زاویہ: ملیر کے تاریخی علاقے کاٹھوڑ کی یادیں

کاٹھوڑ

کاٹھوڑ صرف ایک گاؤں یا بازار کا نام نہیں بلکہ ملیر کی قدیم تاریخ، ثقافت، سماجی رشتوں اور روزگار سے جڑا ہوا ایک ایسا مقام ہے، جس کی جڑیں کئی نسلوں کی یادوں میں پیوست ہیں۔

کاٹھوڑ ضلع ملیر کے گڈاپ ٹاؤن میں واقع ایک قدیم دیہہ ہے، جس نے اپنے گرد پھیلے چھوٹے بڑے دیہات کو صدیوں سے ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے۔

مقامی انتظامی تاریخ میں بھی کاٹھوڑ کی اپنی ایک حیثیت رہی ہے۔ 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں کاٹھوڑ کو یونین کونسل کا درجہ دیا گیا، جبکہ 2023 میں انتظامی تبدیلی کے تحت اسے یوسی گڈاپ کا وارڈ بنا دیا گیا۔

سابقہ یوسی کاٹھوڑ اور موجودہ وارڈ کے منتخب نمائندے بھی ہمارے گاؤں لعل بخش کاچھيلو کے رہائشی معزز خادم حسین کاچھيلو ہیں، جن کے حلقے میں کاٹھوڑ اور اس کے آس پاس کے تقریباً پچاس چھوٹے بڑے گاؤں شامل ہیں۔

کاٹھوڑ کا مرکزی بازار سپر ہائی وے سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال کی جانب واقع ہے۔ آج جو بازار سینکڑوں لوگوں کے روزگار اور خرید و فروخت کا مرکز بن چکا ہے، اس کی ابتدا اتنی وسیع نہیں تھی۔ مقامی روایات اور بزرگوں سے سنی ہوئی باتوں کے مطابق کاٹھوڑ بازار کی بنیاد رکھنے والوں میں مرحوم مراد جوکھیو، مرحوم ارباب گبول اور مرحوم صالح محمد جوکھیو شامل تھے۔

انہوں نے یہاں ابتدائی طور پر دکانیں اور ہوٹل قائم کیے، جنہوں نے رفتہ رفتہ اس ویران مقام کو ایک چھوٹے سے تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا شروع کیا۔

اس کے بعد مرحوم محمد ہاشم گبول، حاجی گبول، مرحوم راسل جوکھیو، مرحوم ملاں اسحاق کھوسو، مرحوم رمضان فقیر حیدری، مرحوم نواز علی گوندر اور دیگر کئی لوگوں نے یہاں دکانیں، ہوٹل اور منڈیاں قائم کیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ کاٹھوڑ بازار وسعت اختیار کرتی گئی اور آج یہاں 300 سے زائد مختلف دکانیں، میڈیکل اور جنرل اسٹور، منڈیاں، ہوٹل اور دیگر کاروباری مراکز موجود ہیں۔

کاٹھوڑ بازار کی تاریخ صرف دکانوں اور ہوٹلوں کی تاریخ نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی محنت کی بھی داستان ہے، جنہوں نے اپنے روزگار کے ساتھ ساتھ کاٹھوڑ کی سماجی زندگی کو بھی تشکیل دیا۔ ان میں وڈیرہ صالح محمد جوکھیو، وڈیرہ سفر کھوسو، واجا ابراہیم جدگال، عارب سیٹھ، مراد سیٹھ، وڈیرہ غلام رسول جوکھیو، امیرالدین جوکھیو، علی مراد ماچھی، مراد فقیر، عزیز پکوڑوں والا، موسا ہوٹل والا، فقیرو لوہار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ محراب بڑھئی، ڈاکٹر سید حیدر علی، ڈاکٹر شریف، ہارون بندیجو، فتح محمد ٹیبر، سچيدنو جوکھیو، عبدالکھوسو، ہادی بخش گبول، تاج محمد جوکھیو، حاصل خان جوکھیو، خان محمد جوکھیو، میر عبدالکریم، علی رند، حاجی اسحاق، ناکو حسن بلوچ، حاجی فتح محمد برو، عبدالمجید برو، آچار ملنگی نے بھی اپنا حصے کا کام کیا۔

پنہور خان گبول سائیکلوں کا مستری، عارب جوکھیو، لیموں خان گبول مستری، غلام قادر گبول ویلڈر، ولی رام موچی اور ڈاکٹر روپ چند جیسے کردار کاٹھوڑ کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ ان میں سے بعض کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جبکہ بعض کے بارے میں اپنے بزرگوں سے سنا۔

کاٹھوڑ کے ابتدائی درزیوں میں دودو ماچھی، روزی گبول، یوسف بروہی، موسا گوندر اور ہوتو بندیجو کے نام بھی مقامی یادداشت میں محفوظ ہیں۔ اس دور میں کپڑے سینے سے لے کر لوہے کے کام، بڑھئی گیری، موچی گری اور سائیکلوں کی مرمت تک ہر چھوٹا بڑا ہنر مقامی لوگوں کے روزگار کا ذریعہ تھا۔

کاٹھوڑ کی سماجی اور تجارتی زندگی صرف مرکزی بازار تک محدود نہیں رہی۔ بازار سے تقریباً نصف کلومیٹر شمال کی جانب سراج احمد گوٹھ میں بھی چائے کے ہوٹل اور دکانیں ہوا کرتی تھیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں تجارتی سرگرمیوں کی بنیاد مرحوم ناکو چاکر بلوچ، مرحوم ملاں دادرحیم، ناکو شہک اور مرحوم حاجی احمد مرید بلوچ نے رکھی۔

اس سے کچھ فاصلے پر موریو فقیر خاندان کی زمینوں پر مرحوم میاں خان فقیر کا چائے کا ہوٹل بھی علاقے کی سماجی زندگی کا اہم مرکز تھا۔ اس دور میں ہوٹل صرف چائے پینے کی جگہیں نہیں ہوتے تھے بلکہ لوگوں کی بیٹھک، خبروں کے تبادلے، مشاورت اور علاقائی جرگوں کے مراکز بھی ہوا کرتے تھے۔ چھوٹے بڑے فیصلے اور کئی اہم سماجی معاملات اکثر ایسی ہی جگہوں پر بیٹھ کر طے کیے جاتے تھے۔

کاٹھوڑ کی ترقی میں آمدورفت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ مقامی یادداشتوں کے مطابق لی مارکیٹ سے کاٹھوڑ کے لیے ابتدائی بس سروس مرحوم حاجی علو سیٹھ نے شروع کی، جس سے کاٹھوڑ کا شہر کے ساتھ رابطہ مزید آسان ہو گیا۔ بس سروس شروع ہونے کے بعد لوگوں کی آمدورفت، تجارت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا اور کاٹھوڑ رفتہ رفتہ اپنے گردونواح کے دیہات کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا۔

تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی کاٹھوڑ کی اہمیت نمایاں ہے۔ یہاں بڑا سرکاری ہسپتال، ڈگری گرلز کالج اور ہائر سیکنڈری اسکول موجود ہیں۔ ان اداروں کے قیام سے کاٹھوڑ اور گردونواح کے دیہات کے نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوا۔

ہائر سیکنڈری اسکول کے لیے زمین دینے میں مرحوم مراد خان جوکھیو کے خاندان کے کردار کو بھی مقامی لوگ احترام سے یاد کرتے ہیں۔ مرحوم مراد خان کے بعد ان کے صاحبزادے کمال خان جوکھیو بھی سیاسی اور سماجی خدمات میں نمایاں رہے۔

آج کاٹھوڑ بازار آس پاس کے کئی دیہات کے لوگوں کے لیے روزگار، خریداری، علاج، تعلیم اور تجارت کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ صبح سویرے ہی بازار میں لوگوں کی آمدورفت شروع ہو جاتی ہے اور شام تک کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ دیہاتیوں کے لیے کاٹھوڑ صرف ایک بازار نہیں بلکہ ان کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔

کاٹھوڑ کی سرزمین نے کئی نامور لوگوں کو جنم دیا ہے، جنہوں نے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنائی اور اپنے علاقے کا نام روشن کیا۔ سیاسی حوالے سے بھی کاٹھوڑ کا نام نمایاں رہا ہے۔

اس وقت کاٹھوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد ساجد جوکھیو اور محمد سلیم بلوچ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے ارکان ہیں۔ اسے بھی کاٹھوڑ کے سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وقت بدل گیا ہے۔ کاٹھوڑ کا بازار چند ہٹوں اور منڈیوں سے بڑھ کر سینکڑوں دکانوں تک پہنچ چکا ہے، آمدورفت کے ذرائع تبدیل ہو گئے ہیں، نئے تعلیمی اور طبی ادارے قائم ہوئے ہیں، لیکن کاٹھوڑ کی اصل شناخت آج بھی اس کے لوگوں، ان کی محنت، محبت، مہمان نوازی اور اجتماعی سماجی زندگی میں موجود ہے۔

جس دھرتی پر ہم نے اپنے بچپن کے قدم اٹھائے، جس بازار میں اپنے بزرگوں کی محنت کے نشان دیکھے، جن ہوٹلوں میں علاقے کے فیصلے ہوتے دیکھے اور جن لوگوں کے نام آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں، وہ کاٹھوڑ ہمارے لیے صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ہماری شناخت، ہماری تاریخ اور ہماری جنم بھومی ہے۔

کاٹھوڑ کی تاریخ ابھی مکمل طور پر لکھی نہیں گئی۔ یہ تاریخ ان لوگوں کی زبانوں، پرانی بازاروں، گاؤں، ہوٹلوں، اسکولوں، راستوں اور ان شخصیات کی یادوں میں بکھری ہوئی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی اس دھرتی کے ساتھ وابستہ کر دی۔

کاٹھوڑ کی ان زندہ یادوں کو قلمبند کرکے آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے، تاکہ وقت کے بہاؤ کے ساتھ ملیر کے اس قدیم مقام کی مقامی تاریخ کہیں گم نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں: