مہنگے مستقبل کے خلاف یورپ کی جنریشن زی سڑکوں پر

استاد کے منتظر طلبہ، تنخواہ کی پہنچ سے دور ہوتا گھر اور ایسی اعلیٰ تعلیم جس کے بعد بھی روزگار کی ضمانت نہ ہو؛ یورپ کے کئی ملکوں میں یہ اب الگ الگ پریشانیاں نہیں رہیں۔ یہ مل کر ایک ایسی بے چینی کو جنم دے رہی ہیں جو اسکولوں کے دروازوں سے نکل کر شہروں کے چوکوں تک آن پہنچی ہے۔ 

نوجوانوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ تعلیم، محنت اور قابلیت کے بل پر خودمختار زندگی کی تعمیر کا راستہ ان کے لیے تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

اکتوبر 2026 میں یورپ کے مختلف ملکوں میں اٹھنے والے ان احتجاجوں کو ‘جنریشن زی کی بغاوت’ کہا جا رہا ہے۔ یہ نام نوجوانوں کے نمایاں کردار کو تو ظاہر کرتا ہے، مگر پوری صورت حال کا احاطہ نہیں کرتا۔

ان تحریکوں کے اسباب، قیادت اور سیاسی پس منظر مختلف ہیں۔ کئی مقامات پر اساتذہ، مزدور تنظیموں، پنشن یافتہ افراد اور رہائش کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں نے بھی نوجوانوں کے ساتھ قدم ملایا ہے۔ 

ان سب کا مشترک سوال یہ ہے: کیا ایک عام آدمی آج بھی تعلیم حاصل کرکے، محنت کرکے اور دیانت داری سے کما کر اپنے لیے ایک باوقار اور محفوظ زندگی بنا سکتا ہے؟

فرانس اس بے چینی کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ستمبر میں پیرس کے قریب کریتَی کے سینٹ ایگزوپیری ہائی اسکول سے اٹھنے والی آواز رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیل گئی۔ طلبہ کی شکایات بنیادی نوعیت کی تھیں: اساتذہ کی کمی، گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے کمرہ ہائے جماعت اور ناکافی تعلیمی سہولتیں۔ 

ان مطالبات کے پیچھے ایک گہرا سوال بھی موجود تھا: جب پڑھنے کے لیے ضروری ماحول ہی میسر نہ ہو تو نوجوانوں سے روشن مستقبل کی تیاری کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

17   اکتوبر تک یہ احتجاج طلبہ کے دائرے سے نکل کر معاشرے کے کئی طبقوں کو اپنے ساتھ ملا چکا تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ نے ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد 5 لاکھ 50 ہزار بتائی، جب کہ منتظمین کے مطابق تقریباً آٹھ لاکھ افراد سڑکوں پر نکلے۔ 

بیلجیئم میں احتجاجوں کی جڑیں وہاں کی تعلیمی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ فرانسیسی بولنے والے علاقوں میں تعلیمی اصلاحات، بڑھتے اخراجات اور بجٹ کی کٹوتیوں کے خلاف ناراضی بڑھی ہے۔ لے موند کے مطابق مجوزہ اقدامات میں 2029 تک بجٹ میں 50 کروڑ یورو کی کٹوتی اور اساتذہ کے ہفتہ وار تدریسی وقت کو 20 سے بڑھا کر 22 گھنٹے کرنا شامل ہے۔ طلبہ کو اندیشہ ہے کہ اخراجات گھٹانے کی یہ پالیسی تعلیم کے معیار اور مواقع کو بھی محدود کر دے گی۔

17 اکتوبر کو رائٹرز نے برسلز میں کئی سو، بیشتر نوجوان، مظاہرین کے جمع ہونے کی خبر دی۔ جھڑپوں کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔ لیئژ میں بھی مظاہرے ہوئے۔ بیلجیئم کا تجربہ بتاتا ہے کہ نوجوان کسی دوسرے ملک کے احتجاج سے حوصلہ پا سکتے ہیں، مگر ان کی اپنی جدوجہد کی جڑیں مقامی مسائل ہی میں ہوتی ہیں۔

اسپین میں رہائش کے بحران نے مختلف نسلوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ میڈرڈ میں 87 سالہ ماری کارمین اباسکال کو اس گھر سے بے دخل کیا گیا جہاں وہ 71 برس سے رہ رہی تھیں۔ یہ واقعہ رہائش کے عدم تحفظ کے خلاف بلند ہوتی آواز کی علامت بن گیا۔ ستمبر کے اواخر میں رائٹرز کی وڈیو رپورٹ کے مطابق تقریباً 600 افراد پوئرتا ڈیل سول چوک میں احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔ ایک بزرگ خاتون کے چھن جانے والے گھر کا دکھ، نوجوانوں کی گھر حاصل نہ کر سکنے کی بے بسی سے آ ملا تھا۔

یوروسٹیٹ کے مطابق 2015 سے 2025 کی تیسری سہ ماہی تک یورپی یونین میں گھروں کی قیمتیں 63.6 فیصد اور کرائے 21.1 فیصد بڑھے۔ یہ پوری یونین کے مجموعی اشاریے ہیں۔ بڑے اور مہنگے شہروں میں نئے کرایہ داروں سے طلب کیے جانے والے کرائے ان سے مختلف رفتار سے بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے پورے یورپ کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کرائے ہر جگہ تقریباً دگنے ہو گئے ہیں۔

رہائش کی مہنگائی صرف جیب پر بوجھ نہیں ڈالتی؛ یہ زندگی کے اہم فیصلوں کو بھی مؤخر کرتی ہے۔ 2025 میں یورپی یونین کے نوجوانوں کے والدین کا گھر چھوڑ کر الگ رہنے کی اوسط عمر 26.3 سال تھی۔ اسپین اور اٹلی میں یہ 30.2 سال، فن لینڈ میں 21.4 سال اور ڈنمارک میں 21.8 سال تھی۔ ان فرقوں میں خاندانی روایات کا بھی حصہ ہے، اس لیے ان کی پوری وجہ رہائش کے اخراجات کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے باوجود یہ اعداد خودمختار زندگی کی جانب بڑھتے نوجوانوں کی مختلف صورت حال کا پتا ضرور دیتے ہیں۔

دوسرے شہر میں ملنے والی ملازمت کی پیشکش اس وقت اپنی کشش کھو دیتی ہے جب گھر کا کرایہ، پیشگی ضمانتی رقم اور آمدورفت کے اخراجات تنخواہ کا بڑا حصہ نگل جائیں۔ اسی طرح یونیورسٹی میں داخلہ بھی طالب علم کے لیے ادھورا موقع بن سکتا ہے، اگر وہاں رہنا اس کی استطاعت سے باہر ہو۔ یوں گھر کا سوال تعلیم، روزگار اور اپنا خاندان بسانے کے امکان سے جڑ جاتا ہے۔

روزگار کے اعداد بھی نوجوانوں کی تشویش کو وزن دیتے ہیں۔ اگست 2026 میں یورپی یونین میں 25 سال سے کم عمر تقریباً 29 لاکھ 73 ہزار نوجوان بے روزگار تھے۔ ان میں بے روزگاری کی شرح 15.4 فیصد تھی، جب کہ مجموعی افرادی قوت میں یہ شرح 6.1 فیصد تھی۔ 

پرتگال اور اٹلی میں بھی روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات نے بے چینی کو ہوا دی ہے۔ اکتوبر کی خبروں کے مطابق پرتگال میں اجرتوں، پنشنوں، عوامی خدمات اور رہائش کے مسائل احتجاجوں کا سبب بنے، جب کہ اٹلی میں طلبہ سمیت مختلف حلقوں نے مہنگائی کے خلاف آواز اٹھائی۔ تعلیم، آمدنی اور رہائش کے مسائل ایک دوسرے سے مل کر عوامی ناراضی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

البانیہ میں یہی ناراضی زیادہ براہ راست سیاسی جواب دہی کے مطالبے میں بدل گئی۔ 13 اکتوبر کو وزارت تعلیم کے سامنے شروع ہونے والے مظاہرے 18 اکتوبر کو چھٹے دن میں داخل ہوئے۔ جامعات کی خراب حالت، بھاری فیسیں اور بدعنوانی اہم شکایات تھیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم ایدی راما سے استعفیٰ مانگا، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ البانیہ ابھی یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار ہے، اس لیے اس کی سیاسی صورت حال کو یونین کے رکن ملکوں جیسا سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔

کشیدگی بڑھنے کے ساتھ انسانی نقصان اور طاقت کے استعمال پر تشویش بھی بڑھی۔ رائٹرز نے 17 اکتوبر کو بظاہر ربڑ کی گولیوں کے استعمال کی خبر دی اور بتایا کہ سات پولیس اہلکاروں کو ان کے طرز عمل کی محکمانہ تحقیقات کے دوران معطل کیا گیا ہے۔ یورونیوز نے بعد میں ایک تھانے کو آگ لگانے اور دیگر حملوں کا ذکر کیا۔ ان واقعات میں مظاہرین کے تشدد اور پولیس کی کارروائی، دونوں کی آزادانہ چھان بین ضروری ہے، تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو اور طاقت کے استعمال کی قانونی حدود برقرار رہیں۔

ان تمام تحریکوں کے پس منظر میں معاشرے کے ایک پرانے وعدے پر کمزور پڑتا اعتماد دکھائی دیتا ہے: تعلیم حاصل کرو، محنت کرو، اپنی ذمہ داری نبھاؤ، تو ایک بہتر زندگی تمہارا مقدر بنے گی۔ جب تعلیم کی حالت خراب ہو، روزگار غیر یقینی ہو اور گھر کا کرایہ کمائی کا ثمر نگل جائے، تو یہی وعدہ نوجوانوں کو کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔ سماجی رابطوں کے ذرائع احتجاج کے مناظر اور طریقے تیزی سے پھیلا سکتے ہیں، مگر ناراضی کی اصل جڑ لوگوں کی روزمرہ زندگی میں ہے۔

معاشی تحفظ کی غیر مساوی تقسیم اس احساس کو مزید شدید کرتی ہے۔ جس کے پاس پہلے ہی گھر ہے، وہ جائیداد کی بڑھتی قیمت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؛ لیکن جو اپنا پہلا گھر خریدنا یا کرائے پر رہنا چاہتا ہے، اس کی منزل اور دور ہو جاتی ہے۔ پھر والدین کی مالی حیثیت یہ طے کرنے لگتی ہے کہ کون دوسرے شہر میں پڑھ سکتا ہے، کم تنخواہ والی ابتدائی ملازمت قبول کر سکتا ہے یا بہتر مواقع کی تلاش میں نقل مکانی کر سکتا ہے۔ جب آغاز ہی کے مواقع غیر مساوی ہوں، تو کامیابی کو محض ذاتی محنت کا حاصل قرار دینا حقیقت کی ادھوری تعبیر ہے۔

حکومتوں کو اب ایسے اقدامات درکار ہیں جن کا اثر لوگوں کی زندگی میں دکھائی دے۔ اسکولوں میں اساتذہ کی خالی اسامیوں اور عمارتوں کی مرمت کے منصوبے سامنے لائے جائیں، ان کی تکمیل کے لیے مدت مقرر ہو اور پیش رفت عوام کو بتائی جائے۔ رہائشی پالیسی میں مناسب قیمت کے گھر، طلبہ کے لیے رہائش، قابل استعمال خالی عمارتوں کی بحالی اور کرایہ داروں کے حقوق کا مؤثر تحفظ شامل ہو۔ معاوضے کے ساتھ تربیت کو حقیقی ملازمتوں سے جوڑا جائے۔ نوجوانوں کو ان فیصلوں میں بامعنی شرکت بھی دی جائے جو ان کی تعلیم، آمدنی اور مستقبل پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

پُرامن احتجاج کے حق کا تحفظ اور تشدد کا قانون کے مطابق احتساب، دونوں ریاست کی ذمہ داریاں ہیں۔ پولیس کی جانب سے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ ہر احتجاج کرنے والے کو بلوائی کہنے سے شہریوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں، جب کہ تشدد کو جائز ٹھہرانا اصلاحات کے لیے درکار عوامی حمایت کو کمزور کرتا ہے۔

یورپ کے نوجوان آج ایک ایسا سوال پوچھ رہے ہیں جس کا جواب خوشحالی کے مجموعی اعداد و شمار تنہا نہیں دے سکتے: کیا وہ انہی معاشروں میں ایک باوقار زندگی گزار سکیں گے جن کی خدمت کے لیے انہیں تعلیم دی جا رہی ہے؟ ان کا اعتماد تب لوٹے گا جب اسکولوں میں استاد ہوں گے، محنت کا معاوضہ زندگی سنوارنے کے لیے کافی ہوگا اور گھر عام آدمی کی دسترس میں ہوگا۔

اسی بارے میں: