[rank_math_breadcrumb]

چار سدہ: باچا خان یونیورسٹی کے طالب علم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے زرعی انقلاب کے لیے کوشاں

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم سعد خان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک ایسی مشین بنا لی ہے جو چند سیکنڈز میں زرعی زمین کو کیمیائی کھاد کی ضرورت اور زمین میں موجود فصلوں پر اثر انداز ہونے والے معدنیات کا مکمل تفصیل سے پتہ لگا لیتی ہے۔ اس سے قبل یہ عمل دو سے تین دن تک لیتا تھا، مگر اے آئی سے بنائی گئی اس مشین کی مدد سے اب چند سیکنڈز میں ہی یہ کام ہو جاتا ہے۔

چارسدہ کی زرعی زمینوں میں سعد خان معزوری کے باوجود روزانہ گھومتا ہے اور اپنی بنائی ہوئی اس مشین کے ذریعے زمین کی ساخت جانچتا ہے، اور کسانوں کو مشورہ دیتا ہے کہ کون سی فصل لگائی جائے، کتنی اور کون سی کیمیائی کھاد استعمال کی جائے۔ سعد خان نے اپنے آخری سمسٹر میں یہ ماڈل تیار کیا ہے۔ اب تک انہوں نے ایک ماڈل بنایا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر اسے کمرشل سطح پر استعمال کیا جائے تو زراعت میں انقلاب آ سکتا ہے۔

سعد خان کا کہنا ہے کہ ان کی بنائی ہوئی یہ مشین ایک اے آئی ایجنٹ کی طرح کام کرتی ہے۔ اس میں لگے سینسرز زمین میں داخل کیے جاتے ہیں، پھر اسے موبائل فون سے منسلک کیا جاتا ہے اور ایک ایپ کے ذریعے چند سیکنڈز میں مکمل تفصیل مل جاتی ہے کہ یہ زمین کس فصل کے لیے موزوں ہے اور اس میں کون سے معدنیات کم یا زیادہ ہیں۔

اسی بارے میں: