Tag: طلبہ

  • مہنگے مستقبل کے خلاف یورپ کی جنریشن زی سڑکوں پر

    مہنگے مستقبل کے خلاف یورپ کی جنریشن زی سڑکوں پر

    استاد کے منتظر طلبہ، تنخواہ کی پہنچ سے دور ہوتا گھر اور ایسی اعلیٰ تعلیم جس کے بعد بھی روزگار کی ضمانت نہ ہو؛ یورپ کے کئی ملکوں میں یہ اب الگ الگ پریشانیاں نہیں رہیں۔ یہ مل کر ایک ایسی بے چینی کو جنم دے رہی ہیں جو اسکولوں کے دروازوں سے نکل کر شہروں کے چوکوں تک آن پہنچی ہے۔ 

    نوجوانوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ تعلیم، محنت اور قابلیت کے بل پر خودمختار زندگی کی تعمیر کا راستہ ان کے لیے تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

    اکتوبر 2026 میں یورپ کے مختلف ملکوں میں اٹھنے والے ان احتجاجوں کو ‘جنریشن زی کی بغاوت’ کہا جا رہا ہے۔ یہ نام نوجوانوں کے نمایاں کردار کو تو ظاہر کرتا ہے، مگر پوری صورت حال کا احاطہ نہیں کرتا۔

    ان تحریکوں کے اسباب، قیادت اور سیاسی پس منظر مختلف ہیں۔ کئی مقامات پر اساتذہ، مزدور تنظیموں، پنشن یافتہ افراد اور رہائش کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں نے بھی نوجوانوں کے ساتھ قدم ملایا ہے۔ 

    ان سب کا مشترک سوال یہ ہے: کیا ایک عام آدمی آج بھی تعلیم حاصل کرکے، محنت کرکے اور دیانت داری سے کما کر اپنے لیے ایک باوقار اور محفوظ زندگی بنا سکتا ہے؟

    فرانس اس بے چینی کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ستمبر میں پیرس کے قریب کریتَی کے سینٹ ایگزوپیری ہائی اسکول سے اٹھنے والی آواز رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیل گئی۔ طلبہ کی شکایات بنیادی نوعیت کی تھیں: اساتذہ کی کمی، گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے کمرہ ہائے جماعت اور ناکافی تعلیمی سہولتیں۔ 

    ان مطالبات کے پیچھے ایک گہرا سوال بھی موجود تھا: جب پڑھنے کے لیے ضروری ماحول ہی میسر نہ ہو تو نوجوانوں سے روشن مستقبل کی تیاری کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

    17   اکتوبر تک یہ احتجاج طلبہ کے دائرے سے نکل کر معاشرے کے کئی طبقوں کو اپنے ساتھ ملا چکا تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ نے ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد 5 لاکھ 50 ہزار بتائی، جب کہ منتظمین کے مطابق تقریباً آٹھ لاکھ افراد سڑکوں پر نکلے۔ 

    بیلجیئم میں احتجاجوں کی جڑیں وہاں کی تعلیمی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ فرانسیسی بولنے والے علاقوں میں تعلیمی اصلاحات، بڑھتے اخراجات اور بجٹ کی کٹوتیوں کے خلاف ناراضی بڑھی ہے۔ لے موند کے مطابق مجوزہ اقدامات میں 2029 تک بجٹ میں 50 کروڑ یورو کی کٹوتی اور اساتذہ کے ہفتہ وار تدریسی وقت کو 20 سے بڑھا کر 22 گھنٹے کرنا شامل ہے۔ طلبہ کو اندیشہ ہے کہ اخراجات گھٹانے کی یہ پالیسی تعلیم کے معیار اور مواقع کو بھی محدود کر دے گی۔

    17 اکتوبر کو رائٹرز نے برسلز میں کئی سو، بیشتر نوجوان، مظاہرین کے جمع ہونے کی خبر دی۔ جھڑپوں کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔ لیئژ میں بھی مظاہرے ہوئے۔ بیلجیئم کا تجربہ بتاتا ہے کہ نوجوان کسی دوسرے ملک کے احتجاج سے حوصلہ پا سکتے ہیں، مگر ان کی اپنی جدوجہد کی جڑیں مقامی مسائل ہی میں ہوتی ہیں۔

    اسپین میں رہائش کے بحران نے مختلف نسلوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ میڈرڈ میں 87 سالہ ماری کارمین اباسکال کو اس گھر سے بے دخل کیا گیا جہاں وہ 71 برس سے رہ رہی تھیں۔ یہ واقعہ رہائش کے عدم تحفظ کے خلاف بلند ہوتی آواز کی علامت بن گیا۔ ستمبر کے اواخر میں رائٹرز کی وڈیو رپورٹ کے مطابق تقریباً 600 افراد پوئرتا ڈیل سول چوک میں احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔ ایک بزرگ خاتون کے چھن جانے والے گھر کا دکھ، نوجوانوں کی گھر حاصل نہ کر سکنے کی بے بسی سے آ ملا تھا۔

    یوروسٹیٹ کے مطابق 2015 سے 2025 کی تیسری سہ ماہی تک یورپی یونین میں گھروں کی قیمتیں 63.6 فیصد اور کرائے 21.1 فیصد بڑھے۔ یہ پوری یونین کے مجموعی اشاریے ہیں۔ بڑے اور مہنگے شہروں میں نئے کرایہ داروں سے طلب کیے جانے والے کرائے ان سے مختلف رفتار سے بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے پورے یورپ کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کرائے ہر جگہ تقریباً دگنے ہو گئے ہیں۔

    رہائش کی مہنگائی صرف جیب پر بوجھ نہیں ڈالتی؛ یہ زندگی کے اہم فیصلوں کو بھی مؤخر کرتی ہے۔ 2025 میں یورپی یونین کے نوجوانوں کے والدین کا گھر چھوڑ کر الگ رہنے کی اوسط عمر 26.3 سال تھی۔ اسپین اور اٹلی میں یہ 30.2 سال، فن لینڈ میں 21.4 سال اور ڈنمارک میں 21.8 سال تھی۔ ان فرقوں میں خاندانی روایات کا بھی حصہ ہے، اس لیے ان کی پوری وجہ رہائش کے اخراجات کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے باوجود یہ اعداد خودمختار زندگی کی جانب بڑھتے نوجوانوں کی مختلف صورت حال کا پتا ضرور دیتے ہیں۔

    دوسرے شہر میں ملنے والی ملازمت کی پیشکش اس وقت اپنی کشش کھو دیتی ہے جب گھر کا کرایہ، پیشگی ضمانتی رقم اور آمدورفت کے اخراجات تنخواہ کا بڑا حصہ نگل جائیں۔ اسی طرح یونیورسٹی میں داخلہ بھی طالب علم کے لیے ادھورا موقع بن سکتا ہے، اگر وہاں رہنا اس کی استطاعت سے باہر ہو۔ یوں گھر کا سوال تعلیم، روزگار اور اپنا خاندان بسانے کے امکان سے جڑ جاتا ہے۔

    روزگار کے اعداد بھی نوجوانوں کی تشویش کو وزن دیتے ہیں۔ اگست 2026 میں یورپی یونین میں 25 سال سے کم عمر تقریباً 29 لاکھ 73 ہزار نوجوان بے روزگار تھے۔ ان میں بے روزگاری کی شرح 15.4 فیصد تھی، جب کہ مجموعی افرادی قوت میں یہ شرح 6.1 فیصد تھی۔ 

    پرتگال اور اٹلی میں بھی روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات نے بے چینی کو ہوا دی ہے۔ اکتوبر کی خبروں کے مطابق پرتگال میں اجرتوں، پنشنوں، عوامی خدمات اور رہائش کے مسائل احتجاجوں کا سبب بنے، جب کہ اٹلی میں طلبہ سمیت مختلف حلقوں نے مہنگائی کے خلاف آواز اٹھائی۔ تعلیم، آمدنی اور رہائش کے مسائل ایک دوسرے سے مل کر عوامی ناراضی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

    البانیہ میں یہی ناراضی زیادہ براہ راست سیاسی جواب دہی کے مطالبے میں بدل گئی۔ 13 اکتوبر کو وزارت تعلیم کے سامنے شروع ہونے والے مظاہرے 18 اکتوبر کو چھٹے دن میں داخل ہوئے۔ جامعات کی خراب حالت، بھاری فیسیں اور بدعنوانی اہم شکایات تھیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم ایدی راما سے استعفیٰ مانگا، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ البانیہ ابھی یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار ہے، اس لیے اس کی سیاسی صورت حال کو یونین کے رکن ملکوں جیسا سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔

    کشیدگی بڑھنے کے ساتھ انسانی نقصان اور طاقت کے استعمال پر تشویش بھی بڑھی۔ رائٹرز نے 17 اکتوبر کو بظاہر ربڑ کی گولیوں کے استعمال کی خبر دی اور بتایا کہ سات پولیس اہلکاروں کو ان کے طرز عمل کی محکمانہ تحقیقات کے دوران معطل کیا گیا ہے۔ یورونیوز نے بعد میں ایک تھانے کو آگ لگانے اور دیگر حملوں کا ذکر کیا۔ ان واقعات میں مظاہرین کے تشدد اور پولیس کی کارروائی، دونوں کی آزادانہ چھان بین ضروری ہے، تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو اور طاقت کے استعمال کی قانونی حدود برقرار رہیں۔

    ان تمام تحریکوں کے پس منظر میں معاشرے کے ایک پرانے وعدے پر کمزور پڑتا اعتماد دکھائی دیتا ہے: تعلیم حاصل کرو، محنت کرو، اپنی ذمہ داری نبھاؤ، تو ایک بہتر زندگی تمہارا مقدر بنے گی۔ جب تعلیم کی حالت خراب ہو، روزگار غیر یقینی ہو اور گھر کا کرایہ کمائی کا ثمر نگل جائے، تو یہی وعدہ نوجوانوں کو کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔ سماجی رابطوں کے ذرائع احتجاج کے مناظر اور طریقے تیزی سے پھیلا سکتے ہیں، مگر ناراضی کی اصل جڑ لوگوں کی روزمرہ زندگی میں ہے۔

    معاشی تحفظ کی غیر مساوی تقسیم اس احساس کو مزید شدید کرتی ہے۔ جس کے پاس پہلے ہی گھر ہے، وہ جائیداد کی بڑھتی قیمت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؛ لیکن جو اپنا پہلا گھر خریدنا یا کرائے پر رہنا چاہتا ہے، اس کی منزل اور دور ہو جاتی ہے۔ پھر والدین کی مالی حیثیت یہ طے کرنے لگتی ہے کہ کون دوسرے شہر میں پڑھ سکتا ہے، کم تنخواہ والی ابتدائی ملازمت قبول کر سکتا ہے یا بہتر مواقع کی تلاش میں نقل مکانی کر سکتا ہے۔ جب آغاز ہی کے مواقع غیر مساوی ہوں، تو کامیابی کو محض ذاتی محنت کا حاصل قرار دینا حقیقت کی ادھوری تعبیر ہے۔

    حکومتوں کو اب ایسے اقدامات درکار ہیں جن کا اثر لوگوں کی زندگی میں دکھائی دے۔ اسکولوں میں اساتذہ کی خالی اسامیوں اور عمارتوں کی مرمت کے منصوبے سامنے لائے جائیں، ان کی تکمیل کے لیے مدت مقرر ہو اور پیش رفت عوام کو بتائی جائے۔ رہائشی پالیسی میں مناسب قیمت کے گھر، طلبہ کے لیے رہائش، قابل استعمال خالی عمارتوں کی بحالی اور کرایہ داروں کے حقوق کا مؤثر تحفظ شامل ہو۔ معاوضے کے ساتھ تربیت کو حقیقی ملازمتوں سے جوڑا جائے۔ نوجوانوں کو ان فیصلوں میں بامعنی شرکت بھی دی جائے جو ان کی تعلیم، آمدنی اور مستقبل پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

    پُرامن احتجاج کے حق کا تحفظ اور تشدد کا قانون کے مطابق احتساب، دونوں ریاست کی ذمہ داریاں ہیں۔ پولیس کی جانب سے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ ہر احتجاج کرنے والے کو بلوائی کہنے سے شہریوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں، جب کہ تشدد کو جائز ٹھہرانا اصلاحات کے لیے درکار عوامی حمایت کو کمزور کرتا ہے۔

    یورپ کے نوجوان آج ایک ایسا سوال پوچھ رہے ہیں جس کا جواب خوشحالی کے مجموعی اعداد و شمار تنہا نہیں دے سکتے: کیا وہ انہی معاشروں میں ایک باوقار زندگی گزار سکیں گے جن کی خدمت کے لیے انہیں تعلیم دی جا رہی ہے؟ ان کا اعتماد تب لوٹے گا جب اسکولوں میں استاد ہوں گے، محنت کا معاوضہ زندگی سنوارنے کے لیے کافی ہوگا اور گھر عام آدمی کی دسترس میں ہوگا۔

  • سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ: ہزاروں مستحق طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا راستہ

    سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ: ہزاروں مستحق طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا راستہ

    سندھ حکومت کے سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے طلبہ کو پاکستان کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ 

    اس پروگرام کا مقصد خصوصاً ایسے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینا ہے جو میرٹ پر داخلہ حاصل کرنے کے باوجود مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

    دستیاب معلومات کے مطابق سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت ہر سال تقریباً چھ سے سات ہزار مستحق طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جاتی ہیں۔ گزشتہ آٹھ سے دس برس کے دوران اس پروگرام سے چالیس ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔

    اس پروگرام کے تحت سندھ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو پاکستان کی سو بہترین جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس میں سندھ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی شامل ہیں، جو داخلہ حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں قائم اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

    انڈومنٹ فنڈ کا مالی نظام بھی اس پروگرام کی اہم خصوصیت ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق فنڈ میں دس ارب روپے سے زائد رقم سرمایہ کاری کی صورت میں رکھی گئی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے طلبہ کو وظائف فراہم کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد اسکالرشپ پروگرام کے لیے ایک مستقل مالی بنیاد قائم کرنا ہے۔

    اسکالرشپ کے تحت اہل طالب علم کو سالانہ دس لاکھ روپے تک مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ مالی معاونت کی اصل رقم طالب علم کے متعلقہ تعلیمی پروگرام اور مقررہ قواعد کے مطابق طے ہوتی ہے۔

    اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے صرف مالی ضرورت کافی نہیں۔ طالب علم کے لیے متعلقہ جامعہ یا اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ حاصل کرنا بنیادی شرط ہے۔ داخلے کا فیصلہ متعلقہ جامعہ اپنے میرٹ، داخلہ ٹیسٹ اور دیگر مقررہ معیار کے مطابق کرتی ہے۔ انڈومنٹ فنڈ کا اسکالرشپ پروگرام جامعہ کے داخلہ عمل کی جگہ نہیں لیتا۔

    اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد بھی طالب علم کو مقررہ تعلیمی معیار برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق طالب علم کے لیے کم از کم دو اعشاریہ پانچ جی پی اے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مقررہ تعلیمی معیار برقرار نہ رکھنے کی صورت میں اسکالرشپ کی مالی معاونت متاثر یا ختم کی جا سکتی ہے۔

    اس پروگرام کے انتظام کے لیے باقاعدہ بورڈ بھی موجود ہے، جس میں متعلقہ حکام کے ساتھ نجی شعبے کے نمائندے اور جامعات کے وائس چانسلرز بھی شامل ہیں۔ اس انتظامی ڈھانچے کا مقصد اسکالرشپ پروگرام کے معاملات کی نگرانی اور طلبہ کے انتخاب سمیت دیگر امور کو مقررہ طریقہ کار کے تحت چلانا ہے۔

    سندھ میں اعلیٰ تعلیم کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان اور سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں انڈومنٹ فنڈ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بھی سامنے آ رہی ہے۔ فنڈ میں اضافی سرمایہ کاری سے مستقبل میں اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بڑھانے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

    سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا دائرہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے صوبے کے نسبتاً دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اپنے علاقے سے باہر ملک کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جانے والے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافہ ہوتا ہے۔

    اس پروگرام کے اہم اعداد و شمار میں سالانہ تقریباً چھ سے سات ہزار اسکالرشپس، گزشتہ آٹھ سے دس برس میں چالیس ہزار سے زائد مستفید طلبہ، دس ارب روپے سے زائد کا انڈومنٹ فنڈ، اور فی طالب علم سالانہ دس لاکھ روپے تک مالی معاونت شامل ہیں۔

    یوں سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا بنیادی ڈھانچہ میرٹ پر اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ حاصل کرنے والے مستحق طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنے پر قائم ہے، جبکہ طالب علم کے لیے داخلہ حاصل کرنا اور مقررہ تعلیمی معیار برقرار رکھنا اسکالرشپ جاری رکھنے کی اہم شرائط میں شامل ہیں۔

  • سندھ کے طلبہ کی ڈیجیٹل شناخت کا نیا نظام، داخلے سے تعلیمی سفر تک ہر ریکارڈ ایک شناخت سے منسلک ہوگا

    سندھ کے طلبہ کی ڈیجیٹل شناخت کا نیا نظام، داخلے سے تعلیمی سفر تک ہر ریکارڈ ایک شناخت سے منسلک ہوگا

    سندھ میں کسی سرکاری یا حکومت سے معاونت حاصل کرنے والے اسکول میں داخل ہونے والے بچے کا تعلیمی ریکارڈ اب صرف کاغذی رجسٹر یا اسکول کی الگ فائل تک محدود رکھنے کے بجائے ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت کے ساتھ منسلک کرنے کی جانب بڑھایا جارہا ہے۔

    سندھ حکومت نے طلبہ کے داخلہ ریکارڈ کو نادرا کے ب فارم سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر طالب علم کے لیے ایک منفرد داخلہ شناخت تیار کرنے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے اس کے تعلیمی سفر کا ریکارڈ ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل میں برقرار رکھا جاسکے گا۔ سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے جولائی 2026 میں نادرا کے حکام کے ساتھ اجلاس میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

    اس مجوزہ نظام میں طالب علم کے داخلے، حاضری، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اسکول کی تبدیلی جیسے معاملات کو ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت کے مطابق نادرا سے منسلک شناخت کا مقصد جعلی اور ایک سے زیادہ داخلوں کی نشاندہی، طویل عرصے تک غیر حاضر رہنے والے بچوں کی شناخت اور اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار طلبہ کی بروقت نشاندہی میں مدد حاصل کرنا بھی ہے۔

    یہ منصوبہ سندھ کے تعلیمی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے ایک بڑے عمل کا حصہ ہے، تاہم صوبے میں تعلیمی اعداد و شمار کو منظم کرنے کا نظام نیا نہیں۔

    سندھ ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، جسے سیمس کہا جاتا ہے، 1991 سے صوبے کے سرکاری اسکولوں سے تعلیمی اعداد و شمار جمع کرنے کا کام کررہا ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق سالانہ اسکول مردم شماری کے ذریعے طلبہ کے داخلوں، اساتذہ، اسکولوں اور تعلیمی سہولیات سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ سیمس کے تحت ہر سرکاری اسکول کو ایک مخصوص کوڈ بھی دیا گیا ہے، جس کے ساتھ اسکول سے متعلق مختلف معلومات مربوط کی جاتی ہیں۔

    یعنی سیمس بنیادی طور پر اسکول اور تعلیمی نظام کا ڈیٹا مرتب کرنے کا ایک پرانا انتظامی ڈھانچہ ہے، جبکہ نادرا سے منسلک طالب علم کی منفرد شناخت اس نظام کو بچے کی انفرادی شناخت سے جوڑنے کی ایک نئی کوشش ہے۔

    یہ فرق اہم ہے۔

    اب تک تعلیمی منصوبہ بندی کے لیے حکومت کے پاس اسکولوں، طلبہ کے داخلوں، اساتذہ اور سہولیات سے متعلق سالانہ اعداد و شمار موجود رہے ہیں۔ لیکن جب کسی طالب علم کو ب فارم سے منسلک ایک منفرد شناخت کے ساتھ ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا جائے گا تو ایک ہی بچے کے مختلف تعلیمی ریکارڈ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔

    مثلاً ایک بچہ ایک اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا داخلہ ریکارڈ ڈیجیٹل پروفائل کا حصہ بنتا ہے۔ بعد میں وہ اگلی جماعت میں جاتا ہے، اسکول تبدیل کرتا ہے یا طویل عرصے تک غیر حاضر رہتا ہے تو اس کی معلومات اسی شناخت کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔

    اس طرح حکومت کے لیے یہ جاننا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے کہ کتنے بچے اسکول میں داخل ہوئے، کتنے اپنی اگلی جماعت میں پہنچے، کتنے نے اسکول تبدیل کیا، کتنے طویل عرصے تک غیر حاضر رہے اور کتنے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہوگئے۔

    اسی سلسلے میں سندھ میں طلبہ کی حاضری کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریسل سسٹم، یعنی سامرس، پہلے ہی متعارف کرایا جاچکا ہے۔

    سامرس کا مقصد صرف روزانہ حاضری درج کرنا نہیں بلکہ حاضری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ایسے طلبہ کی نشاندہی کرنا بھی ہے جو مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں یا اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    سامرس میں طلبہ کی رجسٹریشن، حاضری، جماعت میں ترقی، منفرد طالب علم شناخت اور کیو آر کوڈ بنانے جیسی سہولیات شامل ہیں۔ طلبہ کی حاضری کے روزانہ، ماہانہ اور سالانہ ریکارڈ تیار کیے جاسکتے ہیں، جبکہ طویل غیر حاضری کی صورت میں والدین کو پیغام، ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دینے کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔

    اگست 2026 تک سامرس 3,647 سرکاری اسکولوں تک توسیع پاچکا تھا، جبکہ حکومت نے اپریل 2027 تک صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کو اس نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

    یہاں نادرا سے منسلک طالب علم شناخت کا منصوبہ اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ حاضری کے نظام میں موجود طالب علم کا ریکارڈ اگر تصدیق شدہ شناخت کے ساتھ مربوط ہوجائے تو تعلیمی نظام کے مختلف حصوں میں موجود ڈیٹا کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔

    اس کا ایک مقصد ڈپلیکیٹ داخلوں کی روک تھام بھی ہے۔

    اگر ایک ہی بچے کا ریکارڈ مختلف اسکولوں میں موجود ہو تو منفرد شناخت کے ذریعے ایسے ریکارڈ کی نشاندہی ممکن ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو یہ معلوم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ کسی علاقے میں داخلوں کے اعداد و شمار حقیقی طلبہ کی تعداد کی عکاسی کررہے ہیں یا ان میں ایسے ریکارڈ بھی شامل ہیں جن کی مزید تصدیق ضروری ہے۔

    یہ معاملہ صرف داخلوں کی گنتی تک محدود نہیں۔

    تعلیمی منصوبہ بندی میں درست اعداد و شمار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر حکومت کو کسی ضلع، تعلقہ یا علاقے میں موجود طلبہ کی زیادہ درست تعداد معلوم ہو تو اسکولوں، اساتذہ، کلاس رومز اور دیگر تعلیمی سہولیات کی ضرورت کا اندازہ بھی زیادہ بہتر بنیاد پر لگایا جاسکتا ہے۔

    سندھ حکومت کے مطابق سیمس کا بنیادی مقصد بھی تعلیم کے شعبے میں انتظامی، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے لیے معلومات فراہم کرنا ہے۔ سالانہ اسکول مردم شماری میں طلبہ کے داخلوں، اساتذہ اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات شامل کی جاتی ہیں۔

    اب نیا نظام اسی ڈیٹا کو طالب علم کی منفرد شناخت سے جوڑنے کی کوشش ہے۔

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بچے کا مکمل تعلیمی ریکارڈ پہلے ہی نادرا کے ڈیٹا بیس میں منتقل ہوچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ منصوبہ نادرا کے ساتھ تعلیمی ڈیٹا کے انضمام، منفرد طالب علم شناخت اور صوبے بھر میں اس کے نفاذ کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے مکمل طور پر نافذ شدہ نظام کے بجائے جاری ڈیجیٹل اصلاحات کے حصے کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

    اس پورے عمل کا ایک اور اہم پہلو طالب علم کا اسکول چھوڑنا ہے۔

    اگر حاضری، جماعت، تعلیمی کارکردگی اور اسکول منتقلی کا ڈیٹا ایک ہی طالب علم کی شناخت سے مسلسل منسلک ہو تو حکومت کو یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بچے کس مرحلے پر تعلیمی نظام سے باہر ہورہے ہیں۔

    مثلاً کسی طالب علم کی حاضری مسلسل کم ہوتی ہے تو نظام اسے خطرے سے دوچار طالب علم کے طور پر نشان زد کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اسکول اور متعلقہ حکام والدین سے رابطہ کرکے غیر حاضری کی وجوہ جاننے اور بچے کو دوبارہ اسکول میں رکھنے کے لیے اقدامات کرسکتے ہیں۔

    اس نظام کے عملی نتائج کا انحصار، تاہم، صرف ٹیکنالوجی پر نہیں ہوگا۔

    ڈیٹا درست درج ہونا، بچوں کی شناخت کی مناسب تصدیق، مختلف تعلیمی نظاموں کے درمیان درست انضمام، اسکولوں میں انٹرنیٹ اور آلات کی دستیابی اور اساتذہ و انتظامی عملے کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہوگی۔

    اسی طرح بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا سوال بھی اہم ہے۔ جب تعلیمی ریکارڈ کسی بچے کی سرکاری شناخت سے منسلک کیا جائے گا تو اس ڈیٹا تک رسائی، استعمال، تحفظ اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے واضح ضابطے ضروری ہوں گے۔

    سندھ میں پہلے ہی مختلف تعلیمی نظاموں کو باہم مربوط کرنے کی کوشش جاری ہے۔ محکمہ تعلیم نے صوبائی تعلیمی ڈیٹا نظام کے لیے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سامرس کو صوبائی تعلیمی ڈیٹا نظام کے ساتھ مربوط کرنا تھا۔

    یوں دیکھا جائے تو سندھ میں تعلیم کی ڈیجیٹلائزیشن کا اگلا مرحلہ صرف یہ نہیں کہ اسکول کا رجسٹر کمپیوٹر پر منتقل کردیا جائے۔

    اصل تبدیلی یہ ہے کہ ایک بچے کے بارے میں مختلف مقامات پر موجود معلومات کو ایک مسلسل تعلیمی شناخت کے ساتھ جوڑا جائے۔

    داخلہ، حاضری، جماعت میں ترقی، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اسکول کی تبدیلی اگر ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل کا حصہ بن جائیں تو حکومت کے پاس تعلیمی نظام کی ایک زیادہ مربوط تصویر آسکتی ہے۔

    اور یہی اس منصوبے کا بنیادی سوال بھی ہے کہ سندھ میں صرف یہ معلوم کیا جائے کہ کتنے بچے اسکول میں درج ہیں، یا یہ بھی معلوم کیا جائے کہ ان بچوں کے ساتھ اسکول میں داخل ہونے کے بعد کیا ہوا؟

    نادرا سے منسلک منفرد طالب علم شناخت، سیمس کے طویل عرصے سے جاری تعلیمی ڈیٹا اور سامرس کی ڈیجیٹل حاضری کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش اسی دوسرے سوال کا جواب تلاش کرنے کی سمت ایک قدم ہے۔

    اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوتا ہے تو مستقبل میں سندھ کے تعلیمی حکام کے لیے صرف اسکولوں اور داخلوں کے اعداد و شمار دیکھنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ وہ زیادہ واضح طور پر یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ کون سا بچہ تعلیمی نظام میں داخل ہوا، اس نے کتنا سفر طے کیا، کہاں رکا، کہاں اسکول تبدیل کیا اور کس مرحلے پر تعلیم سے باہر ہوگیا۔

    یوں کاغذی رجسٹر میں درج ایک نام کو ایک مسلسل ڈیجیٹل تعلیمی شناخت میں تبدیل کرنے کی کوشش دراصل سندھ کے تعلیمی نظام کو اندازوں کے بجائے زیادہ منظم اور قابل استعمال ڈیٹا کی بنیاد پر چلانے کی کوشش ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں خبر صرف خبر نہیں، اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آتی ہے۔

  • انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر ‘کاکروچوں’ کا ملک گیر احتجاج کامیاب، بھارتی وفاقی وزیر تعلیم مستعفی

    انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر ‘کاکروچوں’ کا ملک گیر احتجاج کامیاب، بھارتی وفاقی وزیر تعلیم مستعفی

    انڈیا کے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ملک بھر میں جاری طلبہ اور نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیر تعلیم کے استعفے کو نوجوان مظاہرین کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو کئی ہفتوں سے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس خدشے کے پیش نظر کہ کوئی ملک دشمن عناصر اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھائیں، انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور جائز توقعات کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قدم ملک کے مفاد میں ہے۔

    وزیر تعلیم کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کرنے والے ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی اور اسے اپنی جدوجہد کی اہم کامیابی قرار دیا۔

    یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا تھا جب ملک کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے ہونے والے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے۔ ان واقعات نے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ بار بار پرچے لیک ہونے سے میرٹ کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔

    احتجاج کی قیادت بڑی حد تک نوجوان طلبہ کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے، پرچے لیک کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس بحران کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم مستعفی ہوں۔

    اس احتجاجی تحریک کا ایک منفرد پہلو "کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے سامنے آنے والی نوجوانوں کی تنظیم تھی۔ یہ تحریک ابتدا میں ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب انڈیا کے چیف جسٹس نے ایک عدالتی سماعت کے دوران بعض بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں "کاکروچ” کا لفظ استعمال کیا۔ نوجوانوں نے اسی لفظ کو احتجاج کی علامت بنا لیا اور اسے حکومت سے جواب دہی اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کی ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں تک پہنچ گئی۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں نوجوان احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے اور حکومت پر امتحانی نظام میں اصلاحات لانے کے لیے دباؤ بڑھاتے رہے۔

    وزیر تعلیم کے استعفے سے چند گھنٹے قبل نئی دہلی میں ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ پولیس نے دارالحکومت کے جنتر منتر کے علاقے میں جمع ہونے والے نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس کارروائی کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور بھی متوقع تھا، تاہم اس سے پہلے ہی وزیر تعلیم نے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا۔

    حکومت نے احتجاج کو محدود کرنے کے لیے نئی دہلی میں کئی سخت اقدامات بھی کیے۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس محدود کر دی گئی جبکہ میٹرو کے 18 اسٹیشنوں تک عوام کی رسائی بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تاکہ مزید لوگوں کو احتجاجی مقامات تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

    نوجوانوں کے غصے میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے بھی فائر کیے۔ ان کارروائیوں میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جس کے بعد احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا اور مختلف ریاستوں میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج صرف امتحانی پرچوں کے لیک ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بدعنوانی، میرٹ کی پامالی اور حکومتی جواب دہی جیسے وسیع تر مسائل کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف امتحانی اصلاحات ہی نہیں بلکہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں شفافیت، انصاف اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا ہے، کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج نے نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں حکومت کو امتحانی نظام میں اصلاحات اور نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر احتجاج کی نئی لہر دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔

  • سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کے لیے رائج قدیم نمبر سسٹم ختم کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے کیا۔

    صوبائی وزیر کے مطابق یہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کو آرڈینیشن کمیشن کی وفاقی سطح پر طے کی گئی پالیسی کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو یکساں بنانا اور طلبہ کی کارکردگی کو زیادہ منصفانہ اور شفاف انداز میں جانچنا ہے۔

    نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق صوبے بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا۔ رواں سال 2026 میں نہم اور گیارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ون اور ایچ ایس ایس سی ون کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس نظام کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد سال 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ٹو اور ایچ ایس ایس سی ٹو کے سالانہ امتحانات پر بھی یہی نظام لاگو کیا جائے گا۔

    نئی پالیسی کے تحت اب طلبہ کی کارکردگی نمبروں کے بجائے گریڈز کی صورت میں ظاہر کی جائے گی۔ منظور شدہ گریڈنگ اسٹرکچر کے مطابق، اے پلس پلس 96 سے 100 فیصد، اے پلس 91 سے 95 فیصد، اے 86 سے 90 فیصد، بی پلس پلس 81 سے 85 فیصد، بی پلس 76 سے 80 فیصد، بی 71 سے 75 فیصد، سی پلس 61 سے 70 فیصد، سی 51 سے 60 فیصد، ڈی 40 سے 50 فیصد، جبکہ یو 40 فیصد سے کم پر فیل تصور کیا جائے گا۔

    صوبائی وزیر جامعات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ جو طلبہ کسی بھی مضمون میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے انہیں یو یعنی ان گریڈڈ یا فیل قرار دیا جائے گا۔

    تاہم ایسے طلبہ کے لیے اسی مضمون میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔

    نئے گریڈنگ نظام کو سمجھنے کے لیے ایک مجموعی مثال بھی سامنے رکھی گئی ہے۔ اگر کسی طالب علم کے مجموعی نمبرز 800 میں سے 560 ہوں تو اس کا فیصد (560 تقسیم 800 ضرب 100) کے مطابق 70 فیصد بنتا ہے، اور اس بنیاد پر اسے سی پلس گریڈ دیا جائے گا۔ یہی طریقہ تمام مضامین کے مجموعی نتائج پر لاگو ہوگا۔

    محمد اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد نمبروں کی غیر ضروری دوڑ ختم کرنا اور طلبہ کی مجموعی تعلیمی کارکردگی کو نمایاں کرنا ہے، تاکہ ذہنی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

    صوبائی وزیر کے مطابق تمام تعلیمی بورڈز میں گریڈنگ سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا، تاکہ قومی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے درمیان نتائج کا تقابلی نظام بہتر بنایا جا سکے۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئی تعلیمی پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ تعلیمی بورڈز کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے مطابق طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے مرحلہ وار رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ نئے نظام کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔