پیپلز اربن فاریسٹ لیاری کراچی میں شہری جنگلات کے قیام کی ایک نمایاں کوشش ہے، جس کا آغاز چار فروری 2020 کو کیا گیا۔ اس منصوبے کا افتتاح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جبکہ اس پر عمل درآمد سندھ حکومت کے محکمہ جنگلات نے کیا۔
منصوبے کا بنیادی مقصد لیاری دریا کے ویران، کچرے سے بھرے اور بنجر حصوں کو ایک سرسبز شہری جنگل میں تبدیل کرنا، کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی اور فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کرنا، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرنا اور دریا کے کناروں کو ماحولیاتی لحاظ سے بحال کرنا تھا۔
یہ جنگل لیاری دریا کے اندرونی حصے اور دونوں کناروں پر ماری پور پل سے شیر شاہ پل تک قائم کیا گیا۔ یہ مقام اس لیے بھی اہم ہے کہ لیاری دریا کراچی کی دو بڑی قدرتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر منصوبہ بند شہری آبادی، صنعتی فضلے، سیوریج اور کچرے کے باعث اس کا قدرتی ماحول شدید متاثر ہوا۔ اسی لیے دریا کے بستر میں شجرکاری کو صرف درخت لگانے کا منصوبہ نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی کی ایک کوشش قرار دیا گیا۔
ابتدائی مرحلے میں تقریباً دس ہزار پودے لگانے کا اعلان کیا گیا، تاہم اگست 2021 تک منصوبہ تقریباً پچاس ایکڑ رقبے تک پھیل چکا تھا اور محکمہ جنگلات کے مطابق اس عرصے میں تقریباً تہتر ہزار پانچ سو درخت اگائے جا چکے تھے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں زیادہ تر مقامی اور کراچی کے موسم سے مطابقت رکھنے والی اقسام کا انتخاب کیا گیا تاکہ کم پانی میں بہتر نشوونما ہو اور طویل مدت تک ان کی بقا ممکن ہو۔
منصوبے میں نیم، شیشم، کیکر، سکھ چین، جامن، امرود، چیکو، انار، جنگل جلیبی، گل موہر، گل نشتر، پارکنسونیا اور دیگر مقامی اقسام کے درخت لگائے گئے۔ ان درختوں کا انتخاب اس بنیاد پر کیا گیا کہ یہ کراچی کی شدید گرمی اور نسبتاً خشک موسم کو برداشت کر سکتے ہیں، کم پانی میں نشوونما پاتے ہیں، مقامی پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے بہتر مسکن فراہم کرتے ہیں اور شہری ماحول میں نسبتاً کم دیکھ بھال کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔
محکمہ جنگلات کے مطابق اس منصوبے سے متعدد ماحولیاتی فوائد متوقع تھے، جن میں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنا، درجہ حرارت میں کمی، گردوغبار اور فضائی آلودگی کو کم کرنا، مون سون کے دوران مٹی کے کٹاؤ میں کمی، سمندر سے کھارے پانی کی پیش قدمی کو محدود کرنے میں مدد اور پرندوں و دیگر جنگلی حیات کے لیے نئی پناہ گاہیں فراہم کرنا شامل ہیں۔
چند برس بعد جب درخت بڑے ہوئے تو ان میں سے کئی اقسام نے پھل دینا بھی شروع کر دیا، جبکہ پہلے سے بنجر نظر آنے والا علاقہ ایک سرسبز پٹی میں تبدیل ہونے لگا۔
محکمہ جنگلات نے اس منصوبے کو لیاری دریا تک محدود رکھنے کے بجائے مستقبل میں مزید وسعت دینے کا بھی اعلان کیا تھا، جبکہ سندھ حکومت نے بعد ازاں دیگر شہروں میں بھی اسی طرز کے شہری جنگلات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ سکھر میں پیپلز اربن فاریسٹ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جسے کراچی کے بعد دوسرا بڑا شہری جنگلاتی منصوبہ قرار دیا گیا۔
اگرچہ لیاری اربن فاریسٹ نے ایک ویران علاقے کو سبز پٹی میں تبدیل کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی، تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ لیاری دریا کی مکمل بحالی صرف شجرکاری سے ممکن نہیں۔ دریا میں مسلسل سیوریج کے اخراج، صنعتی فضلے، ٹھوس کچرے اور تجاوزات جیسے مسائل حل کیے بغیر اس ماحولیاتی نظام کی طویل مدتی بحالی ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

