وادی سندھ کی تہذیب، یعنی ہڑپائی دور، تقریباً 2600 سے 1900 قبل مسیح تک پھیلا ہوا تھا۔ اس تہذیب کا رسم الخط قدیم دنیا کے عظیم ترین حل طلب معموں میں سے ایک ہے۔ پیش نظر تحقیقی مقالے میں وادی سندھ کے کتبات کی ساختی، شماریاتی اور کتبہ شناسی کی خصوصیات کا سائنسی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
اس مضمون میں بنیادی کتبہ شناسی کے معطیات، بین الاقوامی سطح پر جاری تکنیکی کوششوں اور خصوصاً پروفیسر اسکو پارپولا کے لسانی و ریبس ماڈل اور ڈاکٹر راجیش پی این راؤ کے کمپیوٹیشنل اینٹروپی ماڈل کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔
نتائج سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگرچہ حتمی لسانی شناخت روزیٹا اسٹون کی مانند کسی ایک دو لسانی کتبے کی عدم دستیابی کے باعث ابھی تک ممکن نہیں ہوئی، تاہم ریاضیاتی اور سائنسی شواہد اس رسم الخط میں باقاعدہ ساخت اور علامتی ترتیب کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تاریخی تناظر
برصغیر پاک و ہند میں وادی سندھ کے اس دور کے شہری مراکز موہن جو دڑو، ہڑپہ، ڈھولاویرا اور لوتھل سے ملنے والی مہروں اور برتنوں پر کندہ علامات نے گزشتہ ایک صدی سے آثار قدیمہ کے ماہرین کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔
قدیم میسوپوٹیمیا کے خطِ مسماری اور قدیم مصر کے ہیئروگلفس کے برعکس، وادی سندھ کی تحریر کا کوئی ایسا دو لسانی کتبہ، مثلاً روزیٹا اسٹون، دریافت نہیں ہو سکا جو اس کے صوتی اور نحوی رازوں کو افشا کر سکے۔
وادی سندھ کے رسم الخط کے مطالعے میں سب سے بڑی رکاوٹ متن کا انتہائی مختصر ہونا ہے۔ دریافت شدہ متون کی اکثریت صابن پتھر کی مہروں، مٹی کی پٹیوں اور ہاتھی دانت کی اشیا پر ثبت ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ علامات صرف علامتی یا خاندانی نشانات ہیں یا کسی باقاعدہ بولی جانے والی زبان کی تحریری شکل۔
ساختی اور شماریاتی حقائق
ان کتبات کا احاطہ کرنے والے عالمی ڈیٹا بیس کے تجزیے سے چند بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں۔
علامات کی تعداد
مختلف کتبات سے کل 400 سے 600 کے درمیان منفرد علامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 200 علامات بنیادی ہیں جو بار بار تکرار کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں۔ اتنی کثیر تعداد اس بات کی نفی کرتی ہے کہ یہ نظام محض ایک الفابیٹ ہے، بلکہ اس کے علامتی اور صوتی مرکب نظام ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔
تحریر کی سمت
کتبہ شناسی کے ماہرین کے مطابق یہ تحریر بنیادی طور پر دائیں سے بائیں لکھی جاتی تھی۔ اس کی ایک اہم دلیل یہ ہے کہ مہروں کے دائیں کنارے پر کندہ کاری کشادہ اور واضح ہے، جبکہ بائیں کنارے تک پہنچتے پہنچتے جگہ کی تنگی کے باعث علامات کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے یا وہ ایک دوسرے پر چڑھ جاتی ہیں۔
طویل متون میں کبھی کبھار بوسٹروفیڈن انداز بھی ملتا ہے، جس میں ایک سطر دائیں سے بائیں اور اگلی سطر بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے۔

متن کا حجم
متون کی اوسط لمبائی پانچ سے چھ علامات پر مشتمل ہے۔ سب سے طویل دریافت شدہ متون ڈھولاویرا اور موہن جو دڑو سے ملے ہیں، جن میں تقریباً 27 سے 34 علامات موجود ہیں۔
عالمی سطح پر جاری سائنسی اور تکنیکی اقدامات: وادی سندھ کے رسم الخط کو حل کرنے کے لیے مختلف خطوں میں متوازی سائنسی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پاکستان
محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر پاکستان کی جانب سے موہن جو دڑو اور ہڑپہ کی مہروں اور برتنوں پر کندہ تحریروں کے تحفظ اور اعلیٰ معیار کی سہ جہتی عکس بندی پر کام کیا جا رہا ہے، تاکہ بین الاقوامی محققین کو کتبات کا انتہائی باریک سطح پر مطالعہ کرنے کے لیے بہتر مواد فراہم کیا جا سکے۔
بھارت
تمل ناڈو حکومت اور بھارتی تحقیقی اداروں نے آئراوتھم مہادیون کے تیار کردہ کیٹلاگ کی بنیاد پر جدید تجزیاتی مطالعات شروع کیے ہیں۔ 2025 میں آئراوتھم مہادیون کے نام سے منسوب ایک ملین ڈالر کا عالمی انعام اس تحریر کی درست سائنسی خوانی کے لیے مختص کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
آئراوتھم مہادیون ایک ممتاز بھارتی محقق، کتبہ شناس اور سول سرونٹ تھے، جو وادی سندھ کی تہذیب کے رسم الخط اور تمل برہمی کتبات پر اپنی تحقیق کے لیے معروف تھے۔ وہ 2 اکتوبر 1930 کو پیدا ہوئے اور 26 نومبر 2018 کو وفات پا گئے۔
یورپ
یورپی ماہرین لسانیات نے بین النہرین اور وادی سندھ کے تجارتی تعلقات کی روشنی میں سمیری اور اکادی متون میں ملنے والے ممکنہ سندھی ناموں کا تقابلی مطالعہ کیا ہے۔
امریکہ
واشنگٹن یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین مصنوعی ذہانت، عصبی نیٹ ورکس اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ کے ماڈلز کو قدیم تحریروں پر لاگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسکو پارپولا کا لسانی ماڈل اور ریبس اصول
فن لینڈ کے ماہر لسانیات پروفیسر اسکو پارپولا کا کام اس میدان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی مرتب کردہ کتاب ‘وادی سندھ کی مہروں اور کتبات کا مجموعہ’ بین الاقوامی تحقیق میں ایک اہم مرجع سمجھی جاتی ہے۔
پارپولا نے اپنی معروف کتاب ‘وادی سندھ کے رسم الخط کی خواندگی’ میں یہ موقف اختیار کیا کہ ہڑپائی زبان کی جڑیں قدیم دراوڑی لسانی خاندان سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس کے لیے ریبس اصول استعمال کیا۔
مچھلی کی علامت
دراوڑی زبانوں میں مچھلی کے لیے ‘مین’ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قدیم دراوڑی میں اسی لفظ کا ایک ہم صوت مفہوم ‘ستارہ’ بھی بیان کیا جاتا ہے۔

ترکیبی علامت
جب مچھلی کی علامت کے ساتھ چھ لکیریں ملا کر لکھی جاتی ہیں تو پارپولا کے مطابق یہ دراوڑی زبان میں ‘آرو مین’ بنتا ہے، جس کا مفہوم ‘چھ ستارے’ یعنی ثریا یا پروین سے جوڑا جاتا ہے۔
پارپولا کے مطابق مہروں پر کندہ کتبات مذہبی القابات، فلکیاتی اشاروں اور تاجروں کے ذاتی و خاندانی ناموں پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔
راجیش راؤ کا کمپیوٹیشنل اینٹروپی ماڈل
سال 2009 میں واشنگٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر راجیش پی این راؤ اور ان کی ٹیم نے معتبر سائنسی جریدے سائنس میں ایک مقالہ شائع کیا، جس نے اس بحث کو ایک نیا رخ دیا۔
ریاضیاتی منہج
اسٹیو فارمر اور مائیکل وٹزل نے 2004 میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہڑپائی علامات زبان نہیں بلکہ محض غیر لسانی مذہبی یا سیاسی نشانات ہیں۔
اس کے جواب میں راؤ اور ان کے ساتھیوں نے مارکوو ماڈلز اور مشروط اینٹروپی کے ریاضیاتی طریقے استعمال کیے۔
یہ طریقہ اس بات کی پیمائش کرتا ہے کہ اگر ایک علامت پہلے آئے تو اس کے بعد دوسری علامت کے آنے کے امکانات کس حد تک قابل پیش گوئی ہیں اور نظام میں بے ترتیبی کتنی ہے۔
سائنسی نتائج
بے ترتیب نظام: اگر علامات بالکل بے ترتیب ہوں تو اینٹروپی کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔
سخت ضابطہ شدہ نظام: کمپیوٹر زبانوں یا ٹریفک کے نشانات جیسے نظاموں میں اینٹروپی انتہائی کم ہوتی ہے، کیونکہ ان کا ڈھانچہ سخت اور محدود ہوتا ہے۔
نتائج: راؤ کی ٹیم نے دریافت کیا کہ وادی سندھ کی علامات کی اینٹروپی کا گراف انسانی قدرتی زبانوں، مثلاً سنسکرت، تامل اور انگریزی، کے نمونوں سے مماثلت رکھتا ہے۔
اس تحقیق نے یہ امکان مضبوط کیا کہ ہڑپائی تحریر میں قدرتی زبانوں جیسی باقاعدہ ساخت اور ترتیب موجود تھی۔
درپیش چیلنجز اور نتیجہ
وادی سندھ کے رسم الخط کو پڑھنے میں درپیش سب سے بڑے چیلنجز کا خلاصہ یہ ہے: روزیٹا اسٹون کی عدم دستیابی
کسی معلوم زبان کے ساتھ تقابلی ترجمہ نہ ہونے کی وجہ سے علامات کی صوتی اقدار کی حتمی تصدیق ممکن نہیں۔
مختصر متون: پانچ سے چھ علامات پر مشتمل زیادہ تر متون کی بنیاد پر مکمل قواعدی ساخت کا تعین مشکل ہے۔
بادشاہوں کے ناموں کی عدم موجودگی
دیگر قدیم تہذیبوں کے برعکس یہاں ایسے طویل کتبے دستیاب نہیں ہوئے جن میں فاتحین یا بادشاہوں کی طویل داستانیں درج ہوں۔
جدید تجزیاتی طریقوں اور کتبہ شناسی کے امتزاج نے وادی سندھ کے رسم الخط کے بارے میں اہم شواہد فراہم کیے ہیں۔ اسکو پارپولا کا لسانی ماڈل اور راجیش راؤ کا کمپیوٹیشنل اینٹروپی ماڈل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ علامات محض اتفاقی نشانات نہیں بلکہ ایک منظم علامتی نظام کا حصہ ہو سکتی ہیں۔
تاہم، جب تک آثار قدیمہ کی کسی نئی کھدائی سے کوئی طویل کتبہ یا دو لسانی لوح دریافت نہیں ہوتی، موہن جو دڑو اور ہڑپہ کی مہریں ایک ایسی خاموش تاریخ کی علامت بنی رہیں گی جس کی زبان آج بھی پوری طرح پڑھی نہیں جا سکی۔

