Tag: خیبر پختونخوا

  • خیبر پختونخوا پہلے، سندھ دوسرے نمبر پر : فافن رپورٹ کے مطابق شفافیت میں صوبائی حکومتیں آگے وفاقی حکومت سب سے پیچھے

    خیبر پختونخوا پہلے، سندھ دوسرے نمبر پر : فافن رپورٹ کے مطابق شفافیت میں صوبائی حکومتیں آگے وفاقی حکومت سب سے پیچھے

    سرکاری ویب سائٹس پر معلومات کی فراہمی کے حوالے سے ایک نئے جائزے نے حیران کن صورتِ حال سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ شفافیت کے معاملے میں صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے 2025 کے دوران کیے گئے اس جائزے میں سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر قانون کے تحت لازمی معلومات کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا شفافیت کے لحاظ سے پہلے اور سندھ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سب سے کم رہی۔

    رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں نے لازمی معلومات کا 57 فیصد فراہم کیا۔ سندھ 54 فیصد کے ساتھ دوسرے، پنجاب 52 فیصد کے ساتھ تیسرے جبکہ بلوچستان 48 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔ وفاقی حکومت کے اداروں کی تعمیل کی شرح صرف 40 فیصد رہی۔

    اس جائزے میں خیبر پختونخوا کے 190، سندھ کے 61، پنجاب کے 253، بلوچستان کے 66 اور وفاقی حکومت کے 40 سرکاری اداروں کا جائزہ لیا گیا۔

    فافن کے مطابق یہ جائزہ آئین کے آرٹیکل 19-اے کے تحت بنائے گئے معلومات تک رسائی کے قوانین میں شامل ’پرو ایکٹو ڈسکلوژر‘ کی شقوں پر عملدرآمد کو جانچنے کے لیے کیا گیا۔ ان قوانین کے تحت سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے، بجٹ، فیصلوں کے طریقۂ کار اور ذمہ داریوں سمیت اہم معلومات اپنی ویب سائٹس پر عوام کے لیے فراہم کریں تاکہ شفافیت اور احتساب کو فروغ دیا جا سکے۔

    سندھ میں فیصلہ سازی اور مالی معلومات اب بھی عوام سے اوجھل

    جبکہ منسلک محکموں نے صرف 48 فیصد معلومات فراہم کیں۔ سیکریٹریٹ محکموں میں محکمہ خزانہ، محکمہ سرمایہ کاری اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سب سے زیادہ شفاف رہے جنہوں نے 80 فیصد معلومات جاری کیں، جبکہ محکمہ اطلاعات 73 فیصد کے ساتھ اگلے نمبر پر رہا۔

    منسلک محکموں میں ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس 73 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے 67 فیصد معلومات فراہم کیں۔

    رپورٹ کے مطابق بہتر کارکردگی دکھانے والے اداروں کے باوجود بیشتر سرکاری اداروں میں معلومات کی فراہمی میں نمایاں کمی موجود ہے اور تقریباً آدھی مطلوبہ معلومات اب بھی عوام کے لیے دستیاب نہیں۔ خاص طور پر فیصلہ سازی کے طریقۂ کار، مالی شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد سے متعلق معلومات کی فراہمی بہت کم رہی۔

    تنظیمی ڈھانچے، فرائض اور ذمہ داریوں سے متعلق بنیادی معلومات 95 فیصد اداروں نے جاری کیں، جبکہ عوامی خدمات اور متعلقہ قوانین سے متعلق معلومات بھی تقریباً 95 فیصد اداروں کی ویب سائٹس پر دستیاب تھیں۔ اس کے برعکس صرف 15 فیصد اداروں نے فیصلہ سازی کے طریقۂ کار، 10 فیصد نے انتظامی و ترقیاتی فیصلوں کی تفصیلات اور 54 فیصد نے مکمل یا جزوی بجٹ معلومات فراہم کیں۔

    سبسڈی اور مراعاتی پروگراموں کی معلومات صرف پانچ فیصد اداروں نے جاری کیں جبکہ لائسنس، اجازت ناموں یا دیگر سہولتوں کے مستفید افراد کی تفصیلات صرف سات فیصد اداروں نے شائع کیں۔ مزید یہ کہ صرف 14 فیصد اداروں نے پبلک انفارمیشن افسران کے رابطہ نمبر جاری کیے اور صرف چھ فیصد اداروں نے موصول ہونے والی معلوماتی درخواستوں اور ان پر کیے گئے اقدامات کی تفصیلات فراہم کیں، حالانکہ یہ قانون کے تحت لازمی ہیں۔

    فافن نے صوبہ سندھ کے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی کو بہتر بنائیں، جبکہ شفافیت کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اپنی سفارشات جلد جاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

  • پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ اور سکولوں سے باہر بچوں کی شمولیت کے لیے ایکویٹی بجٹنگ ناگزیر، تعلیمی ماہرین

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بجٹ میں اضافہ اور اس کے مؤثر استعمال کے ساتھ ایکویٹی بجٹنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ضروریات کے مقابلے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر تعلیمی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

    سنٹر فار پبلک پالیسی ریسرچ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور نے اپنے پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں ایکویٹی بجٹنگ کے فروغ کے تحت مقامی صحافیوں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ ورکشاپ کا مقصد ایکویٹی بجٹنگ کے تصور پر صحافیوں کی سمجھ بوجھ مضبوط بنانا اور تعلیمی فنانسنگ پر ذمہ دار اور باخبر میڈیا کوریج کو فروغ دینا تھا۔

    تربیتی سیشن کے دوران پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ظفر ظہیر نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے لیے 363 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو مجموعی صوبائی بجٹ کا 17 فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں یہ حصہ اہم ہے، تاہم زمینی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں چار اعشاریہ نو ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے، ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے فروغ اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تعلیمی بجٹ میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوامی مکالمے کی تشکیل، تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے اداروں کو جوابدہ بنانے میں میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا۔

     

  • خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں بدھ مت واقع تاریخی عبادت گاہ تخت بھائی صدیوں پرانی تہذیبی کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ مقام نہ صرف گندھارا دور کی یادگار ہے بلکہ برصغیر میں بدھ مت کے تعلیمی مراکز کی ایک اہم مثال بھی سمجھا جاتا ہے۔

    تخت بھائی کے بارے میں ہم نے معاذ علی، اسسٹنٹ کنزرویشن، محکمہ آرکیالوجی، خیبر پختونخوا سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق تخت بھائی کی بنیاد پہلی صدی عیسوی کے آس پاس رکھی گئی تھی اور یہ جگہ اپنی جغرافیائی ساخت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پہاڑی چوٹی پر قائم ہونے کے باعث یہ مقام حملہ آوروں اور قدرتی آفات سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔

    معاذ علی کا کہنا ہے کہ تخت بھائی چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی اسٹوپا، راہبوں کی رہائش گاہیں، عبادتی ہال اور تعلیمی کمروں کے آثار شامل ہیں۔ یہاں سے ملنے والے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک مکمل تعلیمی ادارہ تھا جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبا بدھ مت کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ تخت بھائی وہ نایاب بدھ م کا مقام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تقریباً مکمل حالت میں محفوظ رہا۔ کئی دیگر گندھارا سائٹس وقت، موسم اور انسانی مداخلت کے باعث شدید نقصان کا شکار ہوئیں، مگر تخت بھائی اپنی بلندی اور مضبوط تعمیر کی بدولت آج بھی اپنی اصل ساخت کے قریب دکھائی دیتا ہے۔

    سنہ 1980 میں تخت بھائی کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے بعد اس کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی گئی۔ تاہم آج بھی یہ مقام موسمی اثرات، بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر ذمہ دار سیاحت جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    معاذ علی بتاتے ہیں کہ محکمہ آرکیالوجی یہاں تحفظاتی کاموں کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کر رہا ہے تاکہ لوگ اس ورثے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق تخت بھائی صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ثقافتی مکالمے اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔

    تخت بھائی آج بھی خاموشی سے اس دور کی گواہی دیتا ہے جب یہ خطہ علم، فلسفے اور روحانی جستجو کا مرکز تھا۔ یہ مقام نہ صرف سیاحوں بلکہ محققین کے لیے بھی ایک زندہ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، جو آنے والی نسلوں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

     

  • ‘بم پروف‘ ہال والے پشاور پریس کلب نے کئی سال تک شدت پسندی کا مقابلہ کیسے کیا؟

    ‘بم پروف‘ ہال والے پشاور پریس کلب نے کئی سال تک شدت پسندی کا مقابلہ کیسے کیا؟

    خیبر پختونخوا کا تاریخی پشاور پریس کلب کئی سالوں تک شدت پسندی سے متاثر رہا اور 2009 میں خودکش حملے کے بعد شدت پسند حملوں کے خوف سے کلب کے داخلی راستے کو مستقل بند کردیا گیا تھا۔ جو تاحال بند ہے اور کلب میں داخلے کے لیے عقبی دروازہ استعمال کیا جاتا ہے۔

    22 دسمبر 2009 کو ایک خودکش حملہ آور پشاور پریس کلب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور گیٹ پر روکنے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے کے باعث حملہ آور کے علاوہ پولیس کا ایک کانسٹیبل اور پریس کلب کے اکاؤنٹنٹ کی موت اور پندرہ افراد کے زخمی ہوئے تھے۔

    یہ دھماکہ پریس کلب کے مرکزی دروازے کے ساتھ ہوا اور اس سے کلب کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پریس کلب میں دھماکے کے وقت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے رکن عزیز بونیری نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ پشاور پریس کلب پر خود کش بم دھماکے کے بعد کئی سالوں تک شدت پسندی کا خطرہ رہا۔

    عزیز بونیری کے مطابق: ‘امریکہ کی بین الاقوامی امدادی ایجنسی (یو ایس ایڈ) کی جانب سے پشاور پریس کلب کے صحافیوں لیے ایم بم پروف ہال بھی تعمیر کروایا، جہاں اس وقت خیبر یونین ٓف جرنلسٹس کا دفتر بنا ہوا ہے۔‘

  • مردان کا بدایونی پیڑا : ‘ملکہ الزبتھ پیڑا چکھ کر میرے والد کو برطانیہ لے جانا چاہتی تھیں’

    مردان کا بدایونی پیڑا : ‘ملکہ الزبتھ پیڑا چکھ کر میرے والد کو برطانیہ لے جانا چاہتی تھیں’

    خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان میں بدایونی پیڑا بنانے والے دکاندار احمر محمود کے مطابق جب برطانیہ کی 96 الزبتھ دوم پاکستان آئیں تو ان کے والد محمود علی خان نے ملکہ کو بدایونی پیڑے کا تحفہ دیا، جس کو چکھ کر ملکہ نے ان کے والد کو کہا کہ وہ برطانیہ چلیں اور یہ ذائقہ برطانیہ میں متعار کرائیں۔
    بقول احمر محمود: ‘میرے والد نے پاکستان میں ہی رہنا پسند کیا۔’

    احمر محمود کے مطابق ان کے والد تقسیم ہند کے وقت انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر بدایون سے تعلق رکھتے تھے، ہجرت کے بعد انہوں نے اپنے شہر کے نام کی نسبت دکان کا نام بدایونی پیڑے رکھا۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے احمر محمود نے کہا کہ بدایونی پیڑے گاڑھے دودھ، چینی سے تیار کیا جاتا ہے۔
    ‘ہم گاڑھے دودھ میں چینی ملا کر اس وقت تک پکاتے ہیں جب تک کہ یہ گاڑھا بن جائے اور اس کی رنگت نہ تبدیل ہوجائے۔’
    احمر محمود کے مطابق بدایونی پیڑے نہ صرف مقامی افراد میں مقبول ہے مگر لوگ اپنے پیاروں کو بھی یہ پیڑے ٹھفے کے طور پر بھیجتے ہیں۔

  • چار سدہ: باچا خان یونیورسٹی کے طالب علم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے زرعی انقلاب کے لیے کوشاں

    چار سدہ: باچا خان یونیورسٹی کے طالب علم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے زرعی انقلاب کے لیے کوشاں

    خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم سعد خان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک ایسی مشین بنا لی ہے جو چند سیکنڈز میں زرعی زمین کو کیمیائی کھاد کی ضرورت اور زمین میں موجود فصلوں پر اثر انداز ہونے والے معدنیات کا مکمل تفصیل سے پتہ لگا لیتی ہے۔ اس سے قبل یہ عمل دو سے تین دن تک لیتا تھا، مگر اے آئی سے بنائی گئی اس مشین کی مدد سے اب چند سیکنڈز میں ہی یہ کام ہو جاتا ہے۔

    چارسدہ کی زرعی زمینوں میں سعد خان معزوری کے باوجود روزانہ گھومتا ہے اور اپنی بنائی ہوئی اس مشین کے ذریعے زمین کی ساخت جانچتا ہے، اور کسانوں کو مشورہ دیتا ہے کہ کون سی فصل لگائی جائے، کتنی اور کون سی کیمیائی کھاد استعمال کی جائے۔ سعد خان نے اپنے آخری سمسٹر میں یہ ماڈل تیار کیا ہے۔ اب تک انہوں نے ایک ماڈل بنایا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر اسے کمرشل سطح پر استعمال کیا جائے تو زراعت میں انقلاب آ سکتا ہے۔

    سعد خان کا کہنا ہے کہ ان کی بنائی ہوئی یہ مشین ایک اے آئی ایجنٹ کی طرح کام کرتی ہے۔ اس میں لگے سینسرز زمین میں داخل کیے جاتے ہیں، پھر اسے موبائل فون سے منسلک کیا جاتا ہے اور ایک ایپ کے ذریعے چند سیکنڈز میں مکمل تفصیل مل جاتی ہے کہ یہ زمین کس فصل کے لیے موزوں ہے اور اس میں کون سے معدنیات کم یا زیادہ ہیں۔