زبان صرف بولنے اور لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی معاشرے کی تاریخ، ثقافت، ادب، علم اور اجتماعی یادداشت کی محافظ بھی ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کسی زبان کی بقا کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کمپیوٹر اسے سمجھ سکتا ہے، اس کی آواز کو تحریر میں بدل سکتا ہے اور مصنوعی ذہانت اس میں سوال کا جواب دے سکتی ہے؟
انہی سوالات کے تکنیکی جواب تلاش کرنے کے لیے حیدرآباد میں عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات اور آرکائیوز کے انتظامی دائرے میں کام کرتا ہے اور اس کا مقصد سندھی زبان کو جدید کمپیوٹنگ، قدرتی زبان کی پروسیسنگ، مصنوعی ذہانت، مشینی ترجمے، آواز کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا کے لیے تیار کرنا ہے۔
لینگویج انجینئرنگ کا مطلب صرف زبان کی تعلیم یا لغت سازی نہیں بلکہ زبان کو کمپیوٹر کے قابل بنانا ہے، تاکہ مشین اس کے الفاظ، جملوں، معانی، آوازوں اور ساخت کو سمجھ کر مختلف ڈیجیٹل کام انجام دے سکے۔
اس کے تحت پرانی سندھی کتابوں کو اسکین کرکے قابل تدوین متن میں تبدیل کرنا، سندھی الفاظ کے باہمی تعلقات کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں محفوظ کرنا، آواز کو تحریر میں تبدیل کرنا، تحریر کو آواز میں بدلنا اور سندھی سے دوسری زبانوں میں خودکار ترجمے جیسی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جاتا ہے۔
ادارے کا نام عبدالماجد بھُرگڑی کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں سندھی کمپیوٹنگ کے ابتدائی اور اہم ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر پر سندھی لکھنے کے ابتدائی دور میں انہوں نے سندھی فونٹس اور کمپیوٹنگ کے شعبے میں بنیادی کام کیا۔
ادارے کے قیام کا قانونی عمل 2021 میں مکمل ہوا، جس کے تحت اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دی گئی اور بورڈ، ڈائریکٹر سمیت انتظامی و مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔
ادارہ سندھی آواز کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے۔ اسپیچ ٹو ٹیکسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے سندھی میں بولی گئی گفتگو کو تحریر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جبکہ ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ٹیکنالوجی لکھی ہوئی سندھی کو آواز میں بدل سکتی ہے۔
اس کے لیے مختلف علاقوں، لہجوں، تلفظ اور بولنے کے انداز سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی مقدار میں معیاری صوتی معلومات درکار ہوتی ہے، تاکہ سندھی کے لیے زیادہ جامع آواز کی ٹیکنالوجی تیار کی جاسکے۔
ادارے کا ایک نمایاں ثقافتی منصوبہ ‘بھٹائی پیڈیا’ بھی ہے، جس کا مقصد شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام، ‘شاہ جو رسالو’، لغوی معلومات، تراجم اور متعلقہ تحقیقی مواد کو ڈیجیٹل انداز میں منظم کرنا ہے۔
سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین اور عبدالماجد بھُرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کے اضافی چارج رکھنے والے ڈاکٹر شیر مہرانی کے مطابق ادارے میں سندھی زبان کے ڈیجیٹل فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
یہ کوشش صرف سندھی زبان کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں بلکہ اسے ڈیجیٹل دنیا میں قابل استعمال بنانے کی سمت ایک قدم ہے۔ آنے والے برسوں میں شاید سوال یہ نہ ہو کہ کمپیوٹر پر سندھی لکھی جاسکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سندھی زبان کو کتنی بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔
