چند روز قبل بدین کی تحصیل تلہار کے قریب گاؤں پیرُو لاشاری میں ایک دلخراش واقعے میں زرعی مزدور کیلاش کولہی کام کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا۔ مقتول کے اہلِ خانہ اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق مبینہ طور پر یہ قتل زمین کے مالک سر فراز نظامانی نے کیا، جو واقعے کے فوراً بعد فرار ہوگیا۔ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف اور مقتول کے خاندان کو انصاف دلانے کے مطالبے پر بدین شہر میں ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔
دھرنے میں سندھیانی تحریک، قومی عوامی تحریک، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور مرزا گروپ کے کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے سید نواز شاہ بھاڈائی، منظور سولنگی، حیدر قادری، شازیہ احمدانی، حسین درس، دانش نور سومری اور ڈاکٹر عزیز میمن نے واقعے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقررین نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تاخیر انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انسانی حقوق اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کیلاش کولہی کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں پسماندہ طبقات، بالخصوص مذہبی اقلیتوں اور بے زمین ہاریوں کو درپیش مسلسل جبر اور استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق زرعی مزدور معاشی اور سماجی طور پر بااثر زمینداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کے باعث طاقت کا غیر مساوی توازن جنم لیتا ہے اور کمزور طبقات تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق مقتول نے اپنی محنت سے زمین پر ایک عارضی جھونپڑی قائم کر رکھی تھی تاکہ اپنے خاندان کو رہائش فراہم کرسکے، جس پر اسی روز مالکِ زمین سے تنازع پیدا ہوا۔ مبینہ طور پر تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کیلاش کولہی موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان اور مقامی افراد نے فوری احتجاج شروع کردیا۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش میں تاخیر ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں بااثر افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس سے نہ صرف نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مجروح ہوگا بلکہ پہلے سے عدم تحفظ کا شکار طبقات میں خوف اور بے بسی میں مزید اضافہ ہوگا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
