[rank_math_breadcrumb]

سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون: آزادیٔ صحافت کے لیے قانونی ڈھال

سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے صحافیوں اور دیگر میڈیا کارکنوں کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قانون ‘سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ دیگر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ’ نافذ کیا۔ سندھ اسمبلی نے یہ قانون 2021ء میں منظور کیا، جس کا بنیادی مقصد صحافیوں کو تشدد، دھمکی، ہراسانی اور ان کے پیشہ ورانہ کام میں غیر قانونی مداخلت سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس قانون کے تحت صحافیوں کو اپنے ذرائع کی رازداری برقرار رکھنے کا حق بھی حاصل ہے۔ قانون میں جسمانی ہراسانی کے ساتھ ساتھ آن لائن ہراسانی کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ صحافیوں کو روایتی خطرات کے علاوہ ڈیجیٹل دنیا میں پیش آنے والے دباؤ اور دھمکیوں سے بھی قانونی تحفظ حاصل ہو۔

اس قانون کی سب سے اہم خصوصیت جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن کا قیام ہے۔ یہ کمیشن صحافیوں پر حملوں، دھمکیوں اور ہراسانی سے متعلق شکایات سن سکتا ہے، ازخود نوٹس لے سکتا ہے، تحقیقات اور قانونی کارروائی کی نگرانی کرسکتا ہے اور متاثرہ صحافیوں کو قانونی معاونت فراہم کرسکتا ہے۔

قانون میں میڈیا مالکان کے لیے بھی ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔ خطرناک حالات میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے انشورنس، حفاظتی اقدامات اور ضروری تربیت کی فراہمی کو بھی اہمیت دی گئی ہے، تاکہ صحافیوں کی حفاظت صرف قانون کی ذمہ داری نہ رہے بلکہ میڈیا ادارے بھی اپنے کارکنوں کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔

اس قانون کی تیاری سے قبل ہونے والی مشاورت میں شامل سینئر صحافی اور اس وقت کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل عاجز جمالی کے مطابق یہ قانون ایک زبردست اقدام ہے، تاہم اس کا اصل فائدہ اسی وقت ہوگا جب اس پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔

سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق اس قانون کی اہمیت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ صحافی سندھ حکومت پر کھل کر تنقید کرتے رہے، اس کے باوجود حکومت نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے یہ قانون بنایا۔

یہ قانون اس اصول کو تسلیم کرتا ہے کہ صحافیوں کا تحفظ صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کے معلومات حاصل کرنے کے حق اور آزادیٔ صحافت سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ تاہم اس قانون کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس کے مؤثر، غیر جانب دار اور مکمل نفاذ پر ہے۔

اسی بارے میں: