Tag: یونیورسٹی

  •  خیرپور: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کا 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ

     خیرپور: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کا 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ

    شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میرس نے مبینہ طور پر قانونی اور انتظامی ضوابط پورے کیے بغیر جاری کی گئی 12 سو سے زائد ایل ایل بی ڈگریوں اور امتحانی نتائج کی منسوخی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یونیورسٹی نے متاثرہ طلبہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور دستاویزی ثبوت جمع کرانے کے لیے 15 دن کی آخری مہلت دے دی ہے۔

    یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے عوامی نوٹس کے مطابق سنڈیکیٹ کے 92ویں اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں کے بعد ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک مختلف لا کالجوں کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں متعدد طلبہ کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا، جس کے بعد ان کی ڈگریوں اور امتحانی نتائج کی منسوخی کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

    نوٹس کے مطابق تحقیقات ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام کے 2017 کے بیچ اور ایل ایل بی تین سالہ پروگرام کے 2014 سے 2018 تک کے مختلف بیچوں کے ریکارڈ پر کی گئی۔ انکوائری کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار 61 طلبہ کا ریکارڈ مشکوک پایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام میں مختلف لا کالجوں کے 584 طلبہ کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں قاضی میاں احمد قریشی لا  کالج مورو کے 62، اے بی ڈی لا کالج سکھر کے 28، مرزا لا کالج پنوعاقل کے 23، الفلاح لا کالج کشمور کے 36، سردار نور محمد خان لا کالج کندھ کوٹ کے 7، ایس ڈی کے لا کالج جیکب آباد کے 41، حاجی مولا بخش سومرو لا کالج کے 72، فیض محمد سہتو لا کالج کنڈیارو کے 75، مشعل لا کالج ڈہرکی کے 21، بی بی زیڈ لا کالج جیکب آباد کے 96، ایس بی بی لا کالج قمبر کے 23 اور عبدالواحد سومرو لا کالج کشمور کے 100 طلبہ شامل ہیں۔

    اسی طرح ایل ایل بی تین سالہ پروگرام کے مختلف بیچوں میں 477 طلبہ کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ایس ڈی کے لا کالج جیکب آباد، سردار نور محمد لا کالج کندھ کوٹ، ایس بی بی لا کالج لاڑکانہ، اے بی ڈی لا کالج سکھر، الفلاح لا کالج کشمور، مشعل لا کالج ڈہرکی، سردار نور محمد بجارانی لا کالج جیکب آباد، عبدالواحد لا کالج کشمور، قاضی میاں احمد قریشی لا کالج مورو اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے کانسٹیٹیونٹ لا کالج نوشہرو فیروز کے طلبہ شامل ہیں۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جن طلبہ کے نام، ولدیت اور متعلقہ کالجوں کی تفصیلات یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی فہرست میں شامل ہیں، انہیں صفائی کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔ تمام متاثرہ طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹس کی اشاعت کے 15 دن کے اندر اپنے دعوے کے حق میں تمام متعلقہ دستاویزی ثبوت کنٹرولر امتحانات، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے دفتر میں جمع کرائیں۔

    یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ متاثرہ طلبہ کے لیے آخری موقع ہوگا۔ اگر مقررہ مدت کے اندر جواب جمع نہ کرایا گیا یا فراہم کیے گئے شواہد تسلی بخش نہ ہوئے تو متعلقہ ڈگری یا امتحانی نتیجہ بغیر کسی مزید نوٹس کے مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا، ضابطوں پر عمل درآمد کو مضبوط بنانا اور ڈگریوں کے اجرا کے عمل کو قانون کے مطابق بنانا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آئندہ بھی ایسے تمام معاملات کی جانچ جاری رکھی جائے گی تاکہ تعلیمی معیار اور ادارے کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔

    رپورٹ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے، قانونی تقاضے پورے ہونے اور جامعہ کی اعلیٰ انتظامی باڈی کی منظوری کے بعد ڈگریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ انتظامیہ کی احتسابی مہم کا تیسرا بڑا مرحلہ ہے۔

    اس سے قبل پہلے مرحلے میں مبینہ جعلی تعلیمی ریکارڈ کے سلسلے میں 128 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ دوسرے مرحلے میں آٹھ سے زائد جامعہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی گئی، انہیں معطل کیا گیا اور جامعہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    تیسرے مرحلے میں 12 سو سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ڈگریوں میں قانونی شعبے سے تعلق رکھنے والی بعض نمایاں شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، تاہم یونیورسٹی نے کسی فرد کا نام سرکاری طور پر جاری نہیں کیا۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تعلیمی اسناد کی تصدیق کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جعلی ڈگریوں کی روک تھام کی جا سکے۔ ان کے مطابق اگر جامعات باقاعدگی سے اپنے ریکارڈ کا جائزہ لیں اور جدید ڈیجیٹل نظام اپنائیں تو اس قسم کی بے ضابطگیوں کو بروقت روکا جا سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں ان طلبہ اور وکلا کے مفاد میں بھی ہیں جنہوں نے اپنی تعلیم دیانت داری سے مکمل کی ہے، کیونکہ جعلی یا مشتبہ ڈگریاں نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ پورے قانونی شعبے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف احتساب سے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • این ای ڈی یونیورسٹی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز قائم

    این ای ڈی یونیورسٹی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز قائم

    پاکستان میں جدید تعلیم اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کا مقصد طلبہ، اساتذہ اور محققین کو مصنوعی ذہانت کی جدید سہولیات سے آراستہ کرنا اور انہیں نئی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح شامل ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف ایک نئی سہولت نہیں بلکہ مستقبل کی جانب کھلنے والا دروازہ ہے۔ اس اقدام سے سندھ کے طلبہ مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبہ گوگل جیمنی پلیٹ فارم، جدید کروم بک آلات اور کلاؤڈ پر مبنی تعلیمی ٹولز کے ذریعے عملی تربیت حاصل کریں گے، جس سے انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس موقعے پر بتایا گیا کہ اس مرکز کے قیام سے طلبہ کو گوگل جیمنی کی مدد سے تحقیق، تعلیمی منصوبوں، پروگرامنگ، تحریر، اعداد و شمار کے تجزیے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں معاونت حاصل ہوگی۔ اساتذہ بھی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تدریسی مواد تیار کر سکیں گے، لیکچر منصوبہ بندی کو بہتر بنا سکیں گے اور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں گے۔

    گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید نظام ہے جو سوالات کے جواب دینے، مختلف زبانوں میں مواد تیار کرنے، خلاصے بنانے، پیچیدہ معلومات کو آسان انداز میں سمجھانے اور تخلیقی کاموں میں مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

    ماہرین تعلیم کے مطابق یہ مرکز طلبہ کو صرف مصنوعی ذہانت استعمال کرنا ہی نہیں سکھائے گا بلکہ انہیں اس کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال سے بھی آگاہ کرے گا۔ اس کے ذریعے طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مصنوعی ذہانت کو تحقیق، تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ غلط معلومات، نقل اور دیگر چیلنجز سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

    مرکز میں مختلف تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور عملی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے۔ ان پروگراموں میں طلبہ اور اساتذہ کو گوگل جیمنی کی مختلف خصوصیات سے روشناس کرایا جائے گا۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے گا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مسائل کا حل کس طرح تلاش کیا جا سکتا ہے اور روزمرہ تعلیمی کاموں کو کس طرح زیادہ آسان اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت ہر شعبے کا اہم حصہ بن جائے گی۔ ایسے میں جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو جدید مہارتوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں اس مرکز کا قیام اسی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ یونیورسٹی میں تحقیق کے معیار میں بہتری آئے گی، اختراعی منصوبوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور طلبہ کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ یہ مرکز صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نئی تحقیق، اختراعات اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو درست رہنمائی اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز کا قیام اسی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے نئی نسل کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور ملک میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔

    بعد ازاں وزیراعلیٰ نے گوگل کیریئر سرٹیفکیشن پروگرام 2026 کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ٹیک ویلی پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔

    اس پروگرام کے تحت سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کو 20 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس دی جائیں گی۔ ان اسکالرشپس کے ذریعے طلبہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس، پراجیکٹ مینجمنٹ، یوزر تجربہ ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آئی ٹی سپورٹ اور دیگر جدید شعبوں میں عالمی معیار کے سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں گے۔