Tag: قدیم

  • خطہ سندھ اور گجرات کے لازوال تاریخی، ثقافتی اور تجارتی رشتے: سندھ کی قدیم وادی سے کراچی کی گلیوں تک

    خطہ سندھ اور گجرات کے لازوال تاریخی، ثقافتی اور تجارتی رشتے: سندھ کی قدیم وادی سے کراچی کی گلیوں تک

    جب ہم برصغیر پاک و ہند کی قدیم تاریخ کے ورق الٹتے ہیں تو سندھ اور گجرات، خصوصاً کچھ اور کاٹھیاواڑ، کے درمیان کا جغرافیائی اور ثقافتی رشتہ کسی سرحدی لکیر کا مرہونِ منت نظر نہیں آتا۔

    بحرِ ہند کے نیلگوں پانی، رن آف کچھ کا وسیع نمکین صحرا اور خشکی و بحری قدیم تجارتی شاہراہیں ان دونوں خطوں کو ہزاروں برس سے ایک ہی لڑی میں پروئے رکھتی آئی ہیں۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس نے محض تجارت کو ہی نہیں بلکہ زبان، لوک روایات، زراعت، تعمیرات اور باہمی رشتہ داریوں کو بھی ایک سچی یکسانیت بخشی ہے۔

    آج بھی کراچی کی سڑکوں پر گونجتی کچھی، میمنی اور گجراتی زبان کی مٹھاس اس ہزار سالہ قدیم داستان کا زندہ اور دھڑکتا ہوا ثبوت ہے۔

    وادیٔ سندھ کی تہذیب: گجرات اور سندھ کے مشترکہ قدیم آثار

    تاریخِ عالم میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کو ایک ایسا مرکزِ ارتقا حاصل ہے جس کی شاخیں سندھ سے نکل کر گجرات اور کاٹھیاواڑ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ باغات، منصوبہ بند شہروں اور اعلیٰ درجے کے نظامِ آبپاشی کا جو نمونہ ہمیں موہن جو دڑو اور ہڑپہ میں ملتا ہے، وہی گجرات کے خطے میں بھی اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔

    گجرات میں اب تک وادیٔ سندھ کے 500 سے زائد قدیم مقامات دریافت ہو چکے ہیں، جن میں درج ذیل مقامات کو عالمی تاریخ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے:

    ڈھولا ویرا، رن آف کچھ: رن آف کچھ کے علاقے میں واقع ڈھولا ویرا وادیٔ سندھ کا پانچواں بڑا اور تعمیری لحاظ سے سب سے منفرد شہر شمار ہوتا ہے۔ یہاں پتھر کے عظیم الشان حصار، انوکھا آبی انتظام اور دنیا کا قدیم ترین سائن بورڈ دریافت ہوا، جو اس دور کے اعلیٰ شہری شعور کی گواہی دیتا ہے۔

    لوتھل: خلیجِ کھمبات کے قریب واقع لوتھل کو دنیا کی قدیم ترین مصنوعی گودی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ لوتھل کی بندرگاہ کے ذریعے سندھ کی شاہراہوں سے آنے والا مال بین النہرین، مصر اور خلیج فارس تک بھیجا جاتا تھا۔

    سرکوٹڈا اور روزدی، سوراشٹرا، کاٹھیاواڑ:

    یہ مقامات تجارت، زراعت اور جانوروں کو پالنے کے قدیم مراکز تھے، جو سندھ اور گجرات کے درمیان معاشی روانی کا سبب بنتے تھے۔

    یہ مقامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہزاروں سال پہلے گجرات اور سندھ محض دو ہمسائے نہیں بلکہ ایک ہی تہذیبی و اقتصادی اکائی کا حصہ تھے۔

    بحری روابط اور سمندری تجارت کی قدیم شاہراہ

    سندھ کی تاریخی بندرگاہیں، جیسے دیبل، بنبھور اور لاڑی بندر، کاٹھیاواڑ اور گجرات کی پوربندر، مانڈوی اور سورت جیسی بندرگاہوں سے براہِ راست جڑی ہوئی تھیں۔ بحرِ ہند میں چلنے والی موسمی ہوائیں تاجروں اور ملاحوں کے جہازوں کو ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک آسانی سے پہنچاتی تھیں۔

    کپاس، نیل، مصالحہ جات، گھوڑے، ہاتھی دانت اور شیشے کے ظروف کی تجارت نے دونوں علاقوں کے معاشی دھارے کو یکجا کر رکھا تھا۔ اس سمندری راستے کے باعث نہ صرف سامان بلکہ افکار، تہذیب اور مذہبی عقائد بھی ایک دوسرے کے ہاں منتقل ہوتے رہے۔

    باہمی لوک روایات، رزمیہ داستانیں اور شاہ لطیف کی شاعری

    سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام سندھ اور گجرات، خصوصاً کاٹھیاواڑ، کی مشترکہ لوک و رزمیہ روایات کا بہترین عکاس ہے۔ شاہ جو رسالو کے اہم سر، جیسے ‘سر سورٹھ’، ‘سر کاموڈ’ اور ‘سر کھمبات’، کا براہِ راست تعلق گجرات اور کاٹھیاواڑ کی جغرافیائی و ثقافتی فضا سے ہے۔

    کاٹھیاواڑ کے راجہ رائے ڈیاچ اور راجکماری سورٹھ کی داستان ہو یا راجستھان و گجرات کی سرحدوں پر پھیلی مومل رانو اور عمر ماروی کی لوک روایات، شاہ لطیف نے ان گجراتی و کاٹھیاواڑی داستانوں کو صوفیانہ اور روحانی مفہوم عطا کر کے لازوال بنا دیا۔ دوسری طرف گجراتی اور کچھی لوک شاعری میں بھی یہی بیت، کافیاں اور رزمیہ نظمیں، گربا، دوہا اور سورٹھا، یکساں بحروں اور تانوں کے ساتھ گائی جاتی ہیں۔

    گجرات کے ساحلی علاقوں کے جت فقیروں اور کاٹھیاواڑ کے لوک فنکاروں، چارنوں اور بھاٹوں، کے گائے ہوئے دوہے اور شاہ لطیف کے بیت نہ صرف اسلوب و وزن میں ایک دوسرے کے قریب ہیں بلکہ دونوں میں ہجر، وصال، سخاوت اور وطن دوستی کے جذباتی مضامین بالکل ایک ہی صوفیانہ و عوامی جذبے سے دھڑکتے نظر آتے ہیں۔

    رائے ڈیاچ اور سورٹھ: کاٹھیاواڑ کے راجہ رائے ڈیاچ اور راجکماری سورٹھ کی یہ لازوال داستان سخاوت، موسیقی اور قربانی کا شاہکار ہے۔ شاہ لطیف کا ‘سر سورٹھ’ اسی گجراتی اور کاٹھیاواڑی داستان کو سندھی شاعری کا اوجِ ثانی بناتا ہے، جہاں ایک فقیر، بیجل، کے ساز پر راجہ اپنا سر قلم کر کے تحفے میں دے دیتا ہے۔

    عمر ماروی: ماروی کی حب الوطنی اور اپنے صحرائی وطن تھر سے محبت کی داستان سندھ سے شروع ہو کر راجستھان اور گجرات کے سرحدی علاقوں تک یکساں عقیدت سے گائی جاتی ہے۔

    سسئی پنھوں اور مومل رانو: ان روایات میں سندھ، مکران، کاٹھیاواڑ اور راجستھان کے تجارتی قافلوں اور صحرائی راستوں کا جابجا ذکر ملتا ہے، جو اس خطے کے مشترکہ جذباتی اور روایتی تعلق کا پتہ دیتا ہے۔

    لسانی اور قبائلی پیوند: کچھی زبان اور مشترکہ برادریاں

    سندھ اور گجرات کے درمیان لسانی تعلق کی سب سے مضبوط کڑی کچھی زبان ہے۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق کچھی دراصل سندھی زبان کا ہی ایک لہجہ ہے، جو گجراتی زبان کے اثرات کو جذب کر کے ایک الگ خوبصورت صورت اختیار کر گیا۔

    قبائلی ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو دونوں خطوں میں آباد برادریاں ایک ہی شجرۂ نسب سے منسلک نظر آتی ہیں:

    سومرا اور سمہ: سندھ میں حکومت کرنے والے یہ حکمران خاندان گجرات اور کچھ کے علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ جاڑیجا راجپوت انہی کی شاخیں شمار ہوتی ہیں۔

    میمن، لوہانہ اور کوہلی: یہ تمام برادریاں صدیوں سے تجارتی و زراعت کے سلسلے میں سندھ، کچھ اور کاٹھیاواڑ کے درمیان آمدورفت رکھتی رہی ہیں۔

    اجرک اور کھونبی: کپڑے پر بلاک پرنٹنگ، اجرک، اور ٹائی اینڈ ڈائی، کھونبی، کی صنعت دونوں خطوں کے ہنرمندوں کے مشترکہ ذوق اور فن کی گواہی دیتی ہے۔

    سندھ اور کچھ، گجرات، کی سرحدوں پر آباد مقامی صحرائی و مالدار برادریاں: ریباڑی اور جت برادری کی بابت

    سندھ اور کچھ، گجرات، کے بیابانوں، صحرائے تھر اور رن آف کچھ کی نمکین سرحدوں پر آباد ریباڑی، رباری، اور جت برادریاں ان دونوں خطوں کے ہزار سالہ نامیاتی اور ثقافتی رشتے کی سب سے بیدار مثالیں ہیں۔ یہ دونوں مالدار اور صحرائی قبائل صدیوں سے اونٹ اور مویشی پالنے، صحرائی ہجرت اور صحرائی زراعت کی روایات کے ذریعے سندھ اور گجرات کی جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرتے آئے ہیں۔

    ریباڑی، رباری، برادری: ریباڑی برادری کو صحرائے تھر اور کچھ کی قدیم ترین چرواہا اور اونٹ پال برادری مانا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اپنے روایتی اور منفرد سیاہ و سرخ لباس، چاندی کے بھاری زیورات، جسم پر گہرے ٹیٹو اور سو فیصد قدرتی بلاک پرنٹنگ و کڑھائی، کچھی اور تھری کڑھائی، کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے۔

    رن آف کچھ کے دونوں اطراف، سندھ کے تھرپارکر، بدین اور سجاول اضلاع سے لے کر کچھ کے بھوج اور انجار تک، ان کی ہجرت کا سلسلہ تاریخی طور پر جاری رہا ہے۔ ریباڑی قوم نہ صرف مال مویشی کی پرورش اور صحرائی ماحولیات کی محافظ ہے بلکہ ان کی دستکاری اور کڑھائی کا فن سندھ اور گجرات کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی ریڑھ کی ہڈی شمار ہوتا ہے۔

    جت برادری: کچھ اور سندھ کی ساحلی و صحرائی پٹی، خصوصاً دریائے سندھ کے ڈیلٹا، سجاول، ٹھٹہ اور کچھ کے لکھپت و بننی کے علاقوں، میں آباد مقامی جت برادری بنیادی طور پر اونٹ بانی اور ساحلی مینگروو کے جنگلات کی دیکھ بھال سے وابستہ رہی ہے۔ کچھ اور سندھ کے جت اونٹوں کی ایک خصوصی نسل، ‘کچھی اونٹ’ اور ‘فقرانی اونٹ’، پالنے میں مہارت رکھتے ہیں، جو سمندری پانی میں تیر کر مینگرووز کے جزیروں تک چرنے کے لیے جاتے ہیں۔

    جت برادری کی خواتین اپنے مخصوص روایتی زیورات، جیسے ناک کی بڑی نتھ، اور نفیس کپڑے کی کڑھائی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان کی مادری زبان کاٹھیاواڑی، کچھی اور ڈیلٹائی سندھی کا ایک دلکش امتزاج ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اور جغرافیائی سرحدوں کے باوجود ان قبائل کی زندگی، روزگار اور روایات کا محور سندھ اور گجرات کے ساحل اور صحرا ہی رہے ہیں۔ اس برادری کے اکثر مرد اور خواتین زمانۂ قدیم سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے حافظ اور مولود پڑھنے کے ماہر ہوتے ہیں۔

    کراچی: کاٹھیاواڑی، کچھی اور گجراتی برادریوں کا تاریخی مسکن

    جدید دور میں سندھ اور گجرات کے اس تاریخی تعلق کی سب سے روشن اور بیدار مثال سندھ کا دل کراچی ہے۔ زمانۂ قدیم، خاص طور پر اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں، انگریز دور کے آغاز پر جب کراچی کو ایک تجارتی بندرگاہ کے طور پر تیار کیا جا رہا تھا تو گجرات، کچھ اور کاٹھیاواڑ سے بڑی تعداد میں تاجر، معمار، سمندری محنت کش اور دستکار یہاں آ کر آباد ہوئے۔ 1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت بھی ان برادریوں کی بڑی تعداد نے کراچی کو ہی اپنا مستقل مسکن بنایا۔

    آج کراچی کا سماجی، معاشی اور ثقافتی تانا بانا ان برادریوں کے بغیر ادھورا ہے:

    کچھی برادری

    کراچی کے قدیم ترین علاقوں، جیسے کیماڑی، جزائر بابا بھٹ، لیاری، کھارادر، مٹھادر، ملیر، چاکیواڑہ، کمبھار واڑہ، لی مارکیٹ اور جونا مارکیٹ، میں کچھی برادری صدیوں سے آباد ہے۔

    پیشہ ورانہ شناخت: یہ برادری بنیادی طور پر سمندری تجارت، ماہی گیری، تعمیراتی صنعت اور چھوٹے کاروباری طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔

    ثقافت: لیاری میں کچھی زبان و ثقافت آج بھی رچی بسی ہے۔ ان کی شادی بیاہ کی رسومات، لوک موسیقی اور کھانے سندھی و کچھی روایات کا خوبصورت آمیزہ ہیں۔

    کاٹھیاواڑی برادری: کاٹھیاواڑ، سورت، پوربندر، جوناگڑھ، جام نگر اور بھاونگر، سے تعلق رکھنے والے مختلف گروہ کراچی کے متنوع علاقوں میں آباد ہیں۔

    کاٹھیاواڑی میمن: کھارادر، مٹھادر، بھیم پورہ، صدر، چاکیواڑہ، جوبلی، حیدرآباد کالونی اور طارق روڈ کے علاقوں میں آباد میمن برادری کراچی کی تجارتی اور رفاہی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی مانی جاتی ہے۔ ان کے قائم کردہ ٹرسٹ، ہسپتال، اسکول اور کاروبار شہر کراچی کی معیشت کے محرک ہیں۔

    گجراتی و کاٹھیاواڑی مسلم برادریاں، گھانچی اور دیگر: یہ برادریاں شو مارکیٹ، برنس روڈ، پٹیل پاڑہ، بلدیہ اور گولیمار جیسے پرانے علاقوں میں روزگار اور تجارت سے منسلک ہیں۔

    گجراتی بولنے والے پارسی، بوہری اور اسماعیلی برادریاں

    کراچی کو ایک جدید شہر بنانے میں گجراتی بولنے والے پارسیوں اور اسماعیلی و بوہرہ برادریوں کا نقشِ اول رہا ہے۔ تعلیم، طب، تعمیرات اور کاروبار میں ان کی خدمات کراچی کی تاریخ کا سنہری باب ہیں۔

    کاٹھیاواڑی خوراک اور ثقافتی اثرات

    کراچی کی کھانے پینے کی ثقافت پر کاٹھیاواڑی اثرات بے حد نمایاں ہیں:

    کاٹھیاواڑی چھولے: برنس روڈ اور کھارادر کے کاٹھیاواڑی چھولے کراچی کی پہچان بن چکے ہیں۔

    کچھی، سندھی، بریانی اور گجراتی نمکو اور مٹھائیاں: کھارادر اور پرانے شہر کے علاقوں میں ملنے والے خصوصی پکوان اور ڈشز اس ثقافتی امتزاج کی گواہی دیتے ہیں۔

    سندھ اور گجرات کا تعلق محض ماضی کے آثارِ قدیمہ یا لوتھل و ڈھولا ویرا کے کھنڈرات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک حقیقت ہے۔ رن آف کچھ کے سائے میں پنپنے والی اس تاریخ نے انسانی ہجرت، تجارت، ادب اور فنون کا ایک ایسا محکم پل بنایا ہے جس پر وقت کا کوئی طوفان اثر انداز نہیں ہو سکا۔

    آج کراچی کی سڑکوں پر بولے جانے والے گجراتی اور کچھی جملے، وہاں کے لذیذ کاٹھیاواڑی کھانے اور تاریخی برادریوں کا شہر کی تعمیر میں کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ اور گجرات کی تاریخی و ثقافتی روح ایک ہی دھاگے میں پروئی ہوئی ہے۔

  • حیدرآباد کی تقریباً سوا صدی قدیم عوامی لائبریری: ہومسٹیڈ ہال سے حسرت موہانی لائبریری تک کا سفر

    حیدرآباد کی تقریباً سوا صدی قدیم عوامی لائبریری: ہومسٹیڈ ہال سے حسرت موہانی لائبریری تک کا سفر

    حیدرآباد کے قدیم شہر میں ایک ایسی عمارت آج بھی موجود ہے جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصے میں شہر کی علمی، ادبی، سماجی اور نشریاتی تاریخ کے کئی ادوار دیکھے ہیں۔ یہ عمارت آج حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری کے نام سے جانی جاتی ہے، لیکن اس کی کہانی موجودہ نام سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔

    یہ عمارت 1905 میں برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھی اور ابتدا میں اسے ہومسٹیڈ ہال کہا جاتا تھا۔ یہ نام حیدرآباد میں خدمات انجام دینے والے سول سرجن ڈاکٹر ہومسٹیڈ کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ عمارت کا کردار بدلتا رہا، لیکن اس کی علمی اور عوامی اہمیت برقرار رہی۔

    پکا قلعہ کے قریب اور تاریخی مکھی ہاؤس کے سامنے واقع یہ عمارت حیدرآباد کے اس قدیم حصے میں موجود ہے جہاں شہر کی کئی اہم تاریخی عمارتیں اور یادگاریں آج بھی موجود ہیں۔ اس جغرافیائی محل وقوع نے بھی اسے حیدرآباد کے تاریخی ورثے کا حصہ بنا دیا ہے۔

    تقریباً 18 ہزار مربع فٹ رقبے پر قائم یہ دو منزلہ عمارت سرخ اینٹوں، بلند دیواروں اور وکٹورین طرز تعمیر کی خصوصیات کی وجہ سے نمایاں نظر آتی ہے۔ عمارت میں کئی کمرے اور ایک بڑا ریڈنگ ہال موجود ہے، جبکہ پورا احاطہ تقریباً ڈیڑھ ایکڑ پر پھیلا ہوا بتایا جاتا ہے۔

    لیکن اس عمارت کی اصل کہانی صرف اس کے طرز تعمیر میں نہیں، بلکہ ان سرگرمیوں میں پوشیدہ ہے جو مختلف ادوار میں یہاں جاری رہیں۔

    تقسیم ہند سے پہلے یہ عمارت مطالعے اور علمی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ یہاں ادبی اور سماجی سرگرمیاں بھی منعقد ہوتی تھیں، جبکہ بھائی وسیامل اور ہیرانند سے منسوب فری ریڈنگ روم بھی اسی عمارت سے وابستہ تھا۔ اس دور میں یہ جگہ حیدرآباد کے تعلیم یافتہ اور کتاب دوست طبقے کے لیے ایک اہم مقام سمجھی جاتی تھی۔

    قیام پاکستان کے بعد عمارت کی تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ یہاں ریڈیو پاکستان حیدرآباد کا دفتر قائم ہوا اور ایک عرصے تک عمارت نشریاتی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہی۔ ریڈیو پاکستان کی سرگرمیوں کے دوران لائبریری کا کام عمارت کے ایک محدود حصے تک محدود ہوگیا۔

    1967 میں عمارت کو مولانا حسرت موہانی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ حسرت موہانی اردو کے معروف شاعر، صحافی اور برصغیر کی آزادی کی تحریک سے وابستہ سیاسی رہنما تھے۔ ان کے نام سے منسوب کیے جانے کے بعد یہ عمارت حیدرآباد کی ادبی اور علمی شناخت کے ساتھ مزید مضبوطی سے جڑ گئی۔

    آج حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری سندھ حکومت کے زیر انتظام ہے اور یہاں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ عام قارئین کے علاوہ طلبہ، محققین اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوان بھی یہاں مطالعے کے لیے آتے ہیں۔

    لائبریری کی ایک اہم سہولت خواتین اور طالبات کے لیے مخصوص ریڈنگ ہال ہے، جہاں بڑی تعداد میں طالبات مطالعہ اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتی ہیں۔ بچوں کے لیے بھی ریڈنگ ہال موجود ہے، جس سے لائبریری کا دائرہ صرف نوجوانوں اور بالغ قارئین تک محدود نہیں رہتا۔

    حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری کی ڈپٹی ڈائریکٹر امبیہ واحد کے مطابق لائبریری میں قارئین کو انٹرنیٹ کی مفت سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی مطالعے کی الگ سہولت موجود ہے۔

    وقت کے ساتھ اس تاریخی عمارت کو بحال کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ 2008 میں عمارت کی تزئین و بحالی کی گئی اور اسے دوبارہ لائبریری کے طور پر فعال کیا گیا۔ 2024 میں سندھ حکومت کی جانب سے لائبریری کو مزید اپ گریڈ کیا گیا، جس کا مقصد اسے موجودہ دور کی مطالعاتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا تھا۔

    یوں یہ عمارت صرف کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں رہی، بلکہ اس نے حیدرآباد کی بدلتی ہوئی شہری تاریخ کے ساتھ خود کو بھی تبدیل کیا۔ ایک ہی عمارت نے برطانوی دور کا ہومسٹیڈ ہال دیکھا، آزادی سے پہلے کے فری ریڈنگ روم کی سرگرمیوں کا حصہ بنی، قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کی نشریاتی سرگرمیوں کا مرکز رہی اور پھر دوبارہ ایک عوامی لائبریری کی حیثیت سے شہر کے طلبہ اور قارئین کے لیے کھل گئی۔

    ایک صدی سے زیادہ پرانی اس عمارت کی اہمیت اس کے اندر موجود کتابوں سے بھی آگے ہے۔ اس کی دیواریں حیدرآباد کے ایک ایسے دور کی گواہ ہیں جب کتاب، اخبار، ریڈنگ روم اور علمی محفلیں شہری زندگی کا اہم حصہ ہوا کرتی تھیں۔

    آج جب نوجوان یہاں امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، بچے کتابیں پڑھتے ہیں، خواتین کے لیے مخصوص ریڈنگ ہال استعمال ہوتا ہے اور قارئین مفت انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو یہ تاریخی عمارت ماضی اور حال کے درمیان ایک زندہ رابطے کے طور پر سامنے آتی ہے۔

    حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری دراصل حیدرآباد کی صرف ایک لائبریری نہیں، بلکہ ایک ایسی تاریخی عمارت ہے جس نے 1905 سے آج تک شہر کے علمی، ادبی، سماجی اور نشریاتی سفر کے کئی باب اپنے اندر محفوظ کر رکھے ہیں۔

  • کراچی کی تاریخی معنویت، 1947 سے قبل کی قدیم بستیوں کے باسیوں کے خدشات، تنازعات کا حل، بلدیاتی خودمختاری اور اصلاحات کی تجاویز

    کراچی کی تاریخی معنویت، 1947 سے قبل کی قدیم بستیوں کے باسیوں کے خدشات، تنازعات کا حل، بلدیاتی خودمختاری اور اصلاحات کی تجاویز

    کراچی کا قدیم پس منظر

    موہن جو دڑو کے دور سے ‘مائی باپ’ شہر کا سفر، کراچی صرف پاکستان اور سندھ کا معاشی و مالیاتی دارالحکومت ہی نہیں، بلکہ بحر ہند کے خطے میں ایک عمیق اور تاریخی تسلسل کا حامل قدیم بندرگاہی مرکز ہے۔

    تاریخی و آثار قدیمہ کے شواہد کی روشنی میں کراچی کا جغرافیائی پس منظر موہنجو دڑو اور وادی سندھ کی قدیم ترین بحری و تجارتی ثقافت سے جڑا ہوا ہے۔

    قدیم یونانی و عرب تاریخی ماخذ میں یہ ساحلی خطہ ‘کرکولا’ اور ‘دیبل’ کے قریبی بحری راستوں سے موسوم رہا، جس کا محور و مرکز کراچی چینل، اس سے ملحقہ جزائر کیماڑی، موڑہ بابا، بھٹ، شمس پیر وغیرہ کے کچھی، سندھی اور بلوچ ملاحوں کی آبادیاں اور منوڑہ کی قلعہ نما بحری چوکی تھی، جو آنے جانے والی سمندری ٹریفک پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی جمع کرتی تھی۔

    اس کے خشکی کے حصے، موجودہ کھارادر اور مٹھادر کی اونچی ٹیکری پر، باقاعدہ ریکارڈ کے مطابق اٹھارہویں صدی عیسوی میں سونمیانی کی کھارک بندر کی تباہی کے بعد وہاں سے آنے والے لاسی اور سندھی ماہی گیروں کی بستی ‘کروچے جو گوٹھ’ کے طور پر ابھرے۔

    یہ شہر روز اول سے تاریخی طور پر ایک ‘مائی باپ’ یعنی پناہ دینے والی بستی رہا ہے، جس نے ہر دور اور ہزاریے میں یہاں آنے والے تاجروں، مسافروں، محنت کشوں اور پناہ گزینوں کو اپنی آغوش میں سمویا اور انہیں ایک نئی زندگی اور شناخت بخشی۔

    استعماری تسلط، جغرافیائی بساط اور انفراسٹرکچر کی بنیاد

    انگریزوں کے سندھ پر قبضے کے بعد 1843 میں بمبئی پریزیڈنسی کے تحت کراچی کی جغرافیائی و استعماری اہمیت کو ایک نیا موڑ دیا گیا۔ برطانوی سامراج نے اس بندرگاہی شہر کی تزویراتی اہمیت کو بھانپتے ہوئے اسے برطانوی ہند، مشرق وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے بحری و فوجی مواصلاتی نظام کا مرکز بنانے کا منصوبہ بنایا۔

    1878 میں کراچی پورٹ ٹرسٹ اور بمبئی کی طرز پر کراچی میونسپل کارپوریشن کے قوانین نافذ کیے گئے۔ کراچی کو بری، بحری اور فضائی افواج کا ایسا دفاعی و لاجسٹک مرکز بنایا گیا جہاں سے سلطنت برطانیہ پورے خطے پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکتی تھی۔

    اسی دور میں قائم ہونے والے اداروں اور جدید مواصلاتی ڈھانچے نے اس شہر کو ایشیا اور یورپ کے خوبصورت ترین، شائستہ اور جدید صفائی و نظم کے حامل شہروں میں شامل کر دیا۔

    دوسری جنگ عظیم 1939 سے 1945 کے اختتام پر برطانوی سامراج کے عالمی زوال کے بعد امریکہ نے خطے میں نوآبادیاتی تسلط کی جگہ لے لی اور یہ خطہ نئی بین الاقوامی سرد جنگ کے تزویراتی زون میں تبدیل ہو گیا۔

    تقسیم ہند 1947، دباؤ، ہجرت اور پرانے انفراسٹرکچر کا انہدام

    اگست 1947 میں برطانوی ہند کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کے بعد کراچی کو نوزائیدہ ریاست پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اس وقت شہر کی آبادی محض چار سے پانچ لاکھ کے درمیان تھی اور تمام تر بلدیاتی سہولیات و شہری منصوبہ بندی اسی تناسب سے ترتیب دی گئی تھی۔

    تقسیم کے نتیجے میں برصغیر کے مختلف حصوں سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کی آمد اور مقامی ہندو آبادی کی بڑی تعداد میں بھارت منتقلی نے شہر کی آبادیاتی اور سماجی ترکیب کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ شہر کی آبادی میں فطری اور نامیاتی اضافے کے بجائے غیر متوقع اور غیر معمولی ہجرت کے سبب 1947 سے قبل کا جدید مگر محدود بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو کر مفلوج ہونے لگا۔

    بلدیاتی ادارے جو پہلے محدود اور منظم آبادی کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے، اس نئی ابھرتی ہوئی گنجان آبادی کو پانی، سیوریج، صحت اور نقل و حمل فراہم کرنے میں ناکام رہنے لگے، جس کے نتیجے میں کراچی کا تاریخی شہری حسن رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوتا گیا۔

    انتظامی و قانونی تجربات اور معاشی محرومی

    1947 سے لے کر آج تک کراچی پر مسلسل ناکام بلدیاتی اور انتظامی تجربات کیے گئے۔ 1950 کی دہائی میں وفاقی دارالحکومت کا درجہ، پھر 1961 میں دارالحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے بعد کراچی کے اختیارات کی صوبے کو منتقلی، 1979 کا سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس، 2001 کا ‘مشرفی’ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ماڈل اور بعد ازاں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 اور 2021 کے متنازع قوانین، یہ تمام تجربات مسلسل سیاسی کھینچا تانی اور اختیارات کی غیر مرکزیت کے فقدان کی نذر ہوتے رہے۔

    دائرہ اختیار کا تنازع

    کراچی کے سب سے بڑے انتظامی بحران کی بنیادی وجہ ‘کثیر القوانین و متعدد اداروں کی حکمرانی’ ہے۔ آج دو کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں 16 سے زائد وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی ادارے اپنی علیحدہ زمین اور متوازی قوانین چلاتے ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ، چھ کینٹونمنٹ بورڈز، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ریلوے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے درمیان اختیار اور حدود کا شدید تضاد قائم ہے۔

    آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کی روح کے مطابق بلدیاتی اداروں کو سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات کی جو منتقلی حاصل ہونی چاہیے تھی، وہ وفاقی اور صوبائی بیوروکریسی اور متوازی اداروں کی کشمکش کی وجہ سے شدید ناکامی سے دوچار ہے۔

    قدیم بستیوں کی پسماندگی اور جغرافیائی و آبادیاتی حقیقت

    اس تمام تر سیاسی و بلدیاتی بحران میں سب سے زیادہ نقصان کراچی کی ان قدیم بستیوں اور مقامی آبادی کو پہنچا ہے جو 1947 سے قبل بھی یہاں آباد تھیں۔

    موجودہ کراچی کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 70 فیصد حصہ مضافاتی دیہی علاقوں، ساحلی پٹی، جزائر اور قدیم بستیوں، مثلاً لیاری، ماڑی پور، منوڑہ، کیماڑی، ابراہیم حیدری، گوٹھ، گڈاپ، ملیر اور حب ندی سے متصل علاقوں، پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں کی آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً نصف بنتی ہے، اور ان کے آباؤ اجداد صدیوں سے اس شہر، بندرگاہ اور سمندری تجارت کو سنبھالتے آ رہے ہیں۔

    اکیسویں صدی میں بھی 70 فیصد رقبے پر پھیلی یہ قدیم آبادی پینے کے صاف پانی، باقاعدہ ڈرینیج، سڑکوں کے نیٹ ورک، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسی بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہے۔

    دوسری جانب 1947 کے بعد آباد ہونے والی مرکزی شہری بستیاں، جو کل رقبے کے تقریباً 30 فیصد پر محیط ہیں اور باقی نصف آبادی کو سموئے ہوئے ہیں، وہاں بھی بلدیاتی خدمات شدید ابتری کا شکار ہیں۔

    انتظامی و جغرافیائی زون، رقبے کا تناسب، آبادی کا تناسب، تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال

    قدیم ساحلی و مضافاتی بستی ڈویژن، مجوزہ: 70 فیصد رقبہ، تقریباً 50 فیصد آبادی۔ 1947 سے قبل کی قدیم بستیاں، ساحلی اور دیہی زون، بنیادی سہولیات کی شدید قلت۔

    مرکزی و جدید شہری ڈویژن، مجوزہ: 30 فیصد رقبہ، تقریباً 50 فیصد آبادی۔ 1947 کے بعد آباد ہونے والے مرکزی زونز، تجارتی و گنجان آباد علاقے، انفراسٹرکچر میں عدم توازن۔

    دو ڈویژنز اور دوہری میئر شپ فارمولا: مستقل حل کی قانونی تجویز

    کراچی کے اس سنگین اور بظاہر لاحاصل بحران کا واحد قانونی، منصفانہ اور قابل عمل حل یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سندھ اسمبلی کے ذریعے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرکے، کراچی کو دو واضح انتظامی ڈویژنز اور بلدیاتی باڈیز میں تقسیم کریں۔

    دو ڈویژنز کی تشکیل

    کراچی کے 70 فیصد وسیع رقبے پر محیط قدیم، مضافاتی اور ساحلی علاقوں کو ایک الگ ڈویژن، جبکہ مرکزی گنجان بستیوں کے 30 فیصد رقبے کو دوسرا ڈویژن قرار دیا جائے۔ دونوں ڈویژنز کی آبادی کا توازن تقریباً مساوی، یعنی نصف نصف، رہے گا۔

    دو میئرز اور خودمختار بلدیاتی نظام

    دونوں انتظامی ڈویژنز کے لیے الگ الگ منتخب میئرز کا آئینی و قانونی قیام عمل میں لایا جائے۔ ہر ڈویژن کے میئر کو اپنے متعلقہ علاقے کے ٹاؤنز اور یونین کونسلز تک براہ راست اختیارات منتقل کرنے کی آئینی ضمانت دی جائے۔

    ٹیکسز کی منصفانہ واپسی اور آرٹیکل 140 اے کے تحت مالیاتی خودمختاری

    آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کی حقیقی تعبیر یہی ہے کہ مقامی سطح پر جمع ہونے والے ٹیکسز کا ایک مقررہ اور شفاف حصہ انہی علاقوں کی ترقی اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہو۔ نئی مجوزہ تقسیم کے تحت ہر ڈویژن اور اس کے ٹاؤنز کو ان کے اپنے جغرافیائی اور معاشی زون سے حاصل ہونے والے مقامی و بلدیاتی ٹیکسز، پراپرٹی اور سروسز ٹیکس کے تناسب سے ترقیاتی فنڈز براہ راست جاری کیے جائیں۔

    یہ ماڈل نہ صرف تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ کرے گا بلکہ کراچی کے قدیم اور جدید دونوں دھاروں کے شہریوں کو اپنے اپنے جغرافیائی اور سیاسی نمائندوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خود اختیار فراہم کرے گا۔

    وفاق اور حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ 16 متوازی اداروں کے دائرہ کار کو محدود کرکے کے ایم سی اور مجوزہ بلدیاتی کارپوریشنز کے زیر اثر لائیں تاکہ کراچی کا کھویا ہوا بین الاقوامی شہری حسن اور معاشی تابندگی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    کراچی کو نچلی سطح تک بااختیار بنائے بغیر پاکستان کی معاشی بقا ممکن نہیں۔ دو ڈویژنز، دو میئرز اور ٹیکسز کی منصفانہ مقامی واپسی ہی اس تاریخی بندرگاہی شہر کی مستحکم بحالی کی واحد آئینی اور قانونی راہ ہے۔

    نوٹ: تجویز کنندہ کراچی کی ایک قدیم برادری، ہنگورا جماعت، کے 1980 کی دہائی سے 2024 تک تین بار صدر رہے ہیں۔ وہ 1990 کی دہائی میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں اور وہاں کی قدیم کمیونٹیز کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ‘مقامی ساحلی تحریک’ کے جنرل سیکریٹری اور 1947 سے قبل کراچی کی قدیم برادریوں کے مختلف فورمز کے سرگرم رکن بھی رہے ہیں۔

  • تاریخ کا جیو اکنامک تسلسل: وادیٔ سندھ کے قدیم تجارتی نیٹ ورک سے دورِ جدید کی چین پاکستان اقتصادی راہداری تک

    تاریخ کا جیو اکنامک تسلسل: وادیٔ سندھ کے قدیم تجارتی نیٹ ورک سے دورِ جدید کی چین پاکستان اقتصادی راہداری تک

    دنیا کا طبعی ڈھانچہ، پہاڑی سلسلے، دریاؤں کی گزرگاہیں اور ساحلی گہرائیاں انسان کے معاشی رویوں کی حدود متعین کرتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ چند تزویراتی خطے قدرت نے ایسے تخلیق کیے ہیں جو ہر دور میں عالمی معیشت اور شاہراہِ ریشم کی بنیادی شریان بنے رہتے ہیں۔

    آج اکیسویں صدی میں جب ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کو خطے کا ایک انقلابی اور جدید ترین معاشی منصوبہ قرار دیتے ہیں تو دراصل ہم اسی جیو اکنامک تسلسل کا احیا کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد آج سے ساڑھے چار ہزار سال قبل کانسی کے دور میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے معماروں نے رکھی تھی۔

    ایک آثارِ قدیمہ کے طالب علم اور جدید مقداری تجارت کے طالب علم کے لیے وادیٔ سندھ کی معیشت کوئی گمنام، غیر منظم یا محض دیہاتی تبادلے کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے بارٹر نظام کے تحت ابتدائی تجارت اور طلب و رسد کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نیٹ ورک تھا، جس کے اندر اشیا کی قیمتوں کا تعین، معیاری ناپ تول اور خطرات کے انتظام جیسے عناصر شامل تھے۔

    شمالی نیٹ ورک اور خام مال کی ترسیل

    وادیٔ سندھ کا قدیم ماڈل: شور توغئی کی نوآبادی اور سپلائی چین

    ڈھائی ہزار قبل مسیح میں وادیٔ سندھ کے تاجروں نے شمالی افغانستان کے صوبہ تخار میں دریائے آمو کے قریب شور توغئی نامی ایک مکمل شہری نوآبادی قائم کی تھی۔ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں، بالخصوص فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہنری پال فرانکورٹ کی تحقیقات، سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شور توغئی کا طرزِ تعمیر، مٹی کے برتن اور مہریں موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے مماثلت رکھتے تھے۔

    وادیٔ سندھ کے تاجروں نے شمال میں یہ دور دراز تجارتی چوکی اس لیے قائم کی تھی تاکہ بدخشاں کی کانوں سے حاصل ہونے والے گہرے نیلے رنگ کے قیمتی پتھر لاجورد، پامیر اور ہندوکش کے پہاڑوں سے حاصل ہونے والے تانبے اور بدخشاں کے دریاؤں سے نکلنے والے سونے کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ خام مال سوات، گومل اور درۂ خیبر کے پہاڑی دروں سے ہوتا ہوا رحمان ڈھیری اور موجودہ سندھ و پنجاب کے میدانی علاقوں میں واقع تجارتی مراکز تک منتقل کیا جاتا تھا۔

    جدید سی پیک ماڈل: کاشغر، خنجراب اور شمالی راہداری

    آج چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر کو خنجراب پاس اور شاہراہِ قراقرم کے ذریعے پاکستان کے شمالی علاقوں سے جوڑا گیا ہے۔

    اس جدید راستے کی منطق بھی بڑی حد تک وہی ہے جو شور توغئی کے وادیٔ سندھ کے تاجروں کی تھی، یعنی وسطی ایشیا اور چین کے وسائل، معدنیات اور تیار شدہ مصنوعات کو زمینی فاصلہ کم سے کم کرتے ہوئے بحرِ ہند کے گرم پانیوں تک پہنچانا۔

    جس طرح ماضی میں لاجورد اور تانبا شمالی دروں سے اتر کر ہڑپہ اور موہن جو دڑو کی ورکشاپس تک پہنچتا تھا، اسی طرح آج چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا خام مال اور صنعتی سامان خنجراب کے راستے گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا پاکستان کے صنعتی زونز تک منتقل ہو سکتا ہے۔

    دریائے سندھ کی گزرگاہ: معیشت کی آبی و زمینی شاہراہ

    قدیم دور: متوازی بحری نقل و حمل اور مہروں کا نظام

    ہڑپہ، موہن جو دڑو اور چھنہو دڑو جیسے اہم شہر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں، یعنی جہلم، چناب، راوی، ستلج اور اب خشک ہو جانے والے سرسوتی یا ہاکڑہ کے قریب واقع تھے۔

    شمال سے دریائے سندھ کا بہاؤ انڈس ڈیلٹا کی طرف جاتا تھا اور ماضی میں یہ ایک قدرتی اور نسبتاً کم لاگت والا آبی راستہ تھا، جس پر لکڑی کی بڑی چپو والی کشتیوں کے ذریعے وزنی سامان، مثلاً پتھر، اینٹیں اور لکڑی، منتقل کیا جاتا تھا۔

    واضح رہے کہ انگریزوں کی آمد اور بیسویں صدی میں بیراجوں کی تعمیر سے قبل دریائے سندھ پر یہ بحری تجارت اٹھارویں اور انیسویں صدی تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔

    آثارِ قدیمہ میں ملنے والے مکعب نما پتھر کے باٹ، جو ایک، دو، چار، آٹھ، سولہ، بتیس اور چونسٹھ کی باقاعدہ ترتیب پر مبنی تھے، اور صابونی پتھر کی مہریں اس بات کی شہادت فراہم کرتی ہیں کہ ان تجارتی راستوں پر منتقل ہونے والے سامان کے وزن، ملکیت اور تجارتی شناخت کے لیے باقاعدہ نظام موجود تھا۔

    جدید سی پیک الائنمنٹ: قومی شاہراہ اور موٹر ویز

    اگر ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کی مغربی، وسطی اور مشرقی راہداریوں کا نقشہ دیکھیں تو متعدد اہم شاہراہیں، قومی شاہراہ اور موٹر ویز دریائے سندھ کے تقریباً متوازی چلتی ہیں اور وادیٔ سندھ کے قدیم و تاریخی شہروں کے قریب سے گزرتی ہیں۔

    جو کام ساڑھے چار ہزار سال قبل دریائے سندھ کا بہاؤ اور اس کے ساتھ چلنے والے کاروانی راستے کرتے تھے، آج بڑی حد تک قومی شاہراہ اور جدید موٹر ویز وہی معاشی رابطہ فراہم کر رہی ہیں۔

    یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انسان نے صدیوں کی تکنیکی پیش رفت کے باوجود اکثر وہی راستے اختیار کیے جو قدرتی جغرافیہ اور زمینی ساخت نے پہلے سے متعین کر رکھے تھے۔

    ڈیلٹائی و مکران ساحلی بندرگاہوں کی تزویراتی ساخت

    کراچی اور بالاکوٹ، سونمیانی

    آج کے پاکستان کا معاشی مرکز کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم، دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے انہی وسیع ساحلی خطوں میں واقع ہیں جہاں ماضی میں بھی وادیٔ سندھ کے لوگوں کی قدیم بندرگاہیں اور تجارتی مراکز قائم تھے۔

    ڈیلٹائی علاقے کے قریب بالاکوٹ، جسے کوٹ بالا بھی کہا جاتا ہے، وندر ندی اور سونمیانی خلیج کے نزدیک واقع کانسی کے دور کی ایک اہم ساحلی بستی تھی۔

    آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے یہ شواہد ملے ہیں کہ بالاکوٹ سے وادیٔ سندھ کے تاجر کپاس، کپڑے، سیپیاں اور مٹی کے ظروف سمندری راستے سے خلیجِ فارس کی منڈیوں تک لے جاتے تھے۔

    آج بھی پاکستان کا بیشتر برآمدی اور ٹیکسٹائل سامان کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

    گوادر اور ستکاجن دڑو

    گوادر کی تزویراتی اہمیت یہ ہے کہ یہ خلیجِ عمان کے دہانے، آبنائے ہرمز کے قریب اور مکران کے ساحل پر واقع ہے۔

    تقریباً ڈھائی ہزار قبل مسیح میں وادیٔ سندھ کے جغرافیہ دانوں اور بحری تاجروں نے بھی اس ساحلی خطے کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے پاک ایران سرحد کے قریب دشت ندی کے کنارے ستکاجن دڑو اور پسنی کے قریب ستکا کوہ میں اپنی اہم ساحلی تجارتی چوکیوں کو قائم کیا تھا۔

    سر آئورل اسٹین اور جارج ایف ڈیلز کی آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کے مطابق ستکاجن دڑو محض ایک عام بستی نہیں تھا بلکہ پتھر کی دیواروں سے گھرا ہوا ایک اہم ساحلی تجارتی مرکز تھا۔

    اس کا مقصد میسوپوٹیمیا اور عمان سے آنے والے بحری جہازوں کو رسد اور دیگر سہولیات فراہم کرنا اور خلیج سے وادیٔ سندھ میں داخل ہونے والے بحری راستوں سے تجارتی روابط قائم رکھنا تھا۔

    جو تزویراتی اور اہم گزرگاہ کی حیثیت ساڑھے چار ہزار سال قبل ستکاجن دڑو کو حاصل تھی، وہی جغرافیائی اہمیت آج گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کو حاصل ہونے کی دلیل دی جاتی ہے۔

    بین الاقوامی تجارتی شراکت دار اور سرحد پار تجارت کا ڈھانچہ

    میلوہا اور خلیجی منڈیاں

    ساڑھے چار ہزار سال کا عرصہ گزر جانے اور جدید مالیاتی منڈیوں اور الگورتھمک تجارت کے وجود میں آنے کے باوجود، اس تجارتی راہداری کے بعض بنیادی جغرافیائی شراکت دار اور آخری منازل بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوئیں۔

    اکادین اور میسوپوٹیمیائی تحریروں میں وادیٔ سندھ کے لیے میلوہا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

    میلوہا کے تاجر اپنے لکڑی کے جہازوں میں عاج، سوتی کپڑا، نایاب لکڑی، عقیق کے منکے اور تانبا لے کر دلمون، یعنی موجودہ بحرین، ماگن، یعنی عمان، اور میسوپوٹیمیا کی منڈیوں تک جاتے تھے، اور وہاں سے چاندی، تارکول اور دیگر اشیا لے کر واپس آتے تھے۔

    جدید خلیجی تعامل

    آج بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے آنے والا سامان گوادر اور کراچی سے بحری جہازوں پر لاد کر دبئی، عمان، دمام اور دیگر خلیجی منڈیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان اپنی قومی معیشت اور صنعتی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلیجی خطے سے خام تیل، مائع قدرتی گیس اور دیگر توانائی کے وسائل درآمد کرتا ہے۔

    یہ تقابل ظاہر کرتا ہے کہ اشیا کی نوعیت تو بدل گئی ہے، روئی اور دستکاری کی اشیا کی جگہ صنعتی مصنوعات، برقی آلات اور توانائی کے وسائل نے لے لی ہے، لیکن تجارتی راستوں، سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے اور جغرافیائی شراکت داری میں کئی تسلسل آج بھی نظر آتے ہیں۔

    سائنسی و معاشی نچوڑ، تاریخی سبق اور مستقبل کی حکمتِ عملی

    چین پاکستان اقتصادی راہداری کو محض ایک مصنوعی، عارضی یا کاغذی جیوپولیٹیکل راستہ سمجھنے کے بجائے اس خطے کے طویل جغرافیائی اور معاشی ارتقا کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مفید ہے۔

    ساڑھے چار ہزار سال قبل وادیٔ سندھ کے ملاحوں، تاجروں اور مقامی انتظامیہ نے ایسے بنیادی اصول اختیار کیے جنہوں نے دور دراز علاقوں کے ساتھ تجارت کو ممکن بنایا۔

    معیار اور انضباط

    وادیٔ سندھ کے مختلف شہروں میں اینٹوں کے سائز سے لے کر باٹ اور اوزان تک ایک منظم اور بڑی حد تک یکساں نظام کے شواہد ملتے ہیں۔

    سیاسی اور پالیسی استحکام

    تجارتی اور پیداواری سرگرمیوں کے لیے نسبتاً مستحکم ماحول، ہنرمندی اور دستکاری کی تخصص نے اس معاشی نظام کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    لاجسٹکس کی رفتار

    دریاؤں، زمینی راستوں اور ساحلی تجارتی مراکز کے استعمال نے اشیا کی نقل و حرکت کو ممکن بنایا اور مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑا۔

    آج پاکستان کو اگر اکیسویں صدی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری اور اپنے ساحلی اثاثوں، خصوصاً کراچی اور گوادر، سے حقیقی معاشی خودمختاری اور پائیدار ترقی حاصل کرنی ہے تو اسے محض قرضوں اور امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے وادیٔ سندھ کی تجارتی روایت سے چند بنیادی اصول سیکھنے ہوں گے۔

    شفافیت، فیصلہ سازی کی رفتار، معیار، قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اور تجارتی تسلسل وہ عوامل ہیں جو کسی بھی جغرافیائی راستے کو حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کرتے ہیں۔

    تاریخ کا یہ جیو اکنامک تسلسل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو قومیں اپنے جغرافیے کی تزویراتی حیثیت کو سمجھ کر اسے معاشی اور تجارتی طاقت میں تبدیل کر لیتی ہیں، وہ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نقشے پر زیادہ مضبوط مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

    نوٹ: اسی تناظر میں اگلی قسط میں ہم وادیٔ سندھ کی قدیم تجارتی بندرگاہوں، خصوصاً بالاکوٹ، پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔

  • ‘زندگی کا جشن’: وادی سندھ کی مہریں مذہبی علامتیں نہیں بلکہ قدیم اسپورٹس گلڈز کے لوگو تھیں، ایک نئی سائنسی تعبیر

    ‘زندگی کا جشن’: وادی سندھ کی مہریں مذہبی علامتیں نہیں بلکہ قدیم اسپورٹس گلڈز کے لوگو تھیں، ایک نئی سائنسی تعبیر

    نوآبادیاتی عینک کا بوجھ اور خاموش رسم الخط: جب بھی ہم وادی سندھ کے کھنڈرات، موہن جو دڑو اور ہڑپہ کے بارے میں سوچتے ہیں تو ایک پراسرار، پرسکون اور ممکنہ طور پر انتہائی مذہبی معاشرے کا تصور ابھرتا ہے۔

    یہ تصور حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ بیسویں صدی کے اوائل کے برطانوی ماہرین آثار قدیمہ، جیسے سر جان مارشل اور ارنسٹ میکے، کی وراثت ہے۔ ان محققین نے ان عظیم شہروں کو تو دریافت کیا، لیکن ان کی مادی ثقافت کی تعبیر اپنے نوآبادیاتی تعصبات اور عہد سے متصادم اساطیری تصورات کی بنیاد پر کی۔

    مسئلہ یہ ہے کہ وادی سندھ کا رسم الخط آج تک پڑھا نہیں جا سکا۔ جب کوئی تحریر خاموش ہو تو مادی اشیا خود بولتی ہیں، لیکن ان کی آواز وہی ہوتی ہے جو تعبیر کرنے والا انہیں دیتا ہے۔ ان برطانوی محققین نے خاموش سنگ صابن کی مہروں پر کندہ نقوش کو بعد کے مابعد ویدک مذہبی متون کے تناظر میں دیکھا۔ انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں، وہ کسی نہ کسی دیوتا یا مذہبی رسم کی عکاسی کر رہا ہے۔

    تاہم، وادی سندھ کی شہری منصوبہ بندی کا ایک سخت تجرباتی اور مکانی تجزیہ ایک مکمل طور پر مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ ان شہروں میں کہیں بھی شاندار معبد، محلاتی انتظامی مراکز یا تقدیس یافتہ شاہی مقبروں کے واضح آثار نہیں ملے۔ یہ کانسی کے دور کے دیگر معاشروں، جیسے مصر اور میسوپوٹیمیا، سے مختلف ہے، جہاں مذہبی اور شاہی ادارے معاشرتی نظم میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔

    اس کے برعکس، وادی سندھ کی تہذیب ایک انتہائی منظم، مساوات پسند اور دنیوی نظام کو ظاہر کرتی ہے جو ‘زندگی کے جشن’ کے گرد گھومتا تھا۔

    یہ مقالہ ایک بے باک دلیل پیش کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سندھ کی مہروں اور مجسموں کا ایک بڑا حصہ ماورائے طبعی دیوتاؤں کی عکاسی نہیں کرتا۔ اس کے بجائے، وہ روزمرہ کی جسمانی ثقافت، ورزشی سرگرمیوں، فنون لطیفہ اور حکمت عملی پر مبنی بساط کے کھیلوں کی دستاویز ہیں۔ یہ وہ مادی عناصر تھے جنہیں بعد کے ادوار میں مذہبی اساطیر سمجھنے کی غلطی کی گئی۔

    ‘پشوپتی مہر’ کی سائنسی تعبیر

    آئیے جنوبی ایشیائی آثار قدیمہ کے سب سے بڑے مذہبی مفروضے، موہن جو دڑو کی ایک معروف مہر سے شروع کریں۔ سر جان مارشل نے اسے ‘پروٹو شِو’ یا ‘پشوپتی’ یعنی جانوروں کا دیوتا قرار دیا۔ یہ تعبیر اتنی گہری ہو چکی ہے کہ آج تک اس پر سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے۔

    اس مہر میں ایک انسانی شکل دکھائی گئی ہے جو سینگوں والا تاج پہنے ہوئے ایک اونچے چبوترے پر چار زانو بیٹھی ہے۔

    اسپورٹس سائنس اور حیاتیاتی حرکیات کے معروضی نقطہ نظر سے، اس نشست کو یوگا کے ‘مول بندھ آسن’ سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل جسمانی وضع ہے جس میں جسمانی لچک اور عضلاتی کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔

    وادی سندھ کے ایسے غیر فوجی اور غیر مرکز گریز معاشرے میں، جہاں کسی بڑے شاہی دستے کے واضح شواہد نہیں ملتے، جسمانی لياقت کو برقرار رکھنا ایک شہری اور عملی ضرورت ہو سکتی تھی۔ چبوترے پر موجود یہ شخص ممکنہ طور پر کوئی کرتب کار، ورزشی استاد، جسمانی تربیت کا ماہر یا کشتی کا سینئر استاد ہو سکتا ہے جو جسمانی توازن کی نمائش کر رہا ہو۔

    اگر ہم اس مہر کے آثار قدیمہ کے ریکارڈ کا مطالعہ کریں تو یہ ممکنہ طور پر کسی تجریدی مذہبی تصور کے بجائے ایک مخصوص اور سخت جسمانی تربیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس مفروضے کے تحت یہ مہر کسی استاد کی مہارت کی علامت ہو سکتی تھی، نہ کہ کسی دیوتا کی پوجا کا نشان۔

    حیوانی نقوش، قدیم اسپورٹس لوگو

    وادی سندھ کی مہروں پر کوہان والے زیبو سانڈ، گینڈے، ہاتھی اور شیر جیسے جانوروں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کو تاریخی طور پر توتم پرستی یا جانوروں کی پوجا قرار دیا گیا۔ یہ تعبیر بھی ایک آسان اور سطحی نتیجہ ہو سکتی ہے۔ جدید فعالی انسان شناسی کا ایک مختلف تجزیہ اس کے زیادہ عملی، معاشی اور سماجی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    ہمیں جدید دنیا کی طرف دیکھنا چاہیے، جہاں اسپورٹس فرنچائزز اور تاجروں کی تنظیمیں طاقتور جانوروں کو اپنی تجارتی یا ورزشی علامتوں کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، شکاگو بلز کا لوگو موجود ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شکاگو کے لوگ سانڈ کی پوجا کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

    وادی سندھ کا یہ معاشرہ ایک انتہائی تجارتی اور منظم شہری نظام رکھتا تھا۔ زیبو سانڈ والی مہریں کسی مقدس یا قابل پرستش جانور کو ظاہر کرنے کے بجائے مخصوص تاجرانہ دھڑوں یا مقامی ورزشی تنظیموں کی نمائندگی کر سکتی تھیں۔ یہ لوگ پرخطر جسمانی مقابلوں، جیسے سانڈوں پر چھلانگ لگانے یا سانڈوں کو قابو کرنے کے کھیلوں میں مصروف ہو سکتے تھے۔

    بعض علمی ذرائع اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ اشیا مذہبی تحائف کے بجائے انتظامی تصدیق، تجارت کی نگرانی اور ادارہ جاتی شناخت کے دنیوی آلات بھی ہو سکتی تھیں۔

    مکانی تجزیہ، لوتھل کی گودی اور ہڑپہ کے بڑے تعمیراتی مراکز

    وادی سندھ کی تہذیب کے عوامی اور ورزشی انداز کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی عظیم الشان عوامی تعمیرات کا فعالی نقطہ نظر سے تجزیہ کرنا ہوگا۔ ان عمارتوں کے حجم اور ان کے ارد گرد موجود خالی جگہوں کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

    لوتھل کی گودی، آبی سرگرمیوں کا ممکنہ مرکز

    آثار قدیمہ کے سروے کے مطابق لوتھل میں اینٹوں سے بنا ایک بہت بڑا ذوزنقہ نما آبی حوض ملا ہے جو تقریباً 214 میٹر لمبا اور 36 میٹر چوڑا ہے۔ اس میں جوار بھاٹے کے پانی کو قابو میں رکھنے کا ایک نظام موجود تھا۔

    اگرچہ یہ بنیادی طور پر سمندری تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن سکون اور قابو میں رکھے گئے پانی کا یہ ذخیرہ تجارتی موسم کے اختتام پر کشتی رانی اور تیراکی کی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک ایسی روایت سے مشابہت رکھتا ہے جو آج بھی جنوبی ایشیا کے ساحلی علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

    اس مفروضے کے تحت یہ عمارت ایک بندرگاہ کے ساتھ ساتھ آبی کھیلوں کے لیے بھی استعمال ہونے والا مرکز ہو سکتی تھی۔

    ہڑپہ کا بڑا تعمیراتی احاطہ، عوامی سرگرمیوں کا ممکنہ میدان

    ایک طویل عرصے تک ہڑپہ کی بڑی عمارتوں کو صرف اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز سمجھا جاتا رہا۔ لیکن ان کے ارد گرد کا ماحول ایک مختلف سوال اٹھاتا ہے۔

    ہڑپہ میں آثار قدیمہ کی تحقیق کے دوران بڑی عمارتوں کے قریب اینٹوں کے چبوترے اور کھلے مقامات کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ تاریخی طور پر زرعی معاشروں میں فصل کی کٹائی کا موسم اجتماعی جشن کی شکل اختیار کرتا رہا ہے۔

    ان کھلے میدانوں کو ممکنہ طور پر اجتماعی سرگرمیوں، جسمانی مقابلوں اور مختلف سماجی تقریبات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہو گا۔ ان جگہوں پر کشتی، تیز رفتار جسمانی کھیل اور سانڈوں سے متعلق مقابلے منعقد ہونے کا امکان بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔

    حکمت عملی کی منطق، بساط کے کھیل بمقابلہ توہم پرستی

    وادی سندھ کے لوگوں کی فکری ثقافت انتہائی اعلیٰ درجے کی تھی۔ یہ بات ان کی ریاضیاتی سوجھ بوجھ، شہری منصوبہ بندی اور وزن و پیمائش کے معیاری نظام سے واضح ہوتی ہے۔ لیکن ان کی مہروں پر موجود بعض پیچیدہ ہندسی ڈیزائن، جنہیں اب تک جادوئی تعویذ یا مذہبی منڈل قرار دیا جاتا رہا ہے، ایک نئی تشریح کے مستحق ہیں۔

    آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے موہن جو دڑو، ہڑپہ اور لوتھل سے مٹی اور دیگر مواد سے بنی گوٹیاں، مکعب نما پاسے اور خانے دار بساطیں ملی ہیں۔ دستیاب شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وادی سندھ کے شہری گوٹیوں اور پاسوں کی مدد سے حساب کتاب اور ریاضیاتی حکمت عملی پر مبنی کھیل کھیلتے تھے۔

    کھیلوں کی یہ وسیع ثقافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وادی سندھ کے عوام کی فکری زندگی میں منطق، امکانات اور ریاضیاتی تفریح کو بھی اہم مقام حاصل تھا۔ اس مفروضے کے تحت مہروں پر موجود بعض ہندسی ڈیزائن جادوئی تعویذ نہیں بلکہ کھیل کے میدان یا کسی بساط کے نقشے سے متعلق علامتیں بھی ہو سکتے تھے۔

    ایک نئے زاویے کی ضرورت

    وادی سندھ کی تہذیب کا سائنسی اور تجرباتی تجزیہ اس امکان کو سامنے لاتا ہے کہ ہڑپہ کا شہری توہم پرستی، تشویش یا ماورائے طبعی دنیا کے خوف میں مبتلا معاشرہ نہیں تھا۔

    عالیشان محلوں، مندروں یا فرعونی طرز کے مقبروں کے واضح شواہد کا فقدان اس بات کی طرف اشارہ کر سکتا ہے کہ اس تہذیب نے اپنی اضافی توانائی اور وسائل کو انسانی فلاح و بہبود، اعلیٰ ترین شہری صفائی کے نظام، عوامی صحت اور اجتماعی سرگرمیوں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی۔

    ان کی مہریں ان کی جسمانی کامیابیوں کا عکس، ان کی تجارت کا قانونی ڈھانچہ اور ان کی فکری تفریح کا خاکہ بھی ہو سکتی تھیں۔

    بعد کے ادوار میں اس علاقے میں آباد ہونے والے گروہوں نے اس تہذیب کی مادی، تکنیکی اور ورزشی ثقافت کو اپنے مختلف مذہبی تصورات کے تناظر میں سمجھا ہو گا۔ نتیجتاً ممکن ہے کہ ان سائنسی، سماجی اور ورزشی تصویری علامات کو مذہبی روایات اور کہانیوں میں ڈھال دیا گیا ہو۔

    اب جدید آثار قدیمہ کے ماہرین اور طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وادی سندھ کی مادی ثقافت کو مختلف ممکنہ زاویوں سے دوبارہ پڑھیں اور ہر علامت کو صرف مذہبی مفروضے کے تحت دیکھنے کے بجائے اس کے دنیوی، سماجی، تجارتی اور ورزشی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیں۔

    شاید ‘زندگی کا جشن’ ہی ان مہروں کی ایک ممکنہ حقیقی آواز ہو۔

    نوٹ: چانہو جو دڑو کا یہ شاندار مجسمہ اس وقت پاکستان یا بھارت میں نہیں بلکہ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں واقع میوزیم آف فائن آرٹس میں مستقل طور پر نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ چونکہ 1935 اور 1936 کی اس کھدائی کا بڑا حصہ امریکی اداروں کی مالی معاونت سے ہوا تھا، اس لیے اس وقت کے قوانین کے تحت چانہو جو دڑو سے ملنے والی نوادرات کا ایک بڑا حصہ، بشمول مشہور پینٹڈ جار اور یہ مجسمہ، بوسٹن کے میوزیم منتقل کر دیا گیا تھا۔

    وادی سندھ کی تہذیب کے آثار اور مہروں کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے والے بعض ماہرین آثار قدیمہ کا موقف ہے کہ چانہو جو دڑو کا یہ مجسمہ محض ایک روایتی رقص کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس دور کے جسمانی کھیلوں، کرتب بازی اور خاص طور پر بیلوں سے لڑائی یا ان پر سے چھلانگ لگانے کے کسی خطرناک کھیل کی حرکت کو ظاہر کر سکتا ہے۔

  • پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    کراچی کے ایم آر کیانی روڈ پر واقع، کراچی پریس کلب کے نزدیک، پیلے جیزری پتھر سے تعمیر شدہ ایڈورڈین طرز کی شاہکار عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے آج شاذ و نادر ہی کوئی یہ اندازہ لگا سکے کہ ان خاموش راہداریوں، لکڑی کی سیڑھیوں اور بلند و بالا ستونوں کے پیچھے استعماری کراچی کی ایک طویل، پراسرار اور اثر انگیز تاریخ پوشیدہ ہے۔

    عام شہریوں کے لیے برسوں تک ‘جادو گھر’ کے نام سے معروف رہنے والی یہ عمارت دراصل ‘فری میسن لاج’ یا ‘لاج آف ہوپ’ تھی، ایک ایسا مرکز جس کے بند دروازوں کے پیچھے نوآبادیاتی طاقت، مقامی ایلیٹ اور عالمی بھائی چارے کا ایک اچھوتا تانا بانا بنا گیا۔

    برطانوی راج کے تحت بننے والے کراچی میں جہاں ریل، بندرگاہ اور تجارتی منڈیاں قائم ہو رہی تھیں، وہاں اس خفیہ سوسائٹی نے شہر کی سیاسی، معاشی اور بلدیاتی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    سندھ میں ورثہ اور لاج آف ہوپ کا قیام

    سندھ پر برطانوی قبضے 1843 سے ذرا قبل، 1842 میں اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ممتاز ڈاکٹر، سائنسدان اور پروونشل گرینڈ ماسٹر ڈاکٹر جیمز برنز نے کراچی میں فری میسنری کی بنیاد رکھنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کا مقصد سندھ میں تعینات برطانوی فوجی و سول حکام کے لیے ایک ایسا اتحاد اور نگار خانہ قائم کرنا تھا جہاں وہ اپنے عالمی فلسفے، یعنی ‘اخلاقی ارتقا اور بھائی چارے’ کے تحت اکٹھے ہو سکیں۔

    شروع میں اس لاج کے اجتماعات صدر اور کنٹونمنٹ کے عارضی مقامات پر ہوا کرتے تھے۔ تاہم، 20ویں صدی کے اوائل میں جب کراچی بمبئی پریسیڈنسی کے تحت ایک شاندار اور جدید میٹروپولیٹن شہر کی شکل اختیار کر رہا تھا، تو فری میسنز کے لیے ایک باقاعدہ اور مستقل مرکز کی ضرورت محسوس کی گئی۔

    بالآخر 18 دسمبر 1914 کو موجودہ ایم آر کیانی روڈ پر ‘لاج آف ہوپ نمبر 360’ کی شاندار عمارت کا افتتاح ہوا۔ اس عمارت کی معماری میں یونانی کلاسیکی ستون، سنہری پالش والی لکڑی کی سیڑھیاں، وسیع ڈائننگ ہال اور ایک پرسکون لائبریری شامل کی گئی، جو اس دور کی برطانوی اشرافیہ کے پُرتکلف ذوق کی عکاسی کرتی تھی۔

    قدیم کراچی کی ایک کثیر المذاہب ایلیٹ نیٹ ورک کمیونٹی

    یہ تاثر عام ہے کہ فری میسن لاج صرف انگریز حکمرانوں کا اڈہ تھا، لیکن تاریخی حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں یہ لاج قدیم کراچی کے سب سے طاقتور، بااثر اور کثیر المذاہب طبقے کا مرکوزہ اجتماعی مرکز بن چکی تھی۔

    برطانوی سول و ملٹری بیوروکریسی اس نیٹ ورک کا اہم حصہ تھی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے جج، کلیکٹرز اور فوج کے اعلیٰ افسران اس لاج کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

    امیر پارسی تجارتی طبقات بھی اس نیٹ ورک میں شامل تھے۔ قدیم کراچی کے ارتقا اور ترقی میں پارسی برادری کا کردار محتاج بیان نہیں۔ پارسی تاجر انگریز انتظامیہ کے فکری اور معاشی طور پر بہت قریب تھے۔ جہانگیر کوٹھاری، ایڈلجی دنشاہ اور میتھا خاندانوں جیسی بااثر پارسی شخصیات کے کئی افراد انگریز افسران کے ساتھ ایک ہی لاج میں برابری کی سطح پر بیٹھتے تھے۔

    20ویں صدی میں انگریزی تعلیم یافتہ مقامی اشرافیہ، نامور ہندو سیٹھوں اور ولایت سے پڑھے ہوئے مسلم بیرسٹرز و ججز نے بھی اس لاج کی رکنیت اختیار کی۔

    اگرچہ فری میسن لاج کے اندر سیاست اور مذہب پر بحث کرنے پر رسمی پابندی تھی، لیکن شہر کے تمام بااثر معاشی اور انتظامی مہروں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اس بات کی ضمانت تھا کہ کراچی کی بندرگاہ، بلدیاتی منصوبوں اور تجارتی نیٹ ورکس کے لیے اہم غیر رسمی فیصلے اسی عمارت کی راہداریوں میں طے پاتے تھے۔

    ‘جادو گھر’ کا مفروضہ اور عوامی نفسیات

    نوآبادیاتی دور میں عام شہریوں، مزدوروں اور مقامی غریب آبادی کے لیے اس عمارت کے اندر قدم رکھنا تو درکنار، اس کے قریب پھٹکنا بھی ناممکن تھا۔ شام کے وقت جب بگیوں اور قیمتی گاڑیوں میں سوار ہو کر بااثر شخصیات یہاں پہنچتیں اور عمارت کے وزنی لکڑی کے دروازے بند کر دیے جاتے، تو باہر کی دنیا میں قیاس آرائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

    عمارت کے اندرونی ہالز میں فرش پر چک دار سیاہ و سفید ٹائلیں، پرکار اور گونیا، مربع اور پرکار کی پراسرار علامات اور ارکان کے مخصوص اشاروں و ہاتھ ملانے کے خفیہ طریقوں نے عوام کے ذہنوں میں دہشت اور حیرت کا امتزاج پیدا کر دیا۔

    مقامی آبادی نے اس پراسرار اور الگ تھلگ عمارت کو ‘جادو گھر’ کا نام دے دیا۔ عوام کا ماننا تھا کہ انگریز اور سیٹھ رات کی تاریکی میں اندر جمع ہو کر کالا جادو کرتے ہیں، سحر انگیز عمل کے ذریعے غیب کا علم حاصل کرتے ہیں یا کسی نادیدہ طاقت کو تسخیر کرتے ہیں۔ یہ دیو مالائی کہانیاں زبان زد عام رہیں اور نسلاً بعد نسل کراچی کے لوک داستانوی حافظے کا حصہ بن گئیں۔

    مذہبی ابہام، صیہونیت اور عالمی تناظر

    فری میسنری کا اپنا دعویٰ یہ تھا کہ وہ محض ایک غیر مذہبی اخلاقی بھائی چارہ ہے جس میں ہر اس شخص کو شامل کیا جاتا ہے جو کسی ایک ‘اعلیٰ طاقت’ پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن اس کے اندرونی فلسفے اور رسومات میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور قبالہ کے یہودی تصوف کی علامات کا گہرا دخل تھا۔

    20ویں صدی کے نصف میں، خاص طور پر 1948 میں صیہونی ریاست کے قیام کے بعد، عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ فری میسنری اور صیہونیت کے درمیان پس پردہ گہرے روابط موجود ہیں۔ عالم اسلام اور کیتھولک چرچ دونوں نے اس تنظیم پر سخت تنقید کی اور اسے اسلامی و ملکی مفادات کے خلاف ایک بین الاقوامی خفیہ نیٹ ورک قرار دیا۔

    پابندی، تحویل اور موجودہ حالت

    قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی کا یہ فری میسن لاج چند دہائیوں تک عارضی اور محدود پیمانے پر کام کرتا رہا۔ لیکن بالآخر 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ایک تاریخی اور سٹریٹیجک فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان بھر میں فری میسنری اور اس سے وابستہ تمام لاجز پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

    پابندی کے بعد کراچی کے اس ‘جادو گھر’ کے تمام ریکارڈز، علامات اور چابیاں ریاست نے اپنی تحویل میں لے لیں۔

    1990 کی دہائی میں یہ عمارت محکمہ تحفظ جنگلی حیات کو سونپ دی گئی۔

    سندھ کلچرل ہیریٹیج ایکٹ 1994 کے تحت اس شاندار تاریخی عمارت کو محفوظ قومی و صوبائی ورثہ قرار دیا گیا۔

    آج اس عمارت کے مرکزی ہالوں اور کمروں میں سندھ وائلڈ لائف کے دفاتر، نایاب حنوط شدہ جانوروں اور پرندوں کا ایک چھوٹا نیچرل ہسٹری میوزیم اور پبلک لائبریری قائم ہے۔

    ایک علمی و تاریخی جائزہ

    کراچی کا فری میسن لاج محض ایک پرانی عمارت نہیں، بلکہ یہ نوآبادیاتی دور کی اس سماجی اور معاشی بساط کا زندہ ثبوت ہے جس نے جدید کراچی کی بنیادیں رکھیں۔ یہ عمارت اس بات کی گواہ ہے کہ کس طرح ایک غیر ملکی استعماری طاقت نے مقامی ایلیٹ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک خفیہ اور بااثر نیٹ ورک قائم کیا۔

    آج اگرچہ اس عمارت کے اندر کا ‘جادو’ ختم ہو چکا ہے اور فری میسنز کا راز تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکا ہے، لیکن اس کی خوبصورت لکڑی کی سیڑھیاں، سنہری پالش والے دروازے اور خاموش راہداریاں آج بھی خاموشی سے اس دور کی داستان سناتی ہیں جب کراچی پر انگریز بیوروکریٹ، پارسی تاجر، ہندو سیٹھ اور مسلم بیرسٹرز مل کر ایک بند کمرے سے حکومت کیا کرتے تھے۔

  • صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی دھنکتی ریت میں، جہاں سورج کی تپش زمین کو چیر دیتی ہے اور پانی سونے سے بھی قیمتی ہے، وقت کے خلاف اک عجوبہ آج بھی کھڑا ہے۔ سفید سنگ مرمر اور پہاڑی پتھروں سے تراشے گئے قدیم مندر دھول کے پردے میں سے ایسے اٹھتے ہیں جیسے کسی بھولی بسری تہذیب کے بھوت ہوں۔

    یہ ہیں نگرپارکر کے جین مندر۔ اور ان کے پاس سنانے کو بہت سی کہانیاں ہیں۔

    بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مندر موجود ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ ان کے کھنڈروں میں قدم رکھ پائے ہیں۔ مگر جو لوگ یہاں آتے ہیں، وہ ایک پوری تہذیب کی باقیات کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ، وہ تہذیب جو کبھی اتنے مال و زر سے پھلی پھولی کہ مسافروں نے اس بنجر صحرا کو ہندوستان کا ‘سب سے شاندار خطہ’ قرار دے دیا تھا۔

    جب صحرا بندرگاہ تھا

    آج یہ ناممکن لگتا ہے۔ تھرپارکر سوکھے اور قحط کی سرزمین ہے۔ مگر بارہویں سے پندرھویں صدی کے درمیان یہی علاقہ ‘پاری نگر’ کے نام سے جانا جاتا تھا ، ایک رونق افروز بندرگاہ جہاں بحری جہاز آتے تھے اور سوداگر دولت کے ڈھیر لگاتے تھے۔

    یہاں کے جین تاجر بحیرہ عرب کے راستے تجارت کرتے تھے۔ دریائے ہاکڑو کے کنارے آباد یہ شہر اتنا خوشحال تھا کہ جین برادری نے اپنی عقیدت اور دولت کا اظہار پتھر میں کر دیا۔

    انہوں نے اپنے ایمان کو پتھر کی شکل دی۔ اور پتھر، سلطنتوں کے برعکس، بھولتا نہیں ہے۔

    گوڑی مندر: سنگ مرمر کا شاہکار

    تمام کھنڈروں میں ایک عمارت آج بھی وقار سے کھڑی ہے۔ گوڑی مندر ، جسے گوڑی جو مندر بھی کہا جاتا ہے ، 1375 سے 1376 عیسوی کے درمیان تعمیر ہوا، اور یہ جین مذہب کے 23ویں تیرتھنکر لارڈ پارشوناتھ کے لیے وقف تھا۔

    یہ مکمل طور پر سفید سنگ مرمر سے بنا ہے۔

    اس کی چھت پر 52 چھوٹے گنبد اور دو بڑے گنبد موجود ہیں۔ اندر کی دیواروں پر برصغیر کے شمالی حصے میں موجود قدیم ترین جین فریسکوز (دیواری مصوری) آج بھی موجود ہیں۔ تھری پوشاک میں ملبوس خواتین کی تصاویر اب بھی پتھر پر رقص کرتی ہیں ، ان کے رنگ ماند پڑ چکے ہیں مگر ان کی خوبصورتی چھ صدیوں کے باوجود کم نہیں ہوئی۔

    لیکن زمانہ بے رحم تھا۔ 1898 کے زلزلے نے مندر کے سب سے مقدس حصے شکھر (بلند گنبد) کو تباہ کر دیا۔ 2001 میں آنے والے 7.9 شدت کے زلزلے نے جو باقی بچا تھا، اسے بھی چکنا چور کر دیا۔

    پھر بھی، گوڑی مندر کھڑا ہے۔ ٹوٹا ہوا، مگر سانس لیتا ہوا۔

    ننگر بازار مندر: جہاں عبادت سب سے دیر تک جاری رہی

    ننگرپارکر شہر کے مرکزی بازار کے دل میں ایک اور مندر ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ بازار مندر 1947 تک، جب پاکستان وجود میں آیا ، مسلسل جین مت کے لوگوں کے استعمال میں رہا۔

    اس کے ستونوں پر جین مت کی نقاشی بنی ہوئی ہے، ہر پتھر ایک مقدس کہانی سناتا ہے۔ دیواروں پر موجود قدیم فریسکوز نے صدیوں تک عبادت گزاروں کو دیکھا۔ یہ کوئی بھولا بسری کھنڈر نہیں تھا۔ یہ ایک زندہ، سانس لیتی عبادت گاہ تھی، بالکل اسی لمحے تک جب تقسیمِ ہند نے برصغیر کو چیر کر رکھ دیا۔

    بھوڈیسر: تین مندر، تین تقدیریں

    نگرپارکر سے تقریباً چھ کلومیٹر دور بھوڈیسر کے مقام پر تین جین مندر مختلف مراحل میں کھڑے ہیں۔

    دو مندر 1375 اور 1449 عیسوی میں بنائے گئے تھے۔ تیسرا مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر ہے۔

    یہ مندر کارونجھر پہاڑ کے پتھروں سے بنائے گئے ہیں، ان کی گنبد نما چھتیں آسمانوں کی بازگشت سناتی ہیں۔ اور تاریخ کا ایک عجیب موڑ دیکھیے کہ انہی مندروں کے قریب ایک سفید سنگ مرمر کی مسجد بھی موجود ہے، جو 1505 عیسوی میں تعمیر ہوئی ، اس کا طرزِ تعمیر جین مندروں سے اتنا ملتا ہے کہ آپ اسے بھی انہی میں شمار کر سکتے ہیں۔

    وہ مذاہب جو کبھی ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ اب وہاں صرف خاموشی رہتی ہے۔

    جین کیوں اپنے قدیم آبائی وطن کو چھوڑ گئے؟

    یہ زوال ایک رات میں نہیں آیا۔ یہ قطرہ قطرہ، پتھر پتھر ہوا۔

    پہلے دریا نے راستہ بدلا۔ سندھ سے آنے والی گاد نے رن کچھ کو بھرنا شروع کر دیا، جس سے بحیرہ عرب پیچھے ہٹ گیا۔ بندرگاہ ختم ہو گئی۔ تجارتی راستے بدل گئے۔ اور انیسویں صدی کے اوائل تک جین برادری بڑی تعداد میں یہاں سے نکلنے لگی۔

    پھر 1947 میں تقسیمِ ہند آئی۔ بہت سے جین خاندان ہندوستان چلے گئے، امن کی تلاش میں۔ چند خاندان نگرپارکر میں رہ گئے، اپنے آبائی گھروں سے چمٹے ہوئے۔

    لیکن 1971 کی پاکستان بھارت جنگ نے آخری ضرب لگائی۔ باقی ماندہ جین خاندانوں نے جو کچھ اٹھا سکتے تھے، سمیٹ لیا۔ مقامی لوگوں کی زبانی روایت کے مطابق، نگرپارکر کا آخری جین خاندان 1972 کی ایک صبح اونٹ پر سوار ہو کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوا۔

    وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

    جانے سے پہلے، انہوں نے ایک حیران کن کام کیا۔ انہوں نے اپنی مقدس مورتیاں زمین میں دفن کر دیں ، تاکہ انہیں بچا سکیں، تباہی سے محفوظ رکھ سکیں۔ مہاویر کی درجنوں مورتیاں دہائیوں تک مٹی کے نیچے سوتی رہیں، انتظار کرتی رہیں۔

    حیران کن دریافت

    حال ہی میں، نگرپارکر کے ایک جین مندر کی بحالی کے دوران، مزدوروں نے ایک شاندار چیز دریافت کی۔ وہ دفن شدہ مورتیاں ، جنہیں آخری جین خاندان نے 1971 میں بے بسی سے چھپایا تھا ، زمین سے نکلیں۔

    زبانی روایت نے برسوں ان کا ذکر کیا تھا۔ اب زمین نے اپنا راز چھوڑ دیا۔ یہ مورتیاں تحفظ کے لیے حیدرآباد منتقل کر دی گئیں۔ ایک رخصت ہوتی قوم کا آخری عمل، بالآخر روشنی میں آ گیا۔

    آج کیا بچا ہے؟

    ان میں سے زیادہ تر مندر اب کھنڈر ہیں۔ مقامی دیہاتی، اپنے گھروں کے لیے پتھر ڈھونڈتے ہوئے، تاریخ کے ٹکڑے ٹکڑے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ فریسکوز مزید دھندلا رہے ہیں۔ سنگ مرمر مزید پھٹ رہا ہے۔

    مگر اب بھی امید ہے۔

    2016 میں ان مندروں کو اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے حال ہی میں کارونجھر پہاڑی سلسلے کو قانون کے تحت ایک یادگار قرار دیتے ہوئے ہر جین مندر کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یہ محض عمارتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک پوری تہذیب کی کہانی ہے جس نے صحرا کو سونا بنا دیا، جس نے سنگ مرمر سے جنت تعمیر کی، جس نے پہاڑوں کے سائے میں عبادت کی اور کھلے سمندر پر تجارت کی۔

    ان کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ مگر آیا اس کا انجام خوش گوار ہوگا، یہ اس پر منحصر ہے کہ آج ہم کیا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔

    تھرپارکر کے جین مندر صرف کھنڈر نہیں ہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبھی اس سخت سرزمین پر خوشحالی کھلی ہاتھوں برستی تھی، جب سوداگر اس کی بندرگاہوں سے سمندر پار جاتے تھے، جب فنکاروں نے اس کی دیواروں کو خوبصورتی سے سجا دیا تھا، اور جب ایمان نے ایسی عمارتیں تعمیر کیں جنہوں نے مرنے سے انکار کر دیا۔

    آج بھی، ہوا گوڑی مندر کے ٹوٹے ہوئے گنبدوں میں سے گزرتی ہے۔ آج بھی، سورج بازار مندر کے سنگ مرمر کے ستونوں کے پیچھے ڈوبتا ہے۔ اور کہیں صحرا کے نیچے، شاید مزید مورتیاں ابھی بھی سو رہی ہیں، اپنی کہانیاں سنانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

    آخری جین خاندان 1972 میں اونٹ پر سوار ہو کر چلا گیا۔ مگر مندر رہ گئے۔

    اور وہ اب بھی بول رہے ہیں۔

  • برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    چہار چیز است تحفہ ملتان، گرد، گرما، گدا و گورستان۔ ملتان کی چار چیزیں مشہور ہیں، دھول، گرمی، فقیر اور قبریں۔ یہ جملہ صدیوں پرانا ہے، مگر ملتان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    ملتان کو برصغیر کے قدیم ترین زندہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شہر ہزاروں برس سے تہذیب، تجارت اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں گزرنے والی ہر صدی نے اس کی شناخت میں ایک نئی تہہ جوڑی ہے۔

    ملتان کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا اور شاہ رکن عالم کے مزارات نے اسے روحانی پہچان دی۔ یہی وجہ ہے کہ فقیروں اور درویشوں کی روایت آج بھی یہاں زندہ ہے۔

    ملتان کی گرمی اپنی مثال آپ ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ قدیم ملتان کے گھروں میں موٹی دیواریں اور ہوادار ساخت اسی موسم سے نمٹنے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔

    ملتان آموں کا شہر بھی ہے۔ چونسا، سندھڑی اور دسہری یہاں کی پہچان ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ملتان کبھی قدیم ریشم اور نیلے رنگ کی تجارت کا بھی بڑا مرکز رہا ہے۔

    ملتان کی قبریں صرف قبرستان نہیں۔ یہ تاریخ کے صفحات ہیں۔ ہر مزار، ہر اینٹ، ایک کہانی سناتی ہے۔

    یہ ہے ملتان۔ گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ہوئی ایک زندہ تہذیب۔

  • خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں بدھ مت واقع تاریخی عبادت گاہ تخت بھائی صدیوں پرانی تہذیبی کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ مقام نہ صرف گندھارا دور کی یادگار ہے بلکہ برصغیر میں بدھ مت کے تعلیمی مراکز کی ایک اہم مثال بھی سمجھا جاتا ہے۔

    تخت بھائی کے بارے میں ہم نے معاذ علی، اسسٹنٹ کنزرویشن، محکمہ آرکیالوجی، خیبر پختونخوا سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق تخت بھائی کی بنیاد پہلی صدی عیسوی کے آس پاس رکھی گئی تھی اور یہ جگہ اپنی جغرافیائی ساخت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پہاڑی چوٹی پر قائم ہونے کے باعث یہ مقام حملہ آوروں اور قدرتی آفات سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔

    معاذ علی کا کہنا ہے کہ تخت بھائی چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی اسٹوپا، راہبوں کی رہائش گاہیں، عبادتی ہال اور تعلیمی کمروں کے آثار شامل ہیں۔ یہاں سے ملنے والے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک مکمل تعلیمی ادارہ تھا جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبا بدھ مت کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ تخت بھائی وہ نایاب بدھ م کا مقام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تقریباً مکمل حالت میں محفوظ رہا۔ کئی دیگر گندھارا سائٹس وقت، موسم اور انسانی مداخلت کے باعث شدید نقصان کا شکار ہوئیں، مگر تخت بھائی اپنی بلندی اور مضبوط تعمیر کی بدولت آج بھی اپنی اصل ساخت کے قریب دکھائی دیتا ہے۔

    سنہ 1980 میں تخت بھائی کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے بعد اس کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی گئی۔ تاہم آج بھی یہ مقام موسمی اثرات، بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر ذمہ دار سیاحت جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    معاذ علی بتاتے ہیں کہ محکمہ آرکیالوجی یہاں تحفظاتی کاموں کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کر رہا ہے تاکہ لوگ اس ورثے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق تخت بھائی صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ثقافتی مکالمے اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔

    تخت بھائی آج بھی خاموشی سے اس دور کی گواہی دیتا ہے جب یہ خطہ علم، فلسفے اور روحانی جستجو کا مرکز تھا۔ یہ مقام نہ صرف سیاحوں بلکہ محققین کے لیے بھی ایک زندہ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، جو آنے والی نسلوں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

     

  • قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    سندھ کے قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والا نئوں کوٹ کا شہر ہر سال سیلاب کی زد میں آتا ہے۔ یہ شہر انتظامی طور پر دو اضلاع، تھرپارکر اور میرپور خاص، میں تقسیم ہے۔ تھرپارکر کی حدود میں آنے والا حصہ ڈھورو بازار یا سنتورو فارم کہلاتا ہے، جبکہ میرپور خاص کی حدود میں موجود حصہ نئوں کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    وہ وقت جب تھر تک پکی سڑکیں نہیں پہنچی تھیں، نئوں کوٹ اس خطے کا مرکزی شہر تھا۔ اس وقت تھرپارکر کی چار میں سے تین تحصیلوں کی آمدورفت اسی شہر کے ذریعے ہوتی تھی، کیونکہ یہی واحد شہر تھا جہاں سے ریلوے سڑک گزرتی تھی۔ اسی ریلوے لائن نے نئوں کوٹ کو تجارتی اور آبادیاتی طور پر وسعت دی۔

    وقت کے ساتھ لوگوں نے قدیم دریائے ہاکڑو کے کنارے آبادیاں بنائیں۔ رفتہ رفتہ یہ آبادیاں پھیلتی گئیں اور ایک وقت آیا کہ شہر کا بڑا حصہ خشک ہو چکے ہاکڑو کے اندر تک جا بسا۔ چونکہ دریا برسوں سے سوکھا ہوا تھا، اس لیے لوگوں کو یہ احساس ہی نہ رہا کہ وہ ایک قدیم دریا کے بہاؤ میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ حقیقت پہلی بار 2011 میں اس وقت سامنے آئی جب شدید سیلاب آیا۔ نئوں کوٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ اور سنتورو فارم، ڈھورو بازار سمیت متعدد کالونیاں مکمل طور پر زیر آب آ گئیں۔ دکانیں ڈوب گئیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ قریبی ریت کے ٹیلوں پر جا کر آباد ہوئے۔ تقریباً دو مہینے تک متاثرہ خاندان انہی ٹیلوں پر رہے۔ پانی اترنے کے بعد لوگ دوبارہ شہر کی طرف لوٹ آئے۔

    اس کے بعد 2020 اور 2022 میں بھی سیلاب آیا اور نئوں کوٹ ایک بار پھر ڈوب گیا۔ ہر بار منظر ایک جیسا رہا، نقل مکانی، ریت کے ٹیلے اور واپسی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، شہر کے لوگ خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں دوبارہ سیلاب نہ آ جائے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ ایک دہائی کے دوران سندھ میں غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ جب بھی سندھ میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اس کا براہ راست اثر نئوں کوٹ پر پڑتا ہے۔ قدیم ہاکڑو اب سندھ کا سب سے بڑا سیلابی نالا بن چکا ہے، جو سیلابی پانی کو شکور جھیل اور پھر سمندر کی جانب لے جاتا ہے، اور اسی بہاؤ میں نئوں کوٹ بار بار ڈوب جاتا ہے۔

    ہر بڑے سیلاب کے دوران نئوں کوٹ میڈیا کی خبروں میں تو آ جاتا ہے، مگر شہر کو مستقل بنیادوں پر محفوظ بنانے کے لیے اب تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں آ سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے یہاں آباد ہیں، مگر بدلتے موسم اور بڑھتی بارشوں نے ان کی زندگی غیر محفوظ بنا دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری اور عملی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    شہر کے رہائشی سنجے کمار کا کہنا ہے کہ اگر نئوں کوٹ کو بچانا ہے تو ہاکڑو کے نالے کو باقاعدہ طور پر خالی کر کے اس کے اوپر فلائی اوور یا متبادل راستہ بنایا جائے، تاکہ سیلاب کے دوران آمدورفت متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق جب نئوں کوٹ ڈوبتا ہے تو تھرپارکر کا رابطہ باقی سندھ سے کٹ جاتا ہے، جس سے پورا خطہ مفلوج ہو جاتا ہے۔

    نئوں کوٹ آج بھی قدیم ہاکڑو کے بہاؤ میں سانس لے رہا ہے، مگر ہر آنے والا مون سون اس شہر کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو یہ شہر ہر سال اسی طرح ڈوبتا رہے گا۔