Tag: انڈونیشیا

  • انڈونیشیا: آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک میں ہندو دیوتا وشنو کا مجسمہ، قومی ثقافتی ورثہ کیسے بنا؟

    انڈونیشیا: آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک میں ہندو دیوتا وشنو کا مجسمہ، قومی ثقافتی ورثہ کیسے بنا؟

    انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے، جہاں آبادی کی اکثریت اسلام سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے باوجود بالی میں قائم گاروڑا وسنو کنچنا مجسمہ ایک ہندو دیوتا بھگوان وشنو اور ان کی سواری گاروڑا کی علامت کے طور پر انڈونیشیا کے قومی ثقافتی ورثے میں شمار ہوتا ہے۔

    گاروڑا وسنو کنچنا کا تصور پہلی بار 1989 میں پیش کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد مذہبی علامت قائم کرنا نہیں بلکہ انڈونیشیا کی قدیم تہذیبی جڑوں اور بالی کی صدیوں پرانی ہندو ثقافت کو اجاگر کرنا تھا، جو آج بھی جزیرے کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔

    یہ منصوبہ مکمل ہونے میں تقریباً تین دہائیاں لیتا رہا۔ مالی مسائل، سیاسی تبدیلیاں اور انجینئرنگ چیلنجز اس کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ بنے۔ بالآخر سنہ 2018 میں یہ مجسمہ مکمل ہوا اور عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

    گاروڑا وسنو کنچنا کی مجموعی اونچائی تقریباً 121 میٹر ہے، جو اسے دنیا کے بلند ترین مجسموں میں شامل کرتی ہے۔ یہ مجسمہ ایک ہی حصے میں تیار نہیں کیا گیا بلکہ سینکڑوں الگ الگ حصوں میں ڈھالا گیا، جنہیں بعد میں جوڑ کر نصب کیا گیا۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اس مجسمے کا اندرونی ڈھانچہ خاص طور پر زلزلوں اور تیز ہواؤں کو برداشت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، کیونکہ بالی ایک زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے انجینئرنگ کے ایک منفرد نمونے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

    مجسمے کے لیے شوخ یا چمکدار رنگ استعمال نہیں کیے گئے۔ تانبے اور پیتل کی سطح وقت کے ساتھ قدرتی طور پر گہرے اور سبز مائل رنگ میں ڈھلتی ہے، تاکہ مجسمہ قدامت، وقار اور روحانی تاثر برقرار رکھ سکے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ گاروڑا وسنو کنچنا کی اونچائی نیویارک کے اسٹیچو آف لبرٹی اور ریو کے کرسٹ دی ریڈیمر سے بھی زیادہ ہے، جو اسے عالمی سطح پر نمایاں مقام دیتی ہے۔

    گاروڑا، جو بھگوان وشنو کی سواری ہے، انڈونیشیا کا قومی نشان بھی ہے۔ اس طرح یہ مجسمہ ہندو روایت اور جدید ریاستی شناخت کے درمیان ایک علامتی پل بن جاتا ہے۔

    آج گاروڑا وسنو کنچنا نہ صرف بالی بلکہ پورے انڈونیشیا کی ثقافتی پہچان بن چکا ہے، جہاں مذہب سے بالاتر ہو کر فن، تاریخ اور تنوع کو قومی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔