دنیا کے 29 ممالک میں کیے گئے ایک نئے عالمی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ نوجوان مردوں اور خواتین کے خیالات میں صنفی مساوات کے حوالے سے واضح فرق سامنے آ رہا ہے۔ سروے کے مطابق تقریباً ایک تہائی جنریشن زی (Gen Z) مردوں کا خیال ہے کہ بیوی کو ہمیشہ اپنے شوہر کی بات ماننی چاہیے، جبکہ اتنی ہی تعداد یہ بھی سمجھتی ہے کہ گھر کے اہم فیصلوں میں آخری فیصلہ شوہر کا ہونا چاہیے۔ دوسری جانب نوجوان خواتین کی بڑی تعداد خود کو حقوقِ نسواں کی حامی قرار دیتی ہے اور مردوں کے برابر حقوق کی حمایت کرتی ہے۔
یہ سروے عالمی ادارہ اِپسوس (Ipsos)نے کنگز کالج لندن کے گلوبل انسٹی ٹیوٹ فار ویمنز لیڈرشپ کے اشتراک سے ہی میں کیا۔ سروے میں دنیا کے 29 ممالک سے 23 ہزار سے زائد افراد کی رائے لی گئی، جن میں برطانیہ، امریکا، برازیل، آسٹریلیا، بھارت اور دیگر ممالک شامل تھے۔ محققین کے مطابق اس تحقیق کا مقصد مختلف نسلوں میں خواتین اور مردوں کے کردار، برابری اور خاندانی زندگی سے متعلق خیالات کا جائزہ لینا تھا۔
سروے کے نتائج کے مطابق 31 فیصد جنریشن زی مردوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بیوی کو ہمیشہ اپنے شوہر کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اسی نسل کے 33 فیصد مردوں کا کہنا تھا کہ گھر کے اہم معاملات میں آخری فیصلہ شوہر کو کرنا چاہیے۔ محققین کے مطابق یہ شرح بڑی عمر کی نسلوں کے مردوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ بیبی بومر نسل کے صرف 13 فیصد مردوں نے بیوی کی مکمل اطاعت کی حمایت کی، جبکہ 17 فیصد نے کہا کہ گھر کے اہم فیصلوں میں شوہر کا آخری فیصلہ ہونا چاہیے۔
خواتین کے خیالات اس سے مختلف سامنے آئے۔ صرف 18 فیصد جنریشن زی خواتین نے بیوی کی مکمل اطاعت کے تصور سے اتفاق کیا، جبکہ بیبی بومر خواتین میں یہ شرح صرف 6 فیصد رہی۔ تحقیق کے مطابق نوجوان خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ واضح انداز میں برابری اور مشترکہ فیصلوں کی حمایت کرتی ہیں۔
سروے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ 24 فیصد جنریشن زی مردوں کا خیال ہے کہ خواتین کو بہت زیادہ خودمختار یا خود کفیل نظر نہیں آنا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں بیبی بومر مردوں میں یہ شرح صرف 12 فیصد رہی۔ نوجوان خواتین میں صرف 15 فیصد نے اس خیال سے اتفاق کیا، جبکہ بڑی عمر کی خواتین میں یہ شرح 9 فیصد تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان مردوں کے ایک قابل ذکر طبقے میں اب بھی روایتی صنفی کرداروں کی سوچ موجود ہے۔
تحقیق میں جنسی تعلقات اور سماجی رویوں سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔ 21 فیصد جنریشن زی مردوں نے کہا کہ ایک "حقیقی عورت” کو کبھی بھی جنسی تعلق قائم کرنے میں پہل نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے مقابلے میں بیبی بومر مردوں میں یہ شرح صرف 7 فیصد تھی۔ نوجوان خواتین میں 12 فیصد نے اس رائے سے اتفاق کیا، جبکہ بڑی عمر کی خواتین میں بھی یہ شرح 7 فیصد رہی۔
رپورٹ میں نوجوان مردوں کے اپنے کردار کے بارے میں بھی دلچسپ رجحانات سامنے آئے۔ تقریباً 30 فیصد جنریشن زی مردوں کا کہنا تھا کہ مردوں کو اپنے دوستوں سے ‘میں تم سے محبت کرتا ہوں’ جیسے جذباتی الفاظ نہیں کہنا چاہیے۔ اسی طرح 43 فیصد نوجوان مردوں نے کہا کہ نوجوان لڑکوں کو جسمانی طور پر مضبوط دکھائی دینے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے وہ قدرتی طور پر طاقتور نہ بھی ہوں۔ محققین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان مرد نہ صرف خواتین بلکہ اپنے لیے بھی روایتی مردانہ کردار کو اہم سمجھتے ہیں۔
سروے کے مطابق 21 فیصد جنریشن زی مردوں کا خیال تھا کہ بچوں کی دیکھ بھال میں زیادہ حصہ لینے والے مرد نسبتاً کم مردانہ شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ بیبی بومر مردوں میں صرف 8 فیصد نے اس خیال سے اتفاق کیا، جبکہ نوجوان خواتین میں یہ شرح 14 فیصد رہی۔ محققین کے مطابق ایسے خیالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوان مردوں کے ایک حصے میں روایتی خاندانی کردار اب بھی مضبوط ہیں۔
دوسری جانب تحقیق میں خواتین کے بارے میں کئی مثبت رجحانات بھی سامنے آئے۔ 41 فیصد جنریشن زی مردوں نے کہا کہ کامیاب پیشہ ور خواتین مردوں کے لیے زیادہ پرکشش ہوتی ہیں۔ یہ شرح بیبی بومر مردوں اور خواتین، دونوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی، جہاں صرف 27 فیصد افراد نے اس رائے سے اتفاق کیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان مردوں کے خیالات مکمل طور پر یکساں نہیں بلکہ کئی معاملات میں وہ جدید اور روایتی سوچ کا امتزاج رکھتے ہیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ نوجوان خواتین میں حقوقِ نسواں کی حمایت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ نصف سے زیادہ جنریشن زی خواتین نے خود کو فیمنسٹ قرار دیا۔ مجموعی طور پر تقریباً چار میں سے ایک نہیں بلکہ چار میں سے دو افراد نے خود کو فیمنسٹ سوچ کا حامی بتایا، جبکہ نوجوان خواتین میں یہ تناسب 50 فیصد سے بھی زیادہ رہا۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کی قیادت کے بارے میں بھی مثبت رائے سامنے آئی۔ تقریباً 60 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ اگر حکومتوں اور کاروباری اداروں میں زیادہ خواتین قیادت کے عہدوں پر ہوں تو معاشرے کے لیے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کی قیادت کے حق میں عمومی حمایت برقرار ہے، اگرچہ نوجوان مردوں کے ایک حصے میں روایتی خاندانی کرداروں کے بارے میں پرانی سوچ بھی موجود ہے۔
سروے میں صنفی مساوات سے متعلق ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا۔ 59 فیصد جنریشن زی مردوں نے کہا کہ مردوں سے صنفی مساوات کے لیے بہت زیادہ کوششوں کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بیبی بومر مردوں میں یہ شرح 45 فیصد تھی۔ نوجوان خواتین میں 41 فیصد اور بڑی عمر کی خواتین میں 30 فیصد نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان نسل میں صنفی مساوات پر بحث کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔
تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کے بیشتر حصوں میں خواتین کے مساوی حقوق کی حمایت موجود ہے، لیکن نوجوان مردوں اور خواتین کے درمیان صنفی کرداروں کے بارے میں خیالات کا فرق مستقبل میں سماجی اور سیاسی مباحث پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ان نتائج کو صرف روایتی یا جدید سوچ کی کشمکش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ نوجوان نسل کے بدلتے ہوئے سماجی تجربات، معاشی حالات، سوشل میڈیا کے اثرات اور ثقافتی تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشروں میں خواتین اور مردوں کے درمیان باہمی احترام، مشترکہ ذمہ داریوں اور برابری پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مسلسل مکالمہ اور آگاہی ضروری ہے۔


