Tag: فٹبال

  • کراچی میں فٹبال: کیماڑی اور لیاری کے سبزہ زاروں سے کلکتہ اور ڈھاکہ کی نرسریوں تک

    کراچی میں فٹبال: کیماڑی اور لیاری کے سبزہ زاروں سے کلکتہ اور ڈھاکہ کی نرسریوں تک

    کراچی کا شہر اپنی تاریخی جڑوں، سمندری ہواؤں، بندرگاہ کی سرگرمیوں اور تہذیبی گہما گہمی کے اعتبار سے ہمیشہ سے ایک دل کش اور متحرک کینوس رہا ہے۔

    اس شہر نے صرف تجارتی قافلے، سیاسی ہلچل اور ادبی محفلیں ہی نہیں دیکھیں، بلکہ یہاں کے گلی کوچوں، بندرگاہی میلوں اور ساحلی میدانوں میں ایک ایسا کھیل بھی پروان چڑھا جس نے برصغیر کی کھیلوں کی تاریخ میں نمایاں اور سنہری باب رقم کیے۔ یہ فٹبال کا کھیل تھا، جو کراچی کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کیماڑی اور لیاری کی مٹی میں اس طرح رچ بس گیا تھا کہ یہاں کا بچہ بچہ اس گول گیند پر جان چھڑکتا تھا۔

    تقسیم ہند سے قبل کا دور ہو یا قیام پاکستان کے بعد 1971 تک کا سنہری زمانہ، کراچی کے فٹبال نے جو عروج دیکھا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

    تقسیم سے قبل کراچی میں فٹبال: برطانوی چھاؤنیوں سے مقامی میدانوں تک

    برطانوی راج کے آخری ایام میں کراچی برصغیر کا ایک کلیدی بندرگاہی اور عسکری مرکز بن چکا تھا۔ یہاں تعینات برطانوی فوجیوں، ریلوے کے کارندوں اور پورٹ ٹرسٹ کے ملازمین نے فٹبال کو تفریح سے نکال کر باقاعدہ ایک جنون کی شکل دے دی تھی۔

    شہر کے ریلوے اسٹیڈیم، کے ایم سی گراؤنڈ، پولو گراؤنڈ اور کیماڑی کے کھلے میدان انگریز فوجیوں اور مقامی نوجوانوں کے درمیان سخت مقابلوں کے گواہ تھے۔

    اس ابتدائی دور میں کیماڑی اور لیاری کے مقامی باشندوں نے اس کھیل کو اپنانے میں ذرا برابر دیر نہیں لگائی۔ کیماڑی یونین اور سندھ فٹبال کلب جیسے ادارے اس دور کے وہ مراکز تھے جہاں سے ہیرے تراشے جا رہے تھے۔ عثمان جان جیسے مایہ ناز کھلاڑی اسی کیماڑی کی دین تھے، جو آگے چل کر تقسیم کے بعد پاکستان کی پہلی قومی فٹبال ٹیم کے پہلے کپتان بنے۔

    اس کے علاوہ محمد رمضان سینئر جیسے کھلاڑیوں نے بھی برطانوی دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ وہ دور تھا جب فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ کراچی کے ساحلی مکینوں کی زندگی کا ایک بڑا ثقافتی اظہار اور ان کی شناخت کا اہم ذریعہ بن چکا تھا۔

    آزادی کے بعد کا سنہری دور اور کراچی کا عروج

    1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو کراچی کو ملک کا دارالحکومت ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس سیاسی مرکزیت نے کھیلوں، خصوصاً فٹبال، پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں کو کراچی میں فٹبال کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔

    اس دوران لیاری، صدر، ملیر اور کیماڑی کے فٹبال گراؤنڈز پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، محمڈن اسپورٹس کلب اور ریلوے فٹبال کلب جیسی نامور ٹیمیں ملکی سطح پر چھائی ہوئی تھیں۔ گلی محلوں میں ہونے والے مقامی ٹورنامنٹس کا جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا۔ شائقین بڑی تعداد میں میدانوں کا رخ کرتے تھے اور یہیں سے ایسے کھلاڑی پیدا ہوئے جن کی شہرت نے سرحد پار کے میدانوں کو بھی روشن کیا۔

    کلکتہ اور ڈھاکہ محمڈن میں کیماڑی اور لیاری کے کھلاڑیوں کا جادو

    اس داستان کا ایک نمایاں باب وہ ہے جب کراچی کے ان پسماندہ مگر حوصلہ مند علاقوں کے کھلاڑیوں نے برصغیر کے دو بڑے فٹبال کلبوں، کلکتہ محمڈن اور ڈھاکہ محمڈن، کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

    محمد عمر بلوچ: لیاری کا وہ نام جس نے دلیپ کمار اور نہرو کو مبہوت کیا

    لیاری کی گل محمد لین میں آنکھ کھولنے والے محمد عمر بلوچ کی فٹبال کی صلاحیتوں کو پورے برصغیر میں سراہا گیا۔ جب وہ 1956 میں کلکتہ محمڈن کی طرف سے کھیلنے بھارت گئے تو پہلے ہی سیزن میں کلکتہ لیگ کے ٹاپ اسکورر بن گئے۔ انہوں نے روورز کپ کے اہم مراحل میں یادگار ہیٹ ٹرکس اسکور کیں۔

    ان کی برق رفتار ڈرِبلنگ اور گول کرنے کی صلاحیت کے چرچے اس دور کے اخبارات کی زینت بنے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے کھیل کے مداحوں میں بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور معروف اداکار دلیپ کمار بھی شامل تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ڈھاکہ محمڈن کی طرف سے بھی شاندار کھیل پیش کیا۔

    عابد حسین غازی: کیماڑی کا شاہین

    کیماڑی کے معتبر غازی خاندان سے تعلق رکھنے والے عابد حسین نے پہلے 1956 اور 1957 میں کلکتہ محمڈن کی نمائندگی کی، پھر مشرقی پاکستان منتقل ہو کر 1959 سے 1965 تک ڈھاکہ محمڈن سے وابستہ رہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ 1963 میں وہ ڈھاکہ محمڈن کے کپتان بنے اور ٹیم کو ڈھاکہ فرسٹ ڈویژن لیگ کا اعزاز دلایا۔

    عبداللہ راہی اور مولا بخش گوٹھائی

    لیاری کے عبداللہ راہی نے بھی ڈھاکہ محمڈن کے لیے یادگار کارنامے انجام دیے۔ انہوں نے 1967 میں کپتانی کے فرائض سنبھالے اور 1969 میں ٹیم کو ایک بھی میچ ہارے بغیر چیمپئن بنایا۔

    اسی طرح مولا بخش گوٹھائی جیسے لیاری کے سپوت نے نہ صرف ڈھاکہ محمڈن اور ای پی آئی ڈی سی کی نمائندگی کی بلکہ ترکی کے کلب مرسین ایدمان یوردو کی طرف سے کھیل کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور کراچی کا نام روشن کیا۔

    اخبارات کی سرخیاں اور عوام کا جنون

    تقسیم سے قبل اور خصوصاً 1950 سے 1970 کی دہائی کے دوران جب کراچی، کلکتہ اور ڈھاکہ کے درمیان فٹبال کے معرکے برپا ہوتے تھے تو برصغیر کے مؤقر اخبارات، مثلاً ڈان، مشرق اور کھیلوں کے جرائد میں ان مقابلوں کو نمایاں جگہ ملتی تھی۔

    لیاری کا شہزادہ کلکتہ میں چھا گیا: محمد عمر کی شاندار ہیٹ ٹرک سے کلکتہ محمڈن فاتح

    کراچی کے کیماڑی کا فرزند ڈھاکہ محمڈن کا کپتان نامزد: عابد حسین غازی کی قیادت میں ٹیم کا شاندار آغاز

    آغا خان گولڈ کپ: مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ، کے ایم سی گراؤنڈ تماشائیوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔

    عبداللہ راہی کا جادو سر چڑھ کر بولا: ڈھاکہ محمڈن بغیر کوئی میچ ہارے لیگ چیمپئن بن گئی۔

    اس دور میں فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ کراچی کے عوام، بالخصوص کیماڑی اور لیاری کے باسیوں کے لیے ایک تہوار کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب بھی کے ایم سی گراؤنڈ یا پولو گراؤنڈ میں کوئی بڑا میچ ہوتا تو صبح سویرے ہی تماشائیوں کا ہجوم امڈ آتا تھا۔

    درختوں کی شاخوں، دیواروں اور چھتوں پر لوگ میچ دیکھنے کے لیے بیٹھے ہوتے تھے۔ لیاری کے ہر چوراہے اور کیماڑی کی بندرگاہی پٹی پر شام کے وقت گلیوں میں فٹبال کے مقابلے ہوتے تھے، جہاں بزرگ اور نوجوان گھنٹوں بیٹھ کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

    مشرقی پاکستان کی جدائی اور حکومتی عدم توجہی سے زوال

    1971 تک مشرقی پاکستان کے کھلاڑیوں اور وہاں کے شاندار فٹبال کلچر کے ساتھ ہمارا گہرا تعلق قائم تھا۔ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کے کھلاڑیوں کی فٹنس اور بال کنٹرول کا کوئی ثانی نہیں تھا، اور قومی ٹیم کا بڑا حصہ انہی بنگالی کھلاڑیوں اور کراچی کے مقامی گراؤنڈز میں پروان چڑھنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔

    ڈھاکہ یا چٹاگانگ کی ٹیمیں جب کراچی کھیلنے آتی تھیں تو دونوں بازوؤں، یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان، کے عوام کے درمیان محبت اور الفت کا ایک مضبوط ثقافتی پل قائم ہو جاتا تھا۔

    لیکن 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی فٹبال کو ایک بڑا دھچکا لگا۔ قومی ٹیم اپنے متعدد بہترین کھلاڑیوں اور ایک متحرک فٹبال کلچر سے محروم ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی سطح پر عدم توجہی کے بارے میں شکایات سامنے آنے لگیں۔

    ریاست اور میڈیا نے اپنی توجہ، فنڈز اور سرپرستی کا بڑا حصہ کرکٹ پر مرکوز کر دیا۔ فٹبال، جو کبھی غریبوں، مزدوروں اور کراچی کے ساحلی باسیوں کی دھڑکن ہوا کرتا تھا، سرکاری سرپرستی سے محروم ہوتا چلا گیا۔

    منصوبہ بندی کے فقدان، سندھ فٹبال ایسوسی ایشن اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کی اندرونی سیاست، مالی وسائل کی کمی اور کراچی کے تاریخی فٹبال گراؤنڈز پر تجارتی سرگرمیوں کے دباؤ نے اس کھیل کو متاثر کیا۔ جن میدانوں سے کلکتہ اور ڈھاکہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے کھلاڑی نکلتے تھے، وہاں آج کئی مقامات پر تعمیرات اور شہری پھیلاؤ نے کھیل کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔

    لیاری کے مایہ ناز اور تاریخی فٹبالرز

    لیاری نے ماضی میں ایسے کھلاڑی پیدا کیے جنہیں ایشیا کی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔ ان میں عبدالغفور مجنا، جنہیں پاکستان کا ’پیلے‘ کہا جاتا تھا، توراب علی، جنہیں ’دی وال آف چائنا‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، اور اسٹرائیکرز موسیٰ غازی اور کیپٹن عمر شامل ہیں۔

    لیاری کا فٹبال ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں لیاری کی نوجوان فٹبال ٹیم بیشر فیوچر پاکستان نے ناروے کپ میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا۔

    جب ہم تقسیم سے قبل اور بعد کے اس سنہری دور پر نظر ڈالتے ہیں تو کیماڑی کی نمکین ہواؤں اور لیاری کی تنگ گلیوں سے اٹھنے والی فٹبال کی گونج ایک خواب محسوس ہوتی ہے۔ یہ اس خطے کی زرخیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محدود وسائل اور حکومتی پشت پناہی کے بغیر بھی یہاں کے مقامی نوجوانوں نے برصغیر کے بڑے کلبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

    اگر آج ریاست اپنی ترجیحات درست کرے اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے نچلی سطح پر کھیلوں کی ترقی کے لیے دوبارہ توجہ دے تو کراچی کے ساحلی میدانوں، قدیم علاقوں اور فٹبال کے دیوانے نوجوانوں میں ایک نئے عثمان جان، محمد عمر یا عابد حسین کو جنم دینے کی صلاحیت اب بھی موجود ہے۔

  • کرکٹ، فٹبال، باسکٹ بال، انڈور جمنازیم والا بلدیہ اسپورٹس کامپلیکس مرمت کے بعد بحال

    کرکٹ، فٹبال، باسکٹ بال، انڈور جمنازیم والا بلدیہ اسپورٹس کامپلیکس مرمت کے بعد بحال

    کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک اہم منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ تقریباً 25 ایکڑ رقبے پر قائم پرانے اور خستہ حال کھیل کے میدان کو بحال کرکے بلدیہ اسپورٹس کمپلیکس کو جدید کھیلوں اور تفریحی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت کراچی کے شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبے کے ذریعے اس کمپلیکس کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام جون 2025 میں شروع کیا گیا تھا۔

    منصوبے کا سنگ بنیاد 12 جون 2025 کو رکھا گیا اور اسے ابتدائی طور پر چھ ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم تعمیراتی کام مقررہ مدت کے بعد مکمل ہوا۔ اگست 2026 کی دستیاب معلومات کے مطابق کمپلیکس کا تعمیراتی مرحلہ مکمل ہوچکا تھا۔

    نئے کمپلیکس میں ایک ہی مقام پر مختلف کھیلوں کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہاں کرکٹ گراؤنڈ، ہاکی اور فٹبال کے میدان، باسکٹ بال کورٹ، انڈور جمنازیم، دوڑنے کا ٹریک اور جم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ چہل قدمی کے لیے جگہ، خاندانی پارک اور بچوں کے کھیلنے کی جگہ بھی بنائی گئی ہے، جبکہ شہریوں کے لیے پارکنگ کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔

    منصوبے کا مقصد بلدیہ ٹاؤن اور ضلع کیماڑی کے نوجوانوں اور دیگر شہریوں کو کھیلوں کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔ مختلف کھیلوں کی سہولیات ایک ہی کمپلیکس میں دستیاب ہونے سے مقامی کھلاڑیوں کو اپنے کھیل کی مشق اور صلاحیتیں نکھارنے کے لیے اپنے علاقے میں ہی بہتر جگہ مل سکے گی۔

    اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 1 ارب 40 کروڑ روپے بتائی گئی تھی، جو بعد میں بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ ارب روپے تک پہنچ گئی۔ کمپلیکس کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے بجلی کی تنصیب سمیت دیگر ضروری انتظامات بھی منصوبے میں شامل کیے گئے۔

    بلدیہ اسپورٹس کمپلیکس کی بحالی کو صرف ایک پرانے میدان کی تزئین و آرائش کے بجائے علاقے میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، فٹبال، فٹسال اور باسکٹ بال سمیت مختلف کھیلوں کے لیے سہولیات کی موجودگی مقامی نوجوانوں کو باقاعدگی سے کھیلوں میں حصہ لینے اور اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔

    بین الاقوامی پیشہ ور باکسر نادر بلوچ نے بھی کمپلیکس کی بحالی پر سندھ حکومت اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے سے بلدیہ ٹاؤن اور اس کے اطراف کے کھلاڑیوں کو بہتر کھیلوں کی سہولیات میسر آئیں گی۔

  • ککری گراؤنڈ: لیاری کی وہ فٹبال نرسری جہاں سے لڑکیاں عالمی سطح کے کھیل تک پہنچ گئیں

    ککری گراؤنڈ: لیاری کی وہ فٹبال نرسری جہاں سے لڑکیاں عالمی سطح کے کھیل تک پہنچ گئیں

    کراچی کے لیاری میں ایک ایسا میدان ہے جہاں فٹبال صرف کھیلی نہیں جاتی، خواب بھی دیکھے جاتے ہیں۔ یہ ہے ککری گراؤنڈ، جہاں برسوں سے گلیوں اور محلوں کے بچے فٹبال کے ذریعے اپنے مستقبل کا راستہ تلاش کرتے رہے ہیں۔

    ککری گراؤنڈ سے جڑی ایک اہم داستان جافا سوکر اکیڈمی کی بھی ہے، جسے سابق پاکستانی انٹرنیشنل فٹبالر جاوید عرب نے 2006 میں قائم کیا۔ اکیڈمی میں بچوں کو مفت فٹبال تربیت فراہم کی جاتی ہے اور کھلاڑیوں کو کم عمری سے مختلف عمر کے گروپس میں تربیت دے کر آگے بڑھنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔

    لیکن جافا کی کہانی کا سب سے اہم اور دلچسپ باب خواتین کی فٹبال ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لڑکیوں کے لیے فٹبال کھیلنا اور میدان میں آنا آسان نہیں تھا، جاوید عرب نے ککری گراؤنڈ میں لڑکیوں کو بھی تربیت دینا شروع کی۔ یہ فیصلہ صرف ایک کھیل کی سرگرمی نہیں تھا، بلکہ لیاری کی لڑکیوں کے لیے ایک نئے راستے کا آغاز تھا۔

    جاوید عرب کے مطابق جافا سوکر اکیڈمی سے تقریباً 9 خواتین پاکستانی انٹرنیشنل فٹبالر بن چکی ہیں، جبکہ اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 مرد کھلاڑی بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

    یعنی لیاری کے ایک مقامی میدان سے کھیل شروع کرنے والی لڑکیاں پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچیں۔ ان کے لیے ککری گراؤنڈ محض تربیت کی جگہ نہیں رہا، بلکہ قومی سطح تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی بن گیا۔

    اکیڈمی میں کھلاڑیوں کو مختلف عمر کے گروپس میں تربیت دی جاتی ہے۔ کم عمر کھلاڑیوں کو بنیادی مہارتیں سکھانے کے بعد مقابلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ 16 سال کی عمر کے بعد انہیں جافا کے کلب کے ذریعے بڑے مقابلوں میں کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔

    وقت کے ساتھ ککری گراؤنڈ بھی تبدیل ہوا۔ حکومت سندھ اور عالمی بینک کے کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت اس تاریخی میدان کو جدید اسپورٹس کمپلیکس میں تبدیل کیا گیا۔ یہاں نئے فٹبال ٹرف کے ساتھ لڑکیوں کے لیے پریکٹس ایریا، باکسنگ، کراٹے، ٹیبل ٹینس، باسکٹ بال اور والی بال سمیت مختلف کھیلوں کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

    یوں وہ میدان جہاں کبھی محلے کے بچے محدود وسائل کے ساتھ فٹبال کھیلتے تھے، اب مختلف کھیلوں کے لیے ایک باقاعدہ مرکز بن چکا ہے اور بڑے مقابلوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔

    خواتین کی فٹبال کے فروغ کے لیے سندھ میں مقابلوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 2024 کے سندھ پنک فٹبال ٹورنامنٹ میں 16 خواتین ٹیموں اور 320 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، جبکہ سندھ کی خواتین فٹبال ٹیم کے لیے باقاعدہ ٹرائلز بھی منعقد کیے گئے۔

    35ویں قومی کھیلوں میں خواتین کی فٹبال کو شامل کیا گیا اور ککری گراؤنڈ نے خواتین کے مقابلوں کی میزبانی بھی کی۔ اس طرح ایک مقامی میدان خواتین کے قومی کھیل کے سفر کا بھی حصہ بن گیا۔

    لیکن اس پوری کہانی کے درمیان ایک اہم سوال موجود ہے۔ کیا صرف ایک گراؤنڈ اور ایک اکیڈمی لڑکیوں کو بین الاقوامی فٹبال تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں؟

    جافا کے کوچ کے مطابق کم عمری کی شادی، مالی مشکلات اور تعلیم کا تسلسل خواتین کھلاڑیوں کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بہت سی باصلاحیت لڑکیاں کھیل جاری رکھنا چاہتی ہیں، لیکن گھریلو، معاشی اور سماجی حالات ان کے راستے میں حائل ہوجاتے ہیں۔

    اسی لیے ککری گراؤنڈ کی کہانی صرف فٹبال کی کہانی نہیں۔

    یہ اس بات کی کہانی ہے کہ اگر ایک لڑکی کو میدان ملے، تربیت دینے والا کوچ ملے، مقابلے کا موقع ملے اور اسے آگے بڑھنے کی آزادی حاصل ہو تو وہ لیاری کی گلیوں سے نکل کر پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچ سکتی ہے۔

    ککری گراؤنڈ شاید زمین کا ایک محدود ٹکڑا ہو، لیکن یہاں دیکھے جانے والے خوابوں کی کوئی حد نہیں۔ اس میدان سے نکلنے والے کھلاڑی پاکستان کے فٹبال میدانوں تک پہنچے، اور لیاری کی لڑکیوں نے ثابت کیا کہ مواقع ملیں تو وہ بھی ملک کی نمائندگی کرسکتی ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل، جہاں کھیل کو صرف کھیل نہیں، معاشرے میں تبدیلی کی ایک طاقت سمجھا جاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل، جہاں پاکستان کے عام میدانوں سے نکلنے والی غیر معمولی کہانیاں آپ تک پہنچتی ہیں۔