Tag: پشاور

  • کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین میں میڈیکل کٹ اور اوزار کے بغیر صحت مند بچی کی پیدائش

    کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین میں میڈیکل کٹ اور اوزار کے بغیر صحت مند بچی کی پیدائش

    کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین رحمان بابا ایکسپریس دھابیجی کے مقام پر فنی خرابی کی وجہ سے رکی ہوئی تھی کہ اچانک ایک بوگی سے شور کی آواز سنائی دی، یہ ایک خاتون کی تکلیف میں کراہنے اور کچھ لوگوں کی مدد کے لئے پکارنے کی آوازیں تھیں۔

     

    چار فروری کو پشاور جاتے ہوئے اس بوگی میں ایک خاتون مسافر کو اچانک زچگی کا درد شروع ہوگیا ۔ فنی خرابی کی وجہ سے ٹرین رکی تو مسافروں کی بڑی تعداد پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی تھی۔

    ۔ ان مسافروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن بھی شامل تھے جو سالانہ کنونشن میں شرکت کے لیے نوشہرہ جا رہے تھے۔

    زچگی کی تکلیف میں مبتلا خاتون کو فوری طبی امداد درکار تھی۔ ٹرین کے ٹکٹ چیکر علی اصغر خان اور دیگر عملے نے فوراً ڈاکٹر تلاش کرنے کی کوشش شروع کی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم عبدالرحمان نے اپنے ساتھی ڈاکٹر اسامہ امین احمد کو مدد کے لیے اطلاع دی۔

    ڈاکٹر اسامہ امین احمد، جنہوں نے حال ہی میں ایم بی بی ایس مکمل کر کے ہاؤس جاب شروع کی تھی، نرسنگ تربیت حاصل کرنے والے عبدالحلیم کے ہمراہ بوگی نمبر آٹھ پہنچے۔ معائنے پر معلوم ہوا کہ خاتون کو شدید زچگی کا درد ہے اور فوری ڈیلیوری درکار ہے۔

    ڈاکٹر اسامہ کے مطابق بوگی میں کوئی میڈیکل کٹ، شیٹ یا ادویات موجود نہیں تھیں۔ انتہائی نامناسب حالات میں انہوں نے خاتون مریضہ کو سانس لینے کی ہدایات دیں اور پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔

    خوش قسمتی سے ڈیلیوری نارمل طریقے سے مکمل ہوگئی، تاہم بچے کو ماں سے الگ کرنے کے لیے نال کاٹنے کا کوئی آلہ موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ریسکیو ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی جس کی میڈیکل کٹ سے نال کاٹ کر نومولود بچی کو محفوظ بنایا گیا۔

    پیدائش کے فوراً بعد بچی نے رونا بند کردیا جس سے صورتحال خطرناک ہوگئی۔ ڈاکٹر اسامہ اور عبدالحلیم نے فوری طور پر بچے کا منہ صاف کیا اور ہلکے جھٹکوں کے ذریعے سانس بحال کروائی۔ چند لمحوں بعد بچی کے دوبارہ رونے پر سب نے سکون کا سانس لیا۔

    جس کے بعد ماں اور بچی کو ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں کی حالت تسلی بخش قرار دی ۔

    خاندان کے مطابق میاں بیوی کراچی سے ٹنڈو آدم خان جا رہے تھے اور روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھے۔ انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں بروقت مدد نے ان کی اور بچے کی جان بچا لی۔

  • پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بجٹ میں اضافہ اور اس کے مؤثر استعمال کے ساتھ ایکویٹی بجٹنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ضروریات کے مقابلے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر تعلیمی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

    سنٹر فار پبلک پالیسی ریسرچ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور نے اپنے پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں ایکویٹی بجٹنگ کے فروغ کے تحت مقامی صحافیوں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ ورکشاپ کا مقصد ایکویٹی بجٹنگ کے تصور پر صحافیوں کی سمجھ بوجھ مضبوط بنانا اور تعلیمی فنانسنگ پر ذمہ دار اور باخبر میڈیا کوریج کو فروغ دینا تھا۔

    تربیتی سیشن کے دوران پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ظفر ظہیر نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے لیے 363 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو مجموعی صوبائی بجٹ کا 17 فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں یہ حصہ اہم ہے، تاہم زمینی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں چار اعشاریہ نو ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے، ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے فروغ اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تعلیمی بجٹ میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوامی مکالمے کی تشکیل، تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے اداروں کو جوابدہ بنانے میں میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا۔

     

  • ‘بم پروف‘ ہال والے پشاور پریس کلب نے کئی سال تک شدت پسندی کا مقابلہ کیسے کیا؟

    ‘بم پروف‘ ہال والے پشاور پریس کلب نے کئی سال تک شدت پسندی کا مقابلہ کیسے کیا؟

    خیبر پختونخوا کا تاریخی پشاور پریس کلب کئی سالوں تک شدت پسندی سے متاثر رہا اور 2009 میں خودکش حملے کے بعد شدت پسند حملوں کے خوف سے کلب کے داخلی راستے کو مستقل بند کردیا گیا تھا۔ جو تاحال بند ہے اور کلب میں داخلے کے لیے عقبی دروازہ استعمال کیا جاتا ہے۔

    22 دسمبر 2009 کو ایک خودکش حملہ آور پشاور پریس کلب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور گیٹ پر روکنے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے کے باعث حملہ آور کے علاوہ پولیس کا ایک کانسٹیبل اور پریس کلب کے اکاؤنٹنٹ کی موت اور پندرہ افراد کے زخمی ہوئے تھے۔

    یہ دھماکہ پریس کلب کے مرکزی دروازے کے ساتھ ہوا اور اس سے کلب کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پریس کلب میں دھماکے کے وقت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے رکن عزیز بونیری نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ پشاور پریس کلب پر خود کش بم دھماکے کے بعد کئی سالوں تک شدت پسندی کا خطرہ رہا۔

    عزیز بونیری کے مطابق: ‘امریکہ کی بین الاقوامی امدادی ایجنسی (یو ایس ایڈ) کی جانب سے پشاور پریس کلب کے صحافیوں لیے ایم بم پروف ہال بھی تعمیر کروایا، جہاں اس وقت خیبر یونین ٓف جرنلسٹس کا دفتر بنا ہوا ہے۔‘