امریکہ میں کرپٹو کرنسی کی دنیا ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، لیکن اس مرتبہ وجہ نئی ٹیکنالوجی یا ڈیجیٹل سرمایہ کاری نہیں بلکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کے وہ کرپٹو منصوبے ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں اربوں ڈالر کما لیے، جبکہ لاکھوں سرمایہ کار بھاری مالی نقصان کا شکار ہو گئے۔ عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک تحقیقی رپورٹ نے ان منصوبوں کی اندرونی کہانی سامنے لاتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ خاندان نے کرپٹو کرنسی کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کو غیر معمولی حد تک بڑھایا۔ مختلف ڈیجیٹل ٹوکنز، بلاک چین منصوبوں اور کرپٹو کمپنیوں کے ذریعے خاندان نے کم از کم 2.3 ارب ڈالر کا مالی فائدہ حاصل کیا، جبکہ ان منصوبوں میں سرمایہ لگانے والے ایک بڑی تعداد میں افراد کو مجموعی طور پر تقریباً اتنے ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
تحقیقات کے مطابق ٹرمپ خاندان کی کامیابی کا بنیادی راز ایک ایسا ماڈل تھا جس میں ذاتی سرمایہ کاری بہت کم یا نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن خاندان کے نام، شہرت اور سیاسی اثر و رسوخ کو بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں منصوبوں کو تیزی سے تشہیر ملی اور لاکھوں افراد نے سرمایہ کاری کی، مگر بعد میں کئی منصوبوں کی مالیت تیزی سے گر گئی۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل: سب سے بڑا منصوبہ
ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبوں میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا پلیٹ فارم ورلڈ لبرٹی فنانشل تھا۔ اسے ایک ایسے منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مقصد عام لوگوں کے لیے مالیاتی نظام کو زیادہ آسان اور جمہوری بنانا تھا۔ تاہم بعد میں اس کے ٹوکن کی قیمت میں شدید کمی دیکھی گئی۔ رائٹرز کے مطابق ٹوکن کی قدر اپنے عروج سے تقریباً 87 فیصد تک گر گئی۔
اس کے باوجود ٹرمپ خاندان کو اس منصوبے سے غیر معمولی مالی فائدہ حاصل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق خاندان نے اس پلیٹ فارم سے تقریباً 1.6 ارب ڈالر تک کمائے، جبکہ ہزاروں سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ کھو بیٹھے۔
ایک اور متنازع پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ ابتدائی سرمایہ کاروں کے لیے ٹوکن فروخت کرنے پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ بعض سرمایہ کار اپنے اثاثوں کا بڑا حصہ 2030 تک مکمل طور پر فروخت نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے پر شدید تنقید کی گئی کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کے لیے نقصان سے نکلنا مزید مشکل ہو گیا۔
$TRUMP میم کوائن کا حیران کن سفر
ٹرمپ خاندان کے سب سے زیادہ مشہور منصوبوں میں ٹرمپ ڈالر ($TRUMP)میم کوائن بھی شامل ہے۔ یہ ٹوکن ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل متعارف کرایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں نے اسے سونے کی کان سمجھ لیا۔
لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ہی ماہ میں ٹوکن کی قیمت اپنے بلند ترین مقام سے تقریباً 97 فیصد گر گئی۔ اس گراوٹ نے ہزاروں سرمایہ کاروں کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم ٹرمپ خاندان اس منصوبے سے تقریباً 600 ملین ڈالر سے زائد کمانے میں کامیاب رہا۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ڈالر میم کوائنز عام طور پر انتہائی غیر مستحکم ہوتے ہیں اور ان کی قیمتیں اکثر جذبات، سوشل میڈیا مہمات اور مشہور شخصیات کی حمایت سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سرمایہ کاری کو ہمیشہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
کرپٹو کمپنیوں کے شیئرز بھی ڈوب گئے
صرف ڈیجیٹل ٹوکنز ہی نہیں بلکہ ٹرمپ خاندان سے وابستہ بعض کرپٹو کمپنیوں کے شیئرز بھی شدید گراوٹ کا شکار ہوئے۔ تحقیقات میں ALT5 Sigma اور American Bitcoin نامی کمپنیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو بھی کروڑوں ڈالر کے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔
رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں تیزی سے کمی آئی، جبکہ ٹرمپ خاندان نے مختلف معاہدوں اور حصص کے ذریعے پہلے ہی خاطر خواہ منافع حاصل کر لیا تھا۔
اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں غیر قانونی تھیں یا نہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر کسی واضح غیر قانونی عمل کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اسی لیے قانونی طور پر ان منصوبوں کے خلاف کارروائی مشکل ہو سکتی ہے۔
تاہم اخلاقی اعتبار سے صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ایک بااثر سیاسی شخصیت یا اس کا خاندان اپنی شہرت استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور بعد میں عام سرمایہ کار نقصان اٹھائیں جبکہ منتظمین اربوں ڈالر کمائیں، تو اس سے شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
کرپٹو پالیسیوں پر بھی سوالات
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ میں کرپٹو کرنسی کے لیے نسبتاً نرم پالیسیوں کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ مجوزہ ضوابط اور ریگولیٹری تبدیلیاں بالواسطہ طور پر ان کاروباروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں جن سے ٹرمپ خاندان وابستہ ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کرپٹو صنعت کو ترقی دینے کے لیے کم ضوابط ضروری ہیں اور یہ اقدامات پورے شعبے کی ترقی کے لیے کیے جا رہے ہیں، نہ کہ کسی ایک خاندان کے فائدے کے لیے۔
ماہرین اس واقعے کو کرپٹو دنیا کے لیے ایک اہم سبق قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی منصوبے میں صرف مشہور نام یا سیاسی شخصیت کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو منصوبے کی بنیاد، کاروباری ماڈل، شفافیت اور خطرات کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔
بہت سے چھوٹے سرمایہ کاروں نے تیزی سے منافع حاصل کرنے کی امید میں ان منصوبوں میں رقم لگائی، لیکن مارکیٹ کی گراوٹ کے بعد انہیں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس کے برعکس منصوبوں کے بانی اور ابتدائی حصہ دار پہلے ہی بڑی کمائی کر چکے تھے۔
مستقبل کیا ہوگا؟
فی الحال ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبے بدستور توجہ کا مرکز ہیں۔ کچھ منصوبے جاری ہیں جبکہ بعض کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں امریکی قانون ساز ادارے اور ریگولیٹری حکام کرپٹو مارکیٹ کے قواعد و ضوابط پر مزید بحث کریں گے۔
رائٹرز کی تحقیق نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کرپٹو کرنسی کی چمکتی ہوئی دنیا میں ہر کامیابی کے پیچھے ایک مختلف کہانی بھی ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں بظاہر سب سے زیادہ فائدہ ٹرمپ خاندان کو ہوا، جبکہ لاکھوں عام سرمایہ کار نقصان کے بوجھ تلے دب گئے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کیس اب صرف ایک کاروباری کامیابی یا ناکامی نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ، مالی شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی بحث بن چکا ہے۔

