Tag: این آئی سی وی ڈی

  • کراچی: این آئی سی وی ڈی میں چھ مہینوں پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے آنے والے 23 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا: رپورٹ

    کراچی: این آئی سی وی ڈی میں چھ مہینوں پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے آنے والے 23 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا: رپورٹ

    کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) صرف سندھ کے مریضوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے دل کے مریضوں کے لیے بھی ایک اہم سرکاری طبی مرکز بن چکا ہے۔

    حکومت سندھ کے تعاون سے چلنے والے اس ادارے میں 2019 سے 2025 کے دوران سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں سے آنے والے 23 لاکھ 20 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ان مریضوں میں بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔

    این آئی سی وی ڈی میں دل کے امراض کی تشخیص سے لے کر ہنگامی طبی امداد، انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، کیتھیٹرائزیشن اور پیچیدہ سرجریز تک مختلف سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ صرف 2025 میں ادارے میں 54 ہزار 295 مریض داخل ہوئے، جبکہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کے لیے 2 لاکھ 96 ہزار 731 مشاورتیں فراہم کی گئیں۔ بیرونی مریضوں کے شعبے میں 4 لاکھ 43 ہزار 610 مشاورتیں ہوئیں۔

    اسی سال دل کے مریضوں کے لیے 18 ہزار 875 انجیوگرافیز کی گئیں اور 88 ہزار 165 ایکوکارڈیوگرافی کے معائنے کیے گئے۔ پرائمری پی سی آئی کے 9 ہزار 279 طریقہ علاج ہوئے، جبکہ بچوں کے امراض قلب سے متعلق 3 ہزار 69 کیتھیٹرائزیشن اور دیگر طبی مداخلتیں کی گئیں۔

    این آئی سی وی ڈی میں 291 پی ٹی ایم سی اور 40 ٹی اے وی آئی طریقہ علاج کے علاوہ 5 ہزار 649 ابتدائی طبی مداخلتیں اور 889 اختیاری انجیوپلاسٹیز بھی کی گئیں۔ ایک ہی سال کے دوران ادارے میں امراض قلب کی 1 ہزار 400 سے زائد سرجریز ہوئیں۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کا یہ سرکاری ادارہ سندھ کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں کے مریضوں کے لیے بھی دل کے علاج کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ ادارے میں جدید اور پیچیدہ امراض قلب کے علاج کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔

  • سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سکھر میں دل کی دھڑکن سے متعلق پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز کے سکھر مرکز میں اب دل کے برقی نظام سے متعلق پیچیدہ مسائل کی تشخیص اور مخصوص طریقہ علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

    کارڈیک الیکٹروفزیالوجی دل کے برقی سگنلز اور دھڑکن کے نظام کا جائزہ لینے سے متعلق شعبہ ہے۔ سکھر مرکز میں الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی کے ذریعے مریض کے دل کے برقی سگنلز کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے، جبکہ مخصوص مریضوں میں کیتھیٹر ایبلیشن اور جدید کارڈیک ڈیوائسز کی تنصیب جیسی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

    سندھ حکومت نے سکھر سمیت مختلف مراکز میں جدید الیکٹروفزیالوجی لیبارٹریز کے قیام اور توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔ سکھر میں ان جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا باقاعدہ افتتاح 12 اگست 2026 کو کیا گیا۔

    ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں الیکٹروفزیالوجی کو اب موجودہ کارڈیک سروسز کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے اور اس شعبے کے ماہر ڈاکٹر بھی دستیاب ہیں۔ اس سے دل کی دھڑکن کی پیچیدہ خرابیوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تشخیص سے لے کر مخصوص علاج تک ایک ہی مرکز پر جدید سہولت حاصل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

    سکھر میں اس سہولت کی اہمیت شمالی سندھ کے مریضوں کے لیے خاص طور پر نمایاں ہے۔ پیچیدہ کارڈیک الیکٹروفزیالوجی کے علاج کے لیے ایسے مریضوں کو پہلے کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑ سکتا تھا، لیکن سکھر میں یہ سہولت دستیاب ہونے سے مقامی سطح پر جدید علاج تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

    سکھر کے علاوہ خیرپور، گھوٹکی اور شمالی سندھ کے دیگر علاقوں کے مریض بھی اس سروس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سکھر کا مرکز جغرافیائی اعتبار سے ایسا مقام بھی ہے جہاں پنجاب اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی اس جدید طبی سہولت تک رسائی ممکن ہے۔

    ایس آئی سی وی ڈی کا موجودہ نیٹ ورک سندھ میں دل کے علاج کی سہولیات کو مختلف علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ادارے کا قیام 2017 میں سندھ بھر کے مریضوں کو جدید اور مکمل طور پر مفت دل کے علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اس نیٹ ورک میں سندھ کے مختلف شہروں میں 10 کارڈیک ہسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس شامل ہیں، جبکہ اس نظام کو سندھ حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے۔

    سکھر میں کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کی توسیع اسی وسیع تر نظام میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ دل کی پیچیدہ دھڑکن سے متعلق بیماریوں کے لیے جدید تشخیص اور علاج اب شمالی سندھ کے مریضوں کے نسبتاً قریب دستیاب ہے۔

    یہ پیش رفت اس تصور کی عملی شکل بھی ہے کہ پیچیدہ دل کے علاج کے لیے مریض کو صرف فاصلے یا مالی مشکلات کی وجہ سے بڑے شہری مراکز پر انحصار نہ کرنا پڑے اور جدید طبی سہولیات علاقائی سطح پر بھی دستیاب ہوں۔

  • کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جہاں پیچیدہ قلبی سرجری سمیت امراض قلب کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔

    کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جہاں پیچیدہ قلبی سرجری سمیت امراض قلب کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جسے عام طور پر این آئی سی وی ڈی یا دل کے اسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے، کی بنیاد 1963 میں رکھی گئی۔ اس وقت دل کے امراض کے علاج کے لیے مخصوص یہ ادارہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا۔

    یہ ادارہ وقت کے ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا اور 1980 میں اس کی موجودہ عمارت مکمل ہوئی۔ ابتدائی طور پر 450 بستروں کے لیے قائم کیے گئے اس اسپتال میں مختلف شعبوں اور طبی سہولیات کے اضافے کے بعد بستروں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔

    سندھ حکومت کے تعاون سے این آئی سی وی ڈی میں دل کے مریضوں کو علاج کی سہولیات بالمعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں، یہاں دل کے دورے کی ہنگامی صورتحال سے لے کر پیچیدہ قلبی سرجری اور دیگر جدید طریقۂ علاج تک، علاج کا نظام دن رات جاری رہتا ہے۔

    این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق یہ ادارہ 1963 میں قائم ہوا اور اس وقت جنوبی ایشیا میں امراض قلب کے علاج کے لیے مختص اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا۔

    اس اسپتال میں دل کے علاج سے متعلق متعدد بڑے شعبوں کی سہولیات موجود ہیں، جہاں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، دل کے والو کے پیچیدہ علاج، پیس میکر کی تنصیب، دل کی برقی سرگرمی سے متعلق علاج، زندگی بچانے والے جدید آلات کی تنصیب اور دیگر مداخلتی طریقۂ علاج کیے جاتے ہیں۔

    این آئی سی وی ڈی میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، اوپن ہارٹ سرجری، پیس میکر کی تنصیب، ادویات، داخلہ اور کئی پیچیدہ قلبی طریقۂ علاج بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔

    پروفیسر طاہر صدیق کے مطابق فالج کے ایسے مریض جن کے دماغ میں خون کا لوتھڑا موجود ہو اور فوری علاج کی ضرورت ہو، این آئی سی وی ڈی میں موقع پر ہی ضروری طبی عمل کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ایسے 400 سے زیادہ کیسز کیے جا چکے ہیں۔

    یہ ادارہ صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، طبی تربیت اور جدید قلبی طب کے لیے بھی ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔

    صرف 2025 میں این آئی سی وی ڈی کے پورے نظام میں 16 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اسی سال 15,871 قلبی انجیوپلاسٹیاں، 2,692 اوپن ہارٹ سرجریاں، 3,069 بچوں کے قلبی مداخلتی علاج اور 1,184 مستقل پیس میکر لگائے گئے۔

    یہ اعداد و شمار اس بڑے طبی نظام کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں دل کے پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل، پاکستان کی نئی نسل کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی صحافت ہے۔