پاکستان میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے خلاف دھمکیوں، قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات میں رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے جاری کی گئی سہ ماہی جائزہ رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے 22 تصدیق شدہ واقعات سامنے آئے، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں ایسے 18 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک صوبہ ثابت ہوا، جہاں مجموعی 22 میں سے 15 واقعات یعنی 68 فیصد پیش آئے۔ خیبر پختونخوا میں تین، جبکہ سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر سے اس عرصے میں کوئی تصدیق شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔
فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں شامل واقعات میں قانونی مقدمات، قانونی کارروائی کی دھمکیاں، گرفتاریاں، جسمانی حملے، قتل کی دھمکیاں، نقصان پہنچانے کی دھمکیاں، اغوا اور قتل کی کوشش جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چھ صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی گئیں، چار کو قانونی کارروائی کی دھمکیاں ملیں، تین صحافی گرفتار ہوئے، دو صحافی زخمی ہوئے، دو پر حملے ہوئے جن میں وہ زخمی نہیں ہوئے، تین کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں، دو کو قتل کی دھمکیاں ملیں، جبکہ ایک ایک واقعہ اغوا اور قتل کی کوشش کا بھی ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری سہ ماہی کے دوران سب سے نمایاں رجحان یہ رہا کہ صحافیوں کے خلاف قانونی نظام اور ریاستی اداروں کا استعمال بڑھا، خاص طور پر ان صحافیوں کے خلاف جو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رپورٹنگ کرتے ہیں یا حکمرانی، بدعنوانی اور عوامی مفاد کے معاملات پر خبریں شائع کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی 22 واقعات میں سے 15 یعنی 68 فیصد میں ریاستی اداروں یا سرکاری اہلکاروں کو بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس کے بعد غیر ریاستی عناصر کے چار، جرائم پیشہ گروہوں کے دو اور ایک واقعہ سیاسی جماعت سے منسلک عناصر سے متعلق تھا۔ ایک واقعے میں حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔
فریڈم نیٹ ورک کے مطابق صحافیوں کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا)، انسداد دہشت گردی قوانین اور دیگر فوجداری قوانین کے تحت مقدمات درج کرنے یا تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد صحافیوں کو اپنی رپورٹنگ یا سوشل میڈیا پر اظہار رائے کے بعد قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے آزادی اظہار اور آزاد صحافت کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسمانی تشدد بھی صحافیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا رہا۔ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں صحافی عبدالغفار قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، جبکہ بہاولپور میں صحافی میاں زاہد اویسی پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ دیگر کئی صحافیوں کو بھی بدعنوانی، جرائم اور انتظامی معاملات پر رپورٹنگ کے دوران تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات پر مبنی صحافت کرنے والے صحافیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ کئی صحافیوں کو سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ اور بااثر شخصیات کے خلاف خبریں شائع کرنے پر قتل کی دھمکیاں یا دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے احتسابی صحافت کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل صحافی، یوٹیوبرز، فری لانسرز اور سوشل میڈیا پر کام کرنے والے افراد پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے خلاف قانونی کارروائیوں اور ضابطہ جاتی اقدامات میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے آن لائن صحافت مزید غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی کے دوران رپورٹ ہونے والے تقریباً تمام متاثرین مرد صحافی تھے، جبکہ کسی خاتون صحافی کے خلاف تصدیق شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم فریڈم نیٹ ورک نے کہا ہے کہ خواتین صحافیوں کو درپیش آن لائن ہراسانی اور دیگر صنفی خطرات کی نگرانی جاری رکھی جا رہی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
رپورٹ میں گلگت بلتستان کے صحافی اور وی لاگر عدنان راوت کے مقدمے اور اسلام آباد میں صحافی رازی طاہر کی گرفتاری کو بھی اہم مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق ان واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا سائبر قوانین اور دیگر قانونی اختیارات کو صحافیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، پارلیمنٹ، میڈیا اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دلائیں۔
تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے قوانین پر نظرثانی کی جائے جنہیں صحافیوں کے خلاف بار بار استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر سائبر کرائم سے متعلق قوانین، تاکہ پاکستان کے آئین میں دی گئی آزادی اظہار کی ضمانت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ رپورٹ پاکستان جرنلسٹس سیفٹی کولیشن کے تحت جاری کی گئی ہے اور اس کی تیاری پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر سے حاصل ہونے والی تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک 2016 سے مختلف پریس کلبوں کے تعاون سے صحافیوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور دستاویز بندی کر رہا ہے۔




