Tag: پریس کلب

  • کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات، ڈیموکریٹس کے ساتھ تین گروپ میدان میں، سخت مقابلے کا امکان

    کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات، ڈیموکریٹس کے ساتھ تین گروپ میدان میں، سخت مقابلے کا امکان

    کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات ایک بار پھر صحافتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہفتے کے روز کلب کے اراکین اپنے ووٹ کے ذریعے سال 2026 کے لیے نئی گورننگ باڈی کا انتخاب کریں گے۔ یہ انتخابات نہ صرف ایک تنظیمی عمل ہیں بلکہ صحافتی آزادی اور جمہوری روایات کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔

    کراچی پریس کلب خود کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیتا ہے۔ یہ دعویٰ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ یہاں باقاعدگی سے ہر سال انتخابات ہوتے ہیں۔ ماضی میں ملک میں مارشل لا بھی رہے۔ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں بھی لگیں۔ اس کے باوجود کراچی پریس کلب کے انتخابات کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔ یہ روایت کلب کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

    ابتدا میں کلب کے انتخابات مارچ یا اپریل میں ہوا کرتے تھے۔ بعد میں کراچی کے شدید گرم موسم کے باعث اس میں تبدیلی کی گئی۔ اب یہ انتخابات ہر سال دسمبر کے آخری ہفتے کے دن منعقد ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کو اراکین کی سہولت کے لیے ایک بہتر قدم سمجھا گیا۔

    گذشتہ کئی برسوں سے ڈیموکریٹس گروپ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتا آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2023 میں یہ گروپ بلا مقابلہ منتخب ہوا تھا۔ اس سال کی انتخابی فضا کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار ڈیموکریٹس کے ساتھ کم از کم تین مزید گروپ میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی کے اہم عہدے دار بھی انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔ سابق صدر امتیاز خان فاران اور سابق سیکریٹری اے ایچ خزادہ بھی موجودہ قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے انتخابات کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

    عموماً ہر پینل مختلف عہدوں کے لیے ایک یا دو خواتین کو نامزد کرتا رہا ہے، مگر کراچی پریس کلب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پینل نے ایک خاتون رکن کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کر کے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔

    انتخابات کی شفافیت کے لیے ایک خود مختار الیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان کر رہے ہیں۔ کمیٹی پولنگ کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی۔ ووٹنگ سے لے کر نتائج کے اعلان تک تمام عمل اس کی نگرانی میں مکمل ہوگا۔

    کراچی پریس کلب پاکستان کا پہلا پریس کلب ہے۔ اس کا قیام دسمبر 1958میں عمل میں آیا۔ اس وقت پاکستان میں صحافت ایک نیا رخ اختیار کر رہی تھی۔ کلب کا پہلا انتخاب بھی اسی سال ہوا۔ آئی ایچ برنی پہلے صدر منتخب ہوئے۔ تب سے یہ ادارہ صحافیوں کی اجتماعی آواز بن چکا ہے۔

    کراچی پریس کلب نہ صرف صحافیوں کا مرکز ہے بلکہ شہری اور جمہوری سرگرمیوں کا بھی اہم مقام ہے۔ یہاں اکثر احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ مختلف تنظیمیں اپنے مطالبات کے لیے یہاں جمع ہوتی ہیں۔ شہری حقوق اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے۔ یہ مقام عوام اور صحافت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔

    کلب نے جنوبی ایشیا میں امن اور عوامی رابطوں کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ مختلف مواقع پر مکالمے اور ملاقاتیں ہوئیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد خطے میں برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔

    کراچی پریس کلب کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے۔ بعض مواقع پر یہاں ہنگامے ہوئے۔ سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ باوردی اہلکار کلب میں گھسے اور ایک سابق عہدیدار کو گرفتار بھی کیا گیا، مگر اس کے باوجود کلب نے اپنی پروفیشنل سرگرمیاں جاری رکھیں۔ صحافی برادری نے ہر مشکل وقت میں اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

    یہ ادارہ ایک قدیم اور خوبصورت عمارت میں قائم ہے۔ یہ عمارت ایک تاریخی ورثہ قرار پائی ہے۔ کلب کی اوپر کی منزل پر لائبریری اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ کلب اپنے اراکین اور ان کے خاندانوں کو مختلف سہولتیں فراہم کرتا ہے۔

    کراچی پریس کلب کی رکنیت صحافیوں کے لیے ایک اعزاز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں ہر سال ہونے والے انتخابات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اختلاف رائے کے باوجود جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے۔ نئے انتخابات بھی اسی روایت کا تسلسل ہیں۔ صحافتی برادری کی نظریں اس انتخاب پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ انتخاب کلب کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔

  • ‘بم پروف‘ ہال والے پشاور پریس کلب نے کئی سال تک شدت پسندی کا مقابلہ کیسے کیا؟

    ‘بم پروف‘ ہال والے پشاور پریس کلب نے کئی سال تک شدت پسندی کا مقابلہ کیسے کیا؟

    خیبر پختونخوا کا تاریخی پشاور پریس کلب کئی سالوں تک شدت پسندی سے متاثر رہا اور 2009 میں خودکش حملے کے بعد شدت پسند حملوں کے خوف سے کلب کے داخلی راستے کو مستقل بند کردیا گیا تھا۔ جو تاحال بند ہے اور کلب میں داخلے کے لیے عقبی دروازہ استعمال کیا جاتا ہے۔

    22 دسمبر 2009 کو ایک خودکش حملہ آور پشاور پریس کلب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور گیٹ پر روکنے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے کے باعث حملہ آور کے علاوہ پولیس کا ایک کانسٹیبل اور پریس کلب کے اکاؤنٹنٹ کی موت اور پندرہ افراد کے زخمی ہوئے تھے۔

    یہ دھماکہ پریس کلب کے مرکزی دروازے کے ساتھ ہوا اور اس سے کلب کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پریس کلب میں دھماکے کے وقت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے رکن عزیز بونیری نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ پشاور پریس کلب پر خود کش بم دھماکے کے بعد کئی سالوں تک شدت پسندی کا خطرہ رہا۔

    عزیز بونیری کے مطابق: ‘امریکہ کی بین الاقوامی امدادی ایجنسی (یو ایس ایڈ) کی جانب سے پشاور پریس کلب کے صحافیوں لیے ایم بم پروف ہال بھی تعمیر کروایا، جہاں اس وقت خیبر یونین ٓف جرنلسٹس کا دفتر بنا ہوا ہے۔‘