پاکستان میں لاہور اور پنجاب کے کئی دیگر علاقے ہر سال سموگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں پاکستانی اور بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانا، اینٹوں کے بھٹوں سے خارج ہونے والا دھواں اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی شامل ہیں۔ یہ مسئلہ کئی ہفتوں تک برقرار رہتا ہے، جس سے شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔
دونوں پڑوسی ممالک کی حکومتوں نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، تاہم اس مسئلے کا مستقل حل تاحال ممکن نہیں ہوسکا۔ حالیہ دنوں میں بھی لاہور کی فضائی آلودگی تشویش ناک رہی ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس میں شہر کا شمار آلودہ ترین شہروں میں ہوتا رہا ہے۔
بعض اوقات یہ اشاریہ 300 سے تجاوز کر جاتا ہے، جو صحت کے لیے انتہائی مضر فضائی معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔
آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک سنگاپور، انڈونیشیا اور ملائیشیا ان دنوں فضائی آلودگی کے ایک سنگین مسئلے سے دوچار ہیں۔ انڈونیشیا کے جزائر سماٹرا اور بورنیو کے جنگلات اور دلدلی زمینوں میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والا دھواں سرحدیں عبور کرکے پڑوسی ممالک تک پہنچ رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں ہوا کا معیار خراب ہوگیا ہے، سانس کی بیماریوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور بعض مقامات پر تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے 15 اکتوبر 2026 کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ انڈونیشیا میں کئی ماہ سے جاری جنگلات اور دلدلی زمینوں کی آگ نے خطے میں دھوئیں کی آلودگی پھیلائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سنگاپور اور ملائیشیا بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔
انڈونیشیا کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، 13 اکتوبر تک سات صوبوں میں سانس کی بیماریوں کے 283,270 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد 9 ستمبر تک رپورٹ ہونے والے 113,336 واقعات سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔ تاہم، ان اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام مریضوں کی بیماری صرف جنگلات کی آگ کے دھوئیں کے باعث ہوئی۔

سنگاپور میں آلودگی کی بلند ترین سطح
سنگاپور عام طور پر فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرتا ہے، لیکن اسے بھی پڑوسی ممالک سے آنے والے دھوئیں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سنگاپور کی قومی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق، صنعتوں اور موٹر گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں مقامی فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ خطے میں جنگلات اور زمینوں کی آگ سے اٹھنے والا دھواں بھی ملک کی فضا کو متاثر کرتا ہے۔
رائٹرز کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، سنگاپور کے مغربی حصے میں باریک آلودہ ذرات پی ایم 2.5 کی ایک گھنٹے کی اوسط مقدار 284 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی تھی۔ یہ اس سال کی بلند ترین سطح تھی اور سنگاپور کی ماحولیاتی ایجنسی کے مقرر کردہ انتہائی بلند درجے میں شامل تھی۔
پی ایم 2.5 سے مراد ایسے باریک ذرات ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ یہ ذرات دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد، بچوں اور بزرگوں کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
سنگاپور کی قومی ماحولیاتی ایجنسی نے 16 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ انڈونیشیا میں سات کمپنیوں کو حفاظتی اقدامات سے متعلق نوٹس جاری کرے گی۔ ایجنسی کے مطابق، شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کمپنیوں کی زمینوں پر لگنے والی آگ کا دھواں سنگاپور تک پہنچا ہوسکتا ہے۔ کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ آگ بجھانے، مزید آگ لگنے سے روکنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔

ملائیشیا میں بھی متاثرہ علاقے
ملائیشیا بھی انڈونیشیا کے جنگلات سے اٹھنے والے دھوئیں سے متاثر ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سمندر موجود ہونے کے باوجود ہوا کا رخ دھوئیں کو ملائیشیا کے مختلف علاقوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اکتوبر میں بعض ریاستوں میں فضائی آلودگی غیر صحت بخش سطح تک پہنچنے کے بعد تعلیمی اداروں کو بند کرنا پڑا۔
ملائیشیا نے انڈونیشیا میں آگ بجھانے کے لیے مدد کی پیش کش کی تھی۔ ملائیشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے سامنے اٹھائیں گے، کیونکہ سرحد پار پھیلنے والے دھوئیں سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے۔
آگ کیوں لگتی ہے؟
ماہرین کے مطابق، اس بحران کی ایک بڑی وجہ جنگلات کو زرعی زمینوں میں تبدیل کرنے کے لیے آگ لگانے کا طریقہ ہے۔ بعض علاقوں میں زمین صاف کرنے اور پام آئل سمیت دیگر زرعی فصلوں کی کاشت کے لیے درخت اور جھاڑیاں جلائی جاتی ہیں۔ اگر آگ قابو سے باہر ہوجائے تو یہ وسیع جنگلات اور دلدلی علاقوں میں پھیل سکتی ہے۔
اس مسئلے میں پیٹ کی دلدلی زمینوں کا کردار بھی اہم ہے۔ ان زمینوں میں ہزاروں سال کے دوران جمع ہونے والے نامیاتی مادے موجود ہوتے ہیں۔ جب ان زمینوں کو خشک کیا جاتا ہے تو ان میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی آگ زمین کی سطح کے نیچے بھی سلگتی رہ سکتی ہے اور اسے مکمل طور پر بجھانا مشکل ہوتا ہے۔
آسیان کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیا میں پیٹ کی دلدلی زمینوں میں لگنے والی آگ سرحد پار دھوئیں کی آلودگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ خطے میں انڈونیشیا کے پاس ان زمینوں کا بڑا حصہ موجود ہے، اس لیے وہاں لگنے والی آگ کے اثرات دور تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس سال خطے میں خشک اور گرم موسم نے بھی آگ کے خطرات بڑھائے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، ال نینو سے وابستہ موسمی حالات نے درجہ حرارت میں اضافے اور خشکی کو بڑھایا، جس سے آگ زیادہ تیزی سے پھیلی اور اسے بجھانا مشکل ہوگیا۔
خشک موسم میں بارش کم ہونے سے زمین اور پودے خشک ہوجاتے ہیں۔ تیز ہوائیں آگ کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پھیلا سکتی ہیں، جبکہ یہی ہوائیں دھوئیں کو پڑوسی ممالک تک لے جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے انڈونیشیا میں لگنے والی آگ سنگاپور اور ملائیشیا کے شہری علاقوں میں بھی فضائی آلودگی پیدا کرسکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، انڈونیشیا نے آگ بجھانے کے لیے 60 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے اور پانی برسانے سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے نزدیک صرف آگ لگنے کے بعد کارروائی کرنا کافی نہیں۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکنے، زمین صاف کرنے کے لیے آگ لگانے کے خلاف قوانین نافذ کرنے اور دلدلی زمینوں کو بحال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
سنگاپور، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگ کی نگرانی، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائی کے نظام کو مضبوط بنائیں۔ آسیان کے رکن ممالک کو بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
فضائی آلودگی کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔ جب جنگلات جلتے ہیں تو انسانی صحت، ماحول، جنگلی حیات اور معیشت متاثر ہوتی ہے۔ اس بحران کا مستقل حل جنگلات کی حفاظت، آگ کی روک تھام، خشک زمینوں کی بحالی اور علاقائی تعاون میں پوشیدہ ہے۔

