اس دور کی باتیں جب وادی سندھ کے وسیع خطے میں دریاؤں، زرخیز زمینوں اور جنگلات کے درمیان شہر آباد تھے۔
بین النہرین کی سرزمین پر جب قبل مسیح کے تیسرے ہزارے میں بڑے شہر، عبادت گاہیں اور شاہی مراکز ترقی کر رہے تھے، اس وقت وہاں کے حکمرانوں اور اشرافیہ کو ایسی نادر اشیا اور خام مال کی ضرورت تھی جو مقامی طور پر دستیاب نہیں تھے۔
ان دور دراز تجارتی اشیا میں ہاتھی دانت بھی شامل تھا۔ وادی سندھ کی تہذیب اور بین النہرین کے درمیان اس دور میں طویل فاصلے کی تجارت کے شواہد ملتے ہیں، جبکہ سومیری اور اکادی تحریری ذرائع میں ملوہا نامی ایک مشرقی خطے کا ذکر موجود ہے۔
بیشتر ماہرین ملوہا کو وسیع تر وادی سندھ کے خطے سے منسلک کرتے ہیں، اگرچہ اس شناخت پر علمی بحث مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
ملوہا اور بین النہرین کا تحریری رشتہ
ملوہا کے ساتھ بین النہرین کے روابط کا ایک اہم ثبوت سومیری اور اکادی دور کی مٹی کی تختیوں میں ملتا ہے۔ ان تحریروں میں ملوہا کو ایک دور دراز خطے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جہاں سے مختلف قیمتی اشیا بین النہرین پہنچتی تھیں۔
اکدی بادشاہ سرگون کے عہد سے منسوب ایک تحریر میں ملوہا، ماگان اور دلمون کے جہازوں کا ذکر ملتا ہے جو اکد کے ساحل تک پہنچتے تھے۔ ماگان کو عام طور پر عمان کے خطے اور دلمون کو بحرین سے منسلک کیا جاتا ہے، جبکہ ملوہا کو وسیع تر وادی سندھ سے جوڑا جاتا ہے۔
ملوہا سے منسوب اشیا میں قیمتی پتھر، عقیق، لکڑی اور دیگر مصنوعات شامل تھیں۔ ہاتھی دانت کے حوالے سے خاص طور پر بعد کے بین النہرینی تحریری ریکارڈ اہم ہیں، جن میں ملوہا کے ہاتھی دانت سے بنے پرندوں کا ذکر ملتا ہے۔
تاہم ملوہا کو براہ راست ‘ہاتھی دانت کی سرزمین’ قرار دینا درست نہیں۔ قدیم تحریری شواہد ملوہا کو مختلف اشیا کے تجارتی خطے کے طور پر بیان کرتے ہیں، اور ہاتھی دانت ان اشیا میں سے ایک تھا۔

وادی سندھ میں ہاتھی دانت کی کاریگری
وادی سندھ کے متعدد شہروں سے ہاتھی دانت کی مصنوعات اور ان کی تیاری کے شواہد ملے ہیں۔ ہڑپہ، موہنجو دڑو، چنہو دڑو، لوتھل اور سرکوٹڈا جیسے مقامات سے ہاتھی دانت کی اشیا یا اس کے ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں۔
موہنجو دڑو میں ہاتھی دانت کا استعمال خاص طور پر نمایاں تھا۔ یہاں سے روزمرہ استعمال اور آرائش سے متعلق متعدد اشیا ملی ہیں، جن میں کنگھیاں، پنیں، سرمہ لگانے کی سلاخیں، کھیل کے مہرے، پانسے، چھوٹی تختیاں، سلاخیں، آرائشی جڑاؤ اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
لوتھل بھی ہاتھی دانت کی کاریگری کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں کھدائی کے دوران ہاتھی دانت کے کٹے ہوئے ٹکڑے، تیار اور نیم تیار مصنوعات اور مختلف اشیا کے اجزا ملے ہیں۔ ان میں کنگھیاں، سلاخیں، جڑاؤ کے ٹکڑے اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
لوتھل ایک اہم تجارتی مرکز بھی تھا اور وہاں سے ہاتھی دانت کی اشیا سمیت مختلف مصنوعات کی دور دراز تجارت کے شواہد ملتے ہیں۔
ہاتھی دانت سے بننے والی اشیا
ہڑپائی معاشرے میں ہاتھی دانت صرف شاہی آرائش تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے مختلف روزمرہ اور آرائشی اشیا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ان میں کنگھیاں، سرمہ لگانے کی سلاخیں، بالوں کی پنیں، پانسے، کھیل کے مہرے، جڑاؤ کے ٹکڑے، سلاخیں، تختیاں، ترازو کے اجزا اور دیگر ذاتی آرائشی اشیا شامل تھیں۔
یہ مصنوعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وادی سندھ کے کاریگر ہاتھی دانت کو کاٹنے، تراشنے، سوراخ کرنے اور باریک آرائشی کام کے لیے مخصوص فنی مہارت رکھتے تھے۔
حیوانی نقوش اور وادی سندھ کا فن
وادی سندھ کے فن میں جانوروں کی تصویری نمائندگی نمایاں خصوصیت ہے۔ مہروں پر ایک سینگ والے جانور، بیل، ہاتھی، گینڈے اور دیگر جانوروں کی تصاویر ملتی ہیں۔
ہاتھی دانت کی بعض مصنوعات پر بھی آرائشی نقوش پائے گئے ہیں، تاہم ہر مخصوص حیوانی نقش کو کسی خاص مذہبی علامت، قبیلے یا تجارتی خاندان کی شناخت قرار دینا محتاط علمی تحقیق کے بغیر درست نہیں ہوگا۔
اسی طرح بارہ سنگھے یا ہرن کے نقش کو لازماً کسی مخصوص مذہبی یا تجارتی علامت سے جوڑنے کا قطعی ثبوت موجود نہیں۔

وادی سندھ کی دستکاری کا وسیع نیٹ ورک
ہاتھی دانت کی صنعت کو وادی سندھ کی دوسری دستکاریوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
عقیق کے منکے، صدف کی اشیا، دھاتی مصنوعات اور دیگر قیمتی اشیا بھی دور دراز علاقوں تک پہنچتی تھیں۔ لوتھل اور دوسرے مراکز میں عقیق اور صدف کی کاریگری کے شواہد ملتے ہیں، جبکہ ہڑپائی طرز کی اشیا خلیج فارس کے مختلف مقامات اور بین النہرین تک پہنچی ہوئی ملتی ہیں۔
موہنجو دڑو کی کانسی کی رقاصہ اور دیگر دھاتی مصنوعات ہڑپائی کاریگروں کی دھات کاری کی مہارت کی مثالیں ہیں، لیکن ان اشیا کو ہاتھی دانت کی تجارت سے براہ راست جوڑنے کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔
اسی طرح موہنجو دڑو سے ملنے والے معروف ‘پجاری بادشاہ’ کے مجسمے کے لباس پر موجود تین پتیوں کے نقش کو براہ راست بین النہرین کے شاہی ظروف سے جوڑنا یا اسے بعد کی سندھی اجرک تک مسلسل روایت قرار دینا ثابت شدہ تاریخی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
لوتھل سے خلیج فارس تک بحری تجارت
وادی سندھ اور بین النہرین کے درمیان تجارت کے اہم راستوں میں خلیج فارس کا بحری راستہ شامل تھا۔
لوتھل وادی سندھ کے اہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا اور وہاں ایک ایسا بندرگاہی ڈھانچہ موجود تھا جسے ماہرین طویل عرصے سے بحری تجارت سے جوڑتے آئے ہیں۔ جدید تحقیق بھی لوتھل کو عقیق، ہاتھی دانت اور دیگر مصنوعات کی تجارت کے ایک اہم مرکز کے طور پر بیان کرتی ہے۔
اس بحری تجارتی نظام میں دلمون اور ماگان اہم واسطہ مراکز تھے۔ دلمون کو عام طور پر موجودہ بحرین اور ماگان کو زیادہ تر عمان کے خطے سے منسلک کیا جاتا ہے۔
تاہم ہر تجارتی سفر کا مکمل راستہ معلوم نہیں۔ یہ کہنا کہ ہر ہڑپائی جہاز لازماً لوتھل سے روانہ ہو کر عمان، پھر بحرین اور اس کے بعد براہ راست اور یا دیگر بین النہرینی شہروں تک پہنچتا تھا، موجودہ شواہد سے ثابت نہیں۔
اس کے بجائے آثارِ قدیمہ اور تحریری ریکارڈ اس وسیع بحری تجارتی نیٹ ورک کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں وادی سندھ، دلمون، ماگان اور بین النہرین ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

بین النہرین میں ہڑپائی اشیا کے شواہد
بین النہرین کے مختلف مقامات سے وادی سندھ سے منسلک اشیا دریافت ہوئی ہیں۔ ان میں ہڑپائی طرز کی مہریں، منکے، مٹی کے برتن اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
عراق کے شہر اور سے ملنے والی ایک مہر پر ہڑپائی طرز کی علامات موجود ہیں۔ برٹش میوزیم کے مطابق ملوہا سے تعلق رکھنے والے تاجروں کی موجودگی یا موسمی آمد و رفت کے شواہد بین النہرین اور خلیج فارس کے مختلف مقامات سے ملتے ہیں۔
ہاتھی دانت کے بارے میں بھی آثارِ قدیمہ کے شواہد اہم ہیں۔ وادی سندھ کے مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں ہاتھی دانت کی اشیا ملی ہیں، جبکہ خلیج فارس اور بین النہرین کے خطے میں ہڑپائی طرز کی ہاتھی دانت کی کنگھیوں اور دیگر مصنوعات کی موجودگی طویل فاصلے کی تجارت کی تصویر کو مزید واضح کرتی ہے۔
تاہم ہر ہاتھی دانت کی شے کو یقینی طور پر وادی سندھ سے درآمد شدہ قرار دینا ممکن نہیں، کیونکہ قدیم دور میں ہاتھی دانت مختلف جغرافیائی علاقوں سے حاصل کیا جا سکتا تھا اور بعض اشیا کے خام مال کی اصل کا تعین صرف ظاہری شکل سے نہیں کیا جا سکتا۔
ملوہا کے تاجر اور مترجم
وادی سندھ اور بین النہرین کے تعلقات صرف اشیا کے تبادلے تک محدود نہیں تھے۔
بین النہرین کی تحریری دستاویزات میں ملوہا سے متعلق افراد کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ایک معروف اکادی دور کی مہر پر ‘ملوہا کی زبان کے مترجم’ کا ذکر موجود ہے، جو اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان زبان اور تجارت سے متعلق براہ راست رابطے موجود تھے۔
تحریری شواہد میں ‘ملوہا گاؤں’ کا ذکر بھی ملتا ہے، جسے بعض ماہرین بین النہرین میں ہڑپائی تاجروں کی ایک تجارتی بستی سے جوڑتے ہیں۔ تاہم اس بستی کی نوعیت، اس کے رہائشیوں اور ان کی تعداد کے بارے میں علمی بحث موجود ہے، اس لیے اسے مکمل خود مختار ‘نوآبادی’ قرار دینا محتاط اندازِ بیان نہیں ہوگا۔

ہاتھی دانت کی تجارت اور ملوہا
وادی سندھ میں ہاتھی دانت کی وسیع پیمانے پر کاریگری، خلیج فارس کے مراکز میں ہڑپائی طرز کی اشیا اور بین النہرین کے تحریری شواہد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
تیسری ہزاری قبل مسیح کے اختتام اور دوسری ہزاری کے آغاز تک وادی سندھ، خلیج فارس اور بین النہرین کے درمیان روابط موجود رہے۔ تاہم ہاتھی دانت کی تمام اشیا کا براہ راست ماخذ ملوہا تھا، یہ ہر معاملے میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
تجارت کا بدلتا ہوا منظر
تقریباً 1900 قبل مسیح کے بعد وادی سندھ کی شہری تہذیب میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ بڑے شہری مراکز کی ساخت بدلی، طویل فاصلے کی تجارت کے بعض نیٹ ورک کمزور ہوئے اور مختلف علاقوں میں مقامی ثقافتی روایات نمایاں ہونے لگیں۔
یہ تبدیلیاں صرف ایک وجہ سے نہیں ہوئیں۔ دریائی نظام، موسمی حالات، معاشی تبدیلیاں اور علاقائی عوامل اس وسیع تبدیلی کے ممکنہ عوامل میں شامل رہے ہیں۔
اسی دور میں ملوہا کے ساتھ بین النہرین کے روابط بھی پہلے کے مقابلے میں کم نمایاں ہوتے گئے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وادی سندھ اور مغربی ایشیا کے درمیان تمام رابطے اچانک ختم ہوگئے تھے۔
وادی سندھ کی تہذیب کو صرف زراعت اور شہری منصوبہ بندی تک محدود سمجھنا اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
ہڑپائی شہروں میں ہاتھی دانت، عقیق، صدف، دھات اور دیگر مواد سے تیار کی جانے والی اشیا اس پیچیدہ دستکاری اور تجارتی معیشت کی نشاندہی کرتی ہیں جو مقامی ضروریات کے ساتھ ساتھ دور دراز منڈیوں سے بھی جڑی ہوئی تھی۔
لوتھل، موہنجو دڑو، ہڑپہ اور دیگر مراکز سے ملنے والی ہاتھی دانت کی مصنوعات، خلیج فارس کے علاقوں میں ہڑپائی طرز کی اشیا، بین النہرین میں ملنے والی مہریں اور مٹی کی تختیوں میں ملوہا کا ذکر ایک ایسے قدیم تجارتی نظام کی گواہی دیتے ہیں جو آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے درمیان قائم تھا۔
یہی شواہد ہمیں بتاتے ہیں کہ قدیم دنیا ایک دوسرے سے کٹی ہوئی تہذیبوں کا مجموعہ نہیں تھی۔ دریاؤں، صحراؤں اور سمندروں کے درمیان انسان، اشیا، ہنر اور خیالات ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتے تھے۔
وادی سندھ بھی اسی قدیم بین الاقوامی دنیا کا ایک اہم حصہ تھی، جہاں کے کاریگر اور تاجر اپنی مصنوعات کو مقامی بستیوں سے کہیں دور، خلیج فارس کے پار بین النہرین تک پہنچاتے تھے۔






















