سندھ کے ضلع خیرپور کے گمبٹ شہر میں قائم پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، جسے عام طور پر گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا گمس کہا جاتا ہے، سندھ کے ان سرکاری طبی اداروں میں شامل ہے جہاں پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
وسیع رقبے پر قائم اس طبی ادارے میں مختلف تخصصی شعبوں کے ساتھ کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے بھی جدید سہولیات موجود ہیں۔ گمس میں آنکولوجی، نیوکلیئر میڈیسن، کینسر کیئر اور طبی تحقیق سے متعلق شعبے ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں پیچیدہ مریضوں کے علاج کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین باہمی تعاون سے کام کرتے ہیں۔
کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے گمس میں پیٹ سی ٹی اسکین، سائیکلوٹرون، گاما نائف اور ریڈی ایشن تھراپی جیسی سہولیات استعمال کی جاتی ہیں۔ ریڈی ایشن آنکولوجی میں جدید تکنیکوں کے ذریعے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ پیچیدہ کیسز میں مختلف طبی شعبوں کے ماہرین مریض کی صورتحال کا جائزہ لے کر علاج کا منصوبہ تشکیل دیتے ہیں۔
گمس میں موجود گاما نائف ٹیکنالوجی خاص طور پر دماغی رسولیوں اور بعض پیچیدہ دماغی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ ادارے کے طبی ریکارڈ میں نیورو ٹیومر بورڈ کے ذریعے پیچیدہ مریضوں کے علاج اور ہر سال 200 سے زیادہ برین ٹیومر کیسز کی سرجری کا ذکر بھی ملتا ہے۔

گمس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سرکاری نظام کے تحت متعدد پیچیدہ اور مہنگے علاج مریضوں کو مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ 2026 میں سندھ اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران گمس میں 4,725 آنکولوجی مریضوں کا علاج کیا گیا۔
اسی عرصے کے دوران ادارے میں 182 لیور ٹرانسپلانٹ، سات گردوں کے ٹرانسپلانٹ اور 14 بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی مفت کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گمس میں طبی خدمات صرف کینسر کے علاج تک محدود نہیں بلکہ مختلف پیچیدہ بیماریوں کے لیے بھی یہاں تخصصی علاج کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔
کینسر کے علاج کو مزید جدید بنانے کے لیے گمس میں پروٹون بیم تھراپی کے منصوبے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ 2021 میں سندھ حکومت نے گمس میں پروٹون تھراپی سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً ایک ارب دو کروڑ روپے اور روزانہ 50 مریضوں کے علاج کی گنجائش بتائی گئی تھی۔
بعد کے منصوبہ جاتی ریکارڈ میں سینٹر آف بایولوجکس اینڈ کینسر ریسرچ اینڈ ٹریٹمنٹ کا منصوبہ بھی شامل کیا گیا۔ اس میں جین تھراپی، پروٹون بیم تھراپی اور جدید پی ای ٹی ایکسپلورر کے ذریعے تحقیق اور تشخیص جیسے اہداف شامل کیے گئے۔
تاہم منصوبہ جاتی دستاویزات میں کسی سہولت کا شامل ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ سہولت مکمل طور پر فعال بھی ہو چکی ہے۔ اس لیے پروٹون بیم تھراپی، جین تھراپی اور جدید پی ای ٹی ایکسپلورر جیسی سہولیات کو گمس کی موجودہ فعال خدمات میں شمار کرتے وقت تازہ ترین سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
گمس کی موجودہ حیثیت کو سمجھنے کے لیے اس ادارے کی تاریخ بھی اہم ہے۔ یہ ادارہ ابتدا میں صرف دو کمروں پر مشتمل ایک ڈسپنسری تھا، جس نے وقت کے ساتھ پہلے ہسپتال اور پھر ایک بڑے تخصصی طبی ادارے کی شکل اختیار کی۔ آج یہاں آنکولوجی، ٹرانسپلانٹ، نیفرولوجی، کارڈیالوجی، نیورو سرجری اور دیگر تخصصی شعبوں میں طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

گمس کا ماڈل اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہاں ایسے علاج اور طبی سہولیات سرکاری نظام کے تحت فراہم کی جاتی ہیں جن کی نجی شعبے میں لاگت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس سے خصوصاً ان مریضوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
گمبٹ کا یہ ادارہ اس تبدیلی کی ایک مثال بن چکا ہے کہ ایک محدود وسائل والی ابتدائی طبی سہولت کس طرح وقت کے ساتھ ایک بڑے تخصصی طبی مرکز میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ آج گمس میں جدید تشخیص، کینسر کیئر، ٹرانسپلانٹ اور دیگر پیچیدہ طبی خدمات ایک ہی ادارے کے اندر فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
گمس کی کہانی صرف جدید مشینوں اور طبی ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں، بلکہ سندھ کے ایک ایسے سرکاری طبی ادارے کی داستان بھی ہے جس نے بنیادی صحت کی سہولت سے سفر شروع کرکے پیچیدہ اور تخصصی علاج کے ایک بڑے مرکز تک رسائی حاصل کی۔
