[rank_math_breadcrumb]

پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بجٹ میں اضافہ اور اس کے مؤثر استعمال کے ساتھ ایکویٹی بجٹنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ضروریات کے مقابلے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر تعلیمی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

سنٹر فار پبلک پالیسی ریسرچ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور نے اپنے پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں ایکویٹی بجٹنگ کے فروغ کے تحت مقامی صحافیوں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ ورکشاپ کا مقصد ایکویٹی بجٹنگ کے تصور پر صحافیوں کی سمجھ بوجھ مضبوط بنانا اور تعلیمی فنانسنگ پر ذمہ دار اور باخبر میڈیا کوریج کو فروغ دینا تھا۔

تربیتی سیشن کے دوران پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ظفر ظہیر نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے لیے 363 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو مجموعی صوبائی بجٹ کا 17 فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں یہ حصہ اہم ہے، تاہم زمینی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں چار اعشاریہ نو ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے، ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے فروغ اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تعلیمی بجٹ میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوامی مکالمے کی تشکیل، تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے اداروں کو جوابدہ بنانے میں میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا۔