Tag: طلبہ

  • انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر ‘کاکروچوں’ کا ملک گیر احتجاج کامیاب، بھارتی وفاقی وزیر تعلیم مستعفی

    انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر ‘کاکروچوں’ کا ملک گیر احتجاج کامیاب، بھارتی وفاقی وزیر تعلیم مستعفی

    انڈیا کے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ملک بھر میں جاری طلبہ اور نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیر تعلیم کے استعفے کو نوجوان مظاہرین کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو کئی ہفتوں سے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس خدشے کے پیش نظر کہ کوئی ملک دشمن عناصر اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھائیں، انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور جائز توقعات کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قدم ملک کے مفاد میں ہے۔

    وزیر تعلیم کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کرنے والے ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی اور اسے اپنی جدوجہد کی اہم کامیابی قرار دیا۔

    یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا تھا جب ملک کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے ہونے والے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے۔ ان واقعات نے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ بار بار پرچے لیک ہونے سے میرٹ کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔

    احتجاج کی قیادت بڑی حد تک نوجوان طلبہ کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے، پرچے لیک کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس بحران کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم مستعفی ہوں۔

    اس احتجاجی تحریک کا ایک منفرد پہلو "کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے سامنے آنے والی نوجوانوں کی تنظیم تھی۔ یہ تحریک ابتدا میں ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب انڈیا کے چیف جسٹس نے ایک عدالتی سماعت کے دوران بعض بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں "کاکروچ” کا لفظ استعمال کیا۔ نوجوانوں نے اسی لفظ کو احتجاج کی علامت بنا لیا اور اسے حکومت سے جواب دہی اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کی ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں تک پہنچ گئی۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں نوجوان احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے اور حکومت پر امتحانی نظام میں اصلاحات لانے کے لیے دباؤ بڑھاتے رہے۔

    وزیر تعلیم کے استعفے سے چند گھنٹے قبل نئی دہلی میں ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ پولیس نے دارالحکومت کے جنتر منتر کے علاقے میں جمع ہونے والے نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس کارروائی کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور بھی متوقع تھا، تاہم اس سے پہلے ہی وزیر تعلیم نے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا۔

    حکومت نے احتجاج کو محدود کرنے کے لیے نئی دہلی میں کئی سخت اقدامات بھی کیے۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس محدود کر دی گئی جبکہ میٹرو کے 18 اسٹیشنوں تک عوام کی رسائی بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تاکہ مزید لوگوں کو احتجاجی مقامات تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

    نوجوانوں کے غصے میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے بھی فائر کیے۔ ان کارروائیوں میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جس کے بعد احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا اور مختلف ریاستوں میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج صرف امتحانی پرچوں کے لیک ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بدعنوانی، میرٹ کی پامالی اور حکومتی جواب دہی جیسے وسیع تر مسائل کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف امتحانی اصلاحات ہی نہیں بلکہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں شفافیت، انصاف اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا ہے، کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج نے نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں حکومت کو امتحانی نظام میں اصلاحات اور نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر احتجاج کی نئی لہر دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔

  • سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کے لیے رائج قدیم نمبر سسٹم ختم کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے کیا۔

    صوبائی وزیر کے مطابق یہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کو آرڈینیشن کمیشن کی وفاقی سطح پر طے کی گئی پالیسی کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو یکساں بنانا اور طلبہ کی کارکردگی کو زیادہ منصفانہ اور شفاف انداز میں جانچنا ہے۔

    نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق صوبے بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا۔ رواں سال 2026 میں نہم اور گیارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ون اور ایچ ایس ایس سی ون کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس نظام کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد سال 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ٹو اور ایچ ایس ایس سی ٹو کے سالانہ امتحانات پر بھی یہی نظام لاگو کیا جائے گا۔

    نئی پالیسی کے تحت اب طلبہ کی کارکردگی نمبروں کے بجائے گریڈز کی صورت میں ظاہر کی جائے گی۔ منظور شدہ گریڈنگ اسٹرکچر کے مطابق، اے پلس پلس 96 سے 100 فیصد، اے پلس 91 سے 95 فیصد، اے 86 سے 90 فیصد، بی پلس پلس 81 سے 85 فیصد، بی پلس 76 سے 80 فیصد، بی 71 سے 75 فیصد، سی پلس 61 سے 70 فیصد، سی 51 سے 60 فیصد، ڈی 40 سے 50 فیصد، جبکہ یو 40 فیصد سے کم پر فیل تصور کیا جائے گا۔

    صوبائی وزیر جامعات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ جو طلبہ کسی بھی مضمون میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے انہیں یو یعنی ان گریڈڈ یا فیل قرار دیا جائے گا۔

    تاہم ایسے طلبہ کے لیے اسی مضمون میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔

    نئے گریڈنگ نظام کو سمجھنے کے لیے ایک مجموعی مثال بھی سامنے رکھی گئی ہے۔ اگر کسی طالب علم کے مجموعی نمبرز 800 میں سے 560 ہوں تو اس کا فیصد (560 تقسیم 800 ضرب 100) کے مطابق 70 فیصد بنتا ہے، اور اس بنیاد پر اسے سی پلس گریڈ دیا جائے گا۔ یہی طریقہ تمام مضامین کے مجموعی نتائج پر لاگو ہوگا۔

    محمد اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد نمبروں کی غیر ضروری دوڑ ختم کرنا اور طلبہ کی مجموعی تعلیمی کارکردگی کو نمایاں کرنا ہے، تاکہ ذہنی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

    صوبائی وزیر کے مطابق تمام تعلیمی بورڈز میں گریڈنگ سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا، تاکہ قومی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے درمیان نتائج کا تقابلی نظام بہتر بنایا جا سکے۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئی تعلیمی پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ تعلیمی بورڈز کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے مطابق طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے مرحلہ وار رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ نئے نظام کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔