پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں ترمیم، صوبائی حقوق اور صوبائی خودمختاری سے متصادم آئین میں کسی بھی ممکنہ ترمیم کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف مطالبات کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا فوری اجلاس بلا کر نئے مالیاتی ایوارڈ کا اجرا کیا جائے۔
یہ مطالبات جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں کیے گئے، جس کا عنوان تھا: ’’کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے خلاف باتیں، سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش تو نہیں؟‘‘
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت صوبوں کو صرف وفاقی قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہدایات دے سکتی ہے، کسی شہر کا انتظامی کنٹرول نہیں سنبھال سکتی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے آئین کا حصہ بنی اور اسے رول بیک نہیں ہونے دیا جائے گا۔
سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کے مطابق کراچی یا گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو واپس لینے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
رضا ربانی نے کہا کہ آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد نیا این ایف سی ایوارڈ جاری ہونا ضروری ہے، تاہم وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔
سیمینار سے سینیٹر بیرسٹر ضمیر گھمرو، سینئر صحافی مظہر عباس، وسعت اللہ خان، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، وکیل شہاب سرکی اور نورالہدیٰ شاہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور سندھ کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی تجاویز کی مخالفت کی۔
سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے، این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری طور پر نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے اور صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

