کراچی کے ایم آر کیانی روڈ پر واقع، کراچی پریس کلب کے نزدیک، پیلے جیزری پتھر سے تعمیر شدہ ایڈورڈین طرز کی شاہکار عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے آج شاذ و نادر ہی کوئی یہ اندازہ لگا سکے کہ ان خاموش راہداریوں، لکڑی کی سیڑھیوں اور بلند و بالا ستونوں کے پیچھے استعماری کراچی کی ایک طویل، پراسرار اور اثر انگیز تاریخ پوشیدہ ہے۔
عام شہریوں کے لیے برسوں تک ‘جادو گھر’ کے نام سے معروف رہنے والی یہ عمارت دراصل ‘فری میسن لاج’ یا ‘لاج آف ہوپ’ تھی، ایک ایسا مرکز جس کے بند دروازوں کے پیچھے نوآبادیاتی طاقت، مقامی ایلیٹ اور عالمی بھائی چارے کا ایک اچھوتا تانا بانا بنا گیا۔
برطانوی راج کے تحت بننے والے کراچی میں جہاں ریل، بندرگاہ اور تجارتی منڈیاں قائم ہو رہی تھیں، وہاں اس خفیہ سوسائٹی نے شہر کی سیاسی، معاشی اور بلدیاتی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

سندھ میں ورثہ اور لاج آف ہوپ کا قیام
سندھ پر برطانوی قبضے 1843 سے ذرا قبل، 1842 میں اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ممتاز ڈاکٹر، سائنسدان اور پروونشل گرینڈ ماسٹر ڈاکٹر جیمز برنز نے کراچی میں فری میسنری کی بنیاد رکھنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کا مقصد سندھ میں تعینات برطانوی فوجی و سول حکام کے لیے ایک ایسا اتحاد اور نگار خانہ قائم کرنا تھا جہاں وہ اپنے عالمی فلسفے، یعنی ‘اخلاقی ارتقا اور بھائی چارے’ کے تحت اکٹھے ہو سکیں۔
شروع میں اس لاج کے اجتماعات صدر اور کنٹونمنٹ کے عارضی مقامات پر ہوا کرتے تھے۔ تاہم، 20ویں صدی کے اوائل میں جب کراچی بمبئی پریسیڈنسی کے تحت ایک شاندار اور جدید میٹروپولیٹن شہر کی شکل اختیار کر رہا تھا، تو فری میسنز کے لیے ایک باقاعدہ اور مستقل مرکز کی ضرورت محسوس کی گئی۔
بالآخر 18 دسمبر 1914 کو موجودہ ایم آر کیانی روڈ پر ‘لاج آف ہوپ نمبر 360’ کی شاندار عمارت کا افتتاح ہوا۔ اس عمارت کی معماری میں یونانی کلاسیکی ستون، سنہری پالش والی لکڑی کی سیڑھیاں، وسیع ڈائننگ ہال اور ایک پرسکون لائبریری شامل کی گئی، جو اس دور کی برطانوی اشرافیہ کے پُرتکلف ذوق کی عکاسی کرتی تھی۔
قدیم کراچی کی ایک کثیر المذاہب ایلیٹ نیٹ ورک کمیونٹی
یہ تاثر عام ہے کہ فری میسن لاج صرف انگریز حکمرانوں کا اڈہ تھا، لیکن تاریخی حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں یہ لاج قدیم کراچی کے سب سے طاقتور، بااثر اور کثیر المذاہب طبقے کا مرکوزہ اجتماعی مرکز بن چکی تھی۔
برطانوی سول و ملٹری بیوروکریسی اس نیٹ ورک کا اہم حصہ تھی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے جج، کلیکٹرز اور فوج کے اعلیٰ افسران اس لاج کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی تھے۔
امیر پارسی تجارتی طبقات بھی اس نیٹ ورک میں شامل تھے۔ قدیم کراچی کے ارتقا اور ترقی میں پارسی برادری کا کردار محتاج بیان نہیں۔ پارسی تاجر انگریز انتظامیہ کے فکری اور معاشی طور پر بہت قریب تھے۔ جہانگیر کوٹھاری، ایڈلجی دنشاہ اور میتھا خاندانوں جیسی بااثر پارسی شخصیات کے کئی افراد انگریز افسران کے ساتھ ایک ہی لاج میں برابری کی سطح پر بیٹھتے تھے۔

20ویں صدی میں انگریزی تعلیم یافتہ مقامی اشرافیہ، نامور ہندو سیٹھوں اور ولایت سے پڑھے ہوئے مسلم بیرسٹرز و ججز نے بھی اس لاج کی رکنیت اختیار کی۔
اگرچہ فری میسن لاج کے اندر سیاست اور مذہب پر بحث کرنے پر رسمی پابندی تھی، لیکن شہر کے تمام بااثر معاشی اور انتظامی مہروں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اس بات کی ضمانت تھا کہ کراچی کی بندرگاہ، بلدیاتی منصوبوں اور تجارتی نیٹ ورکس کے لیے اہم غیر رسمی فیصلے اسی عمارت کی راہداریوں میں طے پاتے تھے۔
‘جادو گھر’ کا مفروضہ اور عوامی نفسیات
نوآبادیاتی دور میں عام شہریوں، مزدوروں اور مقامی غریب آبادی کے لیے اس عمارت کے اندر قدم رکھنا تو درکنار، اس کے قریب پھٹکنا بھی ناممکن تھا۔ شام کے وقت جب بگیوں اور قیمتی گاڑیوں میں سوار ہو کر بااثر شخصیات یہاں پہنچتیں اور عمارت کے وزنی لکڑی کے دروازے بند کر دیے جاتے، تو باہر کی دنیا میں قیاس آرائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔
عمارت کے اندرونی ہالز میں فرش پر چک دار سیاہ و سفید ٹائلیں، پرکار اور گونیا، مربع اور پرکار کی پراسرار علامات اور ارکان کے مخصوص اشاروں و ہاتھ ملانے کے خفیہ طریقوں نے عوام کے ذہنوں میں دہشت اور حیرت کا امتزاج پیدا کر دیا۔
مقامی آبادی نے اس پراسرار اور الگ تھلگ عمارت کو ‘جادو گھر’ کا نام دے دیا۔ عوام کا ماننا تھا کہ انگریز اور سیٹھ رات کی تاریکی میں اندر جمع ہو کر کالا جادو کرتے ہیں، سحر انگیز عمل کے ذریعے غیب کا علم حاصل کرتے ہیں یا کسی نادیدہ طاقت کو تسخیر کرتے ہیں۔ یہ دیو مالائی کہانیاں زبان زد عام رہیں اور نسلاً بعد نسل کراچی کے لوک داستانوی حافظے کا حصہ بن گئیں۔

مذہبی ابہام، صیہونیت اور عالمی تناظر
فری میسنری کا اپنا دعویٰ یہ تھا کہ وہ محض ایک غیر مذہبی اخلاقی بھائی چارہ ہے جس میں ہر اس شخص کو شامل کیا جاتا ہے جو کسی ایک ‘اعلیٰ طاقت’ پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن اس کے اندرونی فلسفے اور رسومات میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور قبالہ کے یہودی تصوف کی علامات کا گہرا دخل تھا۔
20ویں صدی کے نصف میں، خاص طور پر 1948 میں صیہونی ریاست کے قیام کے بعد، عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ فری میسنری اور صیہونیت کے درمیان پس پردہ گہرے روابط موجود ہیں۔ عالم اسلام اور کیتھولک چرچ دونوں نے اس تنظیم پر سخت تنقید کی اور اسے اسلامی و ملکی مفادات کے خلاف ایک بین الاقوامی خفیہ نیٹ ورک قرار دیا۔
پابندی، تحویل اور موجودہ حالت
قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی کا یہ فری میسن لاج چند دہائیوں تک عارضی اور محدود پیمانے پر کام کرتا رہا۔ لیکن بالآخر 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ایک تاریخی اور سٹریٹیجک فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان بھر میں فری میسنری اور اس سے وابستہ تمام لاجز پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
پابندی کے بعد کراچی کے اس ‘جادو گھر’ کے تمام ریکارڈز، علامات اور چابیاں ریاست نے اپنی تحویل میں لے لیں۔
1990 کی دہائی میں یہ عمارت محکمہ تحفظ جنگلی حیات کو سونپ دی گئی۔

سندھ کلچرل ہیریٹیج ایکٹ 1994 کے تحت اس شاندار تاریخی عمارت کو محفوظ قومی و صوبائی ورثہ قرار دیا گیا۔
آج اس عمارت کے مرکزی ہالوں اور کمروں میں سندھ وائلڈ لائف کے دفاتر، نایاب حنوط شدہ جانوروں اور پرندوں کا ایک چھوٹا نیچرل ہسٹری میوزیم اور پبلک لائبریری قائم ہے۔
ایک علمی و تاریخی جائزہ
کراچی کا فری میسن لاج محض ایک پرانی عمارت نہیں، بلکہ یہ نوآبادیاتی دور کی اس سماجی اور معاشی بساط کا زندہ ثبوت ہے جس نے جدید کراچی کی بنیادیں رکھیں۔ یہ عمارت اس بات کی گواہ ہے کہ کس طرح ایک غیر ملکی استعماری طاقت نے مقامی ایلیٹ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک خفیہ اور بااثر نیٹ ورک قائم کیا۔
آج اگرچہ اس عمارت کے اندر کا ‘جادو’ ختم ہو چکا ہے اور فری میسنز کا راز تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکا ہے، لیکن اس کی خوبصورت لکڑی کی سیڑھیاں، سنہری پالش والے دروازے اور خاموش راہداریاں آج بھی خاموشی سے اس دور کی داستان سناتی ہیں جب کراچی پر انگریز بیوروکریٹ، پارسی تاجر، ہندو سیٹھ اور مسلم بیرسٹرز مل کر ایک بند کمرے سے حکومت کیا کرتے تھے۔

