جب ہم برصغیر پاک و ہند کی قدیم تاریخ کے ورق الٹتے ہیں تو سندھ اور گجرات، خصوصاً کچھ اور کاٹھیاواڑ، کے درمیان کا جغرافیائی اور ثقافتی رشتہ کسی سرحدی لکیر کا مرہونِ منت نظر نہیں آتا۔
بحرِ ہند کے نیلگوں پانی، رن آف کچھ کا وسیع نمکین صحرا اور خشکی و بحری قدیم تجارتی شاہراہیں ان دونوں خطوں کو ہزاروں برس سے ایک ہی لڑی میں پروئے رکھتی آئی ہیں۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس نے محض تجارت کو ہی نہیں بلکہ زبان، لوک روایات، زراعت، تعمیرات اور باہمی رشتہ داریوں کو بھی ایک سچی یکسانیت بخشی ہے۔
آج بھی کراچی کی سڑکوں پر گونجتی کچھی، میمنی اور گجراتی زبان کی مٹھاس اس ہزار سالہ قدیم داستان کا زندہ اور دھڑکتا ہوا ثبوت ہے۔
وادیٔ سندھ کی تہذیب: گجرات اور سندھ کے مشترکہ قدیم آثار
تاریخِ عالم میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کو ایک ایسا مرکزِ ارتقا حاصل ہے جس کی شاخیں سندھ سے نکل کر گجرات اور کاٹھیاواڑ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ باغات، منصوبہ بند شہروں اور اعلیٰ درجے کے نظامِ آبپاشی کا جو نمونہ ہمیں موہن جو دڑو اور ہڑپہ میں ملتا ہے، وہی گجرات کے خطے میں بھی اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔
گجرات میں اب تک وادیٔ سندھ کے 500 سے زائد قدیم مقامات دریافت ہو چکے ہیں، جن میں درج ذیل مقامات کو عالمی تاریخ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے:
ڈھولا ویرا، رن آف کچھ: رن آف کچھ کے علاقے میں واقع ڈھولا ویرا وادیٔ سندھ کا پانچواں بڑا اور تعمیری لحاظ سے سب سے منفرد شہر شمار ہوتا ہے۔ یہاں پتھر کے عظیم الشان حصار، انوکھا آبی انتظام اور دنیا کا قدیم ترین سائن بورڈ دریافت ہوا، جو اس دور کے اعلیٰ شہری شعور کی گواہی دیتا ہے۔
لوتھل: خلیجِ کھمبات کے قریب واقع لوتھل کو دنیا کی قدیم ترین مصنوعی گودی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ لوتھل کی بندرگاہ کے ذریعے سندھ کی شاہراہوں سے آنے والا مال بین النہرین، مصر اور خلیج فارس تک بھیجا جاتا تھا۔
سرکوٹڈا اور روزدی، سوراشٹرا، کاٹھیاواڑ:
یہ مقامات تجارت، زراعت اور جانوروں کو پالنے کے قدیم مراکز تھے، جو سندھ اور گجرات کے درمیان معاشی روانی کا سبب بنتے تھے۔
یہ مقامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہزاروں سال پہلے گجرات اور سندھ محض دو ہمسائے نہیں بلکہ ایک ہی تہذیبی و اقتصادی اکائی کا حصہ تھے۔

بحری روابط اور سمندری تجارت کی قدیم شاہراہ
سندھ کی تاریخی بندرگاہیں، جیسے دیبل، بنبھور اور لاڑی بندر، کاٹھیاواڑ اور گجرات کی پوربندر، مانڈوی اور سورت جیسی بندرگاہوں سے براہِ راست جڑی ہوئی تھیں۔ بحرِ ہند میں چلنے والی موسمی ہوائیں تاجروں اور ملاحوں کے جہازوں کو ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک آسانی سے پہنچاتی تھیں۔
کپاس، نیل، مصالحہ جات، گھوڑے، ہاتھی دانت اور شیشے کے ظروف کی تجارت نے دونوں علاقوں کے معاشی دھارے کو یکجا کر رکھا تھا۔ اس سمندری راستے کے باعث نہ صرف سامان بلکہ افکار، تہذیب اور مذہبی عقائد بھی ایک دوسرے کے ہاں منتقل ہوتے رہے۔
باہمی لوک روایات، رزمیہ داستانیں اور شاہ لطیف کی شاعری
سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام سندھ اور گجرات، خصوصاً کاٹھیاواڑ، کی مشترکہ لوک و رزمیہ روایات کا بہترین عکاس ہے۔ شاہ جو رسالو کے اہم سر، جیسے ‘سر سورٹھ’، ‘سر کاموڈ’ اور ‘سر کھمبات’، کا براہِ راست تعلق گجرات اور کاٹھیاواڑ کی جغرافیائی و ثقافتی فضا سے ہے۔
کاٹھیاواڑ کے راجہ رائے ڈیاچ اور راجکماری سورٹھ کی داستان ہو یا راجستھان و گجرات کی سرحدوں پر پھیلی مومل رانو اور عمر ماروی کی لوک روایات، شاہ لطیف نے ان گجراتی و کاٹھیاواڑی داستانوں کو صوفیانہ اور روحانی مفہوم عطا کر کے لازوال بنا دیا۔ دوسری طرف گجراتی اور کچھی لوک شاعری میں بھی یہی بیت، کافیاں اور رزمیہ نظمیں، گربا، دوہا اور سورٹھا، یکساں بحروں اور تانوں کے ساتھ گائی جاتی ہیں۔
گجرات کے ساحلی علاقوں کے جت فقیروں اور کاٹھیاواڑ کے لوک فنکاروں، چارنوں اور بھاٹوں، کے گائے ہوئے دوہے اور شاہ لطیف کے بیت نہ صرف اسلوب و وزن میں ایک دوسرے کے قریب ہیں بلکہ دونوں میں ہجر، وصال، سخاوت اور وطن دوستی کے جذباتی مضامین بالکل ایک ہی صوفیانہ و عوامی جذبے سے دھڑکتے نظر آتے ہیں۔
رائے ڈیاچ اور سورٹھ: کاٹھیاواڑ کے راجہ رائے ڈیاچ اور راجکماری سورٹھ کی یہ لازوال داستان سخاوت، موسیقی اور قربانی کا شاہکار ہے۔ شاہ لطیف کا ‘سر سورٹھ’ اسی گجراتی اور کاٹھیاواڑی داستان کو سندھی شاعری کا اوجِ ثانی بناتا ہے، جہاں ایک فقیر، بیجل، کے ساز پر راجہ اپنا سر قلم کر کے تحفے میں دے دیتا ہے۔
عمر ماروی: ماروی کی حب الوطنی اور اپنے صحرائی وطن تھر سے محبت کی داستان سندھ سے شروع ہو کر راجستھان اور گجرات کے سرحدی علاقوں تک یکساں عقیدت سے گائی جاتی ہے۔
سسئی پنھوں اور مومل رانو: ان روایات میں سندھ، مکران، کاٹھیاواڑ اور راجستھان کے تجارتی قافلوں اور صحرائی راستوں کا جابجا ذکر ملتا ہے، جو اس خطے کے مشترکہ جذباتی اور روایتی تعلق کا پتہ دیتا ہے۔
لسانی اور قبائلی پیوند: کچھی زبان اور مشترکہ برادریاں
سندھ اور گجرات کے درمیان لسانی تعلق کی سب سے مضبوط کڑی کچھی زبان ہے۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق کچھی دراصل سندھی زبان کا ہی ایک لہجہ ہے، جو گجراتی زبان کے اثرات کو جذب کر کے ایک الگ خوبصورت صورت اختیار کر گیا۔
قبائلی ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو دونوں خطوں میں آباد برادریاں ایک ہی شجرۂ نسب سے منسلک نظر آتی ہیں:
سومرا اور سمہ: سندھ میں حکومت کرنے والے یہ حکمران خاندان گجرات اور کچھ کے علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ جاڑیجا راجپوت انہی کی شاخیں شمار ہوتی ہیں۔
میمن، لوہانہ اور کوہلی: یہ تمام برادریاں صدیوں سے تجارتی و زراعت کے سلسلے میں سندھ، کچھ اور کاٹھیاواڑ کے درمیان آمدورفت رکھتی رہی ہیں۔
اجرک اور کھونبی: کپڑے پر بلاک پرنٹنگ، اجرک، اور ٹائی اینڈ ڈائی، کھونبی، کی صنعت دونوں خطوں کے ہنرمندوں کے مشترکہ ذوق اور فن کی گواہی دیتی ہے۔
سندھ اور کچھ، گجرات، کی سرحدوں پر آباد مقامی صحرائی و مالدار برادریاں: ریباڑی اور جت برادری کی بابت
سندھ اور کچھ، گجرات، کے بیابانوں، صحرائے تھر اور رن آف کچھ کی نمکین سرحدوں پر آباد ریباڑی، رباری، اور جت برادریاں ان دونوں خطوں کے ہزار سالہ نامیاتی اور ثقافتی رشتے کی سب سے بیدار مثالیں ہیں۔ یہ دونوں مالدار اور صحرائی قبائل صدیوں سے اونٹ اور مویشی پالنے، صحرائی ہجرت اور صحرائی زراعت کی روایات کے ذریعے سندھ اور گجرات کی جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرتے آئے ہیں۔
ریباڑی، رباری، برادری: ریباڑی برادری کو صحرائے تھر اور کچھ کی قدیم ترین چرواہا اور اونٹ پال برادری مانا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اپنے روایتی اور منفرد سیاہ و سرخ لباس، چاندی کے بھاری زیورات، جسم پر گہرے ٹیٹو اور سو فیصد قدرتی بلاک پرنٹنگ و کڑھائی، کچھی اور تھری کڑھائی، کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے۔
رن آف کچھ کے دونوں اطراف، سندھ کے تھرپارکر، بدین اور سجاول اضلاع سے لے کر کچھ کے بھوج اور انجار تک، ان کی ہجرت کا سلسلہ تاریخی طور پر جاری رہا ہے۔ ریباڑی قوم نہ صرف مال مویشی کی پرورش اور صحرائی ماحولیات کی محافظ ہے بلکہ ان کی دستکاری اور کڑھائی کا فن سندھ اور گجرات کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی ریڑھ کی ہڈی شمار ہوتا ہے۔
جت برادری: کچھ اور سندھ کی ساحلی و صحرائی پٹی، خصوصاً دریائے سندھ کے ڈیلٹا، سجاول، ٹھٹہ اور کچھ کے لکھپت و بننی کے علاقوں، میں آباد مقامی جت برادری بنیادی طور پر اونٹ بانی اور ساحلی مینگروو کے جنگلات کی دیکھ بھال سے وابستہ رہی ہے۔ کچھ اور سندھ کے جت اونٹوں کی ایک خصوصی نسل، ‘کچھی اونٹ’ اور ‘فقرانی اونٹ’، پالنے میں مہارت رکھتے ہیں، جو سمندری پانی میں تیر کر مینگرووز کے جزیروں تک چرنے کے لیے جاتے ہیں۔
جت برادری کی خواتین اپنے مخصوص روایتی زیورات، جیسے ناک کی بڑی نتھ، اور نفیس کپڑے کی کڑھائی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان کی مادری زبان کاٹھیاواڑی، کچھی اور ڈیلٹائی سندھی کا ایک دلکش امتزاج ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اور جغرافیائی سرحدوں کے باوجود ان قبائل کی زندگی، روزگار اور روایات کا محور سندھ اور گجرات کے ساحل اور صحرا ہی رہے ہیں۔ اس برادری کے اکثر مرد اور خواتین زمانۂ قدیم سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے حافظ اور مولود پڑھنے کے ماہر ہوتے ہیں۔
کراچی: کاٹھیاواڑی، کچھی اور گجراتی برادریوں کا تاریخی مسکن
جدید دور میں سندھ اور گجرات کے اس تاریخی تعلق کی سب سے روشن اور بیدار مثال سندھ کا دل کراچی ہے۔ زمانۂ قدیم، خاص طور پر اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں، انگریز دور کے آغاز پر جب کراچی کو ایک تجارتی بندرگاہ کے طور پر تیار کیا جا رہا تھا تو گجرات، کچھ اور کاٹھیاواڑ سے بڑی تعداد میں تاجر، معمار، سمندری محنت کش اور دستکار یہاں آ کر آباد ہوئے۔ 1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت بھی ان برادریوں کی بڑی تعداد نے کراچی کو ہی اپنا مستقل مسکن بنایا۔
آج کراچی کا سماجی، معاشی اور ثقافتی تانا بانا ان برادریوں کے بغیر ادھورا ہے:
کچھی برادری
کراچی کے قدیم ترین علاقوں، جیسے کیماڑی، جزائر بابا بھٹ، لیاری، کھارادر، مٹھادر، ملیر، چاکیواڑہ، کمبھار واڑہ، لی مارکیٹ اور جونا مارکیٹ، میں کچھی برادری صدیوں سے آباد ہے۔
پیشہ ورانہ شناخت: یہ برادری بنیادی طور پر سمندری تجارت، ماہی گیری، تعمیراتی صنعت اور چھوٹے کاروباری طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔
ثقافت: لیاری میں کچھی زبان و ثقافت آج بھی رچی بسی ہے۔ ان کی شادی بیاہ کی رسومات، لوک موسیقی اور کھانے سندھی و کچھی روایات کا خوبصورت آمیزہ ہیں۔
کاٹھیاواڑی برادری: کاٹھیاواڑ، سورت، پوربندر، جوناگڑھ، جام نگر اور بھاونگر، سے تعلق رکھنے والے مختلف گروہ کراچی کے متنوع علاقوں میں آباد ہیں۔
کاٹھیاواڑی میمن: کھارادر، مٹھادر، بھیم پورہ، صدر، چاکیواڑہ، جوبلی، حیدرآباد کالونی اور طارق روڈ کے علاقوں میں آباد میمن برادری کراچی کی تجارتی اور رفاہی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی مانی جاتی ہے۔ ان کے قائم کردہ ٹرسٹ، ہسپتال، اسکول اور کاروبار شہر کراچی کی معیشت کے محرک ہیں۔
گجراتی و کاٹھیاواڑی مسلم برادریاں، گھانچی اور دیگر: یہ برادریاں شو مارکیٹ، برنس روڈ، پٹیل پاڑہ، بلدیہ اور گولیمار جیسے پرانے علاقوں میں روزگار اور تجارت سے منسلک ہیں۔
گجراتی بولنے والے پارسی، بوہری اور اسماعیلی برادریاں
کراچی کو ایک جدید شہر بنانے میں گجراتی بولنے والے پارسیوں اور اسماعیلی و بوہرہ برادریوں کا نقشِ اول رہا ہے۔ تعلیم، طب، تعمیرات اور کاروبار میں ان کی خدمات کراچی کی تاریخ کا سنہری باب ہیں۔
کاٹھیاواڑی خوراک اور ثقافتی اثرات
کراچی کی کھانے پینے کی ثقافت پر کاٹھیاواڑی اثرات بے حد نمایاں ہیں:
کاٹھیاواڑی چھولے: برنس روڈ اور کھارادر کے کاٹھیاواڑی چھولے کراچی کی پہچان بن چکے ہیں۔
کچھی، سندھی، بریانی اور گجراتی نمکو اور مٹھائیاں: کھارادر اور پرانے شہر کے علاقوں میں ملنے والے خصوصی پکوان اور ڈشز اس ثقافتی امتزاج کی گواہی دیتے ہیں۔
سندھ اور گجرات کا تعلق محض ماضی کے آثارِ قدیمہ یا لوتھل و ڈھولا ویرا کے کھنڈرات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک حقیقت ہے۔ رن آف کچھ کے سائے میں پنپنے والی اس تاریخ نے انسانی ہجرت، تجارت، ادب اور فنون کا ایک ایسا محکم پل بنایا ہے جس پر وقت کا کوئی طوفان اثر انداز نہیں ہو سکا۔
آج کراچی کی سڑکوں پر بولے جانے والے گجراتی اور کچھی جملے، وہاں کے لذیذ کاٹھیاواڑی کھانے اور تاریخی برادریوں کا شہر کی تعمیر میں کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ اور گجرات کی تاریخی و ثقافتی روح ایک ہی دھاگے میں پروئی ہوئی ہے۔

