[rank_math_breadcrumb]

‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ’، تھر میں میٹھا پانی پہنچانے والے سندھ حکومت کا منصوبہ

تھر میں پانی کی قلت صدیوں سے مقامی آبادی کی زندگی کا ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ زیر زمین پانی کئی علاقوں میں کھارا ہے، جبکہ دور دراز آبادیوں تک میٹھا پانی پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر حکومت سندھ نے ‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ فار تھر’ شروع کیا، جس کا مقصد عمرکوٹ سے تھرپارکر کے دور دراز علاقوں تک میٹھا پانی پہنچانا ہے۔

یہ منصوبہ سندھ کے محکمہ آبپاشی کے تحت عمرکوٹ سے کیتاری، تعلقہ چھاچھرو تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ذریعے عمرکوٹ اور تھرپارکر کے 70 بڑے دیہات تک پانی پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا، جہاں منصوبے کے وقت تقریباً دو لاکھ 31 ہزار افراد آباد تھے، جبکہ مستقبل میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام ڈیزائن کیا گیا۔

یہ صرف پانی کی پائپ لائن کا منصوبہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے اور آگے منتقل کرنے کا ایک مکمل نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

عمرکوٹ کے زیرو اسٹیشن پر 63 ملین گیلن گنجائش کا بڑا اوپن اسٹوریج ریزروائر قائم کیا گیا، جہاں سے پمپنگ سسٹم کے ذریعے پانی آگے منتقل کیا جاتا ہے۔ منصوبے میں ہنڈاکر کے مقام پر بوسٹر پمپنگ اسٹیشن بھی شامل ہے۔

پانی کو مختلف آبادیوں کے قریب محفوظ رکھنے کے لیے منصوبے میں مجموعی طور پر 129 زیر زمین آر سی سی ٹینک بھی شامل ہیں، جن کی گنجائش مختلف مقامات کی ضروریات کے مطابق 20 ہزار سے 80 ہزار گیلن تک ہے۔ چھاچھرو شہر میں پانچ لاکھ 50 ہزار گیلن گنجائش کا ایک بڑا آر سی سی ٹینک بھی اس نظام کا حصہ ہے۔

منصوبے کا ہدف 70 بڑے دیہات تک پانی پہنچانا ہے، جبکہ سندھ حکومت کے 2025-26 کے بجٹ میں بھی شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ فار تھر کے لیے رقم مختص کی گئی۔

تھر جیسے خشک خطے میں میٹھے پانی کی دستیابی صرف پینے کے پانی کا معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق روزمرہ زندگی، صحت اور دور دراز آبادیوں کی بنیادی ضروریات سے بھی ہے۔

شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ اسی کوشش کا حصہ ہے کہ میٹھا پانی ان آبادیوں کے قریب پہنچایا جائے جہاں پانی تک رسائی ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔