حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معمولی نوعیت کے ترقیاتی کام اسکول اسپیسیفک بجٹ کے تحت جاری ہیں، جبکہ ضلع کے تقریباً 90 فیصد اسکولوں کو مالی سال 2025-26 کے لیے یہ بجٹ جاری کیا جاچکا ہے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلیمنٹری، سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری حیدرآباد عزیز الرحمٰن ڈہوٹ کے مطابق ضلع میں کُل 227 اسکول ہیں، جن میں سے 90 فیصد کو اسکول اسپیسیفک بجٹ مل چکا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ حاصل کرنے والے اسکولوں میں سے 80 سے 90 فیصد میں مختلف کام جاری ہیں۔
اسکولوں میں بجٹ سے واش رومز کی تعمیر و مرمت، فرنیچر کی خریداری اور پرانے فرنیچر کی مرمت سمیت رنگ و روغن اور دیگر ضروری نوعیت کے کام کیے جا رہے ہیں۔ بعض اسکولوں میں کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق ضروریات اور کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال بھی اسی بجٹ سے کی جاسکتی ہے۔
اسکول اسپیسیفک بجٹ کا مقصد اسکولوں کی روزمرہ اور فوری ضروریات کے لیے مالی اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، تاکہ معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے ہر بار ضلعی یا اعلیٰ سطح سے بجٹ اور منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
مالی سال 2025-26 میں اسکول اسپیسیفک بجٹ کے لیے 18 ارب 67 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جسے مالی سال 2026-27 میں بڑھا کر 22 ارب 64 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔
اس بجٹ سے اسٹیشنری، فرنیچر کی خریداری و مرمت، معمولی مرمت، واش رومز، کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں، کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال اور دیگر منظور شدہ اسکولی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔
تاہم اسکول سربراہان کو بجٹ استعمال کرنے کا اختیار ملنے کا مطلب رقم کو کسی بھی مقصد کے لیے خرچ کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ بجٹ کا استعمال سرکاری مالی قواعد، منظور شدہ مدات اور متعلقہ ضوابط کے تحت کرنا ہوتا ہے۔
حیدرآباد میں بجٹ کے اجرا کے بعد متعدد اسکولوں میں بنیادی نوعیت کے کام مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر تعمیر، مرمت اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی ابتدائی تصویر پیش کرتی ہے کہ اسکول اسپیسیفک بجٹ کے ذریعے فیصلے اور اخراجات کو اسکول کی سطح تک منتقل کرنے سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کس حد تک براہ راست متاثر ہوسکتی ہے۔
