Tag: اسکول اسپیسفک بجٹ

  • اسکول اسپیسفک بجٹ سے حیدرآباد کی لطیف آباد تحصیل کے 26 گرلز پرائمری اسکولوں میں نمایاں تبدیلی

    اسکول اسپیسفک بجٹ سے حیدرآباد کی لطیف آباد تحصیل کے 26 گرلز پرائمری اسکولوں میں نمایاں تبدیلی

    حیدرآباد کی تحصیل لطیف آباد نمبر دس میں ایک ہی چاردیواری کے اندر قائم دو گرلز پرائمری اسکولز اسکول اسپیسفک بجٹ کے بعد نئی شکل اختیار کرگئے ہیں۔

    گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول لطیف آباد نمبر دس اور جی جی پی ایس مہران میں اسکول اسپیسفک بجٹ کے ذریعے عمارتوں کی تزئین و آرائش، بیرونی حصوں، کلاس رومز اور کاریڈورز میں رنگ و روغن کا کام مکمل کیا گیا ہے۔

    محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے صوبے کے سرکاری اسکولوں کو بنیادی ضروریات اور مرمت کے کاموں کے لیے جاری کیے گئے اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت ان اسکولوں میں فرنیچر کی مرمت، واش رومز میں پانی کی فراہمی، خراب نلکوں کی تبدیلی، پرانے دروازوں اور کھڑکیوں کی مرمت و تبدیلی سمیت مختلف کام کیے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ کلاس رومز، دالانوں اور اسکول کی بیرونی دیواروں پر بھی رنگ و روغن کیا گیا ہے، جس سے اسکولوں کی مجموعی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول لطیف آباد نمبر دس کی ہیڈ مسٹریس رابیعہ کے مطابق اسکول کو پہلے پانی کی قلت کا سامنا تھا، تاہم اسکول اسپیسفک بجٹ سے مختلف مرمتی کاموں کے ساتھ بورنگ کراکے پانی کا بھی انتظام کرلیا گیا ہے۔

    محکمہ تعلیم سندھ کی تحصیل آفیسر فیمیل پرائمری اسکولز علینہ احمد کے مطابق لطیف آباد تحصیل کے 26 گرلز پرائمری اسکول اسکول اسپیسفک بجٹ کے ذریعے نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں۔

    اسکول اسپیسفک بجٹ کا مقصد سرکاری اسکولوں کو ان کی بنیادی ضروریات کے مطابق مقامی سطح پر مرمت اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے، تاکہ طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول پیدا کیا جاسکے۔

  • حیدرآباد ضلع کے 90 فیصد سرکاری اسکولوں کو اسکول اسپیسیفک بجٹ جاری، ‘اسکول یکسر تبدیل ہوگئے ہیں’

    حیدرآباد ضلع کے 90 فیصد سرکاری اسکولوں کو اسکول اسپیسیفک بجٹ جاری، ‘اسکول یکسر تبدیل ہوگئے ہیں’

    حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معمولی نوعیت کے ترقیاتی کام اسکول اسپیسیفک بجٹ کے تحت جاری ہیں، جبکہ ضلع کے تقریباً 90 فیصد اسکولوں کو مالی سال 2025-26 کے لیے یہ بجٹ جاری کیا جاچکا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلیمنٹری، سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری حیدرآباد عزیز الرحمٰن ڈہوٹ کے مطابق ضلع میں کُل 227 اسکول ہیں، جن میں سے 90 فیصد کو اسکول اسپیسیفک بجٹ مل چکا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ حاصل کرنے والے اسکولوں میں سے 80 سے 90 فیصد میں مختلف کام جاری ہیں۔

    اسکولوں میں بجٹ سے واش رومز کی تعمیر و مرمت، فرنیچر کی خریداری اور پرانے فرنیچر کی مرمت سمیت رنگ و روغن اور دیگر ضروری نوعیت کے کام کیے جا رہے ہیں۔ بعض اسکولوں میں کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق ضروریات اور کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال بھی اسی بجٹ سے کی جاسکتی ہے۔

    اسکول اسپیسیفک بجٹ کا مقصد اسکولوں کی روزمرہ اور فوری ضروریات کے لیے مالی اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، تاکہ معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے ہر بار ضلعی یا اعلیٰ سطح سے بجٹ اور منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

    مالی سال 2025-26 میں اسکول اسپیسیفک بجٹ کے لیے 18 ارب 67 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جسے مالی سال 2026-27 میں بڑھا کر 22 ارب 64 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

    اس بجٹ سے اسٹیشنری، فرنیچر کی خریداری و مرمت، معمولی مرمت، واش رومز، کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں، کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال اور دیگر منظور شدہ اسکولی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔

    تاہم اسکول سربراہان کو بجٹ استعمال کرنے کا اختیار ملنے کا مطلب رقم کو کسی بھی مقصد کے لیے خرچ کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ بجٹ کا استعمال سرکاری مالی قواعد، منظور شدہ مدات اور متعلقہ ضوابط کے تحت کرنا ہوتا ہے۔

    حیدرآباد میں بجٹ کے اجرا کے بعد متعدد اسکولوں میں بنیادی نوعیت کے کام مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر تعمیر، مرمت اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی ابتدائی تصویر پیش کرتی ہے کہ اسکول اسپیسیفک بجٹ کے ذریعے فیصلے اور اخراجات کو اسکول کی سطح تک منتقل کرنے سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کس حد تک براہ راست متاثر ہوسکتی ہے۔