Tag: صحافی

  • صحرا کا چراغ، مٹی کی خوشبو اور اقتدار کے ایوان: کراچی کے ایک صحافی، سیاست دان، جئے رام داس دولت رام عالم چندانی کی داستان حیات

    صحرا کا چراغ، مٹی کی خوشبو اور اقتدار کے ایوان: کراچی کے ایک صحافی، سیاست دان، جئے رام داس دولت رام عالم چندانی کی داستان حیات

    جغرافیائی تقسیم جب کسی خطے کی تقدیر بدلتی ہے تو صرف زمین کے ٹکڑے الگ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ ساز ذہن اور عظیم رہنما بھی اپنی مٹی سے جدا ہو جاتے ہیں۔

    پرانے کراچی کی گود سے جنم لینے والے ایسے ہی ایک عظیم اور مدبر رہنما جئے رام داس دولت رام تھے، جن کا سفر حیات کراچی کی پرسکون گلیوں سے شروع ہو کر تحریک آزادی کے قید خانوں، آزاد ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی اور پھر بہار اور آسام کے گورنر ہاؤسز تک پھیلا ہوا تھا۔

    وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی پیدائش کراچی کے ایک سندھی ہندو گھرانے میں ہوئی، جنہوں نے برصغیر کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا اور آزادی کے فوراً بعد ایک بالکل دوسرے خطے، بہار، کے پہلے بھارتی گورنر بنے۔ یہ داستان ایک ایسے رہنما کی ہے جس نے اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں بیٹھ کر بھی اپنی مادری زبان ‘سندھی’ اور اپنی جائے پیدائش ‘کراچی’ کا حق کبھی نہیں بھلایا۔

    کراچی کی گود میں ابتدائی زندگی

    جئے رام داس دولت رام 21 جولائی 1891 کو برطانوی ہند کے ساحلی اور تجارتی مرکز کراچی کے ایک معزز، پڑھے لکھے اور متمول سندھی ہندو خاندان میں دولت رام عالم چندانی کے گھر پیدا ہوئے۔ اسی شہر کی مٹی میں ان کا خمیر گندھا تھا اور اسی کی ہواؤں نے ان کے خیالات کو پروان چڑھایا۔

    انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی ہی سے حاصل کی اور بعد ازاں قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرکے کراچی ہی میں اپنی وکالت کا آغاز کیا۔

    ان دنوں کراچی میں وکالت ایک انتہائی منافع بخش اور معزز پیشہ مانا جاتا تھا اور جئے رام داس بہت جلد ایک کامیاب وکیل کے طور پر ابھر سکتے تھے، لیکن ان کے اندر ایک ایسا ضمیر دھڑک رہا تھا جو برطانوی راج کی غلامی اور اس کے جابرانہ قوانین کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔

    جب برصغیر میں آزادی کی لہریں اٹھیں اور کانگریس نے برطانوی حکومت کے خلاف آواز بلند کی تو نوجوان جئے رام داس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنی چمکتی ہوئی وکالت اور متمول زندگی کو خیرباد کہہ دیا اور خود کو دھرتی کی آزادی کے لیے وقف کردیا۔

    مہاتما گاندھی کی رفاقت اور ‘صحرا کا چراغ’ کا لقب

    تحریک آزادی میں شامل ہونے کے بعد جئے رام داس دولت رام بہت جلد اپنی ذہانت، سادگی اور عزم کی بدولت مہاتما گاندھی کے چند انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھیوں کی صف میں شامل ہوگئے۔ ان کا اور گاندھی جی کا رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور روحانی بھی تھا۔

    اس رفاقت کا ایک تاریخی موڑ 1919 کے امرتسر اجلاس میں آیا۔ اس اجلاس میں گاندھی جی اور دیگر سینیئر کانگریسی رہنماؤں کے درمیان ایک اہم قرارداد پر شدید نظریاتی اختلاف پیدا ہوگیا تھا، جس سے تحریک کے اندر ایک خلیج پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔

    ایسے نازک وقت میں جئے رام داس نے اپنی غیر معمولی سفارتی اور تحریری صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے گاندھی جی کی قرارداد کے الفاظ کو اس مہارت اور خوبصورتی سے دوبارہ ترتیب دیا کہ تمام فریقین اس پر راضی ہوگئے اور یوں تحریک آزادی کا شیرازہ بکھرنے سے بچ گیا۔ اس واقعے کے بعد گاندھی جی ان کی سیاسی دور اندیشی کے دل سے قائل ہوگئے۔

    ہندوستان کی مشہور شاعرہ اور سیاسی رہنما سروجنی نائیڈو جئے رام داس کی درویشی، سادگی اور سندھ کے پسماندہ خطوں کے لیے ان کی بے لوث خدمات سے بے حد متاثر تھیں۔ انہوں نے جئے رام داس دولت رام کو ان کی اسی بے لوث طبیعت کی وجہ سے ‘صحرا کا چراغ’ کا خوبصورت لقب دیا، ایک ایسا چراغ جو سندھ کے تپتے صحراؤں اور کراچی کے ساحلوں پر آزادی کی روشنی پھیلا رہا تھا۔

    انہوں نے تحریک عدم تعاون، نمک کے ستیہ گرہ اور 1942 کی ‘ہندوستان چھوڑو تحریک’ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس پاداش میں برطانوی حکومت نے انہیں کئی بار جیل بھیجا، جہاں انہوں نے بدترین تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں نہایت پامردی سے جھیلیں۔

    صحافت کا سفر اور تحریری جہاد

    جئے رام داس دولت رام صرف ایوانوں اور جلسوں کے مرد میدان نہیں تھے بلکہ وہ ایک صاحب طرز ادیب اور بے باک صحافی بھی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ قلم کی طاقت برطانوی توپوں سے زیادہ کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس دور کے برصغیر کے مشہور انگریزی اخبارات ‘دی ہندو’ اور ‘ہندوستان ٹائمز’ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اپنے اداریوں کے ذریعے عوام میں آزادی کا شعور بیدار کیا۔

    اس کے علاوہ مہاتما گاندھی کے مشہور ہفتہ وار رسالے ‘ینگ انڈیا’ کی ادارت کی ذمہ داری بھی ایک طویل عرصے تک جئے رام داس کے کندھوں پر رہی، جسے انہوں نے نہایت احسن طریقے سے نبھایا۔

    تقسیم کا کرب اور آزاد ہندوستان کا پہلا گورنر بہار

    1947 کا سال جہاں برصغیر کے لیے آزادی کا سورج لے کر آیا، وہیں جئے رام داس اور لاکھوں سندھیوں کے لیے اپنی مٹی سے بچھڑنے کا ایک لامتناہی کرب بھی لایا۔ جب ملک تقسیم ہوا تو ان کا پیارا شہر کراچی اور پورا سندھ پاکستان کا حصہ بن گیا۔

    جئے رام داس دولت رام جو ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں سندھ کے کوٹے سے رکن منتخب ہوئے تھے اور آئین سازی کی کارروائی میں سندھ کی نمائندگی کر رہے تھے، راتوں رات اپنے ہی آبائی وطن سے بے وطن ہوگئے۔

    لیکن تاریخ نے ان کے لیے ایک اور عظیم منصب چن رکھا تھا۔ 15 اگست 1947 کو ہندوستان کی آزادی کے پہلے ہی دن جب نئی حکومت تشکیل پا رہی تھی تو جئے رام داس دولت رام کو بہار کا گورنر مقرر کیا گیا۔

    بہار راج بھون کے سرکاری اور تاریخی ریکارڈ کے مطابق وہ آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر بہار بنے۔ انہوں نے 15 اگست 1947 سے 11 جنوری 1948 تک اس عہدے پر فائز رہ کر آزادی کے بعد کے اس پرآشوب اور مخدوش دور میں بہار کے انتظامی معاملات کو تدبر اور پختگی کے ساتھ سنبھالا۔

    یہ برصغیر کی تاریخ کا ایک انوکھا اور دلچسپ واقعہ تھا کہ ایک شخص جس کا خمیر کراچی کی مٹی سے اٹھا تھا، وہ برصغیر کے مشرقی حصے کے ایک تاریخی خطے، بہار، کی گورنری کے منصب پر متمکن تھا۔

    بعد ازاں ان کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں جواہر لعل نہرو کی مرکزی کابینہ میں ہندوستان کا وزیر خوراک و زراعت بنایا گیا، جہاں انہوں نے ملک کو غذائی قلت سے نکالنے کے لیے اہم اصلاحات کیں۔

    آسام کی گورنری اور تبت کا تاریخی دفاع

    1950 میں جئے رام داس دولت رام کو آسام کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں وہ 1956 تک فائز رہے۔ ان کی آسام کی گورنری کا دور ہندوستان کی جغرافیائی اور دفاعی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور نازک ترین دور مانا جاتا ہے۔ اسی دور میں چین نے تبت پر اپنا فوجی اور انتظامی کنٹرول سخت کرنا شروع کیا تھا، جس کی وجہ سے ہندوستان کی شمال مشرقی سرحدیں براہ راست چینی خطرے کی زد میں آگئی تھیں۔

    بطور گورنر آسام، جئے رام داس دولت رام نے غیر معمولی تزویراتی اور انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تبت سے متصل بھارت کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں کو انتظامی طور پر مضبوط کرنے کے لیے دن رات ایک کردیا۔ 1951 میں توانگ کا بھارت میں تاریخی اور پرامن انضمام دراصل جئے رام داس دولت رام کی اسی دور اندیشی، مضبوط ارادے اور بہترین انتظامی حکمت عملی کا نتیجہ تھا، جس نے بھارت کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیا۔

    بھارت میں سندھی زبان کا مقدمہ اور آخری سفر

    اقتدار، سیاست اور گورنری کے ان تمام اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے کے باوجود جئے رام داس کے دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کراچی کے ساحل اور سندھی زبان کی لوریاں گونجتی رہیں۔ تقسیم کے بعد جب لاکھوں سندھی ہندو اپنا سب کچھ سندھ میں چھوڑ کر ہندوستان کے مختلف حصوں میں پناہ گزین ہوئے تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی زبان، شناخت اور ثقافت کو مٹنے سے بچانا تھا۔

    جئے رام داس نے اس کڑے وقت میں اپنی مٹی اور مادری زبان کا حق ادا کیا۔ وہ ‘آل انڈیا سندھی زبان و ادب تنظیم’ کے بانی اراکین میں شامل ہوئے۔ انہوں نے دلی کے ایوانوں میں سندھی زبان کا مقدمہ اس مضبوطی سے لڑا کہ بھارتی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

    ان کی انتھک اور مسلسل کوششوں کی بدولت بھارتی حکومت نے سندھی زبان کو ہندوستان کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرکے اسے باقاعدہ قومی زبان کا درجہ دیا۔ یہ ان کا اپنی مٹی اور زبان پر وہ احسان تھا جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    اپنا آبائی شہر کراچی پاکستان میں رہ جانے کے بعد انہوں نے نئی دلی کو اپنا مسکن بنایا اور آخری سانس تک مہاتما گاندھی کے اصولوں کے مطابق نہایت سادگی اور عاجزی کی زندگی گزاری۔ 1 مارچ 1979 کو دلی میں 88 برس کی عمر میں اس عظیم صحافی، مدبر، سیاست دان اور کراچی کے سپوت کا انتقال ہوا۔

    1985  میں حکومت ہند نے ان کی یاد میں ایک خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ جئے رام داس دولت رام کی زندگی کراچی، سندھ، تحریک آزادی، بہار، آسام اور سندھی زبان کے حقوق کو ایک ایسی داستان میں پرو دیتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گی۔

  • فریڈم نیٹورک رپورٹ: 2026 کی دوسری سہ ماہی میں صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے واقعات میں 22 فیصد اضافہ

    فریڈم نیٹورک رپورٹ: 2026 کی دوسری سہ ماہی میں صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے واقعات میں 22 فیصد اضافہ

    پاکستان میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے خلاف دھمکیوں، قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات میں رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے جاری کی گئی سہ ماہی جائزہ رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے 22 تصدیق شدہ واقعات سامنے آئے، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں ایسے 18 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک صوبہ ثابت ہوا، جہاں مجموعی 22 میں سے 15 واقعات یعنی 68 فیصد پیش آئے۔ خیبر پختونخوا میں تین، جبکہ سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر سے اس عرصے میں کوئی تصدیق شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔

    فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں شامل واقعات میں قانونی مقدمات، قانونی کارروائی کی دھمکیاں، گرفتاریاں، جسمانی حملے، قتل کی دھمکیاں، نقصان پہنچانے کی دھمکیاں، اغوا اور قتل کی کوشش جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق چھ صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی گئیں، چار کو قانونی کارروائی کی دھمکیاں ملیں، تین صحافی گرفتار ہوئے، دو صحافی زخمی ہوئے، دو پر حملے ہوئے جن میں وہ زخمی نہیں ہوئے، تین کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں، دو کو قتل کی دھمکیاں ملیں، جبکہ ایک ایک واقعہ اغوا اور قتل کی کوشش کا بھی ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری سہ ماہی کے دوران سب سے نمایاں رجحان یہ رہا کہ صحافیوں کے خلاف قانونی نظام اور ریاستی اداروں کا استعمال بڑھا، خاص طور پر ان صحافیوں کے خلاف جو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رپورٹنگ کرتے ہیں یا حکمرانی، بدعنوانی اور عوامی مفاد کے معاملات پر خبریں شائع کرتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مجموعی 22 واقعات میں سے 15 یعنی 68 فیصد میں ریاستی اداروں یا سرکاری اہلکاروں کو بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس کے بعد غیر ریاستی عناصر کے چار، جرائم پیشہ گروہوں کے دو اور ایک واقعہ سیاسی جماعت سے منسلک عناصر سے متعلق تھا۔ ایک واقعے میں حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    فریڈم نیٹ ورک کے مطابق صحافیوں کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا)، انسداد دہشت گردی قوانین اور دیگر فوجداری قوانین کے تحت مقدمات درج کرنے یا تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد صحافیوں کو اپنی رپورٹنگ یا سوشل میڈیا پر اظہار رائے کے بعد قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے آزادی اظہار اور آزاد صحافت کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسمانی تشدد بھی صحافیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا رہا۔ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں صحافی عبدالغفار قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، جبکہ بہاولپور میں صحافی میاں زاہد اویسی پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ دیگر کئی صحافیوں کو بھی بدعنوانی، جرائم اور انتظامی معاملات پر رپورٹنگ کے دوران تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    رپورٹ کے مطابق تحقیقات پر مبنی صحافت کرنے والے صحافیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ کئی صحافیوں کو سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ اور بااثر شخصیات کے خلاف خبریں شائع کرنے پر قتل کی دھمکیاں یا دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے احتسابی صحافت کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل صحافی، یوٹیوبرز، فری لانسرز اور سوشل میڈیا پر کام کرنے والے افراد پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے خلاف قانونی کارروائیوں اور ضابطہ جاتی اقدامات میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے آن لائن صحافت مزید غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی کے دوران رپورٹ ہونے والے تقریباً تمام متاثرین مرد صحافی تھے، جبکہ کسی خاتون صحافی کے خلاف تصدیق شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم فریڈم نیٹ ورک نے کہا ہے کہ خواتین صحافیوں کو درپیش آن لائن ہراسانی اور دیگر صنفی خطرات کی نگرانی جاری رکھی جا رہی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

    رپورٹ میں گلگت بلتستان کے صحافی اور وی لاگر عدنان راوت کے مقدمے اور اسلام آباد میں صحافی رازی طاہر کی گرفتاری کو بھی اہم مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق ان واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا سائبر قوانین اور دیگر قانونی اختیارات کو صحافیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

    فریڈم نیٹ ورک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، پارلیمنٹ، میڈیا اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دلائیں۔

    تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے قوانین پر نظرثانی کی جائے جنہیں صحافیوں کے خلاف بار بار استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر سائبر کرائم سے متعلق قوانین، تاکہ پاکستان کے آئین میں دی گئی آزادی اظہار کی ضمانت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ رپورٹ پاکستان جرنلسٹس سیفٹی کولیشن کے تحت جاری کی گئی ہے اور اس کی تیاری پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر سے حاصل ہونے والی تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک 2016 سے مختلف پریس کلبوں کے تعاون سے صحافیوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور دستاویز بندی کر رہا ہے۔

  • میڈیا مافیا اور میرا صحافی بننے کا تجربہ

    میڈیا مافیا اور میرا صحافی بننے کا تجربہ

    یہ نومبر 1980 کی بات ہے، جب پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ ملک میں کوئی نجی الیکٹرانک چینل موجود نہیں تھا اور پرنٹ میڈیا اپنے عروج پر تھا۔ سندھی اخبارات میں روزنامہ ہلالِ پاکستان، عبرت، مہران اور سندھ نیوز نمایاں شمار ہوتے تھے۔

    اُن دنوں سندھ کے اکثر شہروں میں اخبارات سے وابستہ افراد کو ‘صحافی’ کے بجائے ‘اخباری نمائندہ’ کہا جاتا تھا۔ مین پوری اور گٹکے کے بجائے شہروں میں سرکاری لائسنس کے تحت بھنگ اور افیون کے اڈے قائم تھے، جہاں حکومت کے مقرر کردہ ٹھیکیدار نشہ آور اشیا فروخت کرتے تھے۔

    جنرل ضیا الحق نے انہی دنوں ملک بھر میں رقص و سرود کے مراکز اور ‘بازارِ حسن’ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ لاہور کی ہیرا منڈی، کراچی کا نیپیئر روڈ، حیدرآباد کا سری گھاٹ، نواب شاہ کی مریم روڈ، سکھر کا گھنٹہ گھر، لاڑکانہ کی نگار ایمپائر سینما کے قریب واقع علاقہ اور قمبر کے اسٹیشن روڈ پر قائم بازارِ حسن سرکاری طور پر تو بند کر دیے گئے تھے، مگر پولیس کی سرپرستی میں یہ سرگرمیاں بدستور جاری تھیں۔

    اُس زمانے میں پولیس اور بعض اخباری نمائندوں کی آمدنی کا ایک ذریعہ جوا، چرس، دیسی شراب کے کاروبار اور بازارِ حسن کے دلالوں سے وصول ہونے والی بھتہ خوری بھی تھی۔ انہی دنوں حیدرآباد سے شائع ہونے والے ایک سندھی اخبار نے مختلف شہروں میں اخباری نمائندوں کی ضرورت کا اشتہار دیا، جس میں میرے آبائی شہر قمبر کا نام بھی شامل تھا۔

    مجھے بھی اخباری نمائندہ بننے کا شوق تھا، چنانچہ میں حیدرآباد پہنچ گیا۔ مختلف شہروں سے آئے دیگر امیدوار بھی وہاں موجود تھے۔ اُس دور میں جس طرح آج کسی ٹی وی چینل کا لوگو فخر سمجھا جاتا ہے، ویسے ہی اُس زمانے میں اخباری نمائندگی کا کارڈ باعثِ اعزاز تصور کیا جاتا تھا۔

    اخبار کے دفتر میں ایک سب ایڈیٹر امیدواروں کے انٹرویو لے رہے تھے۔ جب میری باری آئی تو رسمی سوالات کے بعد انہوں نے خوشخبری سنائی کہ مجھے قمبر تعلقے کا نمائندہ مقرر کیا جا رہا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اخبار کی پچاس کاپیاں فروخت کرنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ 23 مارچ، 14 اگست اور دیگر قومی دنوں کے اشتہارات بھی حاصل کرکے ادارے کو بھجوانے ہوں گے۔

    اُن دنوں سیاسی خوشامد پر مبنی اشتہارات کا رواج نہیں تھا۔ سب ایڈیٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ ادارہ کوئی تنخواہ، ڈاک یا سفری اخراجات ادا نہیں کرے گا۔ اُس دور میں انٹرنیٹ نہیں تھا، اس لیے فوری خبریں ٹیلیفون ایکسچینج کے پی سی او سے بھیجی جاتیں، جبکہ دیگر خبریں ڈاک کے ذریعے روانہ کی جاتیں۔

    صحافی بننے کے شوق میں میں نے تمام شرائط قبول کر لیں۔ نمائندگی کا کارڈ ملا تو خوشی خوشی واپس قمبر آ گیا اور دوستوں کو بتایا کہ اب میں بھی صحافی بن گیا ہوں۔

    دو دن بعد حیدرآباد سے لاڑکانہ اور پھر قمبر، شہدادکوٹ، گڑھی خیرو اور جیکب آباد جانے والی ریل گاڑی کے ذریعے اخباروں کا بنڈل میرے نام قمبر ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ ایک ہاکر وہ بنڈل میرے پاس لے آیا۔ میں نے اُس سے کہا کہ اخباریں فروخت کر دے، مگر اُس نے جواب دیا کہ پہلے ہی اس کے پاس کئی اخبارات ہیں جو فروخت نہیں ہوتیں، اس لیے گاہک مجھے خود تلاش کرنے ہوں گے۔

    کئی دن گزر گئے مگر گاہک نہ ملے، جبکہ اخباروں کے بنڈل مسلسل پہنچتے رہے۔ پریشانی کے عالم میں میں نے قمبر کے ایک سینئر اردو بولنے والے اخباری نمائندے، مرحوم رئیس الدین ہاشمی، سے مشورہ کیا۔

    انہوں نے کہا: ‘یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ سرکاری محکموں، جوئے اور منشیات کے اڈوں سے متعلق سچی یا جھوٹی خبریں بھیجو، خود ہی گاہک مل جائیں گے۔’

    میں نے پولیس تھانے، مختیارکار، ایس ڈی ایم، سول اسپتال اور دیگر محکموں سے متعلق خبریں ادارے کو بھیجنا شروع کر دیں۔ خبریں شائع ہونا شروع ہوئیں تو ایس ایچ او، مختیارکار، انجینئرز اور دیگر افسران کی جانب سے ملاقات کے پیغامات آنے لگے۔

    جب میں ان سے ملا تو انہوں نے بڑی محبت سے کہا: ‘قادری، ایسی چھوٹی موٹی باتیں تو چلتی رہتی ہیں، خبر لگانے سے پہلے ہم سے رابطہ کر لیتے۔’

    اِن خبروں کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف اخبار کے گاہک بڑھ گئے بلکہ طلب میں بھی اضافہ ہو گیا۔

    قمبر میں اسٹیشن روڈ اور دوست علی روڈ پر جوا اور منشیات کے اڈے چلتے تھے۔ میں نے ان کے خلاف خبریں شائع کیں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ان خبروں کی تراشیں محکمہ اطلاعات کے ذریعے ایس پی لاڑکانہ تک پہنچ جائیں گی۔ نتیجتاً پولیس نے کارروائی کی اور کئی اڈے بند ہو گئے۔

    اگلے روز علاقے کے ایک مشہور جرائم پیشہ شخص کا پیغام آیا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر کوئی کام ہے تو خود آ جائے۔

    وہ شخص بالآخر میرے گھر آیا۔ پہلے دھمکیاں دیں، پھر نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا: ‘دنیا سے سب لیتے دیتے ہیں، تمہیں بھی خوشی سے دیں گے۔ ماہانہ پانچ سو روپے مل جایا کریں گے۔’

    1980 میں پانچ سو روپے بڑی رقم تھی۔ میں نے جواب دیا کہ مجھے رقم نہیں چاہیے، صرف اخبار کے گاہک دلا دیں۔ اُس نے فوراً کہا کہ اُس کے جوئے کے اڈے پر روزانہ پانچ اخباریں بھیج دیا کروں۔ اسی طرح منشیات کے ایک اور اڈے کے مالک نے بھی تین اخباروں کی ادائیگی قبول کر لی۔

    دوسری طرف تھانے میں جب ماہانہ بل لینے گیا تو اخبار کا کل بل اسی روپے بنتا تھا، مگر بڑے منشی نے مجھے چار سو روپے دیتے ہوئے کہا:

    ‘اخبار تو پڑھتے نہیں، تمہاری خاطر لیتے ہیں۔’

    میں نے دیکھا کہ بہت سے اخباری نمائندوں کے پولیس، منشیات فروشوں اور شراب فروشوں سے قریبی تعلقات تھے اور اُن کا گزر بسر انہی روابط پر تھا۔

    میری اخباری نمائندگی کا دورانیہ صرف دس ماہ رہا۔ اگست 1981 میں مجھے مارشل لا حکومت اور فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں مارشل لا ریگولیشن 13 اور 33 کے تحت گرفتار کرکے لاڑکانہ جیل بھیج دیا گیا۔

    ایک سال مقدمہ چلنے کے بعد سمری ملٹری کورٹ نے مجھے اور میرے ساتھی توصیف ملک کو ایک سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی اور لانڈھی جیل کراچی منتقل کر دیا گیا۔ 1983 میں رہائی کے بعد میں صحافت کے بجائے عملی سیاست میں آ گیا، لیکن سیاست میں بھی خود کو ‘مس فٹ’ ہی پایا۔

    میں نے اپنے کئی صحافی دوستوں کو دیکھا، جو ابتدا میں ٹوٹی پھوٹی موٹرسائیکل اور معمولی لباس کے مالک ہوتے تھے، مگر وقت کے ساتھ خوشحال ہو گئے۔

    اب الیکٹرانک میڈیا آنے کے بعد صحافت ایک باقاعدہ مافیا کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں مقامی رپورٹرز سے لے کر میڈیا ہاؤسز کے مالکان تک شامل ہیں۔ لینڈ گریبنگ، ٹھیکے، خبروں کا انتظام، جرائم پیشہ افراد اور پولیس کے درمیان معاملات طے کرانا، پریس کلبوں کے نام پر گرانٹس، وزرا اور مشیروں کی تشہیر، حتیٰ کہ شراب، شباب اور ڈانس پارٹیوں تک میں بعض صحافیوں کا کردار دیکھا جا سکتا ہے۔

    جتنی جس کی صلاحیت ہے، وہ اتنا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اب تو کئی صحافی رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔ بعض اضلاع میں ایس ایچ اوز کی تعیناتیاں بھی صحافیوں کی مرضی سے ہوتی ہیں۔

    جیل میں میری ملاقات حیدرآباد کے معروف شخصیت داؤد خان پٹھان سے ہوئی۔ رہائی کے بعد جب میں ان سے ملنے گیا تو حیران رہ گیا کہ ایک ہی عمارت میں ایک طرف جوا، چرس، افیون اور شراب کے اڈے چل رہے تھے، جبکہ دوسری طرف روزنامہ نوائے آسمان کا دفتر قائم تھا۔

    میں نے حیرت سے پوچھا: ‘یہ سب تو سمجھ آتا ہے، مگر اخبار کا دفتر؟’

    داؤد خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ‘اخبار کھول کر میں اخبار کا مالک بھی بن گیا، بے روزگار صحافیوں کو روزگار بھی دیا، اور یہی صحافی میرے مخبر بھی ہیں۔ تھانوں سے لے کر ڈی آئی جی آفس تک کی خبریں مجھے یہی دیتے ہیں۔’

    میری اس مختصر تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ تمام صحافی یا میڈیا سے وابستہ افراد کرپٹ ہیں۔ آج بھی کئی صحافی ایسے ہیں جو اپنے پیشے سے مخلص، بااصول اور دیانت دار ہیں، اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتے ہیں۔

    لیکن جب میڈیا مالکان اپنے نمائندوں سے مفت یا انتہائی کم معاوضے پر کام لیں گے، تو رپورٹرز اور نمائندے آخر اپنا نظام کیسے چلائیں گے؟

    فی الحال اجازت، پھر کسی اور نشست میں بات ہوگی۔

  • ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کیس: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سات صحافیوں اور یوٹیوبرز کو عمر قید کی سزا سنادی

    ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کیس: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سات صحافیوں اور یوٹیوبرز کو عمر قید کی سزا سنادی

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعے کے روز ایک اہم فیصلے میں سات صحافیوں اور سوشل میڈیا تبصرہ نگاروں کو ان کی غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ سزائیں نو مئی سے جڑے ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کے مقدمات میں سنائی گئیں، جنہیں حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا سے متعلق سخت ترین عدالتی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    عدالت کی جانب سے جن افراد کو سزا سنائی گئی، ان میں صحافی صابر شاکر، معید پیرزادہ، شاہین صہبائی اور وجاہت سعید خان شامل ہیں، جبکہ یوٹیوبرز اور سابق فوجی افسران عادل راجہ، حیدر رضا مہدی اور سید اکبر حسین بھی فیصلے کی زد میں آئے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق تمام ملزمان کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا دی گئی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے نو مئی کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی مواد پھیلایا۔ عدالت کے مطابق یہ طرز عمل دہشت گردی کے دائرے میں آتا ہے کیونکہ اس سے ریاستی نظم و نسق اور عوامی امن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

    عدالت نے عمر قید کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال اضافی قید اور 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید قید بھگتنا ہوگی۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں درج مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو سزا سنائی گئی، جبکہ تھانہ رمنا میں درج مقدمے کے تحت شاہین صہبائی، حیدر رضا مہدی اور وجاہت سعید خان کو مجرم قرار دیا گیا۔ مختلف مقدمات میں ملزمان کے کردار کو الگ الگ جانچا گیا، تاہم عدالت نے مجموعی طور پر ڈیجیٹل سرگرمیوں کو ایک منظم مہم قرار دیا۔

    استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزمان نے نو مئی کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم ڈیجیٹل مہم چلائی، جس کے ذریعے عوام میں بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ استغاثہ کے مطابق یہ سرگرمیاں ڈیجیٹل دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور دکھانا تھا۔

    عدالت کے اس فیصلے کو ملک میں ڈیجیٹل اظہار، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ان سے جڑے قانونی دائرہ کار کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پر مختلف حلقوں میں بحث اور ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اظہار رائے اور قانون کی حدود کہاں متعین ہوتی ہیں۔

     

  • کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات، ڈیموکریٹس کے ساتھ تین گروپ میدان میں، سخت مقابلے کا امکان

    کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات، ڈیموکریٹس کے ساتھ تین گروپ میدان میں، سخت مقابلے کا امکان

    کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات ایک بار پھر صحافتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہفتے کے روز کلب کے اراکین اپنے ووٹ کے ذریعے سال 2026 کے لیے نئی گورننگ باڈی کا انتخاب کریں گے۔ یہ انتخابات نہ صرف ایک تنظیمی عمل ہیں بلکہ صحافتی آزادی اور جمہوری روایات کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔

    کراچی پریس کلب خود کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیتا ہے۔ یہ دعویٰ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ یہاں باقاعدگی سے ہر سال انتخابات ہوتے ہیں۔ ماضی میں ملک میں مارشل لا بھی رہے۔ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں بھی لگیں۔ اس کے باوجود کراچی پریس کلب کے انتخابات کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔ یہ روایت کلب کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

    ابتدا میں کلب کے انتخابات مارچ یا اپریل میں ہوا کرتے تھے۔ بعد میں کراچی کے شدید گرم موسم کے باعث اس میں تبدیلی کی گئی۔ اب یہ انتخابات ہر سال دسمبر کے آخری ہفتے کے دن منعقد ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کو اراکین کی سہولت کے لیے ایک بہتر قدم سمجھا گیا۔

    گذشتہ کئی برسوں سے ڈیموکریٹس گروپ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتا آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2023 میں یہ گروپ بلا مقابلہ منتخب ہوا تھا۔ اس سال کی انتخابی فضا کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار ڈیموکریٹس کے ساتھ کم از کم تین مزید گروپ میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی کے اہم عہدے دار بھی انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔ سابق صدر امتیاز خان فاران اور سابق سیکریٹری اے ایچ خزادہ بھی موجودہ قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے انتخابات کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

    عموماً ہر پینل مختلف عہدوں کے لیے ایک یا دو خواتین کو نامزد کرتا رہا ہے، مگر کراچی پریس کلب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پینل نے ایک خاتون رکن کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کر کے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔

    انتخابات کی شفافیت کے لیے ایک خود مختار الیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان کر رہے ہیں۔ کمیٹی پولنگ کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی۔ ووٹنگ سے لے کر نتائج کے اعلان تک تمام عمل اس کی نگرانی میں مکمل ہوگا۔

    کراچی پریس کلب پاکستان کا پہلا پریس کلب ہے۔ اس کا قیام دسمبر 1958میں عمل میں آیا۔ اس وقت پاکستان میں صحافت ایک نیا رخ اختیار کر رہی تھی۔ کلب کا پہلا انتخاب بھی اسی سال ہوا۔ آئی ایچ برنی پہلے صدر منتخب ہوئے۔ تب سے یہ ادارہ صحافیوں کی اجتماعی آواز بن چکا ہے۔

    کراچی پریس کلب نہ صرف صحافیوں کا مرکز ہے بلکہ شہری اور جمہوری سرگرمیوں کا بھی اہم مقام ہے۔ یہاں اکثر احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ مختلف تنظیمیں اپنے مطالبات کے لیے یہاں جمع ہوتی ہیں۔ شہری حقوق اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے۔ یہ مقام عوام اور صحافت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔

    کلب نے جنوبی ایشیا میں امن اور عوامی رابطوں کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ مختلف مواقع پر مکالمے اور ملاقاتیں ہوئیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد خطے میں برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔

    کراچی پریس کلب کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے۔ بعض مواقع پر یہاں ہنگامے ہوئے۔ سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ باوردی اہلکار کلب میں گھسے اور ایک سابق عہدیدار کو گرفتار بھی کیا گیا، مگر اس کے باوجود کلب نے اپنی پروفیشنل سرگرمیاں جاری رکھیں۔ صحافی برادری نے ہر مشکل وقت میں اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

    یہ ادارہ ایک قدیم اور خوبصورت عمارت میں قائم ہے۔ یہ عمارت ایک تاریخی ورثہ قرار پائی ہے۔ کلب کی اوپر کی منزل پر لائبریری اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ کلب اپنے اراکین اور ان کے خاندانوں کو مختلف سہولتیں فراہم کرتا ہے۔

    کراچی پریس کلب کی رکنیت صحافیوں کے لیے ایک اعزاز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں ہر سال ہونے والے انتخابات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اختلاف رائے کے باوجود جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے۔ نئے انتخابات بھی اسی روایت کا تسلسل ہیں۔ صحافتی برادری کی نظریں اس انتخاب پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ انتخاب کلب کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔