خیبر پختونخوا کا تاریخی پشاور پریس کلب کئی سالوں تک شدت پسندی سے متاثر رہا اور 2009 میں خودکش حملے کے بعد شدت پسند حملوں کے خوف سے کلب کے داخلی راستے کو مستقل بند کردیا گیا تھا۔ جو تاحال بند ہے اور کلب میں داخلے کے لیے عقبی دروازہ استعمال کیا جاتا ہے۔
22 دسمبر 2009 کو ایک خودکش حملہ آور پشاور پریس کلب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور گیٹ پر روکنے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے کے باعث حملہ آور کے علاوہ پولیس کا ایک کانسٹیبل اور پریس کلب کے اکاؤنٹنٹ کی موت اور پندرہ افراد کے زخمی ہوئے تھے۔
یہ دھماکہ پریس کلب کے مرکزی دروازے کے ساتھ ہوا اور اس سے کلب کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پریس کلب میں دھماکے کے وقت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے رکن عزیز بونیری نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ پشاور پریس کلب پر خود کش بم دھماکے کے بعد کئی سالوں تک شدت پسندی کا خطرہ رہا۔
عزیز بونیری کے مطابق: ‘امریکہ کی بین الاقوامی امدادی ایجنسی (یو ایس ایڈ) کی جانب سے پشاور پریس کلب کے صحافیوں لیے ایم بم پروف ہال بھی تعمیر کروایا، جہاں اس وقت خیبر یونین ٓف جرنلسٹس کا دفتر بنا ہوا ہے۔‘
