وادی سندھ سے ہندوکش تک: سندھ اور افغان و پشتون خطے کے ہزار سالہ تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی رشتے

سندھ

دریائے سندھ محض جغرافیائی پانی کا بہاؤ نہیں، بلکہ یہ ہمالیہ اور ہندوکش کی بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں سے نکل کر عرب کے نیلگوں سمندر تک انسانی تہذیبوں، تجارتی قافلوں اور نسلی و روحانی ہجرتوں کو یکجا کرنے والی ایک عظیم شہ رگ ہے۔

وادی سندھ کی قدیم ترین تہذیب کے ادوار سے لے کر قرون وسطیٰ کے صوفیانہ و عسکری ادوار اور نوآبادیاتی دور میں کراچی کی جدید تعمیر تک، سندھ اور افغانستان و پشتون بیلٹ کا تلخ و شیریں رشتہ ایک گہرے، ہمہ پہلو اور متحرک تاریخی وجود کا حامل رہا ہے۔

قبل از تاریخ آثارِ قدیمہ، ‘شور توگئی’

سندھ اور افغانستان کے تعلقات کی بنیاد قبل از تاریخ کے دھندلکوں، بالخصوص کانسی کے عہد، یعنی 2600 تا 1900 قبل مسیح، میں رکھی جا چکی تھی۔ فرانسیسی آثارِ قدیمہ مشن کی جانب سے 1970 کی دہائی میں کی جانے والی کھدائیوں نے ثابت کیا کہ وادی سندھ کی تہذیب کا دائرہ اثر محض موہن جو دڑو یا ہڑپہ تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے تجارتی مراکز ہندوکش کے اس پار شمالی افغانستان تک پھیلے ہوئے تھے۔

شور توگئی: شمالی افغانستان میں وادی سندھ کے لوگوں کی تجارتی کالونی

شمالی افغانستان میں آمو دریا اور دریائے کوکچہ کے سنگم پر واقع ‘شور توگئی’ کا آثارِ قدیمہ کا مقام وادی سندھ کی تہذیب کا سب سے شمالی اور اہم تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

شور توگئی سے ملنے والے گھروں، پکی اینٹوں کے استعمال، نکاسی آب کے نظام اور اناج کے گوداموں میں موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہاں سے ہڑپائی رسم الخط والی سٹیٹائٹ کی مربع مہریں، کوہان والے بیل کے نقوش والے مٹی کے برتن، سیپ کے زیورات، گلیزی کے منکے اور کانسی کے اوزار بھی ملے ہیں۔

لازورد کی تجارت

شور توگئی کی اہمیت کا ایک بڑا سبب بدخشان کے مشہور لازورد کی تجارت تھی۔ یہ گہرا نیلا قیمتی پتھر قدیم دور میں دور دراز خطوں تک پہنچایا جاتا تھا۔ آثارِ قدیمہ سے ملنے والے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وادی سندھ اور افغانستان کے درمیان لازورد سمیت مختلف اشیا کی تجارت کا مضبوط نظام موجود تھا۔

منڈی گک اور ہلمند تہذیب کا ربط

جنوبی افغانستان کے قندھار کے قریب واقع ‘منڈی گک’ کا قدیم شہر بھی خطے کی قدیم تہذیبوں کے باہمی روابط کا اہم مرکز تھا۔ اس کے روابط بلوچستان کے مہرگڑھ اور سندھ کے آمری و کوٹ ڈیجی ثقافتی مراکز سے جوڑے جاتے ہیں۔

افغانستان کے مختلف علاقوں سے قیمتی پتھر، دھاتیں اور دیگر اشیا جنوب کی جانب آتی تھیں، جبکہ سندھ اور اس کے ساحلی علاقوں سے سیپیاں، عقیق کے منکے اور دیگر مصنوعات شمال مغربی خطوں تک پہنچتی تھیں۔

درّے اور قدرتی گزرگاہیں

سندھ اور افغان خطے کے درمیان تجارت، نقل و حرکت اور انسانی ہجرت میں قدرتی گزرگاہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ درہ بولان، درہ گوومل اور درہ خیبر ان راستوں میں نمایاں تھے۔

درہ بولان کے راستے قندھار سے سبی، جیکب آباد اور شکارپور کے ذریعے سندھ کے میدانی علاقوں تک رسائی ممکن تھی۔ درہ گوومل سلیمان پہاڑی سلسلے سے ڈیرہ اسماعیل خان اور دریائے سندھ کی جانب آنے کا راستہ تھا، جبکہ درہ خیبر وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان اہم زمینی گزرگاہوں میں شمار ہوتا رہا۔

دریائے سندھ بطور تجارتی شہ رگ

دریائے سندھ اور اس سے جڑے راستوں نے بھی شمال مغربی خطوں اور سندھ کے درمیان تجارت میں اہم کردار ادا کیا۔ بالائی علاقوں سے لکڑی، جڑی بوٹیاں اور دیگر اشیا مختلف ذرائع سے دریائے سندھ کے کناروں تک پہنچائی جاتی تھیں اور روہڑی، سکھر اور سیہون جیسے تاریخی مراکز کے ذریعے آگے منتقل ہوتی تھیں۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کے آباؤ اجداد کی ہرات سے سندھ آمد

سندھ اور افغانستان کے تعلق کا ایک اہم روحانی باب شاہ عبداللطیف بھٹائی کے خاندان کی ہرات سے سندھ آمد سے وابستہ ہے۔

روایتی تاریخی بیانیے کے مطابق شاہ عبداللطیف بھٹائی کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان کے تاریخی علمی مرکز ہرات سے تھا۔ امیر تیمور کے دور حکومت کے اختتام پر، سنہ 801 ہجری، یعنی 1398 عیسوی میں، شاہ صاحب کے مورثِ اعلیٰ سید میر علی اپنے اہلِ خانہ اور مریدوں کے ہمراہ ہرات سے ہجرت کر کے سندھ کے علاقے مٹیاری، ہالہ میں آباد ہوئے۔

اسی سلسلے سے حضرت شاہ عبدالکریم بلڑی وارو اور بعد ازاں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تعلق بیان کیا جاتا ہے۔ شاہ لطیف نے اپنے صوفیانہ کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے ذریعے سندھ کی مقامی لوک داستانوں، انسانی دکھوں اور صوفیانہ فکر کو ایک ایسی ادبی صورت دی جو سندھی زبان و ادب کا اہم حصہ بن گئی۔

شکارپور کے سندھی تاجر: افغانستان سے وسطی ایشیا تک مالیاتی نیٹ ورک

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں شکارپور سندھ کا ایک اہم تجارتی اور مالیاتی مرکز بن کر ابھرا۔ شکارپور کے ہندو اور مسلمان تاجروں اور صرافوں نے افغانستان، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں تک پھیلا ہوا تجارتی و مالیاتی نیٹ ورک قائم کیا۔

ہنڈی کا نظام اس نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ تھا۔ شکارپوری تاجروں کی جاری کردہ ہنڈیاں کابل، قندھار، ہرات، مزار شریف، بخارا، سمرقند، تاشقند اور دیگر تجارتی مراکز میں مالی لین دین کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

افغانستان کے راستوں سے آنے والے تجارتی قافلوں کے ذریعے مختلف اشیا سندھ اور برصغیر کی منڈیوں تک پہنچتی تھیں، جبکہ سندھ سے کپڑا، نیل، نمک، چینی اور دیگر مصنوعات شمال مغربی خطوں کی جانب جاتی تھیں۔

شکارپور میں افغان اور پشتون خاندانوں کی آبادکاری

افغان درانی سلطنت کے دور میں شکارپور میں افغان اور پشتون خاندان بھی آباد ہوئے۔ ان میں حکومتی عہدیدار، تاجر اور دیگر پیشہ ور افراد شامل تھے۔ وقت کے ساتھ یہ خاندان شکارپور کی سماجی، تجارتی اور سیاسی زندگی کا حصہ بن گئے۔

شکارپور سے وابستہ بعض افغان نژاد خاندانوں نے بعد کے ادوار میں سندھ کی سیاست اور سماجی زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ آغا غلام نبی پٹھان، آغا بدرالدین درانی اور آغا سراج درانی کے خاندانوں کا تعلق شکارپور کے افغان پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے بیان کیا جاتا ہے۔

سندھ کی تاریخ، ثقافت اور سیاست پر ڈاکٹر در محمد پٹھان کی تحقیقی کاوشیں بھی اس وسیع تاریخی تناظر کا ایک اہم حصہ ہیں۔

قرون وسطیٰ میں افغانی حملے اور لوٹ مار

سندھ اور افغان خطے کے تعلقات صرف تجارت، ہجرت اور صوفیانہ روابط تک محدود نہیں رہے۔ تاریخ میں ایسے ادوار بھی گزرے جب افغان حکمرانوں اور لشکروں کی فوجی مداخلت نے سندھ کی آبادیوں اور معیشت کو متاثر کیا۔

اٹھارویں صدی میں نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے ادوار کے علاوہ مختلف افغان لشکروں اور سرداروں کی سندھ میں فوجی سرگرمیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ مدد خان پٹھان سے منسوب حملوں اور لوٹ مار کا ذکر سندھ کی لوک روایت میں بھی ملتا ہے، اور ‘مدد خان جی لوٹ’ آج بھی سندھی زبان میں تباہی اور لوٹ مار کے استعارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

یہ دور اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمسایہ خطوں کے درمیان تاریخی تعلقات ہمیشہ یکساں نوعیت کے نہیں رہے، بلکہ ان میں تجارت، ہجرت، ثقافتی تبادلے اور سیاسی کشمکش سب شامل رہے ہیں۔

برطانوی نوآبادیاتی دور: کراچی سے افغانستان تک ریل کا راستہ

1843 میں سندھ پر برطانوی قبضے کے بعد کراچی کی بندرگاہ کی اہمیت تیزی سے بڑھی۔ برطانوی حکمتِ عملی میں کراچی کو اندرونِ سندھ، بلوچستان اور افغانستان کی سمت جانے والے تجارتی اور عسکری راستوں سے جوڑنا اہم تھا۔

انیسویں صدی میں ریلوے کا نظام بالائی سندھ سے ہوتا ہوا بلوچستان اور کوئٹہ تک پھیلا اور بعد میں افغان سرحد کے قریب چمن تک پہنچا۔ اس بنیادی ڈھانچے نے کراچی کی بندرگاہ کو شمال مغربی سرحدی علاقوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔

افغانستان ایک خشکی سے گھرا ہوا ملک ہونے کی وجہ سے بیرونی تجارت کے لیے علاقائی راستوں اور بندرگاہوں پر انحصار کرتا رہا۔ کراچی کے ذریعے آنے والی متعدد اشیا ریلوے اور زمینی راستوں سے افغان خطے تک پہنچتی تھیں، جبکہ افغانستان سے خشک میوہ جات، اون، قالین اور دیگر مصنوعات بیرونی منڈیوں کی طرف منتقل ہوتی تھیں۔

قبل از تقسیم کراچی میں افغان اور پشتون برادریوں کی آمد

انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں کراچی ایک بڑے تجارتی اور بندرگاہی مرکز کے طور پر ترقی کر رہا تھا۔ اسی عرصے میں خیبر پختونخوا، سوات، وزیرستان، کابل اور قندھار سمیت مختلف علاقوں سے پشتون اور افغان محنت کش، تاجر اور ہنرمند کراچی پہنچے۔

ان میں سے کئی خاندان لیاری، کیماڑی اور دیگر علاقوں میں آباد ہوئے۔ برطانوی دور میں پولیس، چوکیداری، باربرداری اور نقل و حمل کے مختلف شعبوں میں بھی افغان اور پشتون افراد کی موجودگی نمایاں تھی۔

سندھ افغان کلب

کراچی میں مقیم افغان اور پشتون برادری کی سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے سندھ افغان کلب کا بھی ذکر ملتا ہے۔ لیاری اور لی مارکیٹ کے درمیان قائم اس ادارے سے وابستہ لائبریری اور مطالعہ گاہ میں پشتو، فارسی، سندھی اور اردو کی کتابیں اور اخبارات دستیاب ہوتے تھے۔

کلب نے کراچی میں رہنے والی مختلف برادریوں کے درمیان سماجی روابط اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا۔

چاکیواڑہ اور پشتون ٹرانسپورٹ

لیاری کا چاکیواڑہ تاریخی طور پر کراچی کی ٹرانسپورٹ اور مال برداری سے وابستہ ایک اہم علاقہ رہا ہے۔ قبل از تقسیم اور بعد از تقسیم ادوار میں پشتون ٹرانسپورٹرز نے بسوں، ٹرکوں اور مال برداری کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

کراچی کی بڑھتی ہوئی شہری معیشت میں ٹرانسپورٹ کا یہ شعبہ اہم تھا اور مختلف پشتون خاندان اس کاروبار سے وابستہ رہے۔

عبدالستار افغانی: لیاری سے کراچی کی بلدیاتی سیاست تک

لیاری کے موسیٰ لین سے تعلق رکھنے والے عبدالستار افغانی کا خاندان افغان اور پشتون پس منظر رکھتا تھا، تاہم ان کا سیاسی اور سماجی تعلق کراچی کی مقامی زندگی سے گہرا تھا۔

عبدالستار افغانی 1979 اور 1983 میں کراچی کے منتخب میئر رہے۔ وہ کراچی کے بلدیاتی اختیارات اور بلدیاتی اداروں کے کردار کے حوالے سے سرگرم رہے اور اس جدوجہد کے دوران احتجاج اور گرفتاری کا بھی سامنا کیا۔

بعد از تقسیم ہجرت اور کراچی کی بدلتی ہوئی آبادی

پاکستان کے قیام کے بعد، خصوصاً ون یونٹ کے دور اور اس کے بعد کے عشروں میں، خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں سمیت ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار اور بہتر مواقع کے لیے کراچی منتقل ہوتے رہے۔

اس مسلسل نقل مکانی نے کراچی کی آبادی، شہری معیشت اور مختلف علاقوں کی سماجی ساخت کو متاثر کیا۔ شہر کی متعدد بلدیاتی یونٹس اور ٹاؤنز میں پشتون آبادی نمایاں ہے۔

پشتون برادری نے کراچی کے ٹرانسپورٹ، تعمیرات، ریستوران، خوراک، کپڑے اور دیگر کاروباری شعبوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ کوئٹہ سے آنے والے پشتون تاجروں اور کاروباری خاندانوں نے بھی شہر کے کھانے پینے کے کاروبار میں اپنی موجودگی قائم کی۔

سندھ اور افغان و پشتون خطے کے تعلقات کی تاریخ اس طرح صرف جنگوں یا ہجرتوں کی داستان نہیں۔ اس میں ہزاروں سال پرانے تجارتی روابط، آثارِ قدیمہ، قدرتی گزرگاہیں، صوفیانہ روایت، مالیاتی نیٹ ورک، نوآبادیاتی دور کا بنیادی ڈھانچہ اور جدید کراچی کی شہری معیشت سب شامل ہیں۔

شور توگئی اور منڈی گک کے آثار قدیمہ سے ظاہر ہونے والے قدیم روابط سے لے کر ہرات سے سندھ آنے والے صوفی خانوادوں، شکارپور کے تاجروں اور کراچی میں آباد ہونے والی افغان و پشتون برادریوں تک، یہ تعلقات مختلف تاریخی ادوار میں نئی شکلیں اختیار کرتے رہے ہیں۔

اس تاریخ میں باہمی تجارت اور ثقافتی میل جول کے ساتھ سیاسی کشمکش، عسکری حملے اور معاشی مفادات کے تصادم بھی شامل رہے ہیں۔ یہی مختلف اور بعض اوقات متضاد تجربات سندھ اور افغان و پشتون خطے کے تعلقات کو ایک پیچیدہ مگر اہم تاریخی موضوع بناتے ہیں۔