Tag: قدیم

  • صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی دھنکتی ریت میں، جہاں سورج کی تپش زمین کو چیر دیتی ہے اور پانی سونے سے بھی قیمتی ہے، وقت کے خلاف اک عجوبہ آج بھی کھڑا ہے۔ سفید سنگ مرمر اور پہاڑی پتھروں سے تراشے گئے قدیم مندر دھول کے پردے میں سے ایسے اٹھتے ہیں جیسے کسی بھولی بسری تہذیب کے بھوت ہوں۔

    یہ ہیں نگرپارکر کے جین مندر۔ اور ان کے پاس سنانے کو بہت سی کہانیاں ہیں۔

    بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مندر موجود ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ ان کے کھنڈروں میں قدم رکھ پائے ہیں۔ مگر جو لوگ یہاں آتے ہیں، وہ ایک پوری تہذیب کی باقیات کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ، وہ تہذیب جو کبھی اتنے مال و زر سے پھلی پھولی کہ مسافروں نے اس بنجر صحرا کو ہندوستان کا ‘سب سے شاندار خطہ’ قرار دے دیا تھا۔

    جب صحرا بندرگاہ تھا

    آج یہ ناممکن لگتا ہے۔ تھرپارکر سوکھے اور قحط کی سرزمین ہے۔ مگر بارہویں سے پندرھویں صدی کے درمیان یہی علاقہ ‘پاری نگر’ کے نام سے جانا جاتا تھا ، ایک رونق افروز بندرگاہ جہاں بحری جہاز آتے تھے اور سوداگر دولت کے ڈھیر لگاتے تھے۔

    یہاں کے جین تاجر بحیرہ عرب کے راستے تجارت کرتے تھے۔ دریائے ہاکڑو کے کنارے آباد یہ شہر اتنا خوشحال تھا کہ جین برادری نے اپنی عقیدت اور دولت کا اظہار پتھر میں کر دیا۔

    انہوں نے اپنے ایمان کو پتھر کی شکل دی۔ اور پتھر، سلطنتوں کے برعکس، بھولتا نہیں ہے۔

    گوڑی مندر: سنگ مرمر کا شاہکار

    تمام کھنڈروں میں ایک عمارت آج بھی وقار سے کھڑی ہے۔ گوڑی مندر ، جسے گوڑی جو مندر بھی کہا جاتا ہے ، 1375 سے 1376 عیسوی کے درمیان تعمیر ہوا، اور یہ جین مذہب کے 23ویں تیرتھنکر لارڈ پارشوناتھ کے لیے وقف تھا۔

    یہ مکمل طور پر سفید سنگ مرمر سے بنا ہے۔

    اس کی چھت پر 52 چھوٹے گنبد اور دو بڑے گنبد موجود ہیں۔ اندر کی دیواروں پر برصغیر کے شمالی حصے میں موجود قدیم ترین جین فریسکوز (دیواری مصوری) آج بھی موجود ہیں۔ تھری پوشاک میں ملبوس خواتین کی تصاویر اب بھی پتھر پر رقص کرتی ہیں ، ان کے رنگ ماند پڑ چکے ہیں مگر ان کی خوبصورتی چھ صدیوں کے باوجود کم نہیں ہوئی۔

    لیکن زمانہ بے رحم تھا۔ 1898 کے زلزلے نے مندر کے سب سے مقدس حصے شکھر (بلند گنبد) کو تباہ کر دیا۔ 2001 میں آنے والے 7.9 شدت کے زلزلے نے جو باقی بچا تھا، اسے بھی چکنا چور کر دیا۔

    پھر بھی، گوڑی مندر کھڑا ہے۔ ٹوٹا ہوا، مگر سانس لیتا ہوا۔

    ننگر بازار مندر: جہاں عبادت سب سے دیر تک جاری رہی

    ننگرپارکر شہر کے مرکزی بازار کے دل میں ایک اور مندر ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ بازار مندر 1947 تک، جب پاکستان وجود میں آیا ، مسلسل جین مت کے لوگوں کے استعمال میں رہا۔

    اس کے ستونوں پر جین مت کی نقاشی بنی ہوئی ہے، ہر پتھر ایک مقدس کہانی سناتا ہے۔ دیواروں پر موجود قدیم فریسکوز نے صدیوں تک عبادت گزاروں کو دیکھا۔ یہ کوئی بھولا بسری کھنڈر نہیں تھا۔ یہ ایک زندہ، سانس لیتی عبادت گاہ تھی، بالکل اسی لمحے تک جب تقسیمِ ہند نے برصغیر کو چیر کر رکھ دیا۔

    بھوڈیسر: تین مندر، تین تقدیریں

    نگرپارکر سے تقریباً چھ کلومیٹر دور بھوڈیسر کے مقام پر تین جین مندر مختلف مراحل میں کھڑے ہیں۔

    دو مندر 1375 اور 1449 عیسوی میں بنائے گئے تھے۔ تیسرا مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر ہے۔

    یہ مندر کارونجھر پہاڑ کے پتھروں سے بنائے گئے ہیں، ان کی گنبد نما چھتیں آسمانوں کی بازگشت سناتی ہیں۔ اور تاریخ کا ایک عجیب موڑ دیکھیے کہ انہی مندروں کے قریب ایک سفید سنگ مرمر کی مسجد بھی موجود ہے، جو 1505 عیسوی میں تعمیر ہوئی ، اس کا طرزِ تعمیر جین مندروں سے اتنا ملتا ہے کہ آپ اسے بھی انہی میں شمار کر سکتے ہیں۔

    وہ مذاہب جو کبھی ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ اب وہاں صرف خاموشی رہتی ہے۔

    جین کیوں اپنے قدیم آبائی وطن کو چھوڑ گئے؟

    یہ زوال ایک رات میں نہیں آیا۔ یہ قطرہ قطرہ، پتھر پتھر ہوا۔

    پہلے دریا نے راستہ بدلا۔ سندھ سے آنے والی گاد نے رن کچھ کو بھرنا شروع کر دیا، جس سے بحیرہ عرب پیچھے ہٹ گیا۔ بندرگاہ ختم ہو گئی۔ تجارتی راستے بدل گئے۔ اور انیسویں صدی کے اوائل تک جین برادری بڑی تعداد میں یہاں سے نکلنے لگی۔

    پھر 1947 میں تقسیمِ ہند آئی۔ بہت سے جین خاندان ہندوستان چلے گئے، امن کی تلاش میں۔ چند خاندان نگرپارکر میں رہ گئے، اپنے آبائی گھروں سے چمٹے ہوئے۔

    لیکن 1971 کی پاکستان بھارت جنگ نے آخری ضرب لگائی۔ باقی ماندہ جین خاندانوں نے جو کچھ اٹھا سکتے تھے، سمیٹ لیا۔ مقامی لوگوں کی زبانی روایت کے مطابق، نگرپارکر کا آخری جین خاندان 1972 کی ایک صبح اونٹ پر سوار ہو کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوا۔

    وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

    جانے سے پہلے، انہوں نے ایک حیران کن کام کیا۔ انہوں نے اپنی مقدس مورتیاں زمین میں دفن کر دیں ، تاکہ انہیں بچا سکیں، تباہی سے محفوظ رکھ سکیں۔ مہاویر کی درجنوں مورتیاں دہائیوں تک مٹی کے نیچے سوتی رہیں، انتظار کرتی رہیں۔

    حیران کن دریافت

    حال ہی میں، نگرپارکر کے ایک جین مندر کی بحالی کے دوران، مزدوروں نے ایک شاندار چیز دریافت کی۔ وہ دفن شدہ مورتیاں ، جنہیں آخری جین خاندان نے 1971 میں بے بسی سے چھپایا تھا ، زمین سے نکلیں۔

    زبانی روایت نے برسوں ان کا ذکر کیا تھا۔ اب زمین نے اپنا راز چھوڑ دیا۔ یہ مورتیاں تحفظ کے لیے حیدرآباد منتقل کر دی گئیں۔ ایک رخصت ہوتی قوم کا آخری عمل، بالآخر روشنی میں آ گیا۔

    آج کیا بچا ہے؟

    ان میں سے زیادہ تر مندر اب کھنڈر ہیں۔ مقامی دیہاتی، اپنے گھروں کے لیے پتھر ڈھونڈتے ہوئے، تاریخ کے ٹکڑے ٹکڑے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ فریسکوز مزید دھندلا رہے ہیں۔ سنگ مرمر مزید پھٹ رہا ہے۔

    مگر اب بھی امید ہے۔

    2016 میں ان مندروں کو اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے حال ہی میں کارونجھر پہاڑی سلسلے کو قانون کے تحت ایک یادگار قرار دیتے ہوئے ہر جین مندر کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یہ محض عمارتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک پوری تہذیب کی کہانی ہے جس نے صحرا کو سونا بنا دیا، جس نے سنگ مرمر سے جنت تعمیر کی، جس نے پہاڑوں کے سائے میں عبادت کی اور کھلے سمندر پر تجارت کی۔

    ان کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ مگر آیا اس کا انجام خوش گوار ہوگا، یہ اس پر منحصر ہے کہ آج ہم کیا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔

    تھرپارکر کے جین مندر صرف کھنڈر نہیں ہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبھی اس سخت سرزمین پر خوشحالی کھلی ہاتھوں برستی تھی، جب سوداگر اس کی بندرگاہوں سے سمندر پار جاتے تھے، جب فنکاروں نے اس کی دیواروں کو خوبصورتی سے سجا دیا تھا، اور جب ایمان نے ایسی عمارتیں تعمیر کیں جنہوں نے مرنے سے انکار کر دیا۔

    آج بھی، ہوا گوڑی مندر کے ٹوٹے ہوئے گنبدوں میں سے گزرتی ہے۔ آج بھی، سورج بازار مندر کے سنگ مرمر کے ستونوں کے پیچھے ڈوبتا ہے۔ اور کہیں صحرا کے نیچے، شاید مزید مورتیاں ابھی بھی سو رہی ہیں، اپنی کہانیاں سنانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

    آخری جین خاندان 1972 میں اونٹ پر سوار ہو کر چلا گیا۔ مگر مندر رہ گئے۔

    اور وہ اب بھی بول رہے ہیں۔

  • برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    چہار چیز است تحفہ ملتان، گرد، گرما، گدا و گورستان۔ ملتان کی چار چیزیں مشہور ہیں، دھول، گرمی، فقیر اور قبریں۔ یہ جملہ صدیوں پرانا ہے، مگر ملتان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    ملتان کو برصغیر کے قدیم ترین زندہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شہر ہزاروں برس سے تہذیب، تجارت اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں گزرنے والی ہر صدی نے اس کی شناخت میں ایک نئی تہہ جوڑی ہے۔

    ملتان کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا اور شاہ رکن عالم کے مزارات نے اسے روحانی پہچان دی۔ یہی وجہ ہے کہ فقیروں اور درویشوں کی روایت آج بھی یہاں زندہ ہے۔

    ملتان کی گرمی اپنی مثال آپ ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ قدیم ملتان کے گھروں میں موٹی دیواریں اور ہوادار ساخت اسی موسم سے نمٹنے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔

    ملتان آموں کا شہر بھی ہے۔ چونسا، سندھڑی اور دسہری یہاں کی پہچان ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ملتان کبھی قدیم ریشم اور نیلے رنگ کی تجارت کا بھی بڑا مرکز رہا ہے۔

    ملتان کی قبریں صرف قبرستان نہیں۔ یہ تاریخ کے صفحات ہیں۔ ہر مزار، ہر اینٹ، ایک کہانی سناتی ہے۔

    یہ ہے ملتان۔ گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ہوئی ایک زندہ تہذیب۔

  • خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں بدھ مت واقع تاریخی عبادت گاہ تخت بھائی صدیوں پرانی تہذیبی کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ مقام نہ صرف گندھارا دور کی یادگار ہے بلکہ برصغیر میں بدھ مت کے تعلیمی مراکز کی ایک اہم مثال بھی سمجھا جاتا ہے۔

    تخت بھائی کے بارے میں ہم نے معاذ علی، اسسٹنٹ کنزرویشن، محکمہ آرکیالوجی، خیبر پختونخوا سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق تخت بھائی کی بنیاد پہلی صدی عیسوی کے آس پاس رکھی گئی تھی اور یہ جگہ اپنی جغرافیائی ساخت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پہاڑی چوٹی پر قائم ہونے کے باعث یہ مقام حملہ آوروں اور قدرتی آفات سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔

    معاذ علی کا کہنا ہے کہ تخت بھائی چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی اسٹوپا، راہبوں کی رہائش گاہیں، عبادتی ہال اور تعلیمی کمروں کے آثار شامل ہیں۔ یہاں سے ملنے والے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک مکمل تعلیمی ادارہ تھا جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبا بدھ مت کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ تخت بھائی وہ نایاب بدھ م کا مقام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تقریباً مکمل حالت میں محفوظ رہا۔ کئی دیگر گندھارا سائٹس وقت، موسم اور انسانی مداخلت کے باعث شدید نقصان کا شکار ہوئیں، مگر تخت بھائی اپنی بلندی اور مضبوط تعمیر کی بدولت آج بھی اپنی اصل ساخت کے قریب دکھائی دیتا ہے۔

    سنہ 1980 میں تخت بھائی کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے بعد اس کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی گئی۔ تاہم آج بھی یہ مقام موسمی اثرات، بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر ذمہ دار سیاحت جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    معاذ علی بتاتے ہیں کہ محکمہ آرکیالوجی یہاں تحفظاتی کاموں کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کر رہا ہے تاکہ لوگ اس ورثے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق تخت بھائی صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ثقافتی مکالمے اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔

    تخت بھائی آج بھی خاموشی سے اس دور کی گواہی دیتا ہے جب یہ خطہ علم، فلسفے اور روحانی جستجو کا مرکز تھا۔ یہ مقام نہ صرف سیاحوں بلکہ محققین کے لیے بھی ایک زندہ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، جو آنے والی نسلوں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

     

  • قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    سندھ کے قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والا نئوں کوٹ کا شہر ہر سال سیلاب کی زد میں آتا ہے۔ یہ شہر انتظامی طور پر دو اضلاع، تھرپارکر اور میرپور خاص، میں تقسیم ہے۔ تھرپارکر کی حدود میں آنے والا حصہ ڈھورو بازار یا سنتورو فارم کہلاتا ہے، جبکہ میرپور خاص کی حدود میں موجود حصہ نئوں کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    وہ وقت جب تھر تک پکی سڑکیں نہیں پہنچی تھیں، نئوں کوٹ اس خطے کا مرکزی شہر تھا۔ اس وقت تھرپارکر کی چار میں سے تین تحصیلوں کی آمدورفت اسی شہر کے ذریعے ہوتی تھی، کیونکہ یہی واحد شہر تھا جہاں سے ریلوے سڑک گزرتی تھی۔ اسی ریلوے لائن نے نئوں کوٹ کو تجارتی اور آبادیاتی طور پر وسعت دی۔

    وقت کے ساتھ لوگوں نے قدیم دریائے ہاکڑو کے کنارے آبادیاں بنائیں۔ رفتہ رفتہ یہ آبادیاں پھیلتی گئیں اور ایک وقت آیا کہ شہر کا بڑا حصہ خشک ہو چکے ہاکڑو کے اندر تک جا بسا۔ چونکہ دریا برسوں سے سوکھا ہوا تھا، اس لیے لوگوں کو یہ احساس ہی نہ رہا کہ وہ ایک قدیم دریا کے بہاؤ میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ حقیقت پہلی بار 2011 میں اس وقت سامنے آئی جب شدید سیلاب آیا۔ نئوں کوٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ اور سنتورو فارم، ڈھورو بازار سمیت متعدد کالونیاں مکمل طور پر زیر آب آ گئیں۔ دکانیں ڈوب گئیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ قریبی ریت کے ٹیلوں پر جا کر آباد ہوئے۔ تقریباً دو مہینے تک متاثرہ خاندان انہی ٹیلوں پر رہے۔ پانی اترنے کے بعد لوگ دوبارہ شہر کی طرف لوٹ آئے۔

    اس کے بعد 2020 اور 2022 میں بھی سیلاب آیا اور نئوں کوٹ ایک بار پھر ڈوب گیا۔ ہر بار منظر ایک جیسا رہا، نقل مکانی، ریت کے ٹیلے اور واپسی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، شہر کے لوگ خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں دوبارہ سیلاب نہ آ جائے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ ایک دہائی کے دوران سندھ میں غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ جب بھی سندھ میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اس کا براہ راست اثر نئوں کوٹ پر پڑتا ہے۔ قدیم ہاکڑو اب سندھ کا سب سے بڑا سیلابی نالا بن چکا ہے، جو سیلابی پانی کو شکور جھیل اور پھر سمندر کی جانب لے جاتا ہے، اور اسی بہاؤ میں نئوں کوٹ بار بار ڈوب جاتا ہے۔

    ہر بڑے سیلاب کے دوران نئوں کوٹ میڈیا کی خبروں میں تو آ جاتا ہے، مگر شہر کو مستقل بنیادوں پر محفوظ بنانے کے لیے اب تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں آ سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے یہاں آباد ہیں، مگر بدلتے موسم اور بڑھتی بارشوں نے ان کی زندگی غیر محفوظ بنا دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری اور عملی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    شہر کے رہائشی سنجے کمار کا کہنا ہے کہ اگر نئوں کوٹ کو بچانا ہے تو ہاکڑو کے نالے کو باقاعدہ طور پر خالی کر کے اس کے اوپر فلائی اوور یا متبادل راستہ بنایا جائے، تاکہ سیلاب کے دوران آمدورفت متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق جب نئوں کوٹ ڈوبتا ہے تو تھرپارکر کا رابطہ باقی سندھ سے کٹ جاتا ہے، جس سے پورا خطہ مفلوج ہو جاتا ہے۔

    نئوں کوٹ آج بھی قدیم ہاکڑو کے بہاؤ میں سانس لے رہا ہے، مگر ہر آنے والا مون سون اس شہر کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو یہ شہر ہر سال اسی طرح ڈوبتا رہے گا۔

     

  • سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی جو محبت، تقدیر اور سماجی سرحدوں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس داستان کو سوندی زبان کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھائی نے اپنی شاعر ی میں شامل کیا مگر یہ کہانی صرف شاعری کا موضوع نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایات میں زندہ ایک روایت ہے، جسے سندھ کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔

    اس کہانی نے جنم لیا سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں موجود قدیم شہر بھنبھور میں، جہاں ایک میوزیم قائم ہے۔ بھنبھور میوزیم کے انچارج ظہیر احمد کے مطابق سسئی کی پیدائش سیہون شریف میں ایک ہندو خاندان کے گھر ہوئی۔ ان کے بقول خاندان نے خوشی کے موقع پر پنڈت کو بلایا تاکہ نومولود کی کنڈلی دیکھی جائے۔ پنڈت نے کنڈلی دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ بچی ایک دن مسلمان ہو جائے گی اور اس کی شادی ایک مسلمان مرد سے ہوگی۔ یہ پیش گوئی اس دور کے سماجی تصورات کے خلاف سمجھی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر احمد نے کہا: ‘اس پیش گوئی کے بعد بچی کے والدین شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہو گئے۔ خاندان کی روایت کے مطابق انہوں نے نومولود سسئی کو ایک صندوق میں رکھا اور دریائے سندھ کے حوالے کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید یوں بدنامی سے بچا جا سکے۔ ظہیر احمد کے مطابق یہ فیصلہ محبت یا نفرت سے زیادہ سماجی خوف کا نتیجہ تھا۔

    ‘یہ صندوق بہتا ہوا بھنبھور کے قریب پہنچا، جہاں ایک مسلمان دھوبی کو یہ دریا کے کنارے ملا۔ دھوبی نے صندوق کھولا تو اندر زندہ بچی کو پایا اور اسے اپنی اولاد کی طرح پالنا شروع کر دیا۔ یوں سسئی ایک ہندو خاندان میں جنم لے کر ایک مسلمان گھرانے میں پرورش پانے لگی۔’

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی جوان ہوئی تو اپنی خوبصورتی، سادگی اور کردار کی وجہ سے مشہور ہو گئی۔ اسی دوران مکران کے علاقے سے تعلق رکھنے والے شہزادہ پنہوں بھنبھور آیا، جہاں اس کی ملاقات سسئی سے ہوئی۔ یہ ملاقات آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی، جو وقت کے ساتھ ایک عظیم داستان بن گئی۔

    ظہیر احمد نے بتایا کہ پنہوں اور سسئی کی محبت سماجی رکاوٹوں کی نذر ہو گئی۔ پنہوں کے خاندان نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا اور اسے زبردستی واپس لے جایا گیا۔ سسئی نے پنہوں کی تلاش میں ریگستان کا سفر اختیار کیا، جو اس کہانی کا سب سے دردناک حصہ مانا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سسئی کا صحرا میں بھٹکتے ہوئے جان دینا اس محبت کی انتہا کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کی ثقافت میں اس بات کی مثال بن گئی کہ سچی محبت مذہب، ذات اور طاقت کی حدود کو نہیں مانتی۔

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی پنہوں کی داستان آج بھی سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہانی صرف دو افراد کی محبت نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ، سماجی ڈھانچے اور انسان کی تقدیر کے ساتھ جدوجہد کی عکاس ہے، اسی لیے صدیوں بعد بھی اسے سنایا اور سنا جاتا ہے۔

     

  • بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    ماضی کے روایتی اور قدیم ساز چنگ کے حوالے سے بلوچستان کے مایہ ناز فنکار بنگل مصری کے پوتے محمد اقبال مصری کو آج بلوچستان کے آخری چنگ نوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ جدید دور میں درپیش متعدد خطرات کے باوجود اس نایاب ساز کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بلوچستان کی سنگلاخ زمین، خاموش پہاڑ اور دور تک پھیلے ریگستان صرف قدرتی مناظر نہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب کی زندہ گواہی بھی ہیں۔ اسی تہذیب کا ایک نایاب اور آہستہ آہستہ خاموش ہوتا ہوا ورثہ چنگ ہے، ایک ایسا قدیم ساز جس کی آواز کبھی بلوچ بستیوں، قافلوں اور میلوں میں سنائی دیتی تھی، مگر اب یہ آواز مدھم پڑ چکی ہے۔

    چنگ بنیادی طور پر ایک سادہ مگر گہرے اثرات رکھنے والا ساز ہے۔ لکڑی یا دھات سے بنے اس ساز میں باریک زبانیں ہوتی ہیں جنہیں منہ کے قریب رکھ کر بجایا جاتا ہے۔ اس کی آواز نرم، اداس اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے۔ بلوچستان میں چنگ کو محض موسیقی کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ تنہائی، ہجرت، محبت اور فراق جیسے جذبات کا ترجمان بھی تھا۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چنگ نواز محمد اقبال مصری نے بتایا کہ جدید سازوں اور بدلتے سماجی رجحانات کے باعث بلوچستان میں روایتی اور قدیم چنگ کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں چنگ زیادہ تر رات کے وقت بجایا جاتا تھا۔

    ‘چرواہے، مسافر یا طویل سفر پر نکلنے والے لوگ چنگ کی آواز کے ساتھ اپنا دل بہلاتے تھے۔ یہ ساز محفلوں کے شور کے لیے نہیں بلکہ خاموشی کے لیے بنا تھا، شاید اسی لیے جدید دور کے تیز اور اونچی آواز والے سازوں کے سامنے چنگ پیچھے رہ گیا۔’

    محمد اقبال مصری کا کہنا ہے کہ اب نہ وہ ماحول باقی رہا ہے اور نہ ہی وہ سننے والے۔ موبائل فون، جدید موسیقی اور بدلتی سماجی ترجیحات نے چنگ کو تقریباً فراموش کر دیا ہے۔ نوجوان نسل اس ساز سے ناآشنا ہے اور اگر اس کا نام سن بھی لے تو اسے پرانا اور غیر متعلق سمجھتی ہے۔

    چنگ صرف ایک ساز نہیں بلکہ بلوچستان کی غیر تحریری تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی دھنوں میں ہجرتوں کی کہانیاں، قحط کے دن، محبت کے وعدے اور پہاڑوں کی خاموشی سمٹی ہوئی ہے۔ جب آخری چنگ نواز خاموش ہو جائے گا تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پوری آواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

    ماہرین ثقافت کا کہنا ہے کہ اگر چنگ جیسے روایتی سازوں کو محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی ہی سرزمین کے کئی ثقافتی رنگوں سے ناواقف رہ جائیں گی۔ چنگ کی بقا صرف ایک ساز کی بقا نہیں بلکہ اس سوچ کی بقا ہے جس میں سادگی، تنہائی اور احساس کو موسیقی کا درجہ حاصل تھا۔

    بلوچستان میں آخری چنگ نواز آج بھی کبھی کبھار اس ساز کو ہونٹوں سے لگا کر ایک دھن چھیڑتا ہے۔ شاید اسے معلوم ہے کہ سننے والے کم ہیں، مگر تاریخ اب بھی کہیں نہ کہیں اس آواز کو محفوظ کر رہی ہے۔

     

  • صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں جام خان جو وانڈھیو میں موجود پیلو کا درخت آج بھی اپنی مضبوط جڑوں اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہ درخت مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 150 سال پرانا ہے اور تھر کے سخت موسموں، قحط اور تیز ہواؤں کا خاموش گواہ رہا ہے۔ ریگستانی خطے میں اس نوعیت کے قدیم درخت اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے یہ پیلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    اس درخت کے سائے کی وسعت مقامی روایت میں مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ جام خان کے پوتے ساگر خاصخیلی کے مطابق پیلو اتنا وسیع ہے کہ اس کے نیچے بیک وقت 150 افراد ‘آرام’ سے بیٹھ سکتے ہیں۔ تھر جیسے گرم اور خشک علاقے میں ایسا سایہ کسی نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا۔

    پیلو کا یہ درخت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ گاؤں کی سماجی زندگی کا مرکز بھی رہا ہے۔ ماضی میں گاؤں کے فیصلے، مشورے اور اجتماعی بیٹھکیں اسی درخت کے نیچے ہوا کرتی تھیں۔ مسافر، چرواہے اور مقامی لوگ گرمی کی شدت میں یہاں سستا کر دم لیتے تھے۔

    نگرپارکر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پیلو کے درخت کو خاص تقدس حاصل ہے۔ اس کے پھل مقامی خوراک میں استعمال ہوتے رہے ہیں جبکہ اس کی چھال اور پتے روایتی علاج میں بھی کام آتے ہیں۔ ریگستانی ماحول میں پیلو ان چند درختوں میں شامل ہے جو کم پانی میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پیلو کی جڑیں زمین میں گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں، جو اسے طویل عرصے تک قائم رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید خشک سالی کے باوجود یہ درخت سبز رہتا ہے۔ مقامی لوگ اسے صبر، برداشت اور بقا کی علامت سمجھتے ہیں۔

    یہ درخت اب گاؤں کی شناخت اور سیاحتی کشش کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اس پیلو کو دیکھنے کے لیے مختلف علاقوں سے سیاح یہاں آتے ہیں، جن کا مقامی لوگ روایتی انداز میں استقبال کرتے ہیں۔ مہمانوں کو اپنے گھروں میں بٹھایا جاتا ہے، مقامی کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزار کر تھر کی روایتی مہمان نوازی کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

    جام خان جو وانڈھیو کے رہنے والوں کے لیے یہ محض ایک درخت نہیں بلکہ یادوں اور روایتوں کا مرکز ہے۔ بچوں کی کھیل کود، بزرگوں کی باتیں اور مسافروں کی کہانیاں سب اسی سائے میں پروان چڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت گاؤں کے اجتماعی تشخص کا حصہ بن چکا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پیلو کے درخت کو صحرائی ماحول میں قدرتی پانی صاف کرنے والا نظام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں زیر زمین نمی کو محفوظ رکھ کر اردگرد کی مٹی میں پانی کی مقدار برقرار رکھتی ہیں۔ یہ خصوصیت آس پاس کی نباتات اور چرند پرند کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    آج جب تھرپارکر میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جام خان جو وانڈھیو کا یہ پیلو درخت قدرتی ورثے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ درخت یاد دلاتا ہے کہ ریگستان میں زندگی کا دارومدار مضبوط جڑوں، سایے اور انسانوں کے باہمی رشتوں کی قدر پر ہوتا ہے۔

     

  • حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کا مزار سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں واقع ہے۔ وہ کلہوڑا خاندان کے اہم حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1757 میں کلہوڑا قبائلی سرداروں نے انہیں سندھ کا تیسرا نواب منتخب کیا، جبکہ ان کے بھائی میاں مرادیاب کلہوڑو کو معزول کیا گیا۔ غلام شاہ کلہوڑو کو حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھنے والا حکمران بھی سمجھا جاتا ہے، جس نے اس خطے کو سیاسی اور انتظامی مرکز کی حیثیت دی۔

    ان کا مزار آج بھی سندھ کی تاریخ کا خاموش گواہ ہے۔ یہاں روزانہ مختلف علاقوں سے لوگ حاضری دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس مقام پر عقیدت کے انداز بدلتے گئے ہیں۔ اب مزار پر آنے والے بعض زائرین منت کے طور پر مچھلی لاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مچھلی چڑھانے سے ان کی خواہش پوری ہوگی، خاص طور پر روزگار، صحت اور گھریلو مسائل سے متعلق دعائیں بھی قبول ہوں گی۔

    لوگ عقیدت اور محبت سے ‘مچھلی والا بابا’ کہتے ہیں

    اسی طرح مزار کے احاطے میں اینٹوں سے بنے چھوٹے گھروں کی شکلیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ علامتی گھر وہ لوگ بناتے ہیں جو اپنے ذاتی مکان کی خواہش رکھتے ہیں۔ عقیدت مند اینٹیں رکھ کر دعا کرتے ہیں کہ ان کا اپنا گھر بن جائے اور بے گھری یا مالی تنگی کا مسئلہ حل ہو۔

    مقامی افراد کے مطابق یہ روایات پچھلے کچھ برسوں میں زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔ مزار صرف ایک تاریخی مقام نہیں رہا بلکہ عوامی عقیدت اور امیدوں کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں تاریخ، عقیدہ اور عوامی ثقافت ایک دوسرے میں گڈمڈ نظر آتی ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو کا یہ مزار آج بھی اس دور کی یاد دلاتا ہے جب سندھ پر مقامی تالپور حکمرانوں کی حکمرانی تھی، اور ساتھ ہی یہ مقام موجودہ دور میں عوام کے عقائد اور خواہشات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو نہ صرف ایک طاقتور حکمران تھے بلکہ عوام دوست، سادہ مزاج اور روحانی رجحان رکھنے والے انسان بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں مچھلی بہت پسند تھی اور ان کے دورِ حکومت میں دریائے سندھ کی مچھلی خاص مقام رکھتی تھی۔

    مزار پر خدمت گزار نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ عوام نے عقیدت کے طور پر ان کے مزار پر مچھلی چڑھانا شروع کر دی، اور یوں وہ “مچھلی والا بابا” کے نام سے مشہور ہو گئے، اس درگاہ کے بزرگ خود کلہوڑو دور کو بادشاہ تھے اور غلام شاہ کلہوڑو نے شاہ عبدالطیف کا مزار تعمیر کرایا ،اس مزار میں حیدر بخش جتوئی اور ان کی اہلیہ بھی دفن ہیں یہاں باہر قدیمی قبرستان موجود ہیں۔

  • کراچی چڑیاگھر میں موجود دو صدی قدیم برگد کا درخت، جس سے ‘متعدد’ درخت بن گئے

    کراچی چڑیاگھر میں موجود دو صدی قدیم برگد کا درخت، جس سے ‘متعدد’ درخت بن گئے

    کراچی چڑیا گھر، جسے پرانے وقتوں میں گاندھی گارڈن کہا جاتا تھا، شہر کا وہ گوشہ ہے جہاں اب بھی برطانوی دور کی کئی یادیں زندہ ہیں۔ انہی نشانیوں میں ایک ایسا شجر بھی ہے جو دو سو برس سے زیادہ عمر گزار چکا ہے۔ یہ برصغیر کے قدیم بنیاں کے درختوں میں سے ایک ہے، جس کی شاخیں وقت کے ساتھ زمین میں اترتی گئیں اور آج اس ایک درخت نے درجنوں الگ الگ تنوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ عام دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بہت سے درختوں کا جھنڈ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی درخت کی اولاد ہیں، جو اب بھی پوری شادابی سے اپنی جگہ کھڑا ہے۔

    برطانوی دور میں اس درخت کو یہاں اس لئے لگایا گیا تھا کہ یہ گھنے سائے کی وجہ سے علاقے کی فضا کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ کراچی شہر کی آبادی بڑھی، درجہ حرارت میں اضافہ ہوا، اور شہر کے باسیوں نے محسوس کیا کہ یہ قدیم درخت صرف ایک پودا نہیں بلکہ قدرت کی قدرتی چھتری ہے جو تیز دھوپ کو روک کر زمین پر ٹھنڈک بچھا دیتی ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ رئیس نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ درخت کی چھتری آج اتنی وسیع ہے کہ اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کیفے بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ یہ کیفے اس طرح بنایا گیا ہے کہ درخت کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے، اور لوگ سکون سے بیٹھ کر اس کے سایے سے لطف اٹھا سکیں۔

    بقول عابدہ رئیس: ‘اس جگہ ایک پھوار چھوڑنے والا فوارہ بھی بنایا گیا ہے جو ہوا میں نمی پیدا کرتا ہے اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈک کے احساس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ فوارے کی آواز، پتوں کی سرسراہٹ، اور ہوا کی ہلکی سی لَے مل کر ایک ایسا ماحول بناتی ہیں جو کراچی جیسے مصروف شہر کے بیچوں بیچ کسی خاموش پناہ گاہ کا احساس دلاتی ہے۔’

    گرمیوں میں جب کراچی کا درجہ حرارت سڑکیں پگھلا دیتا ہے، لوگ اس درخت کے سائے میں آ کر بیٹھتے ہیں۔ یہاں کچھ دیر بیٹھنا بھی جسم اور ذہن دونوں کو تازہ محسوس کراتا ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک سب کے لئے یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں شہر کا شور کچھ لمحوں کے لئے پیچھے رہ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہاں آ کر کتاب پڑھتے ہیں، کچھ چائے پیتے ہیں، اور کئی تو صرف اس لئے بیٹھتے ہیں کہ درخت کے پھیلتے ہوئے سائے کو محسوس کر سکیں۔

    اس درخت کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ دو صدیوں بعد بھی یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر سال نئی جڑیں زمین میں اترتی ہیں، نئی شاخیں اوپر اٹھتی ہیں، اور نئی چھتریاں سایہ بڑھاتی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اسے محفوظ رکھا جائے تو یہ آنے والی کئی نسلوں تک کراچی والوں کے لئے رحمت بنا رہ سکتا ہے۔

    کراچی جیسے بڑے اور گرم شہر میں یہ درخت صرف ایک تاریخی یاد نہیں بلکہ قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ بھی ہے۔ یہ فضا کا درجہ حرارت کم کرتا ہے، پرندوں کے لئے گھر بناتا ہے، اور انسانوں کے لئے سانس لینے کو صاف ہوا مہیا کرتا ہے۔ ایسے میں یہ درخت نہ صرف کراچی کی تاریخ کا حصہ ہے بلکہ اس شہر کے مستقبل کے لئے بھی قیمتی اثاثہ ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کا دو سو سالہ بنیاں کا یہ درخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہر کتنے ہی بدل جائیں، مگر کچھ جڑیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ اور بھی مضبوط ہو جاتی ہیں۔ یہ درخت انہیں جڑوں میں سے ایک ہے—خاموش، مضبوط، سایہ دار اور ہمیشہ زندہ۔