پاکستان کا قیام کوئی اچانک حادثہ یا کسی جابر حملہ آور کے زورِ بازو کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک طویل قانونی و سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے اور اس قانونی جدوجہد کا ایک ایک باب تاریخ کے صفحوں پر محفوظ ہے۔
سندھ اسمبلی کی 1943 کی قرارداد بھی ایک ایسا ہی سنگ میل ہے، جس نے قیامِ پاکستان کی منزل کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس قرارداد میں جہاں اور بہت سے نکات اہم ہیں، وہاں سندھ کی جغرافیائی وحدت کو یقینی بنانے کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔
اس تاریخی قرارداد کے اندر صوبائی خود مختاری، جغرافیائی وجود اور وفاق میں ایک خود مختار اکائی کے طور پر شمولیت کے حوالے سے انتہائی اہم قانونی اور آئینی نکات شامل ہیں، جن کا براہِ راست تعلق سندھ کی جغرافیائی و تاریخی وحدت سے ہے۔
قرارداد میں برطانوی حکومت سے یہ قانونی مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو جب الگ وطن کی شکل دی جائے، تو سندھ کو ایک مکمل، تاریخی اور جداگانہ جغرافیائی اکائی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس قرارداد کا بنیادی قانونی نکتہ یہ تھا کہ وفاق میں شامل ہوتے وقت سندھ کی اپنی ایک جغرافیائی اور تاریخی شناخت ہوگی، جس کی سرحدوں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکے گی۔
سندھ کو 1936 میں ایک طویل جدوجہد کے بعد آئینی طور پر بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے اس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت بحال کی گئی تھی۔ 1943 کی قرارداد کا ایک اور اہم قانونی نکتہ یہ تھا کہ سندھ اب ایک آزاد صوبائی اسمبلی کا حامل ہے، اس لیے وہ اپنی جغرافیائی حدود اور سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل قانونی حق رکھتا ہے۔
1940کی قراردادِ لاہور کی طرح 1943 کی سندھ اسمبلی کی قرارداد میں بھی ’اسٹیٹس‘ یعنی ریاستوں کا لفظ استعمال ہوا تھا۔ قانونی طور پر اس کا مطلب یہ تھا کہ جو نیا وفاق یا پاکستان بنے گا، اس میں شامل ہونے والے صوبے اپنی حدود کے اندر مکمل طور پر خود مختار ہوں گے، اور ان کی جغرافیائی وحدت اور اندرونی معاملات میں مرکز یا کسی دوسرے صوبے کی مداخلت کا کوئی قانونی جواز نہیں ہوگا۔
مارچ 1943 کو جی ایم سید کی طرف سے اسمبلی میں جو قرارداد پیش کی گئی، اس کا اصل متن انگریزی زبان میں ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس قرارداد کے وہ اصل جملے اور متن جو سندھ کے تاریخی اور جداگانہ جغرافیائی وجود اور اس کے تحفظ کی بنیاد بنے، درج ذیل ہیں
This House recommends to Government to convey to His Majesty’s Government the sentiments of the Muslims of Sindh, that whereas India is inhabited by peoples of different races and religions, whose culture and civilization are distinct, and whereas Sindh has also a historic and distinct entity as a separate unit
Therefore, this House declares that the Muslims of India will not accept any constitution which places them under a single central government dominated by another nation. They must be allowed to form their own independent sovereign states in those zones where they are in a majority.
ترجمہ: یہ ایوان حکومت کو سفارش کرتا ہے کہ وہ شہنشاہِ معظم کی حکومت تک سندھ کے مسلمانوں کے یہ جذبات پہنچائے کہ جہاں ہندوستان میں مختلف نسلوں اور مذہبوں کے لوگ آباد ہیں، جن کی ثقافت اور تہذیب ایک دوسرے سے جدا ہے، اور جہاں سندھ بھی بطور ایک علیحدہ اکائی اپنی ایک تاریخی اور جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کسی ایسے آئین کو قبول نہیں کریں گے جو انہیں کسی دوسری قوم کے زیرِ اثر ایک ہی مرکزی حکومت کے ماتحت لائے۔ انہیں ان خطوں میں اپنی آزاد اور خود مختار ریاستیں قائم کرنے کی اجازت دی جائے جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔
پاکستان کے حق میں سندھ اسمبلی کی اس قرارداد کا اصل مسودہ سندھ اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس کی ایک کاپی وائسرائے ہند کے دفتر کے ذریعے وزیرِ امورِ ہند کو بھی بھیجی گئی تھی۔ یہ تمام خط وکتابت اور برطانوی حکومت کو بھیجی گئی اصل نقول آج بھی لندن کی ‘برٹش لائبریری’ کے ‘انڈیا آفس ریکارڈز’ میں محفوظ ہیں۔
اس کے علاوہ اسلام آباد میں واقع ‘نیشنل آرکائیوز آف پاکستان’ میں بھی اس اہم مسودے کی نقول موجود ہیں۔
اس تمام تر بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ اگر کوئی گھر یا دکان بھی کرایے پر لی جائے یا خریدی جائے، تو اس کے تمام قانونی پہلو دیکھے، پرکھے اور جانچے جاتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بھی آئے اور اپنا بوریا بستر جما کر بیٹھ جائے۔
جب سندھ کو پاکستان میں شامل کیا جا رہا تھا، تو قانون سازوں نے سندھ کی اپنی جغرافیائی وحدت کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا تھا۔ جب بھی کوئی قضیہ عدالت کے روبرو جاتا ہے، تو عدالت فریقین کو بنیادی معاہدے اور دستاویزات حاضر کرنے کا حکم دیتی ہے۔
سندھ اسمبلی کی 1943 کی قرارداد بھی ایسی ہی ایک بنیادی اور مقتدر دستاویز ہے، جو سندھ کی وحدانیت کے مقدمے کو ناقابلِ شکست بناتی ہے۔



