سندھ کے ضلع خیرپور کے شہر گمبٹ میں قائم گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے جگر کی پیوندکاری کے شعبے میں پاکستان بھر میں اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے۔
اس مرکز کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مستحق مریضوں کو جگر کی پیوندکاری مفت فراہم کی جاتی ہے، جس کے اخراجات کی بنیادی مالی معاونت حکومت سندھ کرتی ہے۔
جنوری 2016 میں قائم ہونے والے اس ادارے کا مقصد جدید اور پیچیدہ طبی سہولیات کو صرف بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے دور دراز علاقوں کے مریضوں تک پہنچانا تھا۔ گمبٹ میں اس نوعیت کے علاج کی سہولت نے ان مریضوں کے لیے ایک نیا راستہ پیدا کیا جن کے لیے جگر کی پیوندکاری کے نجی شعبے میں آنے والے بھاری اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں۔
پاکستان میں جگر کی پیوندکاری مہنگے ترین طبی علاج میں شمار ہوتی ہے اور نجی شعبے میں اس پر لاکھوں روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں مفت ٹرانسپلانٹ کی سہولت خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
گمبٹ میں ٹرانسپلانٹ کا سفر غیر ملکی ماہرین کی معاونت سے شروع ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں جرمنی اور دیگر ممالک سے آنے والے ماہر سرجنوں نے یہاں آپریشن کیے۔ بعد ازاں ادارے نے اپنی مقامی ماہر طبی ٹیم تیار کی، جو پیچیدہ جگر کی پیوندکاری کے آپریشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 2016 سے اب تک یہاں 1,500 سے زائد مفت جگر کی پیوندکاریاں کی جا چکی ہیں۔ اس پروگرام کی رسائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1,000 ٹرانسپلانٹ مکمل ہونے کے مرحلے پر مریضوں کی ایک بڑی تعداد سندھ سے باہر سے گمبٹ پہنچی تھی۔
سندھ حکومت کے اس وقت جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1,000 جگر ٹرانسپلانٹ مکمل ہونے تک 460 مریض سندھ، 347 پنجاب، 141 بلوچستان، 36 خیبر پختونخوا، 9 کشمیر اور 4 افغانستان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس طرح ان 1,000 مریضوں میں نصف سے زیادہ کا تعلق سندھ کے علاوہ دیگر علاقوں سے تھا۔
گمبٹ کی اہمیت صرف مفت علاج تک محدود نہیں۔ ادارے میں ایسے پیچیدہ مریضوں کے علاج پر بھی توجہ دی گئی ہے جن کے لیے خصوصی طبی مہارت، تجربہ اور جدید سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرکز سندھ کے ایک نسبتاً چھوٹے شہر میں قائم ہونے کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے مریضوں کے لیے اہم طبی مرکز بن چکا ہے۔
گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق یہاں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔
گمبٹ کا تجربہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ پیچیدہ اور مہنگے طبی علاج کی سہولت کو بڑے شہری مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ایک نسبتاً دور دراز شہر میں فراہم کیا گیا۔ جگر کی پیوندکاری جیسے علاج میں مفت سہولت کی فراہمی نے ان خاندانوں کے لیے بھی علاج کا امکان پیدا کیا ہے جو نجی شعبے کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

