[rank_math_breadcrumb]

سندھ کے طلبہ کی ڈیجیٹل شناخت کا نیا نظام، داخلے سے تعلیمی سفر تک ہر ریکارڈ ایک شناخت سے منسلک ہوگا

سندھ میں کسی سرکاری یا حکومت سے معاونت حاصل کرنے والے اسکول میں داخل ہونے والے بچے کا تعلیمی ریکارڈ اب صرف کاغذی رجسٹر یا اسکول کی الگ فائل تک محدود رکھنے کے بجائے ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت کے ساتھ منسلک کرنے کی جانب بڑھایا جارہا ہے۔

سندھ حکومت نے طلبہ کے داخلہ ریکارڈ کو نادرا کے ب فارم سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر طالب علم کے لیے ایک منفرد داخلہ شناخت تیار کرنے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے اس کے تعلیمی سفر کا ریکارڈ ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل میں برقرار رکھا جاسکے گا۔ سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے جولائی 2026 میں نادرا کے حکام کے ساتھ اجلاس میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

اس مجوزہ نظام میں طالب علم کے داخلے، حاضری، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اسکول کی تبدیلی جیسے معاملات کو ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت کے مطابق نادرا سے منسلک شناخت کا مقصد جعلی اور ایک سے زیادہ داخلوں کی نشاندہی، طویل عرصے تک غیر حاضر رہنے والے بچوں کی شناخت اور اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار طلبہ کی بروقت نشاندہی میں مدد حاصل کرنا بھی ہے۔

یہ منصوبہ سندھ کے تعلیمی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے ایک بڑے عمل کا حصہ ہے، تاہم صوبے میں تعلیمی اعداد و شمار کو منظم کرنے کا نظام نیا نہیں۔

سندھ ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، جسے سیمس کہا جاتا ہے، 1991 سے صوبے کے سرکاری اسکولوں سے تعلیمی اعداد و شمار جمع کرنے کا کام کررہا ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق سالانہ اسکول مردم شماری کے ذریعے طلبہ کے داخلوں، اساتذہ، اسکولوں اور تعلیمی سہولیات سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ سیمس کے تحت ہر سرکاری اسکول کو ایک مخصوص کوڈ بھی دیا گیا ہے، جس کے ساتھ اسکول سے متعلق مختلف معلومات مربوط کی جاتی ہیں۔

یعنی سیمس بنیادی طور پر اسکول اور تعلیمی نظام کا ڈیٹا مرتب کرنے کا ایک پرانا انتظامی ڈھانچہ ہے، جبکہ نادرا سے منسلک طالب علم کی منفرد شناخت اس نظام کو بچے کی انفرادی شناخت سے جوڑنے کی ایک نئی کوشش ہے۔

یہ فرق اہم ہے۔

اب تک تعلیمی منصوبہ بندی کے لیے حکومت کے پاس اسکولوں، طلبہ کے داخلوں، اساتذہ اور سہولیات سے متعلق سالانہ اعداد و شمار موجود رہے ہیں۔ لیکن جب کسی طالب علم کو ب فارم سے منسلک ایک منفرد شناخت کے ساتھ ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا جائے گا تو ایک ہی بچے کے مختلف تعلیمی ریکارڈ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔

مثلاً ایک بچہ ایک اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا داخلہ ریکارڈ ڈیجیٹل پروفائل کا حصہ بنتا ہے۔ بعد میں وہ اگلی جماعت میں جاتا ہے، اسکول تبدیل کرتا ہے یا طویل عرصے تک غیر حاضر رہتا ہے تو اس کی معلومات اسی شناخت کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔

اس طرح حکومت کے لیے یہ جاننا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے کہ کتنے بچے اسکول میں داخل ہوئے، کتنے اپنی اگلی جماعت میں پہنچے، کتنے نے اسکول تبدیل کیا، کتنے طویل عرصے تک غیر حاضر رہے اور کتنے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہوگئے۔

اسی سلسلے میں سندھ میں طلبہ کی حاضری کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریسل سسٹم، یعنی سامرس، پہلے ہی متعارف کرایا جاچکا ہے۔

سامرس کا مقصد صرف روزانہ حاضری درج کرنا نہیں بلکہ حاضری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ایسے طلبہ کی نشاندہی کرنا بھی ہے جو مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں یا اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

سامرس میں طلبہ کی رجسٹریشن، حاضری، جماعت میں ترقی، منفرد طالب علم شناخت اور کیو آر کوڈ بنانے جیسی سہولیات شامل ہیں۔ طلبہ کی حاضری کے روزانہ، ماہانہ اور سالانہ ریکارڈ تیار کیے جاسکتے ہیں، جبکہ طویل غیر حاضری کی صورت میں والدین کو پیغام، ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دینے کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔

اگست 2026 تک سامرس 3,647 سرکاری اسکولوں تک توسیع پاچکا تھا، جبکہ حکومت نے اپریل 2027 تک صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کو اس نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یہاں نادرا سے منسلک طالب علم شناخت کا منصوبہ اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ حاضری کے نظام میں موجود طالب علم کا ریکارڈ اگر تصدیق شدہ شناخت کے ساتھ مربوط ہوجائے تو تعلیمی نظام کے مختلف حصوں میں موجود ڈیٹا کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔

اس کا ایک مقصد ڈپلیکیٹ داخلوں کی روک تھام بھی ہے۔

اگر ایک ہی بچے کا ریکارڈ مختلف اسکولوں میں موجود ہو تو منفرد شناخت کے ذریعے ایسے ریکارڈ کی نشاندہی ممکن ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو یہ معلوم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ کسی علاقے میں داخلوں کے اعداد و شمار حقیقی طلبہ کی تعداد کی عکاسی کررہے ہیں یا ان میں ایسے ریکارڈ بھی شامل ہیں جن کی مزید تصدیق ضروری ہے۔

یہ معاملہ صرف داخلوں کی گنتی تک محدود نہیں۔

تعلیمی منصوبہ بندی میں درست اعداد و شمار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر حکومت کو کسی ضلع، تعلقہ یا علاقے میں موجود طلبہ کی زیادہ درست تعداد معلوم ہو تو اسکولوں، اساتذہ، کلاس رومز اور دیگر تعلیمی سہولیات کی ضرورت کا اندازہ بھی زیادہ بہتر بنیاد پر لگایا جاسکتا ہے۔

سندھ حکومت کے مطابق سیمس کا بنیادی مقصد بھی تعلیم کے شعبے میں انتظامی، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے لیے معلومات فراہم کرنا ہے۔ سالانہ اسکول مردم شماری میں طلبہ کے داخلوں، اساتذہ اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات شامل کی جاتی ہیں۔

اب نیا نظام اسی ڈیٹا کو طالب علم کی منفرد شناخت سے جوڑنے کی کوشش ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بچے کا مکمل تعلیمی ریکارڈ پہلے ہی نادرا کے ڈیٹا بیس میں منتقل ہوچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ منصوبہ نادرا کے ساتھ تعلیمی ڈیٹا کے انضمام، منفرد طالب علم شناخت اور صوبے بھر میں اس کے نفاذ کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے مکمل طور پر نافذ شدہ نظام کے بجائے جاری ڈیجیٹل اصلاحات کے حصے کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

اس پورے عمل کا ایک اور اہم پہلو طالب علم کا اسکول چھوڑنا ہے۔

اگر حاضری، جماعت، تعلیمی کارکردگی اور اسکول منتقلی کا ڈیٹا ایک ہی طالب علم کی شناخت سے مسلسل منسلک ہو تو حکومت کو یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بچے کس مرحلے پر تعلیمی نظام سے باہر ہورہے ہیں۔

مثلاً کسی طالب علم کی حاضری مسلسل کم ہوتی ہے تو نظام اسے خطرے سے دوچار طالب علم کے طور پر نشان زد کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اسکول اور متعلقہ حکام والدین سے رابطہ کرکے غیر حاضری کی وجوہ جاننے اور بچے کو دوبارہ اسکول میں رکھنے کے لیے اقدامات کرسکتے ہیں۔

اس نظام کے عملی نتائج کا انحصار، تاہم، صرف ٹیکنالوجی پر نہیں ہوگا۔

ڈیٹا درست درج ہونا، بچوں کی شناخت کی مناسب تصدیق، مختلف تعلیمی نظاموں کے درمیان درست انضمام، اسکولوں میں انٹرنیٹ اور آلات کی دستیابی اور اساتذہ و انتظامی عملے کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہوگی۔

اسی طرح بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا سوال بھی اہم ہے۔ جب تعلیمی ریکارڈ کسی بچے کی سرکاری شناخت سے منسلک کیا جائے گا تو اس ڈیٹا تک رسائی، استعمال، تحفظ اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے واضح ضابطے ضروری ہوں گے۔

سندھ میں پہلے ہی مختلف تعلیمی نظاموں کو باہم مربوط کرنے کی کوشش جاری ہے۔ محکمہ تعلیم نے صوبائی تعلیمی ڈیٹا نظام کے لیے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سامرس کو صوبائی تعلیمی ڈیٹا نظام کے ساتھ مربوط کرنا تھا۔

یوں دیکھا جائے تو سندھ میں تعلیم کی ڈیجیٹلائزیشن کا اگلا مرحلہ صرف یہ نہیں کہ اسکول کا رجسٹر کمپیوٹر پر منتقل کردیا جائے۔

اصل تبدیلی یہ ہے کہ ایک بچے کے بارے میں مختلف مقامات پر موجود معلومات کو ایک مسلسل تعلیمی شناخت کے ساتھ جوڑا جائے۔

داخلہ، حاضری، جماعت میں ترقی، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اسکول کی تبدیلی اگر ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل کا حصہ بن جائیں تو حکومت کے پاس تعلیمی نظام کی ایک زیادہ مربوط تصویر آسکتی ہے۔

اور یہی اس منصوبے کا بنیادی سوال بھی ہے کہ سندھ میں صرف یہ معلوم کیا جائے کہ کتنے بچے اسکول میں درج ہیں، یا یہ بھی معلوم کیا جائے کہ ان بچوں کے ساتھ اسکول میں داخل ہونے کے بعد کیا ہوا؟

نادرا سے منسلک منفرد طالب علم شناخت، سیمس کے طویل عرصے سے جاری تعلیمی ڈیٹا اور سامرس کی ڈیجیٹل حاضری کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش اسی دوسرے سوال کا جواب تلاش کرنے کی سمت ایک قدم ہے۔

اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوتا ہے تو مستقبل میں سندھ کے تعلیمی حکام کے لیے صرف اسکولوں اور داخلوں کے اعداد و شمار دیکھنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ وہ زیادہ واضح طور پر یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ کون سا بچہ تعلیمی نظام میں داخل ہوا، اس نے کتنا سفر طے کیا، کہاں رکا، کہاں اسکول تبدیل کیا اور کس مرحلے پر تعلیم سے باہر ہوگیا۔

یوں کاغذی رجسٹر میں درج ایک نام کو ایک مسلسل ڈیجیٹل تعلیمی شناخت میں تبدیل کرنے کی کوشش دراصل سندھ کے تعلیمی نظام کو اندازوں کے بجائے زیادہ منظم اور قابل استعمال ڈیٹا کی بنیاد پر چلانے کی کوشش ہے۔

ساگا ڈیجیٹل
جہاں خبر صرف خبر نہیں، اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آتی ہے۔

اسی بارے میں: