قیام پاکستان سے اب تک کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی کوششوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں کتنی تاریخی قراردادیں پاس ہوئیں؟

کراچی

حال ہی میں گورنر ہاؤس سندھ میں کراچی کے مستقبل پر ہونے والی کانفرنس میں سندھ سے علیحدگی اور وفاق حوالے کرنے کے مطالبے کے خلاف سندھ اسمبلی نے ایک مرتبہ پھر کراچی کو سندھ سے ممکنہ طور پر علیحدہ کرنے کی کسی بھی تجویز یا اقدام کے خلاف متفقہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے چوتھی مرتبہ قرارداد منظور کر لی۔

اس قرارداد کے ذریعے ایوان نے واضح پیغام دیا کہ کراچی سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ ہے اور اس کی حیثیت میں کسی یکطرفہ تبدیلی کو سندھ کے عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کراچی سے سندھ سے علحیدگی کی باتوں کے خلاف سندھ اسمبلی نے متفقہ رائے سے قرارداد پیش کی ہو۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کی قرارداد پیش کی جاچکیں ہیں۔

اس حوالے سے پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو اُس وقت کی سندھ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی تھی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کر کے وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔

یہ قرارداد قاضی اکبر کی جانب سے جمع کرائی گئی، جبکہ اسے محمد اعظم نے ایوان میں پیش کیا۔ قرارداد اکثریت رائے سے منظور ہوئی، تاہم اس کے باوجود کراچی کو سندھ سے علیحدہ کر کے وفاقی دارالحکومت قرار دے دیا گیا، جسے سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع موڑ تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری مرتبہ 25 ستمبر 2014 کو سندھ اسمبلی نے کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد اُس وقت کے قائدِ حزبِ اختلاف محمد شہریار خان مہر نے پیش کی، جس پر شفیع محمد جاموٹ، نصرت بانو سحر عباسی، ڈاکٹر محمد رفیق بانبھن، سعید خان نظامانی، وریام فقیر، سید محمد راشد شاہ، نند کمار گوکلانی، حاجی خدا بخش راجڑ، ہمایوں محمد خان اور مسرور احمد جتوئی سمیت دیگر ارکان نے دستخط کیے۔ یہ قرارداد بھی ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کی۔

تیسری قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جسے ڈاکٹر سہراب خان سرکی، ریحانہ لغاری، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، فیاض علی بٹ، ہیر سوہو، عبد الکریم سومرو، تنزیلہ امی حبیبہ قمبرانی، شمیم ممتاز، سجیلا لغاری، سیدہ ماروی فصیح، حنا دستگیر، غزالہ سیال، فریال تالپور، شازیہ عمر، سید فرخ احمد شاہ، شاہینہ شیر علی، فرحت سیمین، شہناز بیگم، محمد قاسم سراج سومرو اور محمد علی ملکانی نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ اس قرارداد کے ذریعے بھی ایوان نے کراچی کی سندھ سے علیحدگی کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا۔

آج منظور ہونے والی چوتھی قرارداد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیش کی، جس کی متعدد ارکانِ اسمبلی نے تائید کی اور یوں سندھ اسمبلی نے ایک بار پھر اپنے تاریخی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کراچی اور سندھ کی وحدت ناقابلِ تقسیم ہے۔

ان چاروں تاریخی قراردادوں کی نقول قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ عوام خود اس پارلیمانی ریکارڈ کا مشاہدہ کر سکیں اور سندھ اسمبلی کے مسلسل اور واضح مؤقف سے آگاہ رہیں۔

اسی بارے میں: