Tag: قدیم

  • تاریخ کا جیو اکنامک تسلسل: وادیٔ سندھ کے قدیم تجارتی نیٹ ورک سے دورِ جدید کی چین پاکستان اقتصادی راہداری تک

    تاریخ کا جیو اکنامک تسلسل: وادیٔ سندھ کے قدیم تجارتی نیٹ ورک سے دورِ جدید کی چین پاکستان اقتصادی راہداری تک

    دنیا کا طبعی ڈھانچہ، پہاڑی سلسلے، دریاؤں کی گزرگاہیں اور ساحلی گہرائیاں انسان کے معاشی رویوں کی حدود متعین کرتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ چند تزویراتی خطے قدرت نے ایسے تخلیق کیے ہیں جو ہر دور میں عالمی معیشت اور شاہراہِ ریشم کی بنیادی شریان بنے رہتے ہیں۔

    آج اکیسویں صدی میں جب ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کو خطے کا ایک انقلابی اور جدید ترین معاشی منصوبہ قرار دیتے ہیں تو دراصل ہم اسی جیو اکنامک تسلسل کا احیا کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد آج سے ساڑھے چار ہزار سال قبل کانسی کے دور میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے معماروں نے رکھی تھی۔

    ایک آثارِ قدیمہ کے طالب علم اور جدید مقداری تجارت کے طالب علم کے لیے وادیٔ سندھ کی معیشت کوئی گمنام، غیر منظم یا محض دیہاتی تبادلے کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے بارٹر نظام کے تحت ابتدائی تجارت اور طلب و رسد کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نیٹ ورک تھا، جس کے اندر اشیا کی قیمتوں کا تعین، معیاری ناپ تول اور خطرات کے انتظام جیسے عناصر شامل تھے۔

    شمالی نیٹ ورک اور خام مال کی ترسیل

    وادیٔ سندھ کا قدیم ماڈل: شور توغئی کی نوآبادی اور سپلائی چین

    ڈھائی ہزار قبل مسیح میں وادیٔ سندھ کے تاجروں نے شمالی افغانستان کے صوبہ تخار میں دریائے آمو کے قریب شور توغئی نامی ایک مکمل شہری نوآبادی قائم کی تھی۔ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں، بالخصوص فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہنری پال فرانکورٹ کی تحقیقات، سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شور توغئی کا طرزِ تعمیر، مٹی کے برتن اور مہریں موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے مماثلت رکھتے تھے۔

    وادیٔ سندھ کے تاجروں نے شمال میں یہ دور دراز تجارتی چوکی اس لیے قائم کی تھی تاکہ بدخشاں کی کانوں سے حاصل ہونے والے گہرے نیلے رنگ کے قیمتی پتھر لاجورد، پامیر اور ہندوکش کے پہاڑوں سے حاصل ہونے والے تانبے اور بدخشاں کے دریاؤں سے نکلنے والے سونے کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ خام مال سوات، گومل اور درۂ خیبر کے پہاڑی دروں سے ہوتا ہوا رحمان ڈھیری اور موجودہ سندھ و پنجاب کے میدانی علاقوں میں واقع تجارتی مراکز تک منتقل کیا جاتا تھا۔

    جدید سی پیک ماڈل: کاشغر، خنجراب اور شمالی راہداری

    آج چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر کو خنجراب پاس اور شاہراہِ قراقرم کے ذریعے پاکستان کے شمالی علاقوں سے جوڑا گیا ہے۔

    اس جدید راستے کی منطق بھی بڑی حد تک وہی ہے جو شور توغئی کے وادیٔ سندھ کے تاجروں کی تھی، یعنی وسطی ایشیا اور چین کے وسائل، معدنیات اور تیار شدہ مصنوعات کو زمینی فاصلہ کم سے کم کرتے ہوئے بحرِ ہند کے گرم پانیوں تک پہنچانا۔

    جس طرح ماضی میں لاجورد اور تانبا شمالی دروں سے اتر کر ہڑپہ اور موہن جو دڑو کی ورکشاپس تک پہنچتا تھا، اسی طرح آج چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا خام مال اور صنعتی سامان خنجراب کے راستے گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا پاکستان کے صنعتی زونز تک منتقل ہو سکتا ہے۔

    دریائے سندھ کی گزرگاہ: معیشت کی آبی و زمینی شاہراہ

    قدیم دور: متوازی بحری نقل و حمل اور مہروں کا نظام

    ہڑپہ، موہن جو دڑو اور چھنہو دڑو جیسے اہم شہر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں، یعنی جہلم، چناب، راوی، ستلج اور اب خشک ہو جانے والے سرسوتی یا ہاکڑہ کے قریب واقع تھے۔

    شمال سے دریائے سندھ کا بہاؤ انڈس ڈیلٹا کی طرف جاتا تھا اور ماضی میں یہ ایک قدرتی اور نسبتاً کم لاگت والا آبی راستہ تھا، جس پر لکڑی کی بڑی چپو والی کشتیوں کے ذریعے وزنی سامان، مثلاً پتھر، اینٹیں اور لکڑی، منتقل کیا جاتا تھا۔

    واضح رہے کہ انگریزوں کی آمد اور بیسویں صدی میں بیراجوں کی تعمیر سے قبل دریائے سندھ پر یہ بحری تجارت اٹھارویں اور انیسویں صدی تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔

    آثارِ قدیمہ میں ملنے والے مکعب نما پتھر کے باٹ، جو ایک، دو، چار، آٹھ، سولہ، بتیس اور چونسٹھ کی باقاعدہ ترتیب پر مبنی تھے، اور صابونی پتھر کی مہریں اس بات کی شہادت فراہم کرتی ہیں کہ ان تجارتی راستوں پر منتقل ہونے والے سامان کے وزن، ملکیت اور تجارتی شناخت کے لیے باقاعدہ نظام موجود تھا۔

    جدید سی پیک الائنمنٹ: قومی شاہراہ اور موٹر ویز

    اگر ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کی مغربی، وسطی اور مشرقی راہداریوں کا نقشہ دیکھیں تو متعدد اہم شاہراہیں، قومی شاہراہ اور موٹر ویز دریائے سندھ کے تقریباً متوازی چلتی ہیں اور وادیٔ سندھ کے قدیم و تاریخی شہروں کے قریب سے گزرتی ہیں۔

    جو کام ساڑھے چار ہزار سال قبل دریائے سندھ کا بہاؤ اور اس کے ساتھ چلنے والے کاروانی راستے کرتے تھے، آج بڑی حد تک قومی شاہراہ اور جدید موٹر ویز وہی معاشی رابطہ فراہم کر رہی ہیں۔

    یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انسان نے صدیوں کی تکنیکی پیش رفت کے باوجود اکثر وہی راستے اختیار کیے جو قدرتی جغرافیہ اور زمینی ساخت نے پہلے سے متعین کر رکھے تھے۔

    ڈیلٹائی و مکران ساحلی بندرگاہوں کی تزویراتی ساخت

    کراچی اور بالاکوٹ، سونمیانی

    آج کے پاکستان کا معاشی مرکز کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم، دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے انہی وسیع ساحلی خطوں میں واقع ہیں جہاں ماضی میں بھی وادیٔ سندھ کے لوگوں کی قدیم بندرگاہیں اور تجارتی مراکز قائم تھے۔

    ڈیلٹائی علاقے کے قریب بالاکوٹ، جسے کوٹ بالا بھی کہا جاتا ہے، وندر ندی اور سونمیانی خلیج کے نزدیک واقع کانسی کے دور کی ایک اہم ساحلی بستی تھی۔

    آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے یہ شواہد ملے ہیں کہ بالاکوٹ سے وادیٔ سندھ کے تاجر کپاس، کپڑے، سیپیاں اور مٹی کے ظروف سمندری راستے سے خلیجِ فارس کی منڈیوں تک لے جاتے تھے۔

    آج بھی پاکستان کا بیشتر برآمدی اور ٹیکسٹائل سامان کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

    گوادر اور ستکاجن دڑو

    گوادر کی تزویراتی اہمیت یہ ہے کہ یہ خلیجِ عمان کے دہانے، آبنائے ہرمز کے قریب اور مکران کے ساحل پر واقع ہے۔

    تقریباً ڈھائی ہزار قبل مسیح میں وادیٔ سندھ کے جغرافیہ دانوں اور بحری تاجروں نے بھی اس ساحلی خطے کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے پاک ایران سرحد کے قریب دشت ندی کے کنارے ستکاجن دڑو اور پسنی کے قریب ستکا کوہ میں اپنی اہم ساحلی تجارتی چوکیوں کو قائم کیا تھا۔

    سر آئورل اسٹین اور جارج ایف ڈیلز کی آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کے مطابق ستکاجن دڑو محض ایک عام بستی نہیں تھا بلکہ پتھر کی دیواروں سے گھرا ہوا ایک اہم ساحلی تجارتی مرکز تھا۔

    اس کا مقصد میسوپوٹیمیا اور عمان سے آنے والے بحری جہازوں کو رسد اور دیگر سہولیات فراہم کرنا اور خلیج سے وادیٔ سندھ میں داخل ہونے والے بحری راستوں سے تجارتی روابط قائم رکھنا تھا۔

    جو تزویراتی اور اہم گزرگاہ کی حیثیت ساڑھے چار ہزار سال قبل ستکاجن دڑو کو حاصل تھی، وہی جغرافیائی اہمیت آج گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کو حاصل ہونے کی دلیل دی جاتی ہے۔

    بین الاقوامی تجارتی شراکت دار اور سرحد پار تجارت کا ڈھانچہ

    میلوہا اور خلیجی منڈیاں

    ساڑھے چار ہزار سال کا عرصہ گزر جانے اور جدید مالیاتی منڈیوں اور الگورتھمک تجارت کے وجود میں آنے کے باوجود، اس تجارتی راہداری کے بعض بنیادی جغرافیائی شراکت دار اور آخری منازل بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوئیں۔

    اکادین اور میسوپوٹیمیائی تحریروں میں وادیٔ سندھ کے لیے میلوہا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

    میلوہا کے تاجر اپنے لکڑی کے جہازوں میں عاج، سوتی کپڑا، نایاب لکڑی، عقیق کے منکے اور تانبا لے کر دلمون، یعنی موجودہ بحرین، ماگن، یعنی عمان، اور میسوپوٹیمیا کی منڈیوں تک جاتے تھے، اور وہاں سے چاندی، تارکول اور دیگر اشیا لے کر واپس آتے تھے۔

    جدید خلیجی تعامل

    آج بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے آنے والا سامان گوادر اور کراچی سے بحری جہازوں پر لاد کر دبئی، عمان، دمام اور دیگر خلیجی منڈیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان اپنی قومی معیشت اور صنعتی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلیجی خطے سے خام تیل، مائع قدرتی گیس اور دیگر توانائی کے وسائل درآمد کرتا ہے۔

    یہ تقابل ظاہر کرتا ہے کہ اشیا کی نوعیت تو بدل گئی ہے، روئی اور دستکاری کی اشیا کی جگہ صنعتی مصنوعات، برقی آلات اور توانائی کے وسائل نے لے لی ہے، لیکن تجارتی راستوں، سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے اور جغرافیائی شراکت داری میں کئی تسلسل آج بھی نظر آتے ہیں۔

    سائنسی و معاشی نچوڑ، تاریخی سبق اور مستقبل کی حکمتِ عملی

    چین پاکستان اقتصادی راہداری کو محض ایک مصنوعی، عارضی یا کاغذی جیوپولیٹیکل راستہ سمجھنے کے بجائے اس خطے کے طویل جغرافیائی اور معاشی ارتقا کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مفید ہے۔

    ساڑھے چار ہزار سال قبل وادیٔ سندھ کے ملاحوں، تاجروں اور مقامی انتظامیہ نے ایسے بنیادی اصول اختیار کیے جنہوں نے دور دراز علاقوں کے ساتھ تجارت کو ممکن بنایا۔

    معیار اور انضباط

    وادیٔ سندھ کے مختلف شہروں میں اینٹوں کے سائز سے لے کر باٹ اور اوزان تک ایک منظم اور بڑی حد تک یکساں نظام کے شواہد ملتے ہیں۔

    سیاسی اور پالیسی استحکام

    تجارتی اور پیداواری سرگرمیوں کے لیے نسبتاً مستحکم ماحول، ہنرمندی اور دستکاری کی تخصص نے اس معاشی نظام کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    لاجسٹکس کی رفتار

    دریاؤں، زمینی راستوں اور ساحلی تجارتی مراکز کے استعمال نے اشیا کی نقل و حرکت کو ممکن بنایا اور مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑا۔

    آج پاکستان کو اگر اکیسویں صدی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری اور اپنے ساحلی اثاثوں، خصوصاً کراچی اور گوادر، سے حقیقی معاشی خودمختاری اور پائیدار ترقی حاصل کرنی ہے تو اسے محض قرضوں اور امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے وادیٔ سندھ کی تجارتی روایت سے چند بنیادی اصول سیکھنے ہوں گے۔

    شفافیت، فیصلہ سازی کی رفتار، معیار، قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اور تجارتی تسلسل وہ عوامل ہیں جو کسی بھی جغرافیائی راستے کو حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کرتے ہیں۔

    تاریخ کا یہ جیو اکنامک تسلسل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو قومیں اپنے جغرافیے کی تزویراتی حیثیت کو سمجھ کر اسے معاشی اور تجارتی طاقت میں تبدیل کر لیتی ہیں، وہ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نقشے پر زیادہ مضبوط مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

    نوٹ: اسی تناظر میں اگلی قسط میں ہم وادیٔ سندھ کی قدیم تجارتی بندرگاہوں، خصوصاً بالاکوٹ، پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔

  • ‘زندگی کا جشن’: وادی سندھ کی مہریں مذہبی علامتیں نہیں بلکہ قدیم اسپورٹس گلڈز کے لوگو تھیں، ایک نئی سائنسی تعبیر

    ‘زندگی کا جشن’: وادی سندھ کی مہریں مذہبی علامتیں نہیں بلکہ قدیم اسپورٹس گلڈز کے لوگو تھیں، ایک نئی سائنسی تعبیر

    نوآبادیاتی عینک کا بوجھ اور خاموش رسم الخط: جب بھی ہم وادی سندھ کے کھنڈرات، موہن جو دڑو اور ہڑپہ کے بارے میں سوچتے ہیں تو ایک پراسرار، پرسکون اور ممکنہ طور پر انتہائی مذہبی معاشرے کا تصور ابھرتا ہے۔

    یہ تصور حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ بیسویں صدی کے اوائل کے برطانوی ماہرین آثار قدیمہ، جیسے سر جان مارشل اور ارنسٹ میکے، کی وراثت ہے۔ ان محققین نے ان عظیم شہروں کو تو دریافت کیا، لیکن ان کی مادی ثقافت کی تعبیر اپنے نوآبادیاتی تعصبات اور عہد سے متصادم اساطیری تصورات کی بنیاد پر کی۔

    مسئلہ یہ ہے کہ وادی سندھ کا رسم الخط آج تک پڑھا نہیں جا سکا۔ جب کوئی تحریر خاموش ہو تو مادی اشیا خود بولتی ہیں، لیکن ان کی آواز وہی ہوتی ہے جو تعبیر کرنے والا انہیں دیتا ہے۔ ان برطانوی محققین نے خاموش سنگ صابن کی مہروں پر کندہ نقوش کو بعد کے مابعد ویدک مذہبی متون کے تناظر میں دیکھا۔ انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں، وہ کسی نہ کسی دیوتا یا مذہبی رسم کی عکاسی کر رہا ہے۔

    تاہم، وادی سندھ کی شہری منصوبہ بندی کا ایک سخت تجرباتی اور مکانی تجزیہ ایک مکمل طور پر مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ ان شہروں میں کہیں بھی شاندار معبد، محلاتی انتظامی مراکز یا تقدیس یافتہ شاہی مقبروں کے واضح آثار نہیں ملے۔ یہ کانسی کے دور کے دیگر معاشروں، جیسے مصر اور میسوپوٹیمیا، سے مختلف ہے، جہاں مذہبی اور شاہی ادارے معاشرتی نظم میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔

    اس کے برعکس، وادی سندھ کی تہذیب ایک انتہائی منظم، مساوات پسند اور دنیوی نظام کو ظاہر کرتی ہے جو ‘زندگی کے جشن’ کے گرد گھومتا تھا۔

    یہ مقالہ ایک بے باک دلیل پیش کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سندھ کی مہروں اور مجسموں کا ایک بڑا حصہ ماورائے طبعی دیوتاؤں کی عکاسی نہیں کرتا۔ اس کے بجائے، وہ روزمرہ کی جسمانی ثقافت، ورزشی سرگرمیوں، فنون لطیفہ اور حکمت عملی پر مبنی بساط کے کھیلوں کی دستاویز ہیں۔ یہ وہ مادی عناصر تھے جنہیں بعد کے ادوار میں مذہبی اساطیر سمجھنے کی غلطی کی گئی۔

    پشوپتی مہر’ کی سائنسی تعبیر

    آئیے جنوبی ایشیائی آثار قدیمہ کے سب سے بڑے مذہبی مفروضے، موہن جو دڑو کی ایک معروف مہر سے شروع کریں۔ سر جان مارشل نے اسے ‘پروٹو شِو’ یا ‘پشوپتی’ یعنی جانوروں کا دیوتا قرار دیا۔ یہ تعبیر اتنی گہری ہو چکی ہے کہ آج تک اس پر سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے۔

    اس مہر میں ایک انسانی شکل دکھائی گئی ہے جو سینگوں والا تاج پہنے ہوئے ایک اونچے چبوترے پر چار زانو بیٹھی ہے۔

    اسپورٹس سائنس اور حیاتیاتی حرکیات کے معروضی نقطہ نظر سے، اس نشست کو یوگا کے ‘مول بندھ آسن’ سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل جسمانی وضع ہے جس میں جسمانی لچک اور عضلاتی کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔

    وادی سندھ کے ایسے غیر فوجی اور غیر مرکز گریز معاشرے میں، جہاں کسی بڑے شاہی دستے کے واضح شواہد نہیں ملتے، جسمانی لياقت کو برقرار رکھنا ایک شہری اور عملی ضرورت ہو سکتی تھی۔ چبوترے پر موجود یہ شخص ممکنہ طور پر کوئی کرتب کار، ورزشی استاد، جسمانی تربیت کا ماہر یا کشتی کا سینئر استاد ہو سکتا ہے جو جسمانی توازن کی نمائش کر رہا ہو۔

    اگر ہم اس مہر کے آثار قدیمہ کے ریکارڈ کا مطالعہ کریں تو یہ ممکنہ طور پر کسی تجریدی مذہبی تصور کے بجائے ایک مخصوص اور سخت جسمانی تربیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس مفروضے کے تحت یہ مہر کسی استاد کی مہارت کی علامت ہو سکتی تھی، نہ کہ کسی دیوتا کی پوجا کا نشان۔

    حیوانی نقوش، قدیم اسپورٹس لوگو

    وادی سندھ کی مہروں پر کوہان والے زیبو سانڈ، گینڈے، ہاتھی اور شیر جیسے جانوروں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کو تاریخی طور پر توتم پرستی یا جانوروں کی پوجا قرار دیا گیا۔ یہ تعبیر بھی ایک آسان اور سطحی نتیجہ ہو سکتی ہے۔ جدید فعالی انسان شناسی کا ایک مختلف تجزیہ اس کے زیادہ عملی، معاشی اور سماجی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    ہمیں جدید دنیا کی طرف دیکھنا چاہیے، جہاں اسپورٹس فرنچائزز اور تاجروں کی تنظیمیں طاقتور جانوروں کو اپنی تجارتی یا ورزشی علامتوں کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، شکاگو بلز کا لوگو موجود ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شکاگو کے لوگ سانڈ کی پوجا کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

    وادی سندھ کا یہ معاشرہ ایک انتہائی تجارتی اور منظم شہری نظام رکھتا تھا۔ زیبو سانڈ والی مہریں کسی مقدس یا قابل پرستش جانور کو ظاہر کرنے کے بجائے مخصوص تاجرانہ دھڑوں یا مقامی ورزشی تنظیموں کی نمائندگی کر سکتی تھیں۔ یہ لوگ پرخطر جسمانی مقابلوں، جیسے سانڈوں پر چھلانگ لگانے یا سانڈوں کو قابو کرنے کے کھیلوں میں مصروف ہو سکتے تھے۔

    بعض علمی ذرائع اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ اشیا مذہبی تحائف کے بجائے انتظامی تصدیق، تجارت کی نگرانی اور ادارہ جاتی شناخت کے دنیوی آلات بھی ہو سکتی تھیں۔

    مکانی تجزیہ، لوتھل کی گودی اور ہڑپہ کے بڑے تعمیراتی مراکز

    وادی سندھ کی تہذیب کے عوامی اور ورزشی انداز کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی عظیم الشان عوامی تعمیرات کا فعالی نقطہ نظر سے تجزیہ کرنا ہوگا۔ ان عمارتوں کے حجم اور ان کے ارد گرد موجود خالی جگہوں کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

    لوتھل کی گودی، آبی سرگرمیوں کا ممکنہ مرکز

    آثار قدیمہ کے سروے کے مطابق لوتھل میں اینٹوں سے بنا ایک بہت بڑا ذوزنقہ نما آبی حوض ملا ہے جو تقریباً 214 میٹر لمبا اور 36 میٹر چوڑا ہے۔ اس میں جوار بھاٹے کے پانی کو قابو میں رکھنے کا ایک نظام موجود تھا۔

    اگرچہ یہ بنیادی طور پر سمندری تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن سکون اور قابو میں رکھے گئے پانی کا یہ ذخیرہ تجارتی موسم کے اختتام پر کشتی رانی اور تیراکی کی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک ایسی روایت سے مشابہت رکھتا ہے جو آج بھی جنوبی ایشیا کے ساحلی علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

    اس مفروضے کے تحت یہ عمارت ایک بندرگاہ کے ساتھ ساتھ آبی کھیلوں کے لیے بھی استعمال ہونے والا مرکز ہو سکتی تھی۔

    ہڑپہ کا بڑا تعمیراتی احاطہ، عوامی سرگرمیوں کا ممکنہ میدان

    ایک طویل عرصے تک ہڑپہ کی بڑی عمارتوں کو صرف اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز سمجھا جاتا رہا۔ لیکن ان کے ارد گرد کا ماحول ایک مختلف سوال اٹھاتا ہے۔

    ہڑپہ میں آثار قدیمہ کی تحقیق کے دوران بڑی عمارتوں کے قریب اینٹوں کے چبوترے اور کھلے مقامات کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ تاریخی طور پر زرعی معاشروں میں فصل کی کٹائی کا موسم اجتماعی جشن کی شکل اختیار کرتا رہا ہے۔

    ان کھلے میدانوں کو ممکنہ طور پر اجتماعی سرگرمیوں، جسمانی مقابلوں اور مختلف سماجی تقریبات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہو گا۔ ان جگہوں پر کشتی، تیز رفتار جسمانی کھیل اور سانڈوں سے متعلق مقابلے منعقد ہونے کا امکان بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔

    حکمت عملی کی منطق، بساط کے کھیل بمقابلہ توہم پرستی

    وادی سندھ کے لوگوں کی فکری ثقافت انتہائی اعلیٰ درجے کی تھی۔ یہ بات ان کی ریاضیاتی سوجھ بوجھ، شہری منصوبہ بندی اور وزن و پیمائش کے معیاری نظام سے واضح ہوتی ہے۔ لیکن ان کی مہروں پر موجود بعض پیچیدہ ہندسی ڈیزائن، جنہیں اب تک جادوئی تعویذ یا مذہبی منڈل قرار دیا جاتا رہا ہے، ایک نئی تشریح کے مستحق ہیں۔

    آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے موہن جو دڑو، ہڑپہ اور لوتھل سے مٹی اور دیگر مواد سے بنی گوٹیاں، مکعب نما پاسے اور خانے دار بساطیں ملی ہیں۔ دستیاب شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وادی سندھ کے شہری گوٹیوں اور پاسوں کی مدد سے حساب کتاب اور ریاضیاتی حکمت عملی پر مبنی کھیل کھیلتے تھے۔

    کھیلوں کی یہ وسیع ثقافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وادی سندھ کے عوام کی فکری زندگی میں منطق، امکانات اور ریاضیاتی تفریح کو بھی اہم مقام حاصل تھا۔ اس مفروضے کے تحت مہروں پر موجود بعض ہندسی ڈیزائن جادوئی تعویذ نہیں بلکہ کھیل کے میدان یا کسی بساط کے نقشے سے متعلق علامتیں بھی ہو سکتے تھے۔

    ایک نئے زاویے کی ضرورت

    وادی سندھ کی تہذیب کا سائنسی اور تجرباتی تجزیہ اس امکان کو سامنے لاتا ہے کہ ہڑپہ کا شہری توہم پرستی، تشویش یا ماورائے طبعی دنیا کے خوف میں مبتلا معاشرہ نہیں تھا۔

    عالیشان محلوں، مندروں یا فرعونی طرز کے مقبروں کے واضح شواہد کا فقدان اس بات کی طرف اشارہ کر سکتا ہے کہ اس تہذیب نے اپنی اضافی توانائی اور وسائل کو انسانی فلاح و بہبود، اعلیٰ ترین شہری صفائی کے نظام، عوامی صحت اور اجتماعی سرگرمیوں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی۔

    ان کی مہریں ان کی جسمانی کامیابیوں کا عکس، ان کی تجارت کا قانونی ڈھانچہ اور ان کی فکری تفریح کا خاکہ بھی ہو سکتی تھیں۔

    بعد کے ادوار میں اس علاقے میں آباد ہونے والے گروہوں نے اس تہذیب کی مادی، تکنیکی اور ورزشی ثقافت کو اپنے مختلف مذہبی تصورات کے تناظر میں سمجھا ہو گا۔ نتیجتاً ممکن ہے کہ ان سائنسی، سماجی اور ورزشی تصویری علامات کو مذہبی روایات اور کہانیوں میں ڈھال دیا گیا ہو۔

    اب جدید آثار قدیمہ کے ماہرین اور طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وادی سندھ کی مادی ثقافت کو مختلف ممکنہ زاویوں سے دوبارہ پڑھیں اور ہر علامت کو صرف مذہبی مفروضے کے تحت دیکھنے کے بجائے اس کے دنیوی، سماجی، تجارتی اور ورزشی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیں۔

    شاید ‘زندگی کا جشن’ ہی ان مہروں کی ایک ممکنہ حقیقی آواز ہو۔

    نوٹ: چانہو جو دڑو کا یہ شاندار مجسمہ اس وقت پاکستان یا بھارت میں نہیں بلکہ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں واقع میوزیم آف فائن آرٹس میں مستقل طور پر نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ چونکہ 1935 اور 1936 کی اس کھدائی کا بڑا حصہ امریکی اداروں کی مالی معاونت سے ہوا تھا، اس لیے اس وقت کے قوانین کے تحت چانہو جو دڑو سے ملنے والی نوادرات کا ایک بڑا حصہ، بشمول مشہور پینٹڈ جار اور یہ مجسمہ، بوسٹن کے میوزیم منتقل کر دیا گیا تھا۔

    وادی سندھ کی تہذیب کے آثار اور مہروں کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے والے بعض ماہرین آثار قدیمہ کا موقف ہے کہ چانہو جو دڑو کا یہ مجسمہ محض ایک روایتی رقص کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس دور کے جسمانی کھیلوں، کرتب بازی اور خاص طور پر بیلوں سے لڑائی یا ان پر سے چھلانگ لگانے کے کسی خطرناک کھیل کی حرکت کو ظاہر کر سکتا ہے۔

  • پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    کراچی کے ایم آر کیانی روڈ پر واقع، کراچی پریس کلب کے نزدیک، پیلے جیزری پتھر سے تعمیر شدہ ایڈورڈین طرز کی شاہکار عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے آج شاذ و نادر ہی کوئی یہ اندازہ لگا سکے کہ ان خاموش راہداریوں، لکڑی کی سیڑھیوں اور بلند و بالا ستونوں کے پیچھے استعماری کراچی کی ایک طویل، پراسرار اور اثر انگیز تاریخ پوشیدہ ہے۔

    عام شہریوں کے لیے برسوں تک ‘جادو گھر’ کے نام سے معروف رہنے والی یہ عمارت دراصل ‘فری میسن لاج’ یا ‘لاج آف ہوپ’ تھی، ایک ایسا مرکز جس کے بند دروازوں کے پیچھے نوآبادیاتی طاقت، مقامی ایلیٹ اور عالمی بھائی چارے کا ایک اچھوتا تانا بانا بنا گیا۔

    برطانوی راج کے تحت بننے والے کراچی میں جہاں ریل، بندرگاہ اور تجارتی منڈیاں قائم ہو رہی تھیں، وہاں اس خفیہ سوسائٹی نے شہر کی سیاسی، معاشی اور بلدیاتی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    سندھ میں ورثہ اور لاج آف ہوپ کا قیام

    سندھ پر برطانوی قبضے 1843 سے ذرا قبل، 1842 میں اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ممتاز ڈاکٹر، سائنسدان اور پروونشل گرینڈ ماسٹر ڈاکٹر جیمز برنز نے کراچی میں فری میسنری کی بنیاد رکھنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کا مقصد سندھ میں تعینات برطانوی فوجی و سول حکام کے لیے ایک ایسا اتحاد اور نگار خانہ قائم کرنا تھا جہاں وہ اپنے عالمی فلسفے، یعنی ‘اخلاقی ارتقا اور بھائی چارے’ کے تحت اکٹھے ہو سکیں۔

    شروع میں اس لاج کے اجتماعات صدر اور کنٹونمنٹ کے عارضی مقامات پر ہوا کرتے تھے۔ تاہم، 20ویں صدی کے اوائل میں جب کراچی بمبئی پریسیڈنسی کے تحت ایک شاندار اور جدید میٹروپولیٹن شہر کی شکل اختیار کر رہا تھا، تو فری میسنز کے لیے ایک باقاعدہ اور مستقل مرکز کی ضرورت محسوس کی گئی۔

    بالآخر 18 دسمبر 1914 کو موجودہ ایم آر کیانی روڈ پر ‘لاج آف ہوپ نمبر 360’ کی شاندار عمارت کا افتتاح ہوا۔ اس عمارت کی معماری میں یونانی کلاسیکی ستون، سنہری پالش والی لکڑی کی سیڑھیاں، وسیع ڈائننگ ہال اور ایک پرسکون لائبریری شامل کی گئی، جو اس دور کی برطانوی اشرافیہ کے پُرتکلف ذوق کی عکاسی کرتی تھی۔

    قدیم کراچی کی ایک کثیر المذاہب ایلیٹ نیٹ ورک کمیونٹی

    یہ تاثر عام ہے کہ فری میسن لاج صرف انگریز حکمرانوں کا اڈہ تھا، لیکن تاریخی حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں یہ لاج قدیم کراچی کے سب سے طاقتور، بااثر اور کثیر المذاہب طبقے کا مرکوزہ اجتماعی مرکز بن چکی تھی۔

    برطانوی سول و ملٹری بیوروکریسی اس نیٹ ورک کا اہم حصہ تھی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے جج، کلیکٹرز اور فوج کے اعلیٰ افسران اس لاج کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

    امیر پارسی تجارتی طبقات بھی اس نیٹ ورک میں شامل تھے۔ قدیم کراچی کے ارتقا اور ترقی میں پارسی برادری کا کردار محتاج بیان نہیں۔ پارسی تاجر انگریز انتظامیہ کے فکری اور معاشی طور پر بہت قریب تھے۔ جہانگیر کوٹھاری، ایڈلجی دنشاہ اور میتھا خاندانوں جیسی بااثر پارسی شخصیات کے کئی افراد انگریز افسران کے ساتھ ایک ہی لاج میں برابری کی سطح پر بیٹھتے تھے۔

    20ویں صدی میں انگریزی تعلیم یافتہ مقامی اشرافیہ، نامور ہندو سیٹھوں اور ولایت سے پڑھے ہوئے مسلم بیرسٹرز و ججز نے بھی اس لاج کی رکنیت اختیار کی۔

    اگرچہ فری میسن لاج کے اندر سیاست اور مذہب پر بحث کرنے پر رسمی پابندی تھی، لیکن شہر کے تمام بااثر معاشی اور انتظامی مہروں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اس بات کی ضمانت تھا کہ کراچی کی بندرگاہ، بلدیاتی منصوبوں اور تجارتی نیٹ ورکس کے لیے اہم غیر رسمی فیصلے اسی عمارت کی راہداریوں میں طے پاتے تھے۔

    جادو گھر’ کا مفروضہ اور عوامی نفسیات

    نوآبادیاتی دور میں عام شہریوں، مزدوروں اور مقامی غریب آبادی کے لیے اس عمارت کے اندر قدم رکھنا تو درکنار، اس کے قریب پھٹکنا بھی ناممکن تھا۔ شام کے وقت جب بگیوں اور قیمتی گاڑیوں میں سوار ہو کر بااثر شخصیات یہاں پہنچتیں اور عمارت کے وزنی لکڑی کے دروازے بند کر دیے جاتے، تو باہر کی دنیا میں قیاس آرائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

    عمارت کے اندرونی ہالز میں فرش پر چک دار سیاہ و سفید ٹائلیں، پرکار اور گونیا، مربع اور پرکار کی پراسرار علامات اور ارکان کے مخصوص اشاروں و ہاتھ ملانے کے خفیہ طریقوں نے عوام کے ذہنوں میں دہشت اور حیرت کا امتزاج پیدا کر دیا۔

    مقامی آبادی نے اس پراسرار اور الگ تھلگ عمارت کو ‘جادو گھر’ کا نام دے دیا۔ عوام کا ماننا تھا کہ انگریز اور سیٹھ رات کی تاریکی میں اندر جمع ہو کر کالا جادو کرتے ہیں، سحر انگیز عمل کے ذریعے غیب کا علم حاصل کرتے ہیں یا کسی نادیدہ طاقت کو تسخیر کرتے ہیں۔ یہ دیو مالائی کہانیاں زبان زد عام رہیں اور نسلاً بعد نسل کراچی کے لوک داستانوی حافظے کا حصہ بن گئیں۔

    مذہبی ابہام، صیہونیت اور عالمی تناظر

    فری میسنری کا اپنا دعویٰ یہ تھا کہ وہ محض ایک غیر مذہبی اخلاقی بھائی چارہ ہے جس میں ہر اس شخص کو شامل کیا جاتا ہے جو کسی ایک ‘اعلیٰ طاقت’ پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن اس کے اندرونی فلسفے اور رسومات میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور قبالہ کے یہودی تصوف کی علامات کا گہرا دخل تھا۔

    20ویں صدی کے نصف میں، خاص طور پر 1948 میں صیہونی ریاست کے قیام کے بعد، عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ فری میسنری اور صیہونیت کے درمیان پس پردہ گہرے روابط موجود ہیں۔ عالم اسلام اور کیتھولک چرچ دونوں نے اس تنظیم پر سخت تنقید کی اور اسے اسلامی و ملکی مفادات کے خلاف ایک بین الاقوامی خفیہ نیٹ ورک قرار دیا۔

    پابندی، تحویل اور موجودہ حالت

    قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی کا یہ فری میسن لاج چند دہائیوں تک عارضی اور محدود پیمانے پر کام کرتا رہا۔ لیکن بالآخر 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ایک تاریخی اور سٹریٹیجک فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان بھر میں فری میسنری اور اس سے وابستہ تمام لاجز پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

    پابندی کے بعد کراچی کے اس ‘جادو گھر’ کے تمام ریکارڈز، علامات اور چابیاں ریاست نے اپنی تحویل میں لے لیں۔

    1990 کی دہائی میں یہ عمارت محکمہ تحفظ جنگلی حیات کو سونپ دی گئی۔

    سندھ کلچرل ہیریٹیج ایکٹ 1994 کے تحت اس شاندار تاریخی عمارت کو محفوظ قومی و صوبائی ورثہ قرار دیا گیا۔

    آج اس عمارت کے مرکزی ہالوں اور کمروں میں سندھ وائلڈ لائف کے دفاتر، نایاب حنوط شدہ جانوروں اور پرندوں کا ایک چھوٹا نیچرل ہسٹری میوزیم اور پبلک لائبریری قائم ہے۔

    ایک علمی و تاریخی جائزہ

    کراچی کا فری میسن لاج محض ایک پرانی عمارت نہیں، بلکہ یہ نوآبادیاتی دور کی اس سماجی اور معاشی بساط کا زندہ ثبوت ہے جس نے جدید کراچی کی بنیادیں رکھیں۔ یہ عمارت اس بات کی گواہ ہے کہ کس طرح ایک غیر ملکی استعماری طاقت نے مقامی ایلیٹ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک خفیہ اور بااثر نیٹ ورک قائم کیا۔

    آج اگرچہ اس عمارت کے اندر کا ‘جادو’ ختم ہو چکا ہے اور فری میسنز کا راز تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکا ہے، لیکن اس کی خوبصورت لکڑی کی سیڑھیاں، سنہری پالش والے دروازے اور خاموش راہداریاں آج بھی خاموشی سے اس دور کی داستان سناتی ہیں جب کراچی پر انگریز بیوروکریٹ، پارسی تاجر، ہندو سیٹھ اور مسلم بیرسٹرز مل کر ایک بند کمرے سے حکومت کیا کرتے تھے۔

  • صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    صحرا کی ریت میں دفن ایک پوری تہذیب کی کہانی: تھرپارکر میں سات صدیاں قدیم جین مندر اب کس حال میں ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی دھنکتی ریت میں، جہاں سورج کی تپش زمین کو چیر دیتی ہے اور پانی سونے سے بھی قیمتی ہے، وقت کے خلاف اک عجوبہ آج بھی کھڑا ہے۔ سفید سنگ مرمر اور پہاڑی پتھروں سے تراشے گئے قدیم مندر دھول کے پردے میں سے ایسے اٹھتے ہیں جیسے کسی بھولی بسری تہذیب کے بھوت ہوں۔

    یہ ہیں نگرپارکر کے جین مندر۔ اور ان کے پاس سنانے کو بہت سی کہانیاں ہیں۔

    بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مندر موجود ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ ان کے کھنڈروں میں قدم رکھ پائے ہیں۔ مگر جو لوگ یہاں آتے ہیں، وہ ایک پوری تہذیب کی باقیات کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ، وہ تہذیب جو کبھی اتنے مال و زر سے پھلی پھولی کہ مسافروں نے اس بنجر صحرا کو ہندوستان کا ‘سب سے شاندار خطہ’ قرار دے دیا تھا۔

    جب صحرا بندرگاہ تھا

    آج یہ ناممکن لگتا ہے۔ تھرپارکر سوکھے اور قحط کی سرزمین ہے۔ مگر بارہویں سے پندرھویں صدی کے درمیان یہی علاقہ ‘پاری نگر’ کے نام سے جانا جاتا تھا ، ایک رونق افروز بندرگاہ جہاں بحری جہاز آتے تھے اور سوداگر دولت کے ڈھیر لگاتے تھے۔

    یہاں کے جین تاجر بحیرہ عرب کے راستے تجارت کرتے تھے۔ دریائے ہاکڑو کے کنارے آباد یہ شہر اتنا خوشحال تھا کہ جین برادری نے اپنی عقیدت اور دولت کا اظہار پتھر میں کر دیا۔

    انہوں نے اپنے ایمان کو پتھر کی شکل دی۔ اور پتھر، سلطنتوں کے برعکس، بھولتا نہیں ہے۔

    گوڑی مندر: سنگ مرمر کا شاہکار

    تمام کھنڈروں میں ایک عمارت آج بھی وقار سے کھڑی ہے۔ گوڑی مندر ، جسے گوڑی جو مندر بھی کہا جاتا ہے ، 1375 سے 1376 عیسوی کے درمیان تعمیر ہوا، اور یہ جین مذہب کے 23ویں تیرتھنکر لارڈ پارشوناتھ کے لیے وقف تھا۔

    یہ مکمل طور پر سفید سنگ مرمر سے بنا ہے۔

    اس کی چھت پر 52 چھوٹے گنبد اور دو بڑے گنبد موجود ہیں۔ اندر کی دیواروں پر برصغیر کے شمالی حصے میں موجود قدیم ترین جین فریسکوز (دیواری مصوری) آج بھی موجود ہیں۔ تھری پوشاک میں ملبوس خواتین کی تصاویر اب بھی پتھر پر رقص کرتی ہیں ، ان کے رنگ ماند پڑ چکے ہیں مگر ان کی خوبصورتی چھ صدیوں کے باوجود کم نہیں ہوئی۔

    لیکن زمانہ بے رحم تھا۔ 1898 کے زلزلے نے مندر کے سب سے مقدس حصے شکھر (بلند گنبد) کو تباہ کر دیا۔ 2001 میں آنے والے 7.9 شدت کے زلزلے نے جو باقی بچا تھا، اسے بھی چکنا چور کر دیا۔

    پھر بھی، گوڑی مندر کھڑا ہے۔ ٹوٹا ہوا، مگر سانس لیتا ہوا۔

    ننگر بازار مندر: جہاں عبادت سب سے دیر تک جاری رہی

    ننگرپارکر شہر کے مرکزی بازار کے دل میں ایک اور مندر ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ بازار مندر 1947 تک، جب پاکستان وجود میں آیا ، مسلسل جین مت کے لوگوں کے استعمال میں رہا۔

    اس کے ستونوں پر جین مت کی نقاشی بنی ہوئی ہے، ہر پتھر ایک مقدس کہانی سناتا ہے۔ دیواروں پر موجود قدیم فریسکوز نے صدیوں تک عبادت گزاروں کو دیکھا۔ یہ کوئی بھولا بسری کھنڈر نہیں تھا۔ یہ ایک زندہ، سانس لیتی عبادت گاہ تھی، بالکل اسی لمحے تک جب تقسیمِ ہند نے برصغیر کو چیر کر رکھ دیا۔

    بھوڈیسر: تین مندر، تین تقدیریں

    نگرپارکر سے تقریباً چھ کلومیٹر دور بھوڈیسر کے مقام پر تین جین مندر مختلف مراحل میں کھڑے ہیں۔

    دو مندر 1375 اور 1449 عیسوی میں بنائے گئے تھے۔ تیسرا مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر ہے۔

    یہ مندر کارونجھر پہاڑ کے پتھروں سے بنائے گئے ہیں، ان کی گنبد نما چھتیں آسمانوں کی بازگشت سناتی ہیں۔ اور تاریخ کا ایک عجیب موڑ دیکھیے کہ انہی مندروں کے قریب ایک سفید سنگ مرمر کی مسجد بھی موجود ہے، جو 1505 عیسوی میں تعمیر ہوئی ، اس کا طرزِ تعمیر جین مندروں سے اتنا ملتا ہے کہ آپ اسے بھی انہی میں شمار کر سکتے ہیں۔

    وہ مذاہب جو کبھی ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ اب وہاں صرف خاموشی رہتی ہے۔

    جین کیوں اپنے قدیم آبائی وطن کو چھوڑ گئے؟

    یہ زوال ایک رات میں نہیں آیا۔ یہ قطرہ قطرہ، پتھر پتھر ہوا۔

    پہلے دریا نے راستہ بدلا۔ سندھ سے آنے والی گاد نے رن کچھ کو بھرنا شروع کر دیا، جس سے بحیرہ عرب پیچھے ہٹ گیا۔ بندرگاہ ختم ہو گئی۔ تجارتی راستے بدل گئے۔ اور انیسویں صدی کے اوائل تک جین برادری بڑی تعداد میں یہاں سے نکلنے لگی۔

    پھر 1947 میں تقسیمِ ہند آئی۔ بہت سے جین خاندان ہندوستان چلے گئے، امن کی تلاش میں۔ چند خاندان نگرپارکر میں رہ گئے، اپنے آبائی گھروں سے چمٹے ہوئے۔

    لیکن 1971 کی پاکستان بھارت جنگ نے آخری ضرب لگائی۔ باقی ماندہ جین خاندانوں نے جو کچھ اٹھا سکتے تھے، سمیٹ لیا۔ مقامی لوگوں کی زبانی روایت کے مطابق، نگرپارکر کا آخری جین خاندان 1972 کی ایک صبح اونٹ پر سوار ہو کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوا۔

    وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

    جانے سے پہلے، انہوں نے ایک حیران کن کام کیا۔ انہوں نے اپنی مقدس مورتیاں زمین میں دفن کر دیں ، تاکہ انہیں بچا سکیں، تباہی سے محفوظ رکھ سکیں۔ مہاویر کی درجنوں مورتیاں دہائیوں تک مٹی کے نیچے سوتی رہیں، انتظار کرتی رہیں۔

    حیران کن دریافت

    حال ہی میں، نگرپارکر کے ایک جین مندر کی بحالی کے دوران، مزدوروں نے ایک شاندار چیز دریافت کی۔ وہ دفن شدہ مورتیاں ، جنہیں آخری جین خاندان نے 1971 میں بے بسی سے چھپایا تھا ، زمین سے نکلیں۔

    زبانی روایت نے برسوں ان کا ذکر کیا تھا۔ اب زمین نے اپنا راز چھوڑ دیا۔ یہ مورتیاں تحفظ کے لیے حیدرآباد منتقل کر دی گئیں۔ ایک رخصت ہوتی قوم کا آخری عمل، بالآخر روشنی میں آ گیا۔

    آج کیا بچا ہے؟

    ان میں سے زیادہ تر مندر اب کھنڈر ہیں۔ مقامی دیہاتی، اپنے گھروں کے لیے پتھر ڈھونڈتے ہوئے، تاریخ کے ٹکڑے ٹکڑے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ فریسکوز مزید دھندلا رہے ہیں۔ سنگ مرمر مزید پھٹ رہا ہے۔

    مگر اب بھی امید ہے۔

    2016 میں ان مندروں کو اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے حال ہی میں کارونجھر پہاڑی سلسلے کو قانون کے تحت ایک یادگار قرار دیتے ہوئے ہر جین مندر کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یہ محض عمارتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک پوری تہذیب کی کہانی ہے جس نے صحرا کو سونا بنا دیا، جس نے سنگ مرمر سے جنت تعمیر کی، جس نے پہاڑوں کے سائے میں عبادت کی اور کھلے سمندر پر تجارت کی۔

    ان کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ مگر آیا اس کا انجام خوش گوار ہوگا، یہ اس پر منحصر ہے کہ آج ہم کیا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔

    تھرپارکر کے جین مندر صرف کھنڈر نہیں ہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبھی اس سخت سرزمین پر خوشحالی کھلی ہاتھوں برستی تھی، جب سوداگر اس کی بندرگاہوں سے سمندر پار جاتے تھے، جب فنکاروں نے اس کی دیواروں کو خوبصورتی سے سجا دیا تھا، اور جب ایمان نے ایسی عمارتیں تعمیر کیں جنہوں نے مرنے سے انکار کر دیا۔

    آج بھی، ہوا گوڑی مندر کے ٹوٹے ہوئے گنبدوں میں سے گزرتی ہے۔ آج بھی، سورج بازار مندر کے سنگ مرمر کے ستونوں کے پیچھے ڈوبتا ہے۔ اور کہیں صحرا کے نیچے، شاید مزید مورتیاں ابھی بھی سو رہی ہیں، اپنی کہانیاں سنانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

    آخری جین خاندان 1972 میں اونٹ پر سوار ہو کر چلا گیا۔ مگر مندر رہ گئے۔

    اور وہ اب بھی بول رہے ہیں۔

  • برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    چہار چیز است تحفہ ملتان، گرد، گرما، گدا و گورستان۔ ملتان کی چار چیزیں مشہور ہیں، دھول، گرمی، فقیر اور قبریں۔ یہ جملہ صدیوں پرانا ہے، مگر ملتان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    ملتان کو برصغیر کے قدیم ترین زندہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شہر ہزاروں برس سے تہذیب، تجارت اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں گزرنے والی ہر صدی نے اس کی شناخت میں ایک نئی تہہ جوڑی ہے۔

    ملتان کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا اور شاہ رکن عالم کے مزارات نے اسے روحانی پہچان دی۔ یہی وجہ ہے کہ فقیروں اور درویشوں کی روایت آج بھی یہاں زندہ ہے۔

    ملتان کی گرمی اپنی مثال آپ ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ قدیم ملتان کے گھروں میں موٹی دیواریں اور ہوادار ساخت اسی موسم سے نمٹنے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔

    ملتان آموں کا شہر بھی ہے۔ چونسا، سندھڑی اور دسہری یہاں کی پہچان ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ملتان کبھی قدیم ریشم اور نیلے رنگ کی تجارت کا بھی بڑا مرکز رہا ہے۔

    ملتان کی قبریں صرف قبرستان نہیں۔ یہ تاریخ کے صفحات ہیں۔ ہر مزار، ہر اینٹ، ایک کہانی سناتی ہے۔

    یہ ہے ملتان۔ گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ہوئی ایک زندہ تہذیب۔

  • خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں بدھ مت واقع تاریخی عبادت گاہ تخت بھائی صدیوں پرانی تہذیبی کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ مقام نہ صرف گندھارا دور کی یادگار ہے بلکہ برصغیر میں بدھ مت کے تعلیمی مراکز کی ایک اہم مثال بھی سمجھا جاتا ہے۔

    تخت بھائی کے بارے میں ہم نے معاذ علی، اسسٹنٹ کنزرویشن، محکمہ آرکیالوجی، خیبر پختونخوا سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق تخت بھائی کی بنیاد پہلی صدی عیسوی کے آس پاس رکھی گئی تھی اور یہ جگہ اپنی جغرافیائی ساخت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پہاڑی چوٹی پر قائم ہونے کے باعث یہ مقام حملہ آوروں اور قدرتی آفات سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔

    معاذ علی کا کہنا ہے کہ تخت بھائی چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی اسٹوپا، راہبوں کی رہائش گاہیں، عبادتی ہال اور تعلیمی کمروں کے آثار شامل ہیں۔ یہاں سے ملنے والے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک مکمل تعلیمی ادارہ تھا جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبا بدھ مت کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ تخت بھائی وہ نایاب بدھ م کا مقام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تقریباً مکمل حالت میں محفوظ رہا۔ کئی دیگر گندھارا سائٹس وقت، موسم اور انسانی مداخلت کے باعث شدید نقصان کا شکار ہوئیں، مگر تخت بھائی اپنی بلندی اور مضبوط تعمیر کی بدولت آج بھی اپنی اصل ساخت کے قریب دکھائی دیتا ہے۔

    سنہ 1980 میں تخت بھائی کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے بعد اس کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی گئی۔ تاہم آج بھی یہ مقام موسمی اثرات، بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر ذمہ دار سیاحت جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    معاذ علی بتاتے ہیں کہ محکمہ آرکیالوجی یہاں تحفظاتی کاموں کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کر رہا ہے تاکہ لوگ اس ورثے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق تخت بھائی صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ثقافتی مکالمے اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔

    تخت بھائی آج بھی خاموشی سے اس دور کی گواہی دیتا ہے جب یہ خطہ علم، فلسفے اور روحانی جستجو کا مرکز تھا۔ یہ مقام نہ صرف سیاحوں بلکہ محققین کے لیے بھی ایک زندہ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، جو آنے والی نسلوں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

     

  • قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    سندھ کے قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والا نئوں کوٹ کا شہر ہر سال سیلاب کی زد میں آتا ہے۔ یہ شہر انتظامی طور پر دو اضلاع، تھرپارکر اور میرپور خاص، میں تقسیم ہے۔ تھرپارکر کی حدود میں آنے والا حصہ ڈھورو بازار یا سنتورو فارم کہلاتا ہے، جبکہ میرپور خاص کی حدود میں موجود حصہ نئوں کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    وہ وقت جب تھر تک پکی سڑکیں نہیں پہنچی تھیں، نئوں کوٹ اس خطے کا مرکزی شہر تھا۔ اس وقت تھرپارکر کی چار میں سے تین تحصیلوں کی آمدورفت اسی شہر کے ذریعے ہوتی تھی، کیونکہ یہی واحد شہر تھا جہاں سے ریلوے سڑک گزرتی تھی۔ اسی ریلوے لائن نے نئوں کوٹ کو تجارتی اور آبادیاتی طور پر وسعت دی۔

    وقت کے ساتھ لوگوں نے قدیم دریائے ہاکڑو کے کنارے آبادیاں بنائیں۔ رفتہ رفتہ یہ آبادیاں پھیلتی گئیں اور ایک وقت آیا کہ شہر کا بڑا حصہ خشک ہو چکے ہاکڑو کے اندر تک جا بسا۔ چونکہ دریا برسوں سے سوکھا ہوا تھا، اس لیے لوگوں کو یہ احساس ہی نہ رہا کہ وہ ایک قدیم دریا کے بہاؤ میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ حقیقت پہلی بار 2011 میں اس وقت سامنے آئی جب شدید سیلاب آیا۔ نئوں کوٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ اور سنتورو فارم، ڈھورو بازار سمیت متعدد کالونیاں مکمل طور پر زیر آب آ گئیں۔ دکانیں ڈوب گئیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ قریبی ریت کے ٹیلوں پر جا کر آباد ہوئے۔ تقریباً دو مہینے تک متاثرہ خاندان انہی ٹیلوں پر رہے۔ پانی اترنے کے بعد لوگ دوبارہ شہر کی طرف لوٹ آئے۔

    اس کے بعد 2020 اور 2022 میں بھی سیلاب آیا اور نئوں کوٹ ایک بار پھر ڈوب گیا۔ ہر بار منظر ایک جیسا رہا، نقل مکانی، ریت کے ٹیلے اور واپسی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، شہر کے لوگ خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں دوبارہ سیلاب نہ آ جائے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ ایک دہائی کے دوران سندھ میں غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ جب بھی سندھ میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اس کا براہ راست اثر نئوں کوٹ پر پڑتا ہے۔ قدیم ہاکڑو اب سندھ کا سب سے بڑا سیلابی نالا بن چکا ہے، جو سیلابی پانی کو شکور جھیل اور پھر سمندر کی جانب لے جاتا ہے، اور اسی بہاؤ میں نئوں کوٹ بار بار ڈوب جاتا ہے۔

    ہر بڑے سیلاب کے دوران نئوں کوٹ میڈیا کی خبروں میں تو آ جاتا ہے، مگر شہر کو مستقل بنیادوں پر محفوظ بنانے کے لیے اب تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں آ سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے یہاں آباد ہیں، مگر بدلتے موسم اور بڑھتی بارشوں نے ان کی زندگی غیر محفوظ بنا دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری اور عملی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    شہر کے رہائشی سنجے کمار کا کہنا ہے کہ اگر نئوں کوٹ کو بچانا ہے تو ہاکڑو کے نالے کو باقاعدہ طور پر خالی کر کے اس کے اوپر فلائی اوور یا متبادل راستہ بنایا جائے، تاکہ سیلاب کے دوران آمدورفت متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق جب نئوں کوٹ ڈوبتا ہے تو تھرپارکر کا رابطہ باقی سندھ سے کٹ جاتا ہے، جس سے پورا خطہ مفلوج ہو جاتا ہے۔

    نئوں کوٹ آج بھی قدیم ہاکڑو کے بہاؤ میں سانس لے رہا ہے، مگر ہر آنے والا مون سون اس شہر کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو یہ شہر ہر سال اسی طرح ڈوبتا رہے گا۔

     

  • سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی جو محبت، تقدیر اور سماجی سرحدوں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس داستان کو سوندی زبان کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھائی نے اپنی شاعر ی میں شامل کیا مگر یہ کہانی صرف شاعری کا موضوع نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایات میں زندہ ایک روایت ہے، جسے سندھ کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔

    اس کہانی نے جنم لیا سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں موجود قدیم شہر بھنبھور میں، جہاں ایک میوزیم قائم ہے۔ بھنبھور میوزیم کے انچارج ظہیر احمد کے مطابق سسئی کی پیدائش سیہون شریف میں ایک ہندو خاندان کے گھر ہوئی۔ ان کے بقول خاندان نے خوشی کے موقع پر پنڈت کو بلایا تاکہ نومولود کی کنڈلی دیکھی جائے۔ پنڈت نے کنڈلی دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ بچی ایک دن مسلمان ہو جائے گی اور اس کی شادی ایک مسلمان مرد سے ہوگی۔ یہ پیش گوئی اس دور کے سماجی تصورات کے خلاف سمجھی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر احمد نے کہا: ‘اس پیش گوئی کے بعد بچی کے والدین شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہو گئے۔ خاندان کی روایت کے مطابق انہوں نے نومولود سسئی کو ایک صندوق میں رکھا اور دریائے سندھ کے حوالے کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید یوں بدنامی سے بچا جا سکے۔ ظہیر احمد کے مطابق یہ فیصلہ محبت یا نفرت سے زیادہ سماجی خوف کا نتیجہ تھا۔

    ‘یہ صندوق بہتا ہوا بھنبھور کے قریب پہنچا، جہاں ایک مسلمان دھوبی کو یہ دریا کے کنارے ملا۔ دھوبی نے صندوق کھولا تو اندر زندہ بچی کو پایا اور اسے اپنی اولاد کی طرح پالنا شروع کر دیا۔ یوں سسئی ایک ہندو خاندان میں جنم لے کر ایک مسلمان گھرانے میں پرورش پانے لگی۔’

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی جوان ہوئی تو اپنی خوبصورتی، سادگی اور کردار کی وجہ سے مشہور ہو گئی۔ اسی دوران مکران کے علاقے سے تعلق رکھنے والے شہزادہ پنہوں بھنبھور آیا، جہاں اس کی ملاقات سسئی سے ہوئی۔ یہ ملاقات آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی، جو وقت کے ساتھ ایک عظیم داستان بن گئی۔

    ظہیر احمد نے بتایا کہ پنہوں اور سسئی کی محبت سماجی رکاوٹوں کی نذر ہو گئی۔ پنہوں کے خاندان نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا اور اسے زبردستی واپس لے جایا گیا۔ سسئی نے پنہوں کی تلاش میں ریگستان کا سفر اختیار کیا، جو اس کہانی کا سب سے دردناک حصہ مانا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سسئی کا صحرا میں بھٹکتے ہوئے جان دینا اس محبت کی انتہا کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کی ثقافت میں اس بات کی مثال بن گئی کہ سچی محبت مذہب، ذات اور طاقت کی حدود کو نہیں مانتی۔

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی پنہوں کی داستان آج بھی سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہانی صرف دو افراد کی محبت نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ، سماجی ڈھانچے اور انسان کی تقدیر کے ساتھ جدوجہد کی عکاس ہے، اسی لیے صدیوں بعد بھی اسے سنایا اور سنا جاتا ہے۔

     

  • بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    ماضی کے روایتی اور قدیم ساز چنگ کے حوالے سے بلوچستان کے مایہ ناز فنکار بنگل مصری کے پوتے محمد اقبال مصری کو آج بلوچستان کے آخری چنگ نوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ جدید دور میں درپیش متعدد خطرات کے باوجود اس نایاب ساز کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بلوچستان کی سنگلاخ زمین، خاموش پہاڑ اور دور تک پھیلے ریگستان صرف قدرتی مناظر نہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب کی زندہ گواہی بھی ہیں۔ اسی تہذیب کا ایک نایاب اور آہستہ آہستہ خاموش ہوتا ہوا ورثہ چنگ ہے، ایک ایسا قدیم ساز جس کی آواز کبھی بلوچ بستیوں، قافلوں اور میلوں میں سنائی دیتی تھی، مگر اب یہ آواز مدھم پڑ چکی ہے۔

    چنگ بنیادی طور پر ایک سادہ مگر گہرے اثرات رکھنے والا ساز ہے۔ لکڑی یا دھات سے بنے اس ساز میں باریک زبانیں ہوتی ہیں جنہیں منہ کے قریب رکھ کر بجایا جاتا ہے۔ اس کی آواز نرم، اداس اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے۔ بلوچستان میں چنگ کو محض موسیقی کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ تنہائی، ہجرت، محبت اور فراق جیسے جذبات کا ترجمان بھی تھا۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چنگ نواز محمد اقبال مصری نے بتایا کہ جدید سازوں اور بدلتے سماجی رجحانات کے باعث بلوچستان میں روایتی اور قدیم چنگ کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں چنگ زیادہ تر رات کے وقت بجایا جاتا تھا۔

    ‘چرواہے، مسافر یا طویل سفر پر نکلنے والے لوگ چنگ کی آواز کے ساتھ اپنا دل بہلاتے تھے۔ یہ ساز محفلوں کے شور کے لیے نہیں بلکہ خاموشی کے لیے بنا تھا، شاید اسی لیے جدید دور کے تیز اور اونچی آواز والے سازوں کے سامنے چنگ پیچھے رہ گیا۔’

    محمد اقبال مصری کا کہنا ہے کہ اب نہ وہ ماحول باقی رہا ہے اور نہ ہی وہ سننے والے۔ موبائل فون، جدید موسیقی اور بدلتی سماجی ترجیحات نے چنگ کو تقریباً فراموش کر دیا ہے۔ نوجوان نسل اس ساز سے ناآشنا ہے اور اگر اس کا نام سن بھی لے تو اسے پرانا اور غیر متعلق سمجھتی ہے۔

    چنگ صرف ایک ساز نہیں بلکہ بلوچستان کی غیر تحریری تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی دھنوں میں ہجرتوں کی کہانیاں، قحط کے دن، محبت کے وعدے اور پہاڑوں کی خاموشی سمٹی ہوئی ہے۔ جب آخری چنگ نواز خاموش ہو جائے گا تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پوری آواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

    ماہرین ثقافت کا کہنا ہے کہ اگر چنگ جیسے روایتی سازوں کو محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی ہی سرزمین کے کئی ثقافتی رنگوں سے ناواقف رہ جائیں گی۔ چنگ کی بقا صرف ایک ساز کی بقا نہیں بلکہ اس سوچ کی بقا ہے جس میں سادگی، تنہائی اور احساس کو موسیقی کا درجہ حاصل تھا۔

    بلوچستان میں آخری چنگ نواز آج بھی کبھی کبھار اس ساز کو ہونٹوں سے لگا کر ایک دھن چھیڑتا ہے۔ شاید اسے معلوم ہے کہ سننے والے کم ہیں، مگر تاریخ اب بھی کہیں نہ کہیں اس آواز کو محفوظ کر رہی ہے۔

     

  • صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں جام خان جو وانڈھیو میں موجود پیلو کا درخت آج بھی اپنی مضبوط جڑوں اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہ درخت مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 150 سال پرانا ہے اور تھر کے سخت موسموں، قحط اور تیز ہواؤں کا خاموش گواہ رہا ہے۔ ریگستانی خطے میں اس نوعیت کے قدیم درخت اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے یہ پیلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    اس درخت کے سائے کی وسعت مقامی روایت میں مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ جام خان کے پوتے ساگر خاصخیلی کے مطابق پیلو اتنا وسیع ہے کہ اس کے نیچے بیک وقت 150 افراد ‘آرام’ سے بیٹھ سکتے ہیں۔ تھر جیسے گرم اور خشک علاقے میں ایسا سایہ کسی نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا۔

    پیلو کا یہ درخت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ گاؤں کی سماجی زندگی کا مرکز بھی رہا ہے۔ ماضی میں گاؤں کے فیصلے، مشورے اور اجتماعی بیٹھکیں اسی درخت کے نیچے ہوا کرتی تھیں۔ مسافر، چرواہے اور مقامی لوگ گرمی کی شدت میں یہاں سستا کر دم لیتے تھے۔

    نگرپارکر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پیلو کے درخت کو خاص تقدس حاصل ہے۔ اس کے پھل مقامی خوراک میں استعمال ہوتے رہے ہیں جبکہ اس کی چھال اور پتے روایتی علاج میں بھی کام آتے ہیں۔ ریگستانی ماحول میں پیلو ان چند درختوں میں شامل ہے جو کم پانی میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پیلو کی جڑیں زمین میں گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں، جو اسے طویل عرصے تک قائم رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید خشک سالی کے باوجود یہ درخت سبز رہتا ہے۔ مقامی لوگ اسے صبر، برداشت اور بقا کی علامت سمجھتے ہیں۔

    یہ درخت اب گاؤں کی شناخت اور سیاحتی کشش کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اس پیلو کو دیکھنے کے لیے مختلف علاقوں سے سیاح یہاں آتے ہیں، جن کا مقامی لوگ روایتی انداز میں استقبال کرتے ہیں۔ مہمانوں کو اپنے گھروں میں بٹھایا جاتا ہے، مقامی کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزار کر تھر کی روایتی مہمان نوازی کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

    جام خان جو وانڈھیو کے رہنے والوں کے لیے یہ محض ایک درخت نہیں بلکہ یادوں اور روایتوں کا مرکز ہے۔ بچوں کی کھیل کود، بزرگوں کی باتیں اور مسافروں کی کہانیاں سب اسی سائے میں پروان چڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت گاؤں کے اجتماعی تشخص کا حصہ بن چکا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پیلو کے درخت کو صحرائی ماحول میں قدرتی پانی صاف کرنے والا نظام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں زیر زمین نمی کو محفوظ رکھ کر اردگرد کی مٹی میں پانی کی مقدار برقرار رکھتی ہیں۔ یہ خصوصیت آس پاس کی نباتات اور چرند پرند کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    آج جب تھرپارکر میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جام خان جو وانڈھیو کا یہ پیلو درخت قدرتی ورثے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ درخت یاد دلاتا ہے کہ ریگستان میں زندگی کا دارومدار مضبوط جڑوں، سایے اور انسانوں کے باہمی رشتوں کی قدر پر ہوتا ہے۔