سکھر میں قائم بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سندھ کی خواتین کے لیے قائم ایک سرکاری یونیورسٹی ہے، جہاں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، صحت، مینجمنٹ اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں بھی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یونیورسٹی سکھر میں روہڑی بائی پاس کے قریب واقع ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی کا قیام چھ جولائی 2018 کو عمل میں آیا۔
یونیورسٹی کا بنیادی مقصد خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں تعلیمی، پیشہ ورانہ اور معاشی طور پر بااختیار بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔
یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں 2,400 سے زیادہ طالبات زیر تعلیم ہیں اور 21 سے زیادہ ڈگری پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔
یہاں تعلیم، ریاضی، فزکس، شماریات، کیمسٹری، بایوٹیکنالوجی، جینیٹکس، ماحولیاتی علوم، فزیوتھراپی، مینجمنٹ سائنسز، کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم دی جا رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت یونیورسٹی کے جدید تعلیمی پروگراموں میں شامل ہے۔ بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی میں بی ایس مصنوعی ذہانت کا چار سالہ پروگرام موجود ہے، جس میں مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، ڈیٹا سائنس، ڈیٹا اینالیسس، نیچرل لینگویج پروسیسنگ، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات جیسے موضوعات شامل ہیں۔
یونیورسٹی مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق اور عملی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کے لیے مرکزِ فضیلت قائم کرنے کا منصوبہ بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ طالبات کے لیے مختلف ہم نصابی اور عملی سرگرمیوں کے مواقع بھی موجود ہیں۔ طالبات ادبی پروگراموں، مشاعروں، کھیلوں، ماحولیاتی سرگرمیوں، قیادت اور نوجوان خواتین کی تربیت سے متعلق پروگراموں میں حصہ لیتی ہیں۔
یونیورسٹی میں عملی تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ فزیوتھراپی کے شعبے سے وابستہ طالبات کو کمیونٹی کے لیے منعقد کیے جانے والے طبی کیمپوں میں عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں تحقیقی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
یونیورسٹی میں اسمارٹ کلاس رومز، کمپیوٹر لیبارٹریز، فزیوتھراپی لیبارٹریز، لائبریری، لینگویج لیبارٹری، ہاسٹل، طبی سہولت، ڈے کیئر سینٹر اور طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔
بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ سکھر اور شمالی سندھ کی طالبات کو اپنے ہی خطے میں اعلیٰ تعلیم کے مختلف مواقع فراہم کر رہی ہے۔
یہاں روایتی مضامین کے ساتھ مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، بایوٹیکنالوجی، ماحولیاتی علوم اور دیگر جدید شعبوں میں بھی تعلیم اور تحقیق کے مواقع موجود ہیں۔

