Tag: طلبہ

  • سندھ کے طلبہ کی ڈیجیٹل شناخت کا نیا نظام، داخلے سے تعلیمی سفر تک ہر ریکارڈ ایک شناخت سے منسلک ہوگا

    سندھ کے طلبہ کی ڈیجیٹل شناخت کا نیا نظام، داخلے سے تعلیمی سفر تک ہر ریکارڈ ایک شناخت سے منسلک ہوگا

    سندھ میں کسی سرکاری یا حکومت سے معاونت حاصل کرنے والے اسکول میں داخل ہونے والے بچے کا تعلیمی ریکارڈ اب صرف کاغذی رجسٹر یا اسکول کی الگ فائل تک محدود رکھنے کے بجائے ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت کے ساتھ منسلک کرنے کی جانب بڑھایا جارہا ہے۔

    سندھ حکومت نے طلبہ کے داخلہ ریکارڈ کو نادرا کے ب فارم سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر طالب علم کے لیے ایک منفرد داخلہ شناخت تیار کرنے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے اس کے تعلیمی سفر کا ریکارڈ ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل میں برقرار رکھا جاسکے گا۔ سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے جولائی 2026 میں نادرا کے حکام کے ساتھ اجلاس میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

    اس مجوزہ نظام میں طالب علم کے داخلے، حاضری، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اسکول کی تبدیلی جیسے معاملات کو ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت کے مطابق نادرا سے منسلک شناخت کا مقصد جعلی اور ایک سے زیادہ داخلوں کی نشاندہی، طویل عرصے تک غیر حاضر رہنے والے بچوں کی شناخت اور اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار طلبہ کی بروقت نشاندہی میں مدد حاصل کرنا بھی ہے۔

    یہ منصوبہ سندھ کے تعلیمی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے ایک بڑے عمل کا حصہ ہے، تاہم صوبے میں تعلیمی اعداد و شمار کو منظم کرنے کا نظام نیا نہیں۔

    سندھ ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، جسے سیمس کہا جاتا ہے، 1991 سے صوبے کے سرکاری اسکولوں سے تعلیمی اعداد و شمار جمع کرنے کا کام کررہا ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق سالانہ اسکول مردم شماری کے ذریعے طلبہ کے داخلوں، اساتذہ، اسکولوں اور تعلیمی سہولیات سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ سیمس کے تحت ہر سرکاری اسکول کو ایک مخصوص کوڈ بھی دیا گیا ہے، جس کے ساتھ اسکول سے متعلق مختلف معلومات مربوط کی جاتی ہیں۔

    یعنی سیمس بنیادی طور پر اسکول اور تعلیمی نظام کا ڈیٹا مرتب کرنے کا ایک پرانا انتظامی ڈھانچہ ہے، جبکہ نادرا سے منسلک طالب علم کی منفرد شناخت اس نظام کو بچے کی انفرادی شناخت سے جوڑنے کی ایک نئی کوشش ہے۔

    یہ فرق اہم ہے۔

    اب تک تعلیمی منصوبہ بندی کے لیے حکومت کے پاس اسکولوں، طلبہ کے داخلوں، اساتذہ اور سہولیات سے متعلق سالانہ اعداد و شمار موجود رہے ہیں۔ لیکن جب کسی طالب علم کو ب فارم سے منسلک ایک منفرد شناخت کے ساتھ ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا جائے گا تو ایک ہی بچے کے مختلف تعلیمی ریکارڈ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔

    مثلاً ایک بچہ ایک اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا داخلہ ریکارڈ ڈیجیٹل پروفائل کا حصہ بنتا ہے۔ بعد میں وہ اگلی جماعت میں جاتا ہے، اسکول تبدیل کرتا ہے یا طویل عرصے تک غیر حاضر رہتا ہے تو اس کی معلومات اسی شناخت کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔

    اس طرح حکومت کے لیے یہ جاننا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے کہ کتنے بچے اسکول میں داخل ہوئے، کتنے اپنی اگلی جماعت میں پہنچے، کتنے نے اسکول تبدیل کیا، کتنے طویل عرصے تک غیر حاضر رہے اور کتنے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہوگئے۔

    اسی سلسلے میں سندھ میں طلبہ کی حاضری کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریسل سسٹم، یعنی سامرس، پہلے ہی متعارف کرایا جاچکا ہے۔

    سامرس کا مقصد صرف روزانہ حاضری درج کرنا نہیں بلکہ حاضری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ایسے طلبہ کی نشاندہی کرنا بھی ہے جو مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں یا اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    سامرس میں طلبہ کی رجسٹریشن، حاضری، جماعت میں ترقی، منفرد طالب علم شناخت اور کیو آر کوڈ بنانے جیسی سہولیات شامل ہیں۔ طلبہ کی حاضری کے روزانہ، ماہانہ اور سالانہ ریکارڈ تیار کیے جاسکتے ہیں، جبکہ طویل غیر حاضری کی صورت میں والدین کو پیغام، ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دینے کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔

    اگست 2026 تک سامرس 3,647 سرکاری اسکولوں تک توسیع پاچکا تھا، جبکہ حکومت نے اپریل 2027 تک صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کو اس نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

    یہاں نادرا سے منسلک طالب علم شناخت کا منصوبہ اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ حاضری کے نظام میں موجود طالب علم کا ریکارڈ اگر تصدیق شدہ شناخت کے ساتھ مربوط ہوجائے تو تعلیمی نظام کے مختلف حصوں میں موجود ڈیٹا کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔

    اس کا ایک مقصد ڈپلیکیٹ داخلوں کی روک تھام بھی ہے۔

    اگر ایک ہی بچے کا ریکارڈ مختلف اسکولوں میں موجود ہو تو منفرد شناخت کے ذریعے ایسے ریکارڈ کی نشاندہی ممکن ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو یہ معلوم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ کسی علاقے میں داخلوں کے اعداد و شمار حقیقی طلبہ کی تعداد کی عکاسی کررہے ہیں یا ان میں ایسے ریکارڈ بھی شامل ہیں جن کی مزید تصدیق ضروری ہے۔

    یہ معاملہ صرف داخلوں کی گنتی تک محدود نہیں۔

    تعلیمی منصوبہ بندی میں درست اعداد و شمار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر حکومت کو کسی ضلع، تعلقہ یا علاقے میں موجود طلبہ کی زیادہ درست تعداد معلوم ہو تو اسکولوں، اساتذہ، کلاس رومز اور دیگر تعلیمی سہولیات کی ضرورت کا اندازہ بھی زیادہ بہتر بنیاد پر لگایا جاسکتا ہے۔

    سندھ حکومت کے مطابق سیمس کا بنیادی مقصد بھی تعلیم کے شعبے میں انتظامی، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے لیے معلومات فراہم کرنا ہے۔ سالانہ اسکول مردم شماری میں طلبہ کے داخلوں، اساتذہ اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات شامل کی جاتی ہیں۔

    اب نیا نظام اسی ڈیٹا کو طالب علم کی منفرد شناخت سے جوڑنے کی کوشش ہے۔

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بچے کا مکمل تعلیمی ریکارڈ پہلے ہی نادرا کے ڈیٹا بیس میں منتقل ہوچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ منصوبہ نادرا کے ساتھ تعلیمی ڈیٹا کے انضمام، منفرد طالب علم شناخت اور صوبے بھر میں اس کے نفاذ کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے مکمل طور پر نافذ شدہ نظام کے بجائے جاری ڈیجیٹل اصلاحات کے حصے کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

    اس پورے عمل کا ایک اور اہم پہلو طالب علم کا اسکول چھوڑنا ہے۔

    اگر حاضری، جماعت، تعلیمی کارکردگی اور اسکول منتقلی کا ڈیٹا ایک ہی طالب علم کی شناخت سے مسلسل منسلک ہو تو حکومت کو یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بچے کس مرحلے پر تعلیمی نظام سے باہر ہورہے ہیں۔

    مثلاً کسی طالب علم کی حاضری مسلسل کم ہوتی ہے تو نظام اسے خطرے سے دوچار طالب علم کے طور پر نشان زد کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اسکول اور متعلقہ حکام والدین سے رابطہ کرکے غیر حاضری کی وجوہ جاننے اور بچے کو دوبارہ اسکول میں رکھنے کے لیے اقدامات کرسکتے ہیں۔

    اس نظام کے عملی نتائج کا انحصار، تاہم، صرف ٹیکنالوجی پر نہیں ہوگا۔

    ڈیٹا درست درج ہونا، بچوں کی شناخت کی مناسب تصدیق، مختلف تعلیمی نظاموں کے درمیان درست انضمام، اسکولوں میں انٹرنیٹ اور آلات کی دستیابی اور اساتذہ و انتظامی عملے کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہوگی۔

    اسی طرح بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا سوال بھی اہم ہے۔ جب تعلیمی ریکارڈ کسی بچے کی سرکاری شناخت سے منسلک کیا جائے گا تو اس ڈیٹا تک رسائی، استعمال، تحفظ اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے واضح ضابطے ضروری ہوں گے۔

    سندھ میں پہلے ہی مختلف تعلیمی نظاموں کو باہم مربوط کرنے کی کوشش جاری ہے۔ محکمہ تعلیم نے صوبائی تعلیمی ڈیٹا نظام کے لیے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سامرس کو صوبائی تعلیمی ڈیٹا نظام کے ساتھ مربوط کرنا تھا۔

    یوں دیکھا جائے تو سندھ میں تعلیم کی ڈیجیٹلائزیشن کا اگلا مرحلہ صرف یہ نہیں کہ اسکول کا رجسٹر کمپیوٹر پر منتقل کردیا جائے۔

    اصل تبدیلی یہ ہے کہ ایک بچے کے بارے میں مختلف مقامات پر موجود معلومات کو ایک مسلسل تعلیمی شناخت کے ساتھ جوڑا جائے۔

    داخلہ، حاضری، جماعت میں ترقی، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اسکول کی تبدیلی اگر ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل کا حصہ بن جائیں تو حکومت کے پاس تعلیمی نظام کی ایک زیادہ مربوط تصویر آسکتی ہے۔

    اور یہی اس منصوبے کا بنیادی سوال بھی ہے کہ سندھ میں صرف یہ معلوم کیا جائے کہ کتنے بچے اسکول میں درج ہیں، یا یہ بھی معلوم کیا جائے کہ ان بچوں کے ساتھ اسکول میں داخل ہونے کے بعد کیا ہوا؟

    نادرا سے منسلک منفرد طالب علم شناخت، سیمس کے طویل عرصے سے جاری تعلیمی ڈیٹا اور سامرس کی ڈیجیٹل حاضری کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش اسی دوسرے سوال کا جواب تلاش کرنے کی سمت ایک قدم ہے۔

    اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوتا ہے تو مستقبل میں سندھ کے تعلیمی حکام کے لیے صرف اسکولوں اور داخلوں کے اعداد و شمار دیکھنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ وہ زیادہ واضح طور پر یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ کون سا بچہ تعلیمی نظام میں داخل ہوا، اس نے کتنا سفر طے کیا، کہاں رکا، کہاں اسکول تبدیل کیا اور کس مرحلے پر تعلیم سے باہر ہوگیا۔

    یوں کاغذی رجسٹر میں درج ایک نام کو ایک مسلسل ڈیجیٹل تعلیمی شناخت میں تبدیل کرنے کی کوشش دراصل سندھ کے تعلیمی نظام کو اندازوں کے بجائے زیادہ منظم اور قابل استعمال ڈیٹا کی بنیاد پر چلانے کی کوشش ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں خبر صرف خبر نہیں، اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آتی ہے۔

  • انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر ‘کاکروچوں’ کا ملک گیر احتجاج کامیاب، بھارتی وفاقی وزیر تعلیم مستعفی

    انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر ‘کاکروچوں’ کا ملک گیر احتجاج کامیاب، بھارتی وفاقی وزیر تعلیم مستعفی

    انڈیا کے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ملک بھر میں جاری طلبہ اور نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیر تعلیم کے استعفے کو نوجوان مظاہرین کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو کئی ہفتوں سے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس خدشے کے پیش نظر کہ کوئی ملک دشمن عناصر اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھائیں، انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور جائز توقعات کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قدم ملک کے مفاد میں ہے۔

    وزیر تعلیم کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کرنے والے ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی اور اسے اپنی جدوجہد کی اہم کامیابی قرار دیا۔

    یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا تھا جب ملک کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے ہونے والے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے۔ ان واقعات نے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ بار بار پرچے لیک ہونے سے میرٹ کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔

    احتجاج کی قیادت بڑی حد تک نوجوان طلبہ کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے، پرچے لیک کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس بحران کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم مستعفی ہوں۔

    اس احتجاجی تحریک کا ایک منفرد پہلو "کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے سامنے آنے والی نوجوانوں کی تنظیم تھی۔ یہ تحریک ابتدا میں ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب انڈیا کے چیف جسٹس نے ایک عدالتی سماعت کے دوران بعض بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں "کاکروچ” کا لفظ استعمال کیا۔ نوجوانوں نے اسی لفظ کو احتجاج کی علامت بنا لیا اور اسے حکومت سے جواب دہی اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کی ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں تک پہنچ گئی۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں نوجوان احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے اور حکومت پر امتحانی نظام میں اصلاحات لانے کے لیے دباؤ بڑھاتے رہے۔

    وزیر تعلیم کے استعفے سے چند گھنٹے قبل نئی دہلی میں ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ پولیس نے دارالحکومت کے جنتر منتر کے علاقے میں جمع ہونے والے نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس کارروائی کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور بھی متوقع تھا، تاہم اس سے پہلے ہی وزیر تعلیم نے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا۔

    حکومت نے احتجاج کو محدود کرنے کے لیے نئی دہلی میں کئی سخت اقدامات بھی کیے۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس محدود کر دی گئی جبکہ میٹرو کے 18 اسٹیشنوں تک عوام کی رسائی بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تاکہ مزید لوگوں کو احتجاجی مقامات تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

    نوجوانوں کے غصے میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے بھی فائر کیے۔ ان کارروائیوں میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جس کے بعد احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا اور مختلف ریاستوں میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج صرف امتحانی پرچوں کے لیک ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بدعنوانی، میرٹ کی پامالی اور حکومتی جواب دہی جیسے وسیع تر مسائل کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف امتحانی اصلاحات ہی نہیں بلکہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں شفافیت، انصاف اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا ہے، کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج نے نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں حکومت کو امتحانی نظام میں اصلاحات اور نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر احتجاج کی نئی لہر دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔

  • سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کے لیے رائج قدیم نمبر سسٹم ختم کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے کیا۔

    صوبائی وزیر کے مطابق یہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کو آرڈینیشن کمیشن کی وفاقی سطح پر طے کی گئی پالیسی کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو یکساں بنانا اور طلبہ کی کارکردگی کو زیادہ منصفانہ اور شفاف انداز میں جانچنا ہے۔

    نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق صوبے بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا۔ رواں سال 2026 میں نہم اور گیارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ون اور ایچ ایس ایس سی ون کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس نظام کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد سال 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ٹو اور ایچ ایس ایس سی ٹو کے سالانہ امتحانات پر بھی یہی نظام لاگو کیا جائے گا۔

    نئی پالیسی کے تحت اب طلبہ کی کارکردگی نمبروں کے بجائے گریڈز کی صورت میں ظاہر کی جائے گی۔ منظور شدہ گریڈنگ اسٹرکچر کے مطابق، اے پلس پلس 96 سے 100 فیصد، اے پلس 91 سے 95 فیصد، اے 86 سے 90 فیصد، بی پلس پلس 81 سے 85 فیصد، بی پلس 76 سے 80 فیصد، بی 71 سے 75 فیصد، سی پلس 61 سے 70 فیصد، سی 51 سے 60 فیصد، ڈی 40 سے 50 فیصد، جبکہ یو 40 فیصد سے کم پر فیل تصور کیا جائے گا۔

    صوبائی وزیر جامعات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ جو طلبہ کسی بھی مضمون میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے انہیں یو یعنی ان گریڈڈ یا فیل قرار دیا جائے گا۔

    تاہم ایسے طلبہ کے لیے اسی مضمون میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔

    نئے گریڈنگ نظام کو سمجھنے کے لیے ایک مجموعی مثال بھی سامنے رکھی گئی ہے۔ اگر کسی طالب علم کے مجموعی نمبرز 800 میں سے 560 ہوں تو اس کا فیصد (560 تقسیم 800 ضرب 100) کے مطابق 70 فیصد بنتا ہے، اور اس بنیاد پر اسے سی پلس گریڈ دیا جائے گا۔ یہی طریقہ تمام مضامین کے مجموعی نتائج پر لاگو ہوگا۔

    محمد اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد نمبروں کی غیر ضروری دوڑ ختم کرنا اور طلبہ کی مجموعی تعلیمی کارکردگی کو نمایاں کرنا ہے، تاکہ ذہنی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

    صوبائی وزیر کے مطابق تمام تعلیمی بورڈز میں گریڈنگ سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا، تاکہ قومی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے درمیان نتائج کا تقابلی نظام بہتر بنایا جا سکے۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئی تعلیمی پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ تعلیمی بورڈز کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے مطابق طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے مرحلہ وار رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ نئے نظام کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔