نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جسے عام طور پر این آئی سی وی ڈی یا دل کے اسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے، کی بنیاد 1963 میں رکھی گئی۔ اس وقت دل کے امراض کے علاج کے لیے مخصوص یہ ادارہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا۔
یہ ادارہ وقت کے ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا اور 1980 میں اس کی موجودہ عمارت مکمل ہوئی۔ ابتدائی طور پر 450 بستروں کے لیے قائم کیے گئے اس اسپتال میں مختلف شعبوں اور طبی سہولیات کے اضافے کے بعد بستروں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔
سندھ حکومت کے تعاون سے این آئی سی وی ڈی میں دل کے مریضوں کو علاج کی سہولیات بالمعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں، یہاں دل کے دورے کی ہنگامی صورتحال سے لے کر پیچیدہ قلبی سرجری اور دیگر جدید طریقۂ علاج تک، علاج کا نظام دن رات جاری رہتا ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق یہ ادارہ 1963 میں قائم ہوا اور اس وقت جنوبی ایشیا میں امراض قلب کے علاج کے لیے مختص اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا۔
اس اسپتال میں دل کے علاج سے متعلق متعدد بڑے شعبوں کی سہولیات موجود ہیں، جہاں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، دل کے والو کے پیچیدہ علاج، پیس میکر کی تنصیب، دل کی برقی سرگرمی سے متعلق علاج، زندگی بچانے والے جدید آلات کی تنصیب اور دیگر مداخلتی طریقۂ علاج کیے جاتے ہیں۔
این آئی سی وی ڈی میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، اوپن ہارٹ سرجری، پیس میکر کی تنصیب، ادویات، داخلہ اور کئی پیچیدہ قلبی طریقۂ علاج بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔
پروفیسر طاہر صدیق کے مطابق فالج کے ایسے مریض جن کے دماغ میں خون کا لوتھڑا موجود ہو اور فوری علاج کی ضرورت ہو، این آئی سی وی ڈی میں موقع پر ہی ضروری طبی عمل کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ایسے 400 سے زیادہ کیسز کیے جا چکے ہیں۔
یہ ادارہ صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، طبی تربیت اور جدید قلبی طب کے لیے بھی ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔
صرف 2025 میں این آئی سی وی ڈی کے پورے نظام میں 16 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اسی سال 15,871 قلبی انجیوپلاسٹیاں، 2,692 اوپن ہارٹ سرجریاں، 3,069 بچوں کے قلبی مداخلتی علاج اور 1,184 مستقل پیس میکر لگائے گئے۔
یہ اعداد و شمار اس بڑے طبی نظام کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں دل کے پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل، پاکستان کی نئی نسل کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی صحافت ہے۔
