سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

گل پلازہ

گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد وزیر اعلی سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں شاپنگ پلازہ کی تعمیر سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی ملکیت، لیز اور بعد ازاں اضافی تعمیرات مختلف ادوار میں منظور کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کی زمین بلدیہ عظمی کراچی کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دیا گیا تھا۔ لیز کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین خرید لی، جبکہ لیز کے خاتمے کے باوجود تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔

اس وقت میئر کراچی جماعت اسلامی کے رہنما عبدالستار افغانی تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں لیز ختم ہونے سے قبل شروع ہونے والی تعمیرات کو
روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ عبدالستار افغانی بطور میئر نومبر 1979 سے فروری 1987 تک عہدے پر فائز رہے، جبکہ نومبر 1983 سے فروری 1987 تک دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان ہی کے دور میں ٹرام سروس کے لیے دی گئی لیز 1983 میں ختم ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین پر تعمیرات شروع کیں، جو 1990 تک جاری رہیں۔ بعد ازاں جب فاروق ستار میئر کراچی منتخب ہوئے تو ان کے دور میں گل پلازہ کی زمین جنیکا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دی گئی۔

ساگا ڈیجیٹل کو موصول رپورٹ میں شامل دستاویز کے مطابق تین نومبر 1991 کو اس وقت کے میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے بلدیہ عظمی کی زمین گل پلازہ کے لیے لیز پر دینے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ زمین گل پلازہ شاپنگ مال کو تین روپے فی گز کے حساب سے کرائے پر دی گئی۔


فاروق ستار 1988 سے 1992 تک بطور میئر کراچی خدمات انجام دیتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی لیز ان ہی کے دور میں ان کے دستخط سے جاری کی گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کے متنازعہ اضافی فلور کو 2003 میں ریگولرائز کیا گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان میئر کراچی تھے، جن کے دور میں اضافی تعمیرات کی اجازت دی گئی۔

اسی بارے میں: