Tag: فٹبال

  • کرکٹ، فٹبال، باسکٹ بال، انڈور جمنازیم والا بلدیہ اسپورٹس کامپلیکس مرمت کے بعد بحال

    کرکٹ، فٹبال، باسکٹ بال، انڈور جمنازیم والا بلدیہ اسپورٹس کامپلیکس مرمت کے بعد بحال

    کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک اہم منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ تقریباً 25 ایکڑ رقبے پر قائم پرانے اور خستہ حال کھیل کے میدان کو بحال کرکے بلدیہ اسپورٹس کمپلیکس کو جدید کھیلوں اور تفریحی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت کراچی کے شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبے کے ذریعے اس کمپلیکس کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام جون 2025 میں شروع کیا گیا تھا۔

    منصوبے کا سنگ بنیاد 12 جون 2025 کو رکھا گیا اور اسے ابتدائی طور پر چھ ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم تعمیراتی کام مقررہ مدت کے بعد مکمل ہوا۔ اگست 2026 کی دستیاب معلومات کے مطابق کمپلیکس کا تعمیراتی مرحلہ مکمل ہوچکا تھا۔

    نئے کمپلیکس میں ایک ہی مقام پر مختلف کھیلوں کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہاں کرکٹ گراؤنڈ، ہاکی اور فٹبال کے میدان، باسکٹ بال کورٹ، انڈور جمنازیم، دوڑنے کا ٹریک اور جم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ چہل قدمی کے لیے جگہ، خاندانی پارک اور بچوں کے کھیلنے کی جگہ بھی بنائی گئی ہے، جبکہ شہریوں کے لیے پارکنگ کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔

    منصوبے کا مقصد بلدیہ ٹاؤن اور ضلع کیماڑی کے نوجوانوں اور دیگر شہریوں کو کھیلوں کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔ مختلف کھیلوں کی سہولیات ایک ہی کمپلیکس میں دستیاب ہونے سے مقامی کھلاڑیوں کو اپنے کھیل کی مشق اور صلاحیتیں نکھارنے کے لیے اپنے علاقے میں ہی بہتر جگہ مل سکے گی۔

    اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 1 ارب 40 کروڑ روپے بتائی گئی تھی، جو بعد میں بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ ارب روپے تک پہنچ گئی۔ کمپلیکس کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے بجلی کی تنصیب سمیت دیگر ضروری انتظامات بھی منصوبے میں شامل کیے گئے۔

    بلدیہ اسپورٹس کمپلیکس کی بحالی کو صرف ایک پرانے میدان کی تزئین و آرائش کے بجائے علاقے میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، فٹبال، فٹسال اور باسکٹ بال سمیت مختلف کھیلوں کے لیے سہولیات کی موجودگی مقامی نوجوانوں کو باقاعدگی سے کھیلوں میں حصہ لینے اور اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔

    بین الاقوامی پیشہ ور باکسر نادر بلوچ نے بھی کمپلیکس کی بحالی پر سندھ حکومت اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے سے بلدیہ ٹاؤن اور اس کے اطراف کے کھلاڑیوں کو بہتر کھیلوں کی سہولیات میسر آئیں گی۔

  • ککری گراؤنڈ: لیاری کی وہ فٹبال نرسری جہاں سے لڑکیاں عالمی سطح کے کھیل تک پہنچ گئیں

    ککری گراؤنڈ: لیاری کی وہ فٹبال نرسری جہاں سے لڑکیاں عالمی سطح کے کھیل تک پہنچ گئیں

    کراچی کے لیاری میں ایک ایسا میدان ہے جہاں فٹبال صرف کھیلی نہیں جاتی، خواب بھی دیکھے جاتے ہیں۔ یہ ہے ککری گراؤنڈ، جہاں برسوں سے گلیوں اور محلوں کے بچے فٹبال کے ذریعے اپنے مستقبل کا راستہ تلاش کرتے رہے ہیں۔

    ککری گراؤنڈ سے جڑی ایک اہم داستان جافا سوکر اکیڈمی کی بھی ہے، جسے سابق پاکستانی انٹرنیشنل فٹبالر جاوید عرب نے 2006 میں قائم کیا۔ اکیڈمی میں بچوں کو مفت فٹبال تربیت فراہم کی جاتی ہے اور کھلاڑیوں کو کم عمری سے مختلف عمر کے گروپس میں تربیت دے کر آگے بڑھنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔

    لیکن جافا کی کہانی کا سب سے اہم اور دلچسپ باب خواتین کی فٹبال ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لڑکیوں کے لیے فٹبال کھیلنا اور میدان میں آنا آسان نہیں تھا، جاوید عرب نے ککری گراؤنڈ میں لڑکیوں کو بھی تربیت دینا شروع کی۔ یہ فیصلہ صرف ایک کھیل کی سرگرمی نہیں تھا، بلکہ لیاری کی لڑکیوں کے لیے ایک نئے راستے کا آغاز تھا۔

    جاوید عرب کے مطابق جافا سوکر اکیڈمی سے تقریباً 9 خواتین پاکستانی انٹرنیشنل فٹبالر بن چکی ہیں، جبکہ اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 مرد کھلاڑی بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

    یعنی لیاری کے ایک مقامی میدان سے کھیل شروع کرنے والی لڑکیاں پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچیں۔ ان کے لیے ککری گراؤنڈ محض تربیت کی جگہ نہیں رہا، بلکہ قومی سطح تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی بن گیا۔

    اکیڈمی میں کھلاڑیوں کو مختلف عمر کے گروپس میں تربیت دی جاتی ہے۔ کم عمر کھلاڑیوں کو بنیادی مہارتیں سکھانے کے بعد مقابلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ 16 سال کی عمر کے بعد انہیں جافا کے کلب کے ذریعے بڑے مقابلوں میں کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔

    وقت کے ساتھ ککری گراؤنڈ بھی تبدیل ہوا۔ حکومت سندھ اور عالمی بینک کے کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت اس تاریخی میدان کو جدید اسپورٹس کمپلیکس میں تبدیل کیا گیا۔ یہاں نئے فٹبال ٹرف کے ساتھ لڑکیوں کے لیے پریکٹس ایریا، باکسنگ، کراٹے، ٹیبل ٹینس، باسکٹ بال اور والی بال سمیت مختلف کھیلوں کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

    یوں وہ میدان جہاں کبھی محلے کے بچے محدود وسائل کے ساتھ فٹبال کھیلتے تھے، اب مختلف کھیلوں کے لیے ایک باقاعدہ مرکز بن چکا ہے اور بڑے مقابلوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔

    خواتین کی فٹبال کے فروغ کے لیے سندھ میں مقابلوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 2024 کے سندھ پنک فٹبال ٹورنامنٹ میں 16 خواتین ٹیموں اور 320 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، جبکہ سندھ کی خواتین فٹبال ٹیم کے لیے باقاعدہ ٹرائلز بھی منعقد کیے گئے۔

    35ویں قومی کھیلوں میں خواتین کی فٹبال کو شامل کیا گیا اور ککری گراؤنڈ نے خواتین کے مقابلوں کی میزبانی بھی کی۔ اس طرح ایک مقامی میدان خواتین کے قومی کھیل کے سفر کا بھی حصہ بن گیا۔

    لیکن اس پوری کہانی کے درمیان ایک اہم سوال موجود ہے۔ کیا صرف ایک گراؤنڈ اور ایک اکیڈمی لڑکیوں کو بین الاقوامی فٹبال تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں؟

    جافا کے کوچ کے مطابق کم عمری کی شادی، مالی مشکلات اور تعلیم کا تسلسل خواتین کھلاڑیوں کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بہت سی باصلاحیت لڑکیاں کھیل جاری رکھنا چاہتی ہیں، لیکن گھریلو، معاشی اور سماجی حالات ان کے راستے میں حائل ہوجاتے ہیں۔

    اسی لیے ککری گراؤنڈ کی کہانی صرف فٹبال کی کہانی نہیں۔

    یہ اس بات کی کہانی ہے کہ اگر ایک لڑکی کو میدان ملے، تربیت دینے والا کوچ ملے، مقابلے کا موقع ملے اور اسے آگے بڑھنے کی آزادی حاصل ہو تو وہ لیاری کی گلیوں سے نکل کر پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچ سکتی ہے۔

    ککری گراؤنڈ شاید زمین کا ایک محدود ٹکڑا ہو، لیکن یہاں دیکھے جانے والے خوابوں کی کوئی حد نہیں۔ اس میدان سے نکلنے والے کھلاڑی پاکستان کے فٹبال میدانوں تک پہنچے، اور لیاری کی لڑکیوں نے ثابت کیا کہ مواقع ملیں تو وہ بھی ملک کی نمائندگی کرسکتی ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل، جہاں کھیل کو صرف کھیل نہیں، معاشرے میں تبدیلی کی ایک طاقت سمجھا جاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل، جہاں پاکستان کے عام میدانوں سے نکلنے والی غیر معمولی کہانیاں آپ تک پہنچتی ہیں۔