کراچی میں فٹبال: کیماڑی اور لیاری کے سبزہ زاروں سے کلکتہ اور ڈھاکہ کی نرسریوں تک

لیاری

کراچی کا شہر اپنی تاریخی جڑوں، سمندری ہواؤں، بندرگاہ کی سرگرمیوں اور تہذیبی گہما گہمی کے اعتبار سے ہمیشہ سے ایک دل کش اور متحرک کینوس رہا ہے۔

اس شہر نے صرف تجارتی قافلے، سیاسی ہلچل اور ادبی محفلیں ہی نہیں دیکھیں، بلکہ یہاں کے گلی کوچوں، بندرگاہی میلوں اور ساحلی میدانوں میں ایک ایسا کھیل بھی پروان چڑھا جس نے برصغیر کی کھیلوں کی تاریخ میں نمایاں اور سنہری باب رقم کیے۔ یہ فٹبال کا کھیل تھا، جو کراچی کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کیماڑی اور لیاری کی مٹی میں اس طرح رچ بس گیا تھا کہ یہاں کا بچہ بچہ اس گول گیند پر جان چھڑکتا تھا۔

تقسیم ہند سے قبل کا دور ہو یا قیام پاکستان کے بعد 1971 تک کا سنہری زمانہ، کراچی کے فٹبال نے جو عروج دیکھا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

تقسیم سے قبل کراچی میں فٹبال: برطانوی چھاؤنیوں سے مقامی میدانوں تک

برطانوی راج کے آخری ایام میں کراچی برصغیر کا ایک کلیدی بندرگاہی اور عسکری مرکز بن چکا تھا۔ یہاں تعینات برطانوی فوجیوں، ریلوے کے کارندوں اور پورٹ ٹرسٹ کے ملازمین نے فٹبال کو تفریح سے نکال کر باقاعدہ ایک جنون کی شکل دے دی تھی۔

شہر کے ریلوے اسٹیڈیم، کے ایم سی گراؤنڈ، پولو گراؤنڈ اور کیماڑی کے کھلے میدان انگریز فوجیوں اور مقامی نوجوانوں کے درمیان سخت مقابلوں کے گواہ تھے۔

اس ابتدائی دور میں کیماڑی اور لیاری کے مقامی باشندوں نے اس کھیل کو اپنانے میں ذرا برابر دیر نہیں لگائی۔ کیماڑی یونین اور سندھ فٹبال کلب جیسے ادارے اس دور کے وہ مراکز تھے جہاں سے ہیرے تراشے جا رہے تھے۔ عثمان جان جیسے مایہ ناز کھلاڑی اسی کیماڑی کی دین تھے، جو آگے چل کر تقسیم کے بعد پاکستان کی پہلی قومی فٹبال ٹیم کے پہلے کپتان بنے۔

اس کے علاوہ محمد رمضان سینئر جیسے کھلاڑیوں نے بھی برطانوی دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ وہ دور تھا جب فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ کراچی کے ساحلی مکینوں کی زندگی کا ایک بڑا ثقافتی اظہار اور ان کی شناخت کا اہم ذریعہ بن چکا تھا۔

آزادی کے بعد کا سنہری دور اور کراچی کا عروج

1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو کراچی کو ملک کا دارالحکومت ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس سیاسی مرکزیت نے کھیلوں، خصوصاً فٹبال، پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں کو کراچی میں فٹبال کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔

اس دوران لیاری، صدر، ملیر اور کیماڑی کے فٹبال گراؤنڈز پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، محمڈن اسپورٹس کلب اور ریلوے فٹبال کلب جیسی نامور ٹیمیں ملکی سطح پر چھائی ہوئی تھیں۔ گلی محلوں میں ہونے والے مقامی ٹورنامنٹس کا جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا۔ شائقین بڑی تعداد میں میدانوں کا رخ کرتے تھے اور یہیں سے ایسے کھلاڑی پیدا ہوئے جن کی شہرت نے سرحد پار کے میدانوں کو بھی روشن کیا۔

کلکتہ اور ڈھاکہ محمڈن میں کیماڑی اور لیاری کے کھلاڑیوں کا جادو

اس داستان کا ایک نمایاں باب وہ ہے جب کراچی کے ان پسماندہ مگر حوصلہ مند علاقوں کے کھلاڑیوں نے برصغیر کے دو بڑے فٹبال کلبوں، کلکتہ محمڈن اور ڈھاکہ محمڈن، کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

محمد عمر بلوچ: لیاری کا وہ نام جس نے دلیپ کمار اور نہرو کو مبہوت کیا

لیاری کی گل محمد لین میں آنکھ کھولنے والے محمد عمر بلوچ کی فٹبال کی صلاحیتوں کو پورے برصغیر میں سراہا گیا۔ جب وہ 1956 میں کلکتہ محمڈن کی طرف سے کھیلنے بھارت گئے تو پہلے ہی سیزن میں کلکتہ لیگ کے ٹاپ اسکورر بن گئے۔ انہوں نے روورز کپ کے اہم مراحل میں یادگار ہیٹ ٹرکس اسکور کیں۔

ان کی برق رفتار ڈرِبلنگ اور گول کرنے کی صلاحیت کے چرچے اس دور کے اخبارات کی زینت بنے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے کھیل کے مداحوں میں بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور معروف اداکار دلیپ کمار بھی شامل تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ڈھاکہ محمڈن کی طرف سے بھی شاندار کھیل پیش کیا۔

عابد حسین غازی: کیماڑی کا شاہین

کیماڑی کے معتبر غازی خاندان سے تعلق رکھنے والے عابد حسین نے پہلے 1956 اور 1957 میں کلکتہ محمڈن کی نمائندگی کی، پھر مشرقی پاکستان منتقل ہو کر 1959 سے 1965 تک ڈھاکہ محمڈن سے وابستہ رہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ 1963 میں وہ ڈھاکہ محمڈن کے کپتان بنے اور ٹیم کو ڈھاکہ فرسٹ ڈویژن لیگ کا اعزاز دلایا۔

عبداللہ راہی اور مولا بخش گوٹھائی

لیاری کے عبداللہ راہی نے بھی ڈھاکہ محمڈن کے لیے یادگار کارنامے انجام دیے۔ انہوں نے 1967 میں کپتانی کے فرائض سنبھالے اور 1969 میں ٹیم کو ایک بھی میچ ہارے بغیر چیمپئن بنایا۔

اسی طرح مولا بخش گوٹھائی جیسے لیاری کے سپوت نے نہ صرف ڈھاکہ محمڈن اور ای پی آئی ڈی سی کی نمائندگی کی بلکہ ترکی کے کلب مرسین ایدمان یوردو کی طرف سے کھیل کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور کراچی کا نام روشن کیا۔

اخبارات کی سرخیاں اور عوام کا جنون

تقسیم سے قبل اور خصوصاً 1950 سے 1970 کی دہائی کے دوران جب کراچی، کلکتہ اور ڈھاکہ کے درمیان فٹبال کے معرکے برپا ہوتے تھے تو برصغیر کے مؤقر اخبارات، مثلاً ڈان، مشرق اور کھیلوں کے جرائد میں ان مقابلوں کو نمایاں جگہ ملتی تھی۔

لیاری کا شہزادہ کلکتہ میں چھا گیا: محمد عمر کی شاندار ہیٹ ٹرک سے کلکتہ محمڈن فاتح

کراچی کے کیماڑی کا فرزند ڈھاکہ محمڈن کا کپتان نامزد: عابد حسین غازی کی قیادت میں ٹیم کا شاندار آغاز

آغا خان گولڈ کپ: مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ، کے ایم سی گراؤنڈ تماشائیوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔

عبداللہ راہی کا جادو سر چڑھ کر بولا: ڈھاکہ محمڈن بغیر کوئی میچ ہارے لیگ چیمپئن بن گئی۔

اس دور میں فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ کراچی کے عوام، بالخصوص کیماڑی اور لیاری کے باسیوں کے لیے ایک تہوار کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب بھی کے ایم سی گراؤنڈ یا پولو گراؤنڈ میں کوئی بڑا میچ ہوتا تو صبح سویرے ہی تماشائیوں کا ہجوم امڈ آتا تھا۔

درختوں کی شاخوں، دیواروں اور چھتوں پر لوگ میچ دیکھنے کے لیے بیٹھے ہوتے تھے۔ لیاری کے ہر چوراہے اور کیماڑی کی بندرگاہی پٹی پر شام کے وقت گلیوں میں فٹبال کے مقابلے ہوتے تھے، جہاں بزرگ اور نوجوان گھنٹوں بیٹھ کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

مشرقی پاکستان کی جدائی اور حکومتی عدم توجہی سے زوال

1971 تک مشرقی پاکستان کے کھلاڑیوں اور وہاں کے شاندار فٹبال کلچر کے ساتھ ہمارا گہرا تعلق قائم تھا۔ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کے کھلاڑیوں کی فٹنس اور بال کنٹرول کا کوئی ثانی نہیں تھا، اور قومی ٹیم کا بڑا حصہ انہی بنگالی کھلاڑیوں اور کراچی کے مقامی گراؤنڈز میں پروان چڑھنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔

ڈھاکہ یا چٹاگانگ کی ٹیمیں جب کراچی کھیلنے آتی تھیں تو دونوں بازوؤں، یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان، کے عوام کے درمیان محبت اور الفت کا ایک مضبوط ثقافتی پل قائم ہو جاتا تھا۔

لیکن 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی فٹبال کو ایک بڑا دھچکا لگا۔ قومی ٹیم اپنے متعدد بہترین کھلاڑیوں اور ایک متحرک فٹبال کلچر سے محروم ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی سطح پر عدم توجہی کے بارے میں شکایات سامنے آنے لگیں۔

ریاست اور میڈیا نے اپنی توجہ، فنڈز اور سرپرستی کا بڑا حصہ کرکٹ پر مرکوز کر دیا۔ فٹبال، جو کبھی غریبوں، مزدوروں اور کراچی کے ساحلی باسیوں کی دھڑکن ہوا کرتا تھا، سرکاری سرپرستی سے محروم ہوتا چلا گیا۔

منصوبہ بندی کے فقدان، سندھ فٹبال ایسوسی ایشن اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کی اندرونی سیاست، مالی وسائل کی کمی اور کراچی کے تاریخی فٹبال گراؤنڈز پر تجارتی سرگرمیوں کے دباؤ نے اس کھیل کو متاثر کیا۔ جن میدانوں سے کلکتہ اور ڈھاکہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے کھلاڑی نکلتے تھے، وہاں آج کئی مقامات پر تعمیرات اور شہری پھیلاؤ نے کھیل کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔

لیاری کے مایہ ناز اور تاریخی فٹبالرز

لیاری نے ماضی میں ایسے کھلاڑی پیدا کیے جنہیں ایشیا کی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔ ان میں عبدالغفور مجنا، جنہیں پاکستان کا ’پیلے‘ کہا جاتا تھا، توراب علی، جنہیں ’دی وال آف چائنا‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، اور اسٹرائیکرز موسیٰ غازی اور کیپٹن عمر شامل ہیں۔

لیاری کا فٹبال ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں لیاری کی نوجوان فٹبال ٹیم بیشر فیوچر پاکستان نے ناروے کپ میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا۔

جب ہم تقسیم سے قبل اور بعد کے اس سنہری دور پر نظر ڈالتے ہیں تو کیماڑی کی نمکین ہواؤں اور لیاری کی تنگ گلیوں سے اٹھنے والی فٹبال کی گونج ایک خواب محسوس ہوتی ہے۔ یہ اس خطے کی زرخیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محدود وسائل اور حکومتی پشت پناہی کے بغیر بھی یہاں کے مقامی نوجوانوں نے برصغیر کے بڑے کلبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

اگر آج ریاست اپنی ترجیحات درست کرے اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے نچلی سطح پر کھیلوں کی ترقی کے لیے دوبارہ توجہ دے تو کراچی کے ساحلی میدانوں، قدیم علاقوں اور فٹبال کے دیوانے نوجوانوں میں ایک نئے عثمان جان، محمد عمر یا عابد حسین کو جنم دینے کی صلاحیت اب بھی موجود ہے۔

اسی بارے میں: