Tag: قتل

  • پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل: ایچ آر سی پی رپورٹ 2025 میں تشویشناک انکشافات

    پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل: ایچ آر سی پی رپورٹ 2025 میں تشویشناک انکشافات

    انسانی حقوق کمیشن کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے کم از کم 506 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں سامنے آئے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر سے کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

    اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 218 کیسز رپورٹ ہوئے، سندھ میں 126، خیبر پختونخوا میں 116، بلوچستان میں 29، گلگت بلتستان میں 14 جبکہ اسلام آباد میں 3 کیسز سامنے آئے۔

    بلوچستان

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے لیے سماجی حالات اب بھی غیر محفوظ ہیں، جہاں غیرت کے نام پر قتل اور صنفی تشدد کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔ خاص طور پر بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی کارکنوں کی گرفتاریوں نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔

    اپریل میں خضدار میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی-مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ خواتین کارکنوں، خاص طور پر ماہ رنگ بلوچ، کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے اور انہیں اپنے حقوق مانگنے پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔

    جنوری میں دو الگ واقعات میں خواتین کو قتل کیا گیا۔ ڈیرہ اللہ یار کے علاقے محبت شاخ میں سکرن بی بی اور ان کے دوست ہدایت اللہ کو غیرت کے نام پر گولی مار دی گئی۔ ایک اور واقعے میں ایک باپ نے اپنی بیٹی حرا کو ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض کرتے ہوئے قتل کر دیا۔

    جولائی میں بلوچستان میں غیرت کے نام پر پانچ خواتین کو قتل کیا گیا۔ نصیرآباد میں ایک خاتون کو گلا گھونٹ کر مار دیا گیا جبکہ جعفرآباد میں ایک اور خاتون کو گولی مار دی گئی۔

    ایک اور سنگین واقعہ کوئٹہ کے علاقے دگاری میں پیش آیا، جہاں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں کچھ افراد ایک جوڑے کو ویران جگہ پر لے جا کر گولی مار دیتے ہیں۔ اس واقعے پر ملک اور بیرون ملک شدید ردعمل سامنے آیا۔ حکومت نے ایک شخص کو گرفتار کیا، تاہم وزیراعلیٰ کے ایک بیان نے مزید تنازع کھڑا کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ جوڑا شادی شدہ نہیں تھا۔

    اسی ماہ کوئٹہ کے کیچی بیگ علاقے میں ایک شخص نے اپنی بیٹی اور بھتیجے کو قتل کر دیا۔ مستونگ کے علاقے لک پاس میں ایک شادی شدہ جوڑے کو، جن کے دو بچے بھی تھے، خاتون کے اہل خانہ نے ایک تقریب میں بلا کر قتل کر دیا۔اگست میں بھی ڈیرہ مراد جمالی میں ایک مرد اور خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

    مزید برآں، ژوب میں ایک سماجی کارکن مسرت عزیز کو ان کے بھائی نے قتل کر دیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ جائیداد کا تنازع تھا، جبکہ کچھ نے اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دیا۔
    ایچ آر سی پی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

  • بدین: منشیات کے پیسوں کے لیے بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا: پولیس

    بدین: منشیات کے پیسوں کے لیے بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا: پولیس

    کامران خمیسو خواجہ بدین پولیس کے مطابق گاؤں عرس ملاح میں نوجوان نے منشیات خریدنے کے پیسے نہ دینے پر اپنی ماں کو قتل کر دیا۔

    پولیس کی مطابق نوجوان کرسٹل میتھ، جسے مقامی زبان میں ‘آئس’ کہا جاتا ہے، کا عادی تھا اور اس نے ماں سے پیسے طلب کیے۔ انکار پر کلہاڑی کے وار کر کے ماں کو قتل کر دیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی افراد نے پولیس کو آگاہ کیا، جس کے بعد بدین پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی۔ پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں مقامی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق زیریں سندھ کے اضلاع بدین، سجاول، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان اور حیدرآباد میں نوجوانوں میں منشیات کا استعمال تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

  • حیدرآباد: شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس میں ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت

    حیدرآباد: شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس میں ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت

    معروف ترقی پسند و انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس میں نامزد ان کے لے پالک شاہ لطیف کو ٹرائل کورٹ نے موت کی سزا سنادی۔
    حیدرآباد کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے معروف سندھی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تصور راجپوت نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے منگل کے روز کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم شاہ لطیف کو سزائے موت سنائی۔
    ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل میں نامزد ملزم شاہ لطیف ڈاکٹر آکاش انصاری کا لے پالک بیٹا ہے۔ گذشتہ سال 15 فروری کو ڈاکٹر آکاش انصاری کی جھلسی ہوئی لاش حیدرآباد میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی تھی۔

    ابتدائی طور پر گھر میں شارٹ سرکٹ سے لگنے والے آگ کو ان کی موت کی وجہ بتایا گیا تھا تاہم پولیس نے جب واقعے کی تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ آکاش انصاری کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کے بعد واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے کے لیے ان کی لاش کو جلا دیا گیا تھا۔

    سول اسپتال حیدرآباد کے ڈاکٹرز نے بھی تصدیق کی تھی کہ آکاش انصاری کے جسم پر تیز دھار آلے کے زخم موجود تھے، جب کہ زیادہ تر جسم جلا ہوا تھا۔
    پولیس نے قتل کے الزام میں مقتول کے لے پالک بیٹے لطیف آکاش اور ان کے ڈرائیور کو بدین سے حراست میں لے لیا۔

    تفتیش کے دوران ملزم شاہ لطیف نے ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے قتل کو حادثہ قرار دینے کے لیے گھر میں آگ لگائی تھی۔
    ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کا مقدمہ ان کے کزن کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

  • کیلاش کولہی قتل: قاتلوں کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف بدین میں خواتین سمیت احتجاج

    کیلاش کولہی قتل: قاتلوں کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف بدین میں خواتین سمیت احتجاج

    چند روز قبل بدین کی تحصیل تلہار کے قریب گاؤں پیرُو لاشاری میں ایک دلخراش واقعے میں زرعی مزدور کیلاش کولہی کام کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا۔ مقتول کے اہلِ خانہ اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق مبینہ طور پر یہ قتل زمین کے مالک سر فراز نظامانی نے کیا، جو واقعے کے فوراً بعد فرار ہوگیا۔ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف اور مقتول کے خاندان کو انصاف دلانے کے مطالبے پر بدین شہر میں ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

    دھرنے میں سندھیانی تحریک، قومی عوامی تحریک، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور مرزا گروپ کے کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے سید نواز شاہ بھاڈائی، منظور سولنگی، حیدر قادری، شازیہ احمدانی، حسین درس، دانش نور سومری اور ڈاکٹر عزیز میمن نے واقعے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقررین نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تاخیر انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

    انسانی حقوق اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کیلاش کولہی کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں پسماندہ طبقات، بالخصوص مذہبی اقلیتوں اور بے زمین ہاریوں کو درپیش مسلسل جبر اور استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق زرعی مزدور معاشی اور سماجی طور پر بااثر زمینداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کے باعث طاقت کا غیر مساوی توازن جنم لیتا ہے اور کمزور طبقات تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق مقتول نے اپنی محنت سے زمین پر ایک عارضی جھونپڑی قائم کر رکھی تھی تاکہ اپنے خاندان کو رہائش فراہم کرسکے، جس پر اسی روز مالکِ زمین سے تنازع پیدا ہوا۔ مبینہ طور پر تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کیلاش کولہی موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان اور مقامی افراد نے فوری احتجاج شروع کردیا۔

    سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش میں تاخیر ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں بااثر افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس سے نہ صرف نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مجروح ہوگا بلکہ پہلے سے عدم تحفظ کا شکار طبقات میں خوف اور بے بسی میں مزید اضافہ ہوگا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔