اسرائیل، ایران جنگ، ایندھن کا ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان حکومت کا حکومت کی قومی شاہراہوں پر نئی حدِ رفتار نافذ، کم رفتار سے ایندھن کی بچت کیسے ممکن؟

حکومت پاکستان کی ہدایات پر ایندھن کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کے پیش نظر موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار کم کر دی گئی ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ایندھن کی کھپت کم کرنا اور کفایت شعاری پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

ترجمان سینٹرل ریجن موٹروے پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موٹرویز پر کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کی حدِ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح مسافر بردار گاڑیوں اور ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

قومی شاہراہوں پر بھی رفتار میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے حدِ رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کے لیے رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

نئی رفتار پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی

موٹروے پولیس کے مطابق نئی حدِ رفتار پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے بھی کیے جا رہے ہیں۔ موٹروے ایم ٹو پر ایک شہری کو 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر 2500 روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ ایک مسافر بس کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ ڈرائیورز کو نئی رفتار کی حدود سے آگاہ کرنا اور توانائی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔

قومی کفایت شعاری پالیسی کا حصہ

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قومی کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات کم کرنے اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

اعلان کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے دو ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں پچاس فیصد تک کمی کی جائے گی جبکہ سرکاری اداروں میں ہفتے میں چار دن کام کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

قوم سے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پورا خطہ جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے، اسی لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملک پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم حکومت نے درمیانی راستہ اختیار کیا تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

رفتار کم کرنے سے ایندھن کیسے بچتا ہے؟

ماہرین کے مطابق گاڑی کی رفتار اور ایندھن کے استعمال کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔ جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، گاڑی کو ہوا کی مزاحمت زیادہ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس مزاحمت پر قابو پانے کے لیے انجن کو زیادہ طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے جس سے ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے۔

تحقیقی مطالعات کے مطابق زیادہ تر گاڑیوں میں بہترین فیول اکانومی تقریباً 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رفتار پر حاصل ہوتی ہے۔ اس رفتار سے زیادہ تیز چلنے پر فیول کھپت تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ رفتار میں ہر 10 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافے کے ساتھ فیول کھپت میں تقریباً 7 سے 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر گاڑی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہو تو وہ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ایندھن استعمال کرتی ہے۔

بھاری گاڑیوں میں یہ فرق اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ وزن کی وجہ سے زیادہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے۔

حادثات میں کمی کا امکان

ماہرین کے مطابق رفتار میں کمی کا ایک اور فائدہ سڑکوں پر حادثات میں کمی بھی ہے۔ معتدل رفتار نہ صرف ڈرائیور کو بہتر کنٹرول فراہم کرتی ہے بلکہ اچانک بریک یا ٹکراؤ کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں توانائی کی بچت اور ٹریفک سیفٹی دونوں مقاصد کے لیے ہائی ویز پر رفتار کی حد کو ایک اہم پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

کیا اس فیصلے سے واقعی فرق پڑے گا؟

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیور نئی رفتار کی حدود پر واقعی عمل کریں تو اس سے ملک میں ایندھن کی مجموعی کھپت میں قابلِ ذکر کمی آ سکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی پالیسی پر عملدرآمد کس حد تک مؤثر بنایا جاتا ہے۔

اگر رفتار کم رکھنے کی عادت عام ہو جائے تو نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہے بلکہ سڑکوں پر سفر بھی زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔

ساگا ڈیجیٹل ایسے پالیسی فیصلوں کے پس منظر اور ان کے سائنسی پہلوؤں کو سادہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عوام کو سمجھ آ سکے کہ روزمرہ زندگی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں کیوں اہم ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں: