Tag: کینسر

  • کرونا اور فلو وائرس کے شدید انفیکشن کے سالوں بعد بھی پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، نئی تحقیق

    کرونا اور فلو وائرس کے شدید انفیکشن کے سالوں بعد بھی پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، نئی تحقیق

    ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق شدید وائرل انفیکشن پھیپھڑوں کے مدافعتی خلیات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں جن کے باعث وہاں طویل عرصے تک سوزش برقرار رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی مسلسل سوزش مہینوں یا حتیٰ کہ برسوں بعد پھیپھڑوں میں کینسر کے ٹیومر بننے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ ویکسینیشن اس خطرناک عمل کو بڑی حد تک روک سکتی ہے۔

    امریکہ کی یونیورسٹی آف ورجینیا ہیلتھ کے محققین کے مطابق کووڈ-19 یا شدید فلو کے کیسز صرف عارضی بیماری تک محدود نہیں رہتے بلکہ پھیپھڑوں میں ایسی طویل المدتی تبدیلیاں بھی پیدا کر سکتے ہیں جو بعد میں کینسر کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق خاص طور پر وہ مریض جنہیں شدید انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا، ان میں بعد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔

    یونیورسٹی آف ورجینیا کے اسکول آف میڈیسن کے سائنسدان ڈاکٹر جی سُن کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے مطابق شدید سانس کی وائرل بیماریوں کے بعد پھیپھڑوں کے مدافعتی خلیات میں ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جو مہینوں یا سالوں بعد ٹیومر کی افزائش کو آسان بنا دیتی ہیں۔ ڈاکٹر سُن کا کہنا تھا کہ کووڈ یا شدید فلو پھیپھڑوں میں دیرپا سوزش پیدا کر سکتا ہے، جو بعد میں کینسر کے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سانس کی بیماریاں جیسے فلو اور کووڈ-19 پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کی عام وجوہات میں شامل ہیں، لیکن اس نقصان اور مستقبل میں کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق اب تک پوری طرح واضح نہیں تھا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے محققین نے لیبارٹری میں چوہوں پر تجربات کیے اور انسانی مریضوں کے ڈیٹا کا بھی تجزیہ کیا۔

    نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن چوہوں کو شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن کا سامنا ہوا، ان میں بعد میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ زیادہ تھا۔ انسانی مریضوں کے ڈیٹا میں بھی اسی طرح کا رجحان سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق وہ افراد جو کووڈ-19 کے باعث اسپتال میں داخل ہوئے تھے، ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کی شرح تقریباً 1.24 گنا زیادہ دیکھی گئی۔ یہ اضافہ اس بات سے قطع نظر تھا کہ مریض سگریٹ نوشی کرتے تھے یا انہیں دیگر طبی بیماریاں لاحق تھیں۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کا سب سے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے، تاہم اب اس تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شدید وائرل سانس کی بیماریوں کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    چوہوں پر کیے گئے تجربات میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ شدید انفیکشن کے بعد پھیپھڑوں کے مدافعتی خلیات، خاص طور پر نیوٹروفِل اور میکروفیج، غیر معمولی انداز میں کام کرنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں مسلسل سوزش کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے ماہرین “پرو ٹیومر” کیفیت قرار دیتے ہیں، یعنی ایسی حالت جو کینسر کے بڑھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پھیپھڑوں کے اندرونی خلیات اور سانس لینے میں مدد دینے والی باریک تھیلیوں یعنی ایلوولی میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

    تحقیق کے دوران ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا۔ جن افراد نے پہلے سے ویکسین لگوا رکھی تھی، ان کے پھیپھڑوں میں وہ خطرناک تبدیلیاں بڑی حد تک پیدا نہیں ہوئیں جو بعد میں کینسر کے خطرے سے منسلک ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ویکسین مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور بیماری کی شدت کم کر دیتی ہے، جس سے پھیپھڑوں کو طویل المدتی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو شدید کووڈ-19 یا نمونیا سے صحت یاب ہو چکے ہیں، اس لیے یہ نتائج طبی نگہداشت کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو پہلے سے سگریٹ نوشی کرتے رہے ہیں، انہیں مستقبل میں پھیپھڑوں کے کینسر کی زیادہ محتاط نگرانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق مستقبل میں ممکن ہے کہ ایسے مریضوں کے لیے سی ٹی اسکین کے ذریعے باقاعدہ اسکریننگ کی سفارش کی جائے تاکہ پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹر بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ شدید انفیکشن کے بعد کن افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ ویکسین نہ صرف فوری بیماری سے بچاتی ہے بلکہ طویل المدتی پیچیدگیوں، حتیٰ کہ ممکنہ کینسر کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔