عدم تحفظ ایران کو طویل مدتی اور بڑے تزویراتی فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔

    مجموعی طور پر، اگر ہم اس پورے منظر نامے کا خلاصہ کریں، تو ہم ایک انتہائی دلچسپ لیکن خوفناک تضاد پر پہنچتے ہیں۔

    رواں سال فروری 2026 کے ہولناک فوجی تصادم کے بعد فریقین کا سفارتی میز پر آنا، 17 جون کا مفاہمتی معاہدہ اور اگست 2026 کے وسط تک کی سخت ڈیڈ لائن یہ ثابت کرتی ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی داخلی سیاست اور امریکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشرق وسطی میں ایک بڑی "سیاسی فتح” درکار ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اپنی گرتی ہوئی حکومت اور تباہ حال عوام کو بچانے کے لیے پابندیوں کا خاتمہ چاہیے۔ یہ دونوں مجبوریاں ایک ‘نئے معاہدے’ کی پیدائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔

    تاہم، اس مجوزہ معاہدے کو ‘پائیدار’ بنانا ایک ایسا تزویراتی گورکھ دھندا ہے جس کا حل فی الحال دنیا کے کسی تھنک ٹینک کے پاس بھی نظر نہیں آتا۔

    ایران میں آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کی نئی قیادت کے شدید تحفظات اور ماضی کے تلخ تجربات، منجمد فنڈز کے استعمال پر واشنگٹن کی توہین آمیز اور سخت شرائط، امریکی کانگریس کی طرف سے اس کی مستقل قانونی توثیق کے نہ ہونے کے برابر امکانات، اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کا اس سفارتی عمل سے باہر رہ کر مسلسل عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں دینا، یہ وہ بارودی سرنگیں ہیں جو اس معاہدے کے راستے میں بچھی ہوئی ہیں۔

    خلاصہ کلام یہ کہ مشرق وسطی اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جس کے اوپر سفارت کاری کی ایک عارضی چھتری تان دی گئی ہے۔ دوحہ کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے سفارت کار اگر اگست 2026 کے وسط تک کسی کاغذ پر دستخط کرانے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تو وہ معاہدہ خطے میں مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔

    جب تک اسرائیل، ایران کی داخلی اسٹیبلشمنٹ، اور امریکی کانگریس اس ڈیل کے ضامن نہیں بنتے، یہ معاہدہ بھی تاریخ کے ان عارضی کاغذات کا حصہ بن جائے گا جو پہلی ہی عسکری چنگاری سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ صحافت کا طالب علم ہونے کے ناطے، میری نظریں اب اگست کے اس فیصلہ کن موڑ پر ہیں جو یہ طے کرے گا کہ دنیا امن کی طرف بڑھتی ہے یا دوبارہ بارود کے شعلوں کی نذر ہوتی ہے۔

  • ٹرمپ-ایران معاہدہ: اسرائیل کی بغاوت، واشنگٹن میں دراڑ اور ممکنہ ایک نئی جنگ کا خطرہ

    ٹرمپ-ایران معاہدہ: اسرائیل کی بغاوت، واشنگٹن میں دراڑ اور ممکنہ ایک نئی جنگ کا خطرہ

    صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جس عبوری معاہدے پر مہر لگائی ہے، وہ اب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی بحران کا سبب بن چکا ہے۔ تل ابیب کی حکومت اور میڈیا سرِعام ٹرمپ پر الزامات لگا رہے ہیں کہ انہوں نے انہیں (اسرائیل کو) اپنے سب سے بڑے دشمن کے سامنے اکیلا چھوڑ کر بھاگنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ واشنگٹن کے اندر اسرائیل نواز لابی اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔
    لبنان پر حالیہ بمباری اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ایرانی اعلان سے معاملہ مزید بھڑک اٹھا ہے، اور سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ نازک سفارتی معاہدہ دونوں فریقین کے مفادات کے ٹکراؤ میں زندہ رہ پائے گا یا پھر پورے خطے کو ایک نئی اور وسیع جنگ کی طرف دھکیل دے گا۔
    امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی دراڑ اب آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا اور سیاست دان ایران کے ساتھ مذاکرات کے باضابطہ معاہدے پر صدر ٹرمپ پر الزام لگا رہے ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ کر کے اسرائیل کو اپنے سب سے بڑے دشمن کے سامنے میدانِ جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا اور بھاگ گیا۔
    اسرائیلی تجزیہ کاروں نے اسے دھوکے بازی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی تمام شرائط منظور کر کے ہمیں رسوا کر کے چلا گیا ہے۔ ایران ان دو مہینوں میں ایٹمی ہتھیار تیار کر کے دھماکے بھی کر سکتا ہے۔
    اسرائیلی اخبار ‘اسرائیل ہیوم’ نے ٹرمپ کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘آپ ایک عظیم صدر ہو سکتے تھے لیکن آپ ناکام ہو گئے، آپ نے دہشت گرد حکومت کے سامنے آخری وقت میں ہتھیار ڈال کر ہمیں رسوا کیا ہے۔’ ٹرمپ کی میگا ڈونر مریم ایڈلسن نے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے وقت کی سوئی کو ایک نئی جنگ کی طرف موڑ دیا ہے۔
    ٹرمپ اوباما پر الزامات تو لگا رہے ہیں لیکن وہ ان کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھنے کے لائق بھی نہیں رہے ہیں۔ بین گوریون یونیورسٹی کے پروفیسر ہاگائی رام نے لکھا ہے کہ ٹرمپ پہلے اسرائیل کی ‘مقبول شخصیت’ تھے لیکن اب ‘ولن’ بن چکے ہیں۔ اصل میں یہ بھی ایران کا سفارتی جال تھا، جس میں واشنگٹن والے آسانی سے پھنس گئے ہیں۔
    امریکیوں کو یکطرفہ جنگوں کا تجربہ ہے لیکن ایرانیوں کو صدیوں سے چلنے والی جنگوں کا تجربہ ہے۔
    1948 سے امریکہ نے اسرائیل کی ہر قسم کی مدد کی ہے۔ فلسطینیوں کا قتلِ عام، ان کی اقتصادی ناکہ بندی، بین الاقوامی قوانین کی سرِعام خلاف ورزی، پوری دنیا سے اسرائیل کی خاطر دشمنی مول لینا، غزہ کو مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بنانا اور اس جنگ میں کھربوں ڈالر کے ہتھیار دینے سمیت تمام عرب ممالک کو اسرائیل کا دستِ نگر (تابع) بنا دیا۔
    ایران آج بھی اسرائیل کے لیے سب سے بڑا علاقائی دشمن ہے۔ لیکن (اسرائیل) لبنان کے تقریباً پانچویں حصے پر بھی قابض ہے۔ حزب اللہ کی وجہ سے وہ اس کنٹرول کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسرائیل کے چینل 12 نے اس معاہدے کو ایک ‘وقفہ’ قرار دیا ہے۔ 71 فیصد یہودیوں نے کہا ہے کہ ہمیں پہلے ہی ٹرمپ پر اعتماد نہیں تھا اور اب بھی بالکل نہیں ہے۔
    اس معاہدے سے اسرائیل کو میدانِ جنگ میں اکیلا کر کے کھڑا کر دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیرِ داخلہ (قومی سلامتی) اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ ہمارے بیٹوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم اکیلے ہی پورے لبنان کو آگ میں جلا کر تباہ و برباد کر دیں گے۔
    اسرائیلی ردِعمل پر امریکہ میں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے سخت ردِعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیروں کے زبانی حملوں پر کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی سمیت اس جنگ میں امریکہ کے اربوں ڈالر کے ہتھیار اور اربوں ڈالر کی مالی امداد امریکی شہریوں کے ٹیکسوں سے کٹوتی کر کے اسرائیل والوں کو دی گئی، پھر بھی وہ ناشکرے ایسے صدر پر الزامات لگا رہے ہیں جو اگر نہ ہوتا تو اسرائیل کا الٰہی جانے کیا حشر ہوتا۔ پوری دنیا میں صدر ٹرمپ اکیلے ہیں جو اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، ورنہ آپ نے تو ہر ملک کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔
    بین الاقوامی مبصر گولڈ برگ نے اس صورتحال کو جھگڑا نہیں بلکہ تعلقات میں ‘دراڑ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقائق ناگزیر ہیں۔ اسرائیل اپنے مفادات کے لیے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ لایا اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ٹریپ (جال میں پھنسانا) کر کے استعمال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ خود ڈوب رہا ہے، اس لیے اس نے خود کو محفوظ کرنے کے لیے جو کچھ بھی کیا، وہ وقت اور حالات کے مطابق بہتر ہوا ہے۔
    اسرائیل سے یہ معاہدہ ہضم نہیں ہوا۔ ہفتوں سے ہر بین الاقوامی مبصر اور میڈیا کہہ رہا تھا کہ تل ابیب کسی نہ کسی وقت اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرے گا، اور گزشتہ دنوں لبنان پر بمباری کر کے انہوں نے اس کی شروعات کر دی ہے۔ جس پر ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    جس پر نیویارک میں اسرائیل کے سابق سفیر اور قونصل جنرل ایلون پنکاس نے کہا ہے کہ اب دونوں فریقین ‘ایک دوسرے کو آئینہ’ دکھا رہے ہیں۔ اس وقت تل ابیب والے کسی ایسے بین الاقوامی امریکی لیڈر کی تلاش میں ہیں جو نیتن یاہو کی خواہشات کو دوبارہ پورا کر سکے۔ نیتن یاہو اب لبنان سے اس طرح باہر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ سے بہتر تو اوباما تھا جس نے خطے کی نئی ابھرتی ہوئی طاقت ایران کے ساتھ بغیر جنگ کے ایٹمی معاہدہ کیا۔ لیکن یہ ایک ‘خراب معاہدہ ہے جو کہ ایک انتہائی خراب جنگ’ تھی۔
    اس وقت اسرائیل میں یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ اور یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے ہیں تو پھر نیتن یاہو کی حکومت کو ختم کرنا ہوگا۔ دوسری طرف امریکہ میں واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے کہ یہ جنگ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی اور غلطی تھی۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ اپنے کمزور دشمن کو نہیں روک سکتا بلکہ اس نے دوسروں کو بھی دشمن بنا لیا ہے۔
    عرب بادشاہتوں کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ پُرامن مشرقِ وسطیٰ کا تاثر تباہ ہو گیا، معیشت ختم ہو گئی، سمندری راستے بند ہو گئے۔ چین نے اس پوری صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ امریکہ نے اپنے جدید اور خطرناک ہتھیاروں کے ذخائر ختم کر دیے، ایران آج بھی قائم ہے بلکہ مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
    پوری دنیا تہران کی محتاج ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ جنگ تو نہیں جیت سکے لیکن ایک مختصر سمندری راستہ بھی نہیں کھلوا سکے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی عالمی سپلائی میں ایک سال کا وقفہ آ گیا ہے، اس لیے آگے چل کر پوری دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہوگا، خاص طور پر افریقی ممالک سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
    یہ کوئی امن کا معاہدہ نہیں ہے، ایران کے ساتھ جنگ شروع کر کے ٹرمپ نے پوری دنیا میں اپنی طاقت کی بالادستی قائم رکھنے کی جدوجہد شروع کی تھی، لیکن وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا شروع سے اس جنگ میں مقصد فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کی عرب بادشاہتوں کو جنگ میں الجھانا، مالی نقصان پہنچانا، ان کے اتحاد میں دراڑ ڈالنا اور اپنے اقتدار کے وجود کو برقرار رکھنا تھا۔ جس میں وہ کامیاب رہا۔
    جبکہ امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ معاہدہ ٹرمپ کو چند لمحے سانس لینے کی مہلت دیتا ہے۔ مڈ ٹرم (وسطی مدت کے) انتخابات سر پر ہیں۔ ریپبلکن پرائمری الیکشن مسلسل ہار رہے ہیں۔ مبصر ٹکر کارلسن نے کہا ہے کہ ‘یہ امریکہ کے لیے ایک ذلت آمیز شکست’ ہے۔
    ایران کے نہ تو میزائل، ڈرون، بحریہ، فضائیہ، زمینی فوج اور نہ ہی اس کے تیل کے ذخائر تباہ ہوئے، اوپر سے 300 ارب ڈالر عرب ممالک سے قرض لے کر ایران کو دیے جائیں گے ورنہ پھر مار کھانی پڑے گی۔
    امریکہ نے حزب اللہ اور آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ روم کے ذریعے دنیا میں تیل کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے شام کو آگے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ حزب اللہ کو نہیں سنبھال سکتے تو شام یہ کام آسانی سے کر سکتا ہے۔
    عراق اور دیگر ممالک کو شام کے بحیرہ روم کے ذریعے تیل کی سپلائی شروع ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے اور وہ ٹرمپ کے حزب اللہ کو کنٹرول کرنے والے معاملے پر شکوک و شبہات (الجھن) کا شکار ہے کہ اگر اسرائیل کے ساتھ ایسا کوئی دفاعی معاہدہ کیا گیا تو وہ شام کے کرد اور دیگر قبائلیوں کو خرید کر کہیں ان کا تختہ الٹ کر دمشق میں اپنی حکومت قائم نہ کر لے۔ اسی لیے شام نے ایران معاہدے پر بھی محتاط ردِعمل دیا ہے۔
    الجزیرہ نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیل نواز لابی غیر معمولی طور پر سرگرم ہو گئی ہے، اور بہت جلد اس معاہدے کو ختم کرا دے گی۔ امریکی مبصر میتھیو ڈس نے لکھا ہے کہ شروع میں واشنگٹن نے بہترین کارکردگی دکھائی، جنگ کے دوسرے ہی دن مذاکرات ہوئے، معاہدہ ہونے والا تھا لیکن یہودی لابی نے ہونے نہیں دیا۔
    ریپبلکن پارٹی میں دراڑیں پڑ گئیں۔ نائب صدر نے غصے میں کہا کہ ہم نے اس جنگ کو قریب سے دیکھا ہے، یہ بغیر نفع کی جنگ ہے جس میں صرف ہمارا ہی نقصان ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن میں اسرائیل نواز آوازیں ایران کے ساتھ سفارت کاری کو ناکام بنا سکتی ہیں؟ اس وقت اسرائیل میں حکومت اور اپوزیشن کے رہنما، ہر محکمے کے ماہرین مل کر امریکہ-ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی پالیسی پر غور کر رہے ہیں اور ایسی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں جس سے ‘سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے’۔
    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ معاہدہ نہ تو کوئی مکمل امن ہے اور نہ ہی مکمل ناکامی، یہ ایک عارضی وقفہ ہے جس سے ہر فریق اپنے حساب سے فائدہ تلاش کر رہا ہے۔ ایران کے لیے یہ معاہدہ اپنے اقتدار اور علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا موقع ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کے لیے یہ مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے سانس لینے کی مہلت ہے۔ لیکن اسرائیل اس معاہدے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے واشنگٹن کے اندر سرگرم اسرائیل نواز لابی اور نیتن یاہو حکومت مل کر اسے ناکام بنانے کی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں۔
    لبنان پر حالیہ حملہ اور ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کو اپنی طاقت دکھانے اور معاہدے کو اپنی شرائط پر موڑنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسی صورتحال میں امکان یہ ہے کہ یہ نازک معاہدہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، اور خطہ دوبارہ اسی کٹھن تنازعے میں لوٹ سکتا ہے جس سے نکلنے کے لیے اصل میں یہ معاہدہ کیا گیا تھا۔
    آخر کار، یہ سوال حل طلب ہی رہ جاتا ہے کہ کیا سفارت کاری عرب خطے میں مستقل استحکام لا سکے گی، یا پھر یہ صرف آنے والے بڑے تنازعے سے پہلے ایک مختصر سا توقف ثابت ہوگا۔

  • ٹرمپ خاندان کی کرپٹو سلطنت: اربوں ڈالر منافع، مگر سرمایہ کاروں کے حصے میں بھاری نقصان

    ٹرمپ خاندان کی کرپٹو سلطنت: اربوں ڈالر منافع، مگر سرمایہ کاروں کے حصے میں بھاری نقصان

     امریکہ میں کرپٹو کرنسی کی دنیا ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، لیکن اس مرتبہ وجہ نئی ٹیکنالوجی یا ڈیجیٹل سرمایہ کاری نہیں بلکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کے وہ کرپٹو منصوبے ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں اربوں ڈالر کما لیے، جبکہ لاکھوں سرمایہ کار بھاری مالی نقصان کا شکار ہو گئے۔ عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک تحقیقی رپورٹ نے ان منصوبوں کی اندرونی کہانی سامنے لاتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 میں وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ خاندان نے کرپٹو کرنسی کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کو غیر معمولی حد تک بڑھایا۔ مختلف ڈیجیٹل ٹوکنز، بلاک چین منصوبوں اور کرپٹو کمپنیوں کے ذریعے خاندان نے کم از کم 2.3 ارب ڈالر کا مالی فائدہ حاصل کیا، جبکہ ان منصوبوں میں سرمایہ لگانے والے ایک بڑی تعداد میں افراد کو مجموعی طور پر تقریباً اتنے ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    تحقیقات کے مطابق ٹرمپ خاندان کی کامیابی کا بنیادی راز ایک ایسا ماڈل تھا جس میں ذاتی سرمایہ کاری بہت کم یا نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن خاندان کے نام، شہرت اور سیاسی اثر و رسوخ کو بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں منصوبوں کو تیزی سے تشہیر ملی اور لاکھوں افراد نے سرمایہ کاری کی، مگر بعد میں کئی منصوبوں کی مالیت تیزی سے گر گئی۔

    ورلڈ لبرٹی فنانشل: سب سے بڑا منصوبہ

    ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبوں میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا پلیٹ فارم ورلڈ لبرٹی فنانشل تھا۔ اسے ایک ایسے منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مقصد عام لوگوں کے لیے مالیاتی نظام کو زیادہ آسان اور جمہوری بنانا تھا۔ تاہم بعد میں اس کے ٹوکن کی قیمت میں شدید کمی دیکھی گئی۔ رائٹرز کے مطابق ٹوکن کی قدر اپنے عروج سے تقریباً 87 فیصد تک گر گئی۔

    اس کے باوجود ٹرمپ خاندان کو اس منصوبے سے غیر معمولی مالی فائدہ حاصل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق خاندان نے اس پلیٹ فارم سے تقریباً 1.6 ارب ڈالر تک کمائے، جبکہ ہزاروں سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ کھو بیٹھے۔

    ایک اور متنازع پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ ابتدائی سرمایہ کاروں کے لیے ٹوکن فروخت کرنے پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ بعض سرمایہ کار اپنے اثاثوں کا بڑا حصہ 2030 تک مکمل طور پر فروخت نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے پر شدید تنقید کی گئی کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کے لیے نقصان سے نکلنا مزید مشکل ہو گیا۔

    $TRUMP میم کوائن کا حیران کن سفر

    ٹرمپ خاندان کے سب سے زیادہ مشہور منصوبوں میں ٹرمپ ڈالر ($TRUMP)میم کوائن بھی شامل ہے۔ یہ ٹوکن ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل متعارف کرایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں نے اسے سونے کی کان سمجھ لیا۔

    لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ہی ماہ میں ٹوکن کی قیمت اپنے بلند ترین مقام سے تقریباً 97 فیصد گر گئی۔ اس گراوٹ نے ہزاروں سرمایہ کاروں کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم ٹرمپ خاندان اس منصوبے سے تقریباً 600 ملین ڈالر سے زائد کمانے میں کامیاب رہا۔

    مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ڈالر میم کوائنز عام طور پر انتہائی غیر مستحکم ہوتے ہیں اور ان کی قیمتیں اکثر جذبات، سوشل میڈیا مہمات اور مشہور شخصیات کی حمایت سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سرمایہ کاری کو ہمیشہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

    کرپٹو کمپنیوں کے شیئرز بھی ڈوب گئے

    صرف ڈیجیٹل ٹوکنز ہی نہیں بلکہ ٹرمپ خاندان سے وابستہ بعض کرپٹو کمپنیوں کے شیئرز بھی شدید گراوٹ کا شکار ہوئے۔ تحقیقات میں ALT5 Sigma اور American Bitcoin نامی کمپنیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو بھی کروڑوں ڈالر کے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔

    رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں تیزی سے کمی آئی، جبکہ ٹرمپ خاندان نے مختلف معاہدوں اور حصص کے ذریعے پہلے ہی خاطر خواہ منافع حاصل کر لیا تھا۔

    اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں غیر قانونی تھیں یا نہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر کسی واضح غیر قانونی عمل کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اسی لیے قانونی طور پر ان منصوبوں کے خلاف کارروائی مشکل ہو سکتی ہے۔

    تاہم اخلاقی اعتبار سے صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ایک بااثر سیاسی شخصیت یا اس کا خاندان اپنی شہرت استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور بعد میں عام سرمایہ کار نقصان اٹھائیں جبکہ منتظمین اربوں ڈالر کمائیں، تو اس سے شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

    کرپٹو پالیسیوں پر بھی سوالات

    ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ میں کرپٹو کرنسی کے لیے نسبتاً نرم پالیسیوں کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ مجوزہ ضوابط اور ریگولیٹری تبدیلیاں بالواسطہ طور پر ان کاروباروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں جن سے ٹرمپ خاندان وابستہ ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کرپٹو صنعت کو ترقی دینے کے لیے کم ضوابط ضروری ہیں اور یہ اقدامات پورے شعبے کی ترقی کے لیے کیے جا رہے ہیں، نہ کہ کسی ایک خاندان کے فائدے کے لیے۔

    ماہرین اس واقعے کو کرپٹو دنیا کے لیے ایک اہم سبق قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی منصوبے میں صرف مشہور نام یا سیاسی شخصیت کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو منصوبے کی بنیاد، کاروباری ماڈل، شفافیت اور خطرات کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔

    بہت سے چھوٹے سرمایہ کاروں نے تیزی سے منافع حاصل کرنے کی امید میں ان منصوبوں میں رقم لگائی، لیکن مارکیٹ کی گراوٹ کے بعد انہیں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس کے برعکس منصوبوں کے بانی اور ابتدائی حصہ دار پہلے ہی بڑی کمائی کر چکے تھے۔

    مستقبل کیا ہوگا؟

    فی الحال ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبے بدستور توجہ کا مرکز ہیں۔ کچھ منصوبے جاری ہیں جبکہ بعض کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں امریکی قانون ساز ادارے اور ریگولیٹری حکام کرپٹو مارکیٹ کے قواعد و ضوابط پر مزید بحث کریں گے۔

    رائٹرز کی تحقیق نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کرپٹو کرنسی کی چمکتی ہوئی دنیا میں ہر کامیابی کے پیچھے ایک مختلف کہانی بھی ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں بظاہر سب سے زیادہ فائدہ ٹرمپ خاندان کو ہوا، جبکہ لاکھوں عام سرمایہ کار نقصان کے بوجھ تلے دب گئے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کیس اب صرف ایک کاروباری کامیابی یا ناکامی نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ، مالی شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی بحث بن چکا ہے۔

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا ایران کو ٹیکس دے کر نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا ایران کو ٹیکس دے کر نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا: ‘ٹرمپ نے لکھا کہ اسلام آباد میں ملاقات اچھی رہی اور زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا۔ تاہم ایک نکتہ جو واقعی اہم تھا، نیوکلیئر، اس پر کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔’

    انہوں نے کہا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ، جو دنیا کی بہترین ہے، آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا نکلنے والے ہر جہاز کو روکنے کا عمل شروع کر دے گی۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایک وقت ہم ایسے مرحلے پر پہنچ جائیں گے جہاں سب کو اندر اور باہر جانے کی اجازت ہوگی، لیکن ایران نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے صرف یہ کہہ کر عالمی بھتہ خوری کی کہ کہیں باہر کوئی بارودی سرنگ ہو سکتی ہے، جس کے بارے میں کسی کو علم نہیں سوائے ان کے۔

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ ممالک کے رہنما، خاص طور پر امریکہ، کبھی بھی بھتہ خوری کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو کوئی ٹول ادا کیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے سمندروں میں محفوظ گزرگاہ نہیں ملے گی۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ان بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کر دے گا جو ایرانیوں نے آبناؤں میں بچھائی ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی ایرانی جو امریکہ یا پرامن جہازوں پر فائر کرے گا، اسے اڑا دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران خود بخوبی جانتا ہے کہ اس صورتحال کو کیسے ختم کرنا ہے، جس نے پہلے ہی ان کے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، فضائیہ بھی ختم ہو چکی ہے، فضائی دفاع اور ریڈار بیکار ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ خمینی اور ان کے بیشتر رہنما سب مر چکے ہیں اور یہ سب ایران کے نیوکلیئر عزائم کی وجہ سے ہوا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ناکہ بندی جلد شروع ہو جائے گی اور دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اس غیر قانونی بھتہ خوری سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ایران پیسہ چاہتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر نیوکلیئر ہتھیار چاہتا ہے۔

    اپنے بیان کے آخر میں ٹرمپ نے کہا کہ ایک مناسب وقت پر امریکہ مکمل طور پر ‘لاکڈ اینڈ لوڈڈ’ ہے اور امریکی فوج ایران کا جو کچھ بھی باقی رہ گیا ہے اسے ختم کر دے گی۔

    واضح رہے کہ یہ بیان سابق امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ہے، جس پر ابھی تک پاکستان یا ایران کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ٹرمپ کی معاشی پالیسی کو بڑا دھچکا: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا

    ٹرمپ کی معاشی پالیسی کو بڑا دھچکا: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے وسیع عالمی تجارتی ٹیرف (درآمدی محصولات) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں کالعدم کر دیا ہے۔ چھ کے مقابلے میں تین ججوں کی اکثریت سے سنائے گئے اس فیصلے کو امریکی آئینی تاریخ میں صدارتی اختیارات کی حدود کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 1977ء کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر وسیع پیمانے پر درآمدی محصولات عائد کرے۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلے میں لکھا کہ آئین کے تحت ٹیکس اور ٹیرف لگانے کا اختیار بنیادی طور پر کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ ایگزیکٹو برانچ کے پاس۔

    یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی حکمت عملی کے لیے بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں ٹیرف کو عالمی تجارت کی ازسرِ نو تشکیل اور امریکی صنعت کے تحفظ کے لیے مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ ان ٹیرف کے تحت چین، یورپ، میکسیکو اور دیگر ممالک سے آنے والی درآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے گئے تھے، جس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

    عدالت نے واضح کیا کہ ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے صدر نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔ فیصلے میں ‘میجر کوئسچنز ڈاکٹرائن’ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق وسیع معاشی اثرات رکھنے والے فیصلوں کے لیے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہوتی ہے۔

    اس فیصلے کے بعد امریکی حکومت کو ممکنہ طور پر اربوں ڈالر واپس کرنا پڑ سکتے ہیں جو ان ٹیرف کی مد میں وصول کیے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق ان محصولات سے تقریباً 89 ارب ڈالر تک آمدن حاصل ہوئی تھی، جس کے قانونی مستقبل پر اب سوالات اٹھ گئے ہیں۔

    قانونی ماہرین کے مطابق عدالت نے اگرچہ فوری طور پر رقم واپس کرنے کا حکم نہیں دیا، تاہم متاثرہ کمپنیوں کی جانب سے مقدمات دائر کیے جانے کا امکان ہے، جس سے امریکی خزانے پر بڑا مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    اختلافی نوٹ اور سیاسی ردعمل

    فیصلے میں تین ججوں نے اختلاف کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ٹیرف تاریخی طور پر درآمدات کو منظم کرنے کا ایک تسلیم شدہ ذریعہ رہے ہیں۔ اختلافی جج بریٹ کیوانا نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں پیچیدہ مالی اور قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب ڈیموکریٹ رہنماؤں نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صارفین کے لیے ‘معاشی ریلیف’ قرار دیا۔ سینیٹ کے بعض ارکان کا کہنا تھا کہ ٹیرف کے باعث اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھ گئیں اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوئے۔

    صدر ٹرمپ نے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ‘شرمناک’ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    جب کہ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر اور دیگر ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے کہا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف نے عام امریکی شہریوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ان محصولات کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس کا بوجھ براہِ راست امریکی خاندانوں پر پڑا۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ اقدام صدارتی اختیارات کا غیر قانونی استعمال تھا کیونکہ تجارت سے متعلق بڑے فیصلے ایک صدر اکیلے نہیں کر سکتا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اس بات کی تصدیق قرار دیا کہ تجارتی پالیسی بنانے کا اختیار صرف صدر کے پاس نہیں بلکہ کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ عالمی تجارتی نظام پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ کئی ممالک، جنہوں نے امریکی ٹیرف کے باعث جوابی محصولات عائد کیے تھے، اب نئی تجارتی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ یورپی اور برطانوی حکام نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    صدارتی اختیارات کی نئی حد بندی

    قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل کے صدور کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بڑے معاشی فیصلے یکطرفہ طور پر نہیں کیے جا سکتے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا امریکی آئینی نظام کی بنیاد ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت دیگر قانونی راستوں کے ذریعے محدود ٹیرف دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، تاہم موجودہ فیصلے نے ایگزیکٹو اختیارات پر اہم آئینی پابندی عائد کر دی ہے۔

    اس تاریخی فیصلے کو امریکی عدالتی تاریخ میں صدارتی اختیارات اور کانگریس کی بالادستی کے درمیان توازن کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی تجارتی منڈیوں کی نظریں اب واشنگٹن کی آئندہ پالیسیوں پر مرکوز ہیں۔